نواز شریف کا خود کش مشن

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

نواز شریف، پاکستان کی تاریخ کے واحد شخص ہیں، جو تین مرتبہ وزیر اعظم بنے ہیں۔ اپنی سیاست کی ابتدا، انہوں نے جنرل جیلانی کے دست شفقت سے کی تھی۔ آپ پاکستان مسلم لیگ (فنکشنل) کے لیڈر تھے اور جنرل محمد ضیا الحق کے عہد میں پنجاب کے سیاسی افق پر چمکنے لگے۔ آپ پنجاب کے وزیر اعلیٰ بھی بنے اور پھر سایہء ہما آپ کے سر پر پڑا اور آپ مملکت خدا داد کے وزیر اعظم بن گئے۔ غلام اسحق خان ملک کے صدر تھے۔ ان کے پاس اٹھاون ٹو بی‘ کا خطرناک اختیار موجود تھا۔ یعنی وہ وزیر اعظم پاکستان کو گھر بھیجنے کا اختیار رکھتے تھے۔ اس اختیار کا استعمال وہ بے نظیر حکومت پر بھی کر چکے تھے۔

نواز شریف بھی تا دیر انہیں خوش نہ رکھ سکے۔ دونوں میں الزام تراشیاں شروع ہو گئیں۔ پی ٹی وی پر، صدر مملکت اور وزیر اعظم نے قوم سے خطاب کیے، اور ایک دوسرے پر عجیب عجیب الزام دھرے۔ صدر پاکستان نے وزیر اعظم کو برطرف کر دیا اور وہ اس اقدام کے خلاف سپریم کورٹ چلے گئے، جس نے وزیر اعظم کو بحال کر دیا۔ ایسے میں جنرل وحید کاکڑ نے اپنی ’ذمہ داری‘ ادا کرتے ہوئے، صدر مملکت اور وزیر اعظم دونوں کو گھر بھیج دیا۔

چند سال بعد، نواز شریف بھاری مینڈیٹ سے دوبارہ وزیر اعظم بنے۔ آپ نے اب اپنے اختیار و اقتدار کو مضبوط کرنا شروع کیا۔ آئین میں ترمیم کر کے 58 (2) B کو غیر موثر کیا، اور عدالتوں سے ایک نوع کی رسہ کشی میں الجھ گئے۔ آپ کی ایک رسہ کشی، ملک کے اس وقت کے ایک کثیر الاشاعت روزنامہ اخبار سے بھی جاری تھی، مگر ہر جگہ نکیل اور لگام ڈالتے ڈالتے صاحب نے ملک کے اصل حکمرانوں کو بھی اپنا مطیع اور تابع فرمان بنانے کا سوچا۔

پہلے ایک جنرل کو گھر بھیج کر آپ نے اپنی مرضی کا سب سے ”میسنا“ اور سب سے کمزور جنرل چیف آف آرمی اسٹاف کے طور پر چن لیا، مگر اس مرتبہ ان کو مزید بڑے امتحان سے گزرنا پڑا۔ ملک میں ایک مرتبہ پھر سے خاکی وردی اور بڑے بوٹ والے حکمران بن بیٹھے۔ 12 اکتوبر 1999ء، مجھے اچھی طرح یاد ہے۔ کراچی میں تو لوگ جشن منا رہے تھے، کیوں کہ یہاں تو پہلے ہی سے گورنر راج لگا ہوا تھا، مگر نواز شریف کو معزول کیے جانے پر پنجاب میں بھی کوئی ہنگامہ، کوئی احتجاج نہیں ہوا۔

نواز شریف کو عدالت نے سزائے سخت سنائی۔ آپ نے کچھ ہی عرصے میں مشرف سے ڈیل کر لی اور مع خاندان سعودی عرب جلا وطن ہو گئے۔ آپ کی جماعت کسی کباڑ کی طرح اس وقت کی فوج کے فرنٹ مین چودھری شجاعت حسین نے خرید لی۔ آپ جلاوطنی کاٹتے رہے اور آپ کی بچی کچھی جماعت، مخدوم جاوید ہاشمی چلاتے رہے۔ ہاشمی صاحب کو بھی سخت تشدد اور تکالیف برداشت کرنا پڑیں۔ آپ نے قید و بند کی صعوبتیں برداشت کیں۔ بالآخر مشرف کی عدالتوں سے لڑائی نے، ملک میں وہ حالات پیدا کیے کہ جن سے نواز شریف کو وطن واپسی کا موقع ملا۔ آپ کی جماعت کو پنجاب میں دوبارہ اقتدار و اختیار مل گیا اور مشرف کو تخت چھوڑنا پڑا۔

نواز شریف کی نگرانی میں، ان کے برادر شہباز شریف، پنجاب میں حکمران تھے۔ نواز شریف اب دوبارہ اس منصب کے خواب دیکھ رہے تھے، جہاں وہ اس سے قبل دو مرتبہ فائز رہ چکے تھے۔ وہ سمجھ رہے تھے کہ وہ سابق غلطیوں سے سبق سیکھ چکے ہیں۔ اب وہ اس راستے پر چلیں گے، جو ان کو نہ عدالتوں سے، نہ فوج سے الجھائے گا اور وہ آرام سے اقتدار اور اختیار کے مزے لوٹ سکیں گے۔ ان کے سامنے پیپلز پارٹی کا پانچ سال کا دور بھی تھا اور انہوں نے دیکھ رکھا تھا کہ کس طرح عدلیہ نے وزیر اعظم گیلانی کو اقتدار سے نکالا اور کس طرح میمو گیٹ اسیکنڈل اور طاہر القادری کے بحران آئے تھے، مگر یہ سب حکومت کو نہ بچھاڑ سکا اور کوئی غیر جمہوری قوت حسب دل خواہ پورا اقتدار نہ ہڑپ کر سکی۔

یہ سب دیکھ کر نواز شریف کی ہمت بڑھی، کہ اب کی بار نہ کوئی غلام اسحق خان ان کے سامنے آئے گا، نہ کوئی مشرف۔ اب جمہوری نظام جاری و ساری رہے گا۔ شریف، مئی 2013ء میں بڑے اچھے نمبروں سے پاس ہوئے اور ایک مرتبہ پھر ملک کی سب سے طاقتور کرسی ان کو مل گئی، مگر ظاہر ہے ملک میں طاقت کے دو مراکز ہیں۔ ایک مرکز ایوان وزیر اعظم ہے اور دوسرا مرکز سب جانتے ہیں۔ ہاں! ملک میں اقتدار کا صرف ایک مرکز بھی بن سکتا ہے اور اس کا طریقہ یہ ہے کہ ’دوسرا مرکز‘ ہی واحد ایوان اقتدار بن جائے۔

نواز شریف نے دوبارہ اسی راستے پر چلنا شروع کیا، جس پر وہ 1999ء میں چلے تھے۔ ان کو تیسری مرتبہ آؤٹ کر دیا گیا اور اب ظاہری طور پر ان کو آؤٹ کرنے والی اعلیٰ عدلیہ تھی۔ اس دفعہ اسٹیبلشمنٹ نے ان کو پورا موقع دیا کہ وہ ملک سے چلے جائیں اور دوبارہ جلا وطنی اختیار کر لیں۔ مگر اب نواز شریف، الطاف ’بھائی‘ بن رہے ہیں۔ اگر چہ ان کو ’بھائی کلچر‘ کا نا تو کچھ پتا ہے اور نا وہ لیاقت آباد اور سرگودھا کے مزاج کے فرق کو سمجھ پائے۔

وہ مکے لہرا رہے ہیں اور عوامی طاقت سے کوئی ٹیلی فونی طوفان برپا کرنے کے موڈ میں ہیں۔ بس ان کی تقریریں اسکرین پر ظاہر ہوں گی اور عوام میں کوئی طوفان بپا ہو جائے گا۔ افسوس نواز شریف نہ اپنے پاور ہاؤس، پنجاب کے عوام کو سمجھ پائے ہیں، نا ہی اپنے دشمن کو۔ ان کی مخالف، کوئی سیاسی جماعت نہیں، بلکہ ملکی اسٹیبلشمنٹ ہے، جس کے پاس لاکھوں مسلح افراد اور طاقت کے سرچشمے ہیں۔ سیاسی جماعتیں بھی نواز شریف یا جمہوریت کی بالا دستی کے بجائے، اسٹیبلشمنٹ سے فوائد لینے پر اجماع کیے ہوئے ہیں۔

نواز شریف کے پاس فقط صوبہ پنجاب کے عوام کے جذبات ہیں۔ یہ یقین سے نہیں کہا جا سکتا کہ اب پنجاب کے عوام کے جذبات، ان کے ساتھ ہیں تو کس قدر ہیں۔ ہمارے ہم وطنوں کی جذباتی رو وقتی ہوتی ہے۔ ویسے بھی اس ملک کی عوام نے ہمیشہ طاقتور کا ساتھ دیا ہے۔ نواز شریف کیسے بھول گئے کہ گزرے مارشل لا اکتوبر 1999ء کے آغاز ہی میں اچانک پنجاب میں ہر طرف مشرف کے حق میں ریلیاں نکلنے لگی تھیں۔ جہاں کسی بیرونی فوج کے سامنے کسی مزاحمت کی تاریخ نہ ہو، وہاں ’اپنی‘ فوج کے آگے مزاحمت کہاں سے آئے گی؟ (پنجاب کی مزاحمت کی ایک جرات مندانہ تاریخ ہے، مصنف اس سے بے خبر لگتے ہیں۔ مختصراً یہ کہ بیرونی حملہ آوروں سے جو جنگیں لڑی گئیں، ان کے مقام دیکھ لیں، کہ میدان جنگ کس جگہ سجے: مدیر) اور ویسے بھی مسلم لیگ نواز کے کارکن تو نہاری اور پائے کھانے والے معصوم لوگ ہیں، جو جب خوش ہو جائیں تو پتنگیں اڑاتے ہیں اور لسی پی کر مطمئن رہتے ہیں۔ اسٹیبلشمنٹ کے سامنے تو وہ بھی نہیں ٹک سکے، جن کے پاس ہزاروں تربیت یافتہ لڑاکے تھے اور جن کی سالہا سال کی مزاحمت کی تاریخ تھی۔

عجیب بات ہے کہ تقریباً 35 سال سے سیاست کا حصہ رہنے والے اور تین مرتبہ وزیر اعظم اور ایک مرتبہ وزیر اعلیٰ بننے والے نواز شریف اپنے ووٹر کو بالکل نہیں سمجھتے۔ وہ اپنے حامیوں کو اردوان کے کارکن سمجھ رہے ہیں جو جمہوریت کے لئے ٹینکوں کے آگے لیٹ گئے تھے اور فوجیوں کے ہاتھوں سے بندوقیں چھین لی تھیں۔ نواز شریف جانتے نہیں کہ ریت سے دریا کا بند نہیں باندھا جا سکتا۔ پاکستان میں تو کوئی ٹینک سڑک پر نکلنے گا بھی نہیں اور عوام استقبال کے لئے بھنگڑے ڈالتے ہوئے جوق در جوق سڑکوں پر نکل آئیں گے۔ افسوس نواز شریف کو تقدیر چوتھا موقع نہیں دے گی۔ وہ جس خود کش مشن پر گامزن ہیں، اس پر ان کی اپنی سیاسی جماعت کے چار پانچ سے زیادہ ارکان ساتھ نہ ہوں گے۔ ان کے اپنے بھائی بھی نہیں۔ افسوس نواز شریف اپنی زندگی کے تجربات سے کچھ بھی نہیں سیکھ سکے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •