پنجاب سے اٹھنے والا غدار بھاری پڑ سکتا ہے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

یوں لگتا ہے کہ اس وقت پاکستان کو نواز شریف کی یک بیک سیاسی مستعدی کے علاوہ کوئی مسئلہ درپیش نہیں ہے۔ عمران خان کی ولولہ انگیز قیادت میں معاشی، سیاسی، سفارتی اور سیکورٹی مسائل حل کرلئے گئے ہیں ۔ بس اب پنجاب سے اٹھے ایک ’غدار‘ کا سر کچلنے کے لئے پوری حکومت یکسوئی سے سرگرم عمل ہے۔ وزیر اعظم کی قیادت میں نمایاں وزیروں پر مشتمل خصوصی کمیٹی کے اجلاس ہورہے ہیں اور ایک کے بعد دوسرا وزیر مسلم لیگ (ن) اور نواز شریف کے بارے میں نت نئے ’انکشافات‘ کررہا ہے۔ اس سے تو یہی اندازہ ہوتا ہے کہ عمران خان نے پنجاب سے جو نیا ’غدار‘ دریافت کیا ہے، وہ حکومت پر بھاری پڑ سکتا ہے۔

پاکستان میں غدار دریافت کرنا حکومتوں یا اسٹبلشمنٹ کا محبوب مشغلہ رہا ہے۔ اس قومی مشغلے کی تکمیل کے لئے سقوط ڈھاکہ سے پہلے ملک کا مشرقی حصہ ہی کافی تھا جہاں سے مناسب مقدار میں غدار دریافت ہوجاتے تھے تاکہ حکمرانوں کا شوق بھی پورا ہوتا رہے اور کاروبار مملکت بھی مناسب طریقےسے چلتا رہے۔ واضح رہے مناسب طریقہ اس عمل کو کہتے ہیں جو ایک خاص ترکیب کے مطابق قومی مفاد، نظریہ پاکستان ، عوامی بہبود کے علاوہ ملکی تحفظ کے اصولوں پر استوار ہو۔ جس کسی نے کبھی اس مرکب کے بارے میں سوال کرنے کی جرات کی، اسے غدار قرار دے کر پوری قوم کو اس کے شر سے محفوظ کرنے کا اقدام ضروری سمجھا گیا۔ یوں تو مشرقی پاکستان کے بنگالی،  اسٹبلشمنٹ کی غدار تلاش کرنے کی خواہش کی تکمیل کے لئے کافی تھے لیکن 1964 میں صدارتی انتخاب کے دوران قائد اعظم کی ہمشیرہ فاطمہ جناح نے جب فوج کی سرپرستی میں حکومت کرنے والے ایوب خان کی صدارت کو چیلنج کیا تو مجبوراً انہیں بھی اسی فہرست میں شامل کرنا پڑا۔ اس طرح بنگالیوں کا یہ شکوہ بھی ختم کردیا گیا کہ پاکستان کے حکمرانوں کو غدار صرف مشرقی پاکستان میں ہی ملتے ہیں۔

پاکستان دو لخت ہونے کے بعد سندھ کے ایک سپوت ذوالفقار علی بھٹو نے پاکستانیوں کو حوصلہ دینے، اکٹھا کرنے اور دوبارہ ایک قوم بنانے کے علاوہ شکست خوردہ فوج کو بھی ایک نیا ولولہ اور جوش عطا کیا۔ شملہ معاہدہ کے ذریعے بھارت سے 90 ہزار جنگی قیدیوں کی واپسی ممکن بنا کر قومی وقار بحال کیا اور 1973 میں ملک کو متفقہ آئین دینے اور جمہوریت بحال کرنے کا اہتمام کیا۔ تاہم ان کی یہ تمام خدمات بھی اس وقت ان کے کام نہ آسکیں جب جنرل ضیا الحق کو بھٹو کی صورت میں ایک ایسا غدار دکھائی دینے لگا جو کسی بھی وقت اس کی آئین سے غداری کا حساب لے سکتا تھا۔ بھٹو نے بھی اگرچہ اپنے مختصر دور حکومت میں غداروں کی تلاش کے مشغلہ میں مقدور بھر مدد فراہم کی اور سیاسی احتجاج کرنے پر نیشنل عوامی پارٹی اور اس کے قائد ولی خان کو غدار قرار دے کر چھوٹے صوبوں سے غدار تلاش کرنے کی مہم کو جاری رکھا تھا۔ لیکن ان کی یہ خدمت گزاری بھی ان کے کام نہ آسکی او ربالآخر ملک کی ہوشیار اسٹبلشمنٹ کو خبر ہوگئی کہ ذوالفقار علی بھٹو بھی دراصل ’غدار‘ ہی تھے۔ وہ جنرل ضیا الحق کی انصاف پسندی کی وجہ سے اپنے انجام کو پہنچے۔

بھٹو کے قتل ناحق کے باوجود سندھ کے علاوہ خیبر پختون خوا اور بلوچستان سے غدار تلاش کرنے کا سلسلہ جاری رہا ۔ چوکنا حکومتیں اور ہوشیار ادارے ان غداروں کا سراغ لگا کر ملک کو محفوظ و مامون بنانے کا کام کرتے رہے ہیں۔ لاپتہ افراد کے نام پر جو واویلا ملک میں برپا کیا جاتا ہے، دراصل وہ بھی غداروں اور ملک دشمنوں کو تلاش کرنے کا ’خفیہ مشن‘ ہی ہے لیکن پاکستان دشمن عناصر اس مشن کو ناکام بنانے کی ہر ممکن کوشش کرتے رہتے ہیں۔ حتی کہ ملکی عدالتیں بھی اس پروپیگنڈے کا اثر قبول کرتے ہوئے حب الوطن سرکاری اہلکاروں اور اسٹبلشمنٹ کو قانون شکنی کا مرتکب سمجھ بیٹھتی ہیں۔ ان وطن دوست کارروائیوں کو رکوانے کے لئے ’مسنگ پرسنز کمیشن‘ بھی قائم کروا دیا گیا۔کہتے ہیں نا کہ مارنےوالے سے بچانے والا ذبردست ہوتا ہے بعینہٖ اس کمیشن کو جسٹس (ر) جاوید اقبال جیسے محب الوطن سرفروش کی نگرانی میں دے کر یہ سازش ناکام بنائی گئی ہے۔ اسی لئے عوام چین سے رات کو سو سکتے ہیں۔

 ان ساری کاوشوں کے باوجود ملک کے سب سے بڑے صوبے پنجاب سے کسی نمایاں غدار کو تلاش نہیں کیا جاسکا تھا۔ بلکہ ملک میں یہ تاثر قائم کردیا گیا کہ غدار بنانے کا کام پنجاب کی اشرافیہ ہی سرانجام دیتی ہے تاکہ چھوٹے صوبوں کو غلام بنا کر رکھا جاسکے اور وہاں پر اختلاف یا علاقائی خود مختاری کی آوازوں کو دبایا جاسکے۔ ملک کے وزیر اعظم اور پاکستان کو توڑ پھوڑ کر از سر نو تعمیر کرنے کا عزم و ارادہ رکھنے والے عمران خان نے بالآخر اس مقصد میں بھی کامیابی حاصل کرلی اور نواز شریف کی صورت میں ایک قومی غدار، بھارت کا ایجنٹ اور ملک دشمن دریافت کرکے چھوٹے صوبوں کا یہ شکوہ دور کردیا کہ حکومتوں کو، اپنا حق مانگنے والے چھوٹے صوبوں اور قومیتوں میں ہی غدار دکھائی دیتے ہیں تاکہ ان کی آواز دبائی جاسکے۔ نواز شریف کو غدار قرار دے کر عمران خان نے یہ واضح کیا ہے کہ وہ اپنی مدینہ ریاست میں کوئی امتیاز روا نہیں رکھیں گے۔ حقوق کی آواز جہاں سے بھی بلند ہوگی، وہیں سے غدار تلاش کرکے اس آواز کو دبانے کے لئے سارے سرکاری وسائل اور صلاحیتیں پوری قوت سے صرف کی جائیں گی۔

عمران خان کے اس تازہ انکشاف کے بعد غداروں کا قلع قمع کرنے کے پہلے مرحلے میں وزیروں کی فوج نے نواز شریف، مریم نواز اور مسلم لیگ (ن) کے راز فاش کرنے کا سلسلہ شروع کیا ہے۔ اس طرح عوام کو بتایا جارہا ہے کہ جس شخص کو وہ اپنا مسیحا اور لیڈر سمجھتے رہے ہیں، وہ تو دراصل مودی کا یار ہے اور اب لندن میں بیٹھ کر ملکی اداروں کو نشانہ بنا رہا ہے تاکہ فوج کمزور ہوجائے اور بھارت اپنے مذموم ارادوں میں کامیاب ہوجائے۔ عام شہری کو حیرت تو ہوتی ہے کہ مضبوط اور دنیا کی صف اول کی فوج محض چند تقریروں اور ٹوئٹ پیغامات سے کیوں کر کمزور ہوجائے گی اور بھارت کے مقاصد کیسے پورے ہوجائیں گے ۔ اس حیرت کا علاج کرنے کے لئے عمران خان کی قیادت میں وزیر و مشیر نواز شریف کے طریقہ کار کو تفصیل سے بیان کررہے ہیں کہ کس طرح وہ اسٹبلشمنٹ کو بلیک میل کرکے اپنا چوری کا مال چھپانا چاہتے ہیں جو عمران خان کسی قیمت پر غصب نہیں کرنے دیں گے۔

سوشل میڈیا کی مستعد فوج اور سرکار کے دربار میں حاضر جناب کہنے والاقومی الیکٹرانک میڈیا بھی ان کوششوں میں حسب مقدور خدمت سرانجام دے رہا ہے۔ اب تو یہ اعتراف بھی سامنے آنے لگا ہے کہ وزیر اعظم نے 20 ستمبر کو آل پارٹیز کانفرنس میں نواز شریف کی تقریر براہ راست نشر کرنے کی اجازت دے کر غلطی کی تھی۔ دراصل عمران خان کو بھی اس تقریر کے بعد ہی پتہ چلا تھا کہ نواز شریف غدار ہیں ورنہ وہ ملکی مفاد کو نقصان پہنچانے والی ایسی تقریر نشر کرنےکی اجازت ہرگز نہ دیتے۔ اب حکومت سرتوڑ کوشش کررہی ہے کہ نہ صرف میڈیا ’اشتہاری‘ سیاست دانوں کی تقریریں نشر نہ کرے بلکہ دیگر ذرائع سے بھی ان کے ابلاغ کو روکا جائے۔ عمران خان جیسے بابصیرت لیڈر نے تو شاخیں کاٹنے کی بجائے فساد کی جڑ کو ہی اکھاڑنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اب تحریک انصاف ایسی قانونی حکمت عملی تیار کررہی ہے کہ نواز شریف کو ہاتھ پاؤں باندھ کر ان کے لندن کے عشرت کدہ سے کوٹ لکھپت جیل پہنچایا جائے۔

اسی مہم کے سلسلہ میں آج وفاقی وزیر سائنس و ٹیکنالوجی فوا د چوہدری نے کراچی میں انکشاف کیا کہ نواز شریف کی باتوں پر یقین کرنے والے تو ان کی اپنی جماعت میں بھی موجود نہیں ہیں۔ پارٹی کے 70 فیصد کارکن اور ان گنت اراکین اسمبلی نواز شریف کابیانیہ مسترد کرتے ہیں ۔ مایوس ہو کر انہوں نے مولانا فضل الرحمان کی مدد سے مدرسوں کے طالب علموں کو اپنے ملک دشمن ایجنڈے کے لئے استعمال کرنے کی کوشش کی ہے لیکن وہ اپنے مقصد میں کامیاب نہیں ہوں گے۔ ظاہر ہے کہ ہوشیار حکومت اور بروقت اطلاع دینے والے وزیر اعظم کی موجودگی میں نواز شریف جیسے ’غدار‘ اپنے ارادوں میں کامیاب نہیں ہوسکتے۔ پریشانی صرف اس بات سے ہوتی ہے کہ اگر نواز شریف ایسا ہی غیر اہم ہے ، اس کی باتوں سے کوئی فرق نہیں پڑے گا اور اپوزیشن پارٹیوں کا اتحاد دراصل مفاد پرستوں کا ٹولہ ہے جو جلد یا بدیر اپنے مقصد میں ناکام ہوجائے گا تو عمران خان سمیت ملک کی پوری حکومت باقی سب کام بھول کر نواز شریف، نواز شریف کی دہائی کیوں دے رہی ہے؟

نواز شریف کے ’ووٹ کو عزت دو‘ کا نعرہ لگانے سے پہلے ملکی اسٹبلشمنٹ دراصل پنجاب کو اپنی طاقت کا گڑھ سمجھ کر باقی صوبوں میں من مانی کرنے کی عادی رہی ہے۔ یہ آواز خواہ سندھ سے بلند ہوئی ، خیبر پختون خوا سے احتجاج کیا گیا یا بلوچ قوم پرستوں نے اپنے حقوق کی دہائی دی، حکمرانوں کو اعتماد تھا کہ پنجاب کے عوام خاموش رہیں گے۔ اب پنجاب کے ایک مقبول لیڈر کے منہ سے اسٹبلشمنٹ کے سیاسی کردار کی کہانی اور بے بس پارلیمنٹ کی داستان سامنے آنے کے بعد یہ پریشانی لاحق ہے کہ اگر پنجاب کے عوام بیدار ہوگئے اور انہوں نے بھی ویسے ہی جمہوری و انسانی حقوق کا مطالبہ کردیا جو باقی صوبوں سے کیا جاتا رہا ہے تو اس عوامی طاقت کا جواب کیسے دیا جائے گا۔

عمران خان کو فوج کمزور ہونے یا بھارت کی سازش کامیاب ہونے کی فکر نہیں ہے۔ انہیں عوامی احتجاج کے سامنے اپنے پاؤں کے نیچے سے زمین سرکتی محسوس ہورہی ہے۔ نواز شریف مسلم لیگ کے منتخب ارکان یا اپنی ہی پارٹی کے ڈھانچے کا محتاج نہیں ۔ اس کی للکار پنجاب کے عوام کے دلوں کی آواز بن چکی ہے ۔ دوسرے صوبوں کے لوگ تاریخ میں پہلی بار پنجاب کے عوام کی بیداری پر خوشی و اطمینان محسوس کررہے ہیں۔ حکومت اور عمران خان اگر اس خطرے کو محسوس کرچکے ہیں تو انہیں یہ بھی جان لینا چاہئے کہ ا س کا علاج تصادم نہیں سیاسی مفاہمت ہے۔ نواز شریف کو غدار قرار دے کر گھبراہٹ اور بدحواسی کا اظہار نہ کریں بلکہ اس کی جائز باتوں کو سنیں اور اسے راضی کریں۔ ورنہ پنجاب کا یہ پہلا غدار موجودہ حکومت اور نظام پر بھاری پڑے گا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

سید مجاہد علی

(بشکریہ کاروان ناروے)

syed-mujahid-ali has 1644 posts and counting.See all posts by syed-mujahid-ali