رام کوٹ کی سیر

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

معلوم ہوا کہ ”پاکستان فیڈریشن آف کالمسٹ“ کے زیر سر پرستی، سینیئر اور جونئیر صحافیوں کا وفد، یوم سیاحت کے عالمی دن کے موقع پہ رام کوٹ کی سیر کو جائے گا۔ فوراً انٹرنیٹ سے مدد لی اور رام کوٹ کے بارے میں آگاہی حاصل کی اور اس کے بعد اسے دیکھے بنا جی کو کہاں سکون ملنا تھا۔ دل اتنا بے قرار تھا کہ قدرت کے اس شاہکار کو دیکھنا ہی دیکھنا ہے۔ شدت طلب چشم کا یہ عالم تھا، جیسے سات سمندر پار سے محبوب اپنی محبوبہ کو دہائیوں بعد ملنے چلا ہو۔ ”پاکستان فیڈریشن آف کالمسٹ“ صحافیوں کے لئے ایسے پروگراموں کا انعقاد کرتی رہتی ہے، تا کہ پیارے وطن کے ان علاقوں کو دریافت کیا جائے، جو عام طور پہ عوام کی نظر سے پوشیدہ رہتے ہیں۔ اس کا مقصد میڈیا کے پلیٹ فارم سے، دنیا کو پاکستان کی جھلک دکھلانا ہے کہ ہماری دھرتی کیسی دل کش اور خوش نما ہے۔

اس سے پہلے مجھے پاکستان کے متعدد تفریحی مقامات کی سیر نصیب ہوئی۔ نا صرف پاکستان بلکہ ارطغرل کے دیس (ترکی) کی فضاؤں میں بھی پرسکون لمحات گزارنے کا موقع مل چکا ہے۔ ترکی کے شہر استنبول سے فیری پہ سفر کریں، تو بیچ سمندر میں پرنسز آئی لینڈ واقع ہے۔ پوری دنیا سے لوگ، یہاں نظارہ کرنے آتے ہیں۔ اس آئی لینڈ میں مستقل سکونتی بھی ہیں۔ یہاں ٹرانسپورٹیشن کے لیے صرف الیکٹرک کاروں، بائیک اور بگھیوں کا استعمال ہوتا ہے۔ نہایت دل فریب مناظر، جو ناقابل فراموش ہیں۔ یہاں جو ایک بار آئے، دل میں بار بار آنے کی حسرت کرے۔ اس آئی لینڈ کا ذکر یوں آ گیا کہ رام کوٹ پر توجہ کی جائے، تو یہ پاکستان کا پرنسز آئی لینڈ بن سکتا ہے۔ یہی نہیں، پاکستان میں لولو سر لیک، جھیل سیف الملوک اور عطا آباد جھیل اور دیگر مقامات بھی فطری نظاروں سے مالامال ہیں۔

ستائیس ستمبر کو، ہر سال سیاحت کا عالمی دن منایا جاتا ہے۔ چھبیس ستمبر کو صبح گیارہ بجے، دنیا کے جھمیلوں کو پس پشت ڈال کے، شہر لاہور سے رخت سفر باندھا۔ براستہ منگلا کینٹ، میر پور آزاد کشمیر داخل ہوئے، تو سب سے پہلے منگلا جھیل میں ہلکی ہلکی ہوا کے ساتھ اٹھنے والی لہروں نے خوش آمدید کہا، لیکن ہم ان چمکتی لہروں کو دور سے سلام کر کے منزل کی جانب رواں دواں رہے۔ پہلا پڑاؤ ڈڈیال شہر میں کیا۔ اسسٹنٹ کمشنر ذیشان نثار اور معززین ڈڈیال نے ہمارا پر تپاک استقبال کیا۔ میر پور سے ڈڈیال کے درمیان، تقریباً ستر کلومیٹر کا فاصلہ ہے۔ اس راہ میں فن تعمیر کی شاہکار مساجد دیکھیں۔ مساجد ہوتی ہی خوبصورت ترین ہیں، لیکن ان پہ جو نقش نگاری کی گئی ہو، تو وہ انہیں دوسروں سے منفرد دکھاتی ہیں۔ شاید ہی میر پور جیسی مساجد، پاکستان کے کسی دوسرے شہروں میں موجود ہوں۔ میر پور کے حسن کی ایک اور وجہ، منگلا جھیل اور شہر میں محل نما مکانوں کی تعمیر ہے۔ یہاں ایک سے بڑھ کے ایک دل فریب نظارہ ہے۔

تقریباً شب سات بجے ڈڈیال پہنچے اور اس کے بعد ریسٹ ہاؤس سے دس منٹ کی مسافت پہ ایک انتہائی دل کش مناظر سے مزین مقام پہ پہنچے، جہاں غزل نائٹ کا اہتمام کیا گیا تھا۔ رات اپنا سفر طے کر رہی تھی۔ جگمگاتے ڈڈیال شہر کی روشنیاں اور خاموشی تھی۔ سبزے کا گھیراؤ ایسا کہ رین میں بھی آنکھیں محو سکون رہیں۔ ہلکی یخ ہوا مدھم چل رہی تھی۔ آسمان پر ستاروں کی کہکشاں اپنا جلوا دکھا رہی تھی۔ سریلی آواز کے مالک مقامی گلوکار رومی نے میاں محمد بخش کے کلام سے محفل کا آغاز کیا۔

اول حمد ثنا الہی
جو مالک ہر ہر دا
اس دا نام چترال والا
ہر میدان نہ ہر دا

پھر سامعین و حاضرین کی فرمائش پہ نصرت فتح علی خاں کی دھن میں ناصر کاظمی کا کلام گایا۔
غم ہے یا خوشی ہے تو
میری زندگی ہے تو
آفتوں کے دور میں
چین کی گھڑی ہے تو
میری رات کا چراغ
میری نیند بھی ہے تو

کچھ دیر بعد جب گائیک نے یہ غزل گانا شروع کی:
ہم تیرے شہر میں ہیں مسافر کی طرح
صرف اک بار ملاقات کا موقع دے دے

تو جانیے سرور کا کیا عالم ہو گا۔ فطرت سے محبت کرنے والا ہی یہ تصور کر سکتا ہے۔ دل نہ چاہتے ہوئے بھی محفل غزل ”تمام ہوئی۔ عشائیے میں انواع و اقسام کے پکوان تھے۔ اگلے روز معززین شہر نے عالمی یوم سیاحت کی مناسبت سے کار ریلی کا انعقاد کیا۔

رام کوٹ قلعے کو 1186 ء میں دفاعی حکمت عملی کو مد نظر رکھ کر تعمیر کیا گیا۔ یہ دریائے جہلم اور پونچھ کے سنگم پہ ایک بلند پہاڑی پر واقع ہے۔ یہاں منگلا جھیل کا پانی بھی ٹکراتا ہے۔ قلعہ رام کوٹ تک پہنچے کے چار اطراف سے راستے ہیں۔ جس مقام پر چہار اطراف سبزے میں لپٹے بلند و بالا پہاڑ ہوں اور جس طرف اور جہاں جہاں تک نظر جائے، پانی ہی پانی دکھائی دے، اس منظر کی کیا ہی بات ہے۔ ڈڈیال سے بیس منٹ کی مسافت طے کرتے ہوئے، مضافاتی قصبے بٹھار سے، رام کوٹ جانے کے لیے کشتی میں بیٹھے۔ جھیل کا پانی کسی مدبر کے مانند پر سکون تھا۔ قلعے تک پہنچے لیے کشتی پہ بیٹھے ان لمحات کو کسی دنیاوی مال سے نہیں خریدا جا سکتا۔ آج قلعے کا مرکزی دروازہ خستہ حالت میں ہے۔ قلعہ کے اندر دو بڑے تالاب موجود ہیں، جن کے بارے تاریخ خاموش ہے، کہ اس چھوٹے سے قلعے میں اتنے بڑے بڑے تالاب کیوں؟

قلعے میں مہمانوں کے لئے کشمیر کی مقامی موسیقی کا اہتمام تھا۔ اس محفل کی صدارت وزیر برائے جنگلات اور فشریز راجا جاوید اقبال نے کی اور ضلعی انتظامی افسر شریک ہوئے۔

بد قسمتی دیکھیے کہ قدرت کے ان حسین نظاروں کو عام پاکستان آسانی سے نہیں دیکھ سکتا، کیوں کہ راستہ بہت دشوار ہے۔ محکمہ سیر و سیاحت سے گلہ بنتا ہے کہ ایسے مقامات کی تشہیر کیوں نہیں کرتے۔ سفر کی سہولت کا انتظام کیوں کر نہیں کیا جاتا۔ سوشل میڈیا پہ بھی ٹورازم کمپنیاں بہت کم کم نظر آتی ہیں، جو سیاحت کے شوقینوں کو ان علاقوں کی جانب متوجہ کریں۔ موجودہ وفاقی حکومت اور آزاد کشمیر حکومت سے پرزور اپیل ہے کہ دنیا کے ترقی یافتہ و ترقی پذیر ممالک کا احوال دیکھ لیں، ان کی معیشت میں سیاحت سے ہونی والی آمدن اہم کردار ادا کرتی ہے۔ پاکستان کا چپہ چپہ تاریخی حوالے اور دل کشی کے اعتبار سے دنیا بھر کے سیاحوں کے لیے پر کشش بنایا جا سکتا ہے۔ بس سرکار کی اک ذرا سی توجہ چاہیے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •