میڈیکل کالج کے اساتذہ کی باتیں اور یادیں

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

5 اکتوبر: پوری دنیا میں اس دن کو ”یوم اساتذہ“ کے طور پر منایا جاتا ہے۔ اس دن پوری دنیا، اساتذہ کو خراج عقیدت پیش کرتی ہے۔ میری ذاتی رائے میں، استاد سے محبت کے اظہار کے لیے کسی دن کی ضرورت نہیں، لیکن دنیا ایک گلوبل ولیج کا روپ دھاڑ چکی ہے، تو جس دن کو کسی سے منسوب کیا جاتا ہے، تو ہم سبھی اسی دن ہی اپنے جذبات کا اظہار کرتے ہیں۔ سوشل میڈیا پر دوستوں نے اپنے پسندیدہ اساتذہ کے بارے میں لکھا، تو دلی خوشی ہوئی۔ تو سوچا کیوں نا میں آپ کو اپنے میڈیکل کالج کے اساتذہ سے ملاؤں!

پروفیسر ڈاکٹر یوسف شاہ صاحب، یہ ہمارے کالج کے پرنسپل اور سرجری کے ہیڈ آف ڈیپارٹمنٹ تھے، کمال کے سرجن ہیں۔ جو ان سے ایک بار پڑھ لیتا تھا، سر کا فین ہو جاتا تھا۔ حس مزاح لاجواب تھی۔ غصے میں کم ہی آتے تھے!

پروفیسر ڈاکٹر نوید الرحمن، یہ ہمارے کالج کے میڈیسن یونٹ 3 کے انچارج تھے اور ہر سٹوڈنٹ کے فیورٹ تھے۔ مجال ہیں جو کبھی کسی کو غصے ہوئے ہوں۔ viva بہت آسان لیتے تھے، تو ہر طالب علم کی خواہش ہوتی تھی کہ اس کا امتحان آپ ہی لیں۔

پروفیسر ڈاکٹر بدر بشیر، یہ میڈیسن یونٹ دو کے انچارج تھے۔ لیٹ آنے پر کوئی کمپرومائز نہیں کرتے تھے، غلطی کرنے پر اچھی خاصی ڈانٹ پلا دیتے تھے، امتحانات آتے تو سب سے زیادہ سپورٹنگ ہوتے تھے!

پروفیسر ڈاکٹر سدیدہ عامر، یہ ہماری pediatrics کی ہیڈ تھیں۔ ہم ان سے پڑھنے وارڈ جاتے تھے، میں ان سے باتیں شروع کر دیتا تھا، یہ ہنس کر کہتی تھیں، تم بالکل عورتوں کی طرح باتیں کرتے ہو۔ پراف کے دنوں میں یہ حد سے زیادہ سپورٹ کرتی تھیں

پروفیسر ڈاکٹر محمد عمران، یہ بھی pediatrics کے پروفیسر تھے، بالکل سٹوڈنٹس کے لیول پر آ کر پڑھایا کرتے تھے، مجال ہے جو آج تک کبھی بھی کسی کو غصے ہوئے ہوں۔

پروفیسر ڈاکٹر صائمہ قریشی، یہ ہماری گائنی کی پروفیسر تھیں، آخری پیپر کا viva تھا، کہنے لگیں شافع اب تو سیریس ہو جاؤ، سارا سال کبھی ادھر گھومتے تھے کبھی ادھر، اب یہ بچپنا بند کر دو! میڈم غصہ ضرور ہوتی تھیں لیکن صرف تعلیم کے معاملے میں۔

پروفیسر ڈاکٹر بشیر صدیقی، یہ ہمارے forensic medicine کے HOD تھے، ہم سوچتے تھے کہ اس دنیا میں اتنا اچھا کوئی کیسے ہو سکتا ہے؟ انتہائی نفیسں شخصیت کے مالک تھے، سب سے ایک ہی ٹون میں بات کرتے تھے۔

پروفیسر ڈاکٹر عثمان، یہ پتھالوجی پڑھاتے تھے، کتابوں سے ان کو شغف تھا، بیشک ان کا سبجیکٹ بورنگ تھا لیکن اسے انٹرسٹنگ بنا دیتے تھے۔

پروفیسر ڈاکٹر کاشف بیگ، یہ بھی پتھالوجی پڑھاتے تھے، مسکراتے مسکراتے ہی ایک بیماری پڑھا دیتے تھے۔

پروفیسر ڈاکٹر نعیم، یہ فارماکولوجی کے پروفیسر تھے، تبلیغی جماعت سے منسلک تھے، ہمیشہ شیروانی کے ساتھ جناح کیپ پہنا کرتے تھے، باتوں باتوں میں drugs بتا دیا کرتے تھے۔

پروفیسر ڈاکٹر روحی منظور خان، یہ فارماکولوجی کی ہیڈ تھیں، ان کا غصہ پورے کالج میں مشہور تھا، spelling اور pronunciation mistakes پر ان کا نو کمپرومائز ہوتا تھا، ان کے اس غصے کے باوجود میں فرنٹ سیٹ پر بیٹھا سو جاتا تھا، پھر میڈم جو ڈانٹتی تھیں، آج بھی سوچوں تو ڈر لگنے لگ جاتا ہے، سوال اتنے مشکل پوچھتی کہ بس خدا کی پناہ۔

ڈاکٹر عمران عزیز، یہ بھی فارماکولوجی پڑھاتے تھے، جوان تھے تو کافی خوش لباس تھے۔
پروفیسر ڈاکٹر فہیم، یہ ophthalmology کے HOD تھے، کہتے تھے کہ پڑھائی پر کوئی نرمی نہیں۔

پروفیسر ڈاکٹر ثمینہ، یہ بائیوکیمسٹری کی HOD تھیں، میڈیکل کا سب سے بور اور ڈل سبجیکٹ یہ ہی ہے، یہ ہمیں کہتی تھیں کہ مجھے پتا ہے کہ یہ سبجیکٹ بورنگ ہے، لیکن کرنا تو ہے ہی تو سکون سے کر لو۔ بالکل بھی غصے نہیں ہوتی تھیں۔

پروفیسر ڈاکٹر رضوان احمد، یہ بھی بائیو کیمسٹری کے پروفیسر تھے، ان کی حتی الامکان کوشش ہوتی تھی کہ زیادہ سے زیادہ پڑھا دیں، کچھ کہتے نہیں تھے تو سب کے پسندیدہ تھے

پروفیسر ڈاکٹر عرفان مغل، یہ انا ٹومی کے پروفیسر تھے، اور وائس پرنسپل بھی تھے، ڈسپلن کے معاملے میں بہت سخت تھے۔

پروفیسر ڈاکٹر خالد محمود، یہ بھی اناٹومی کے ہی پروفیسر تھے۔ ان سے ایک سوال جتنی دفعہ پوچھو، ہر دفعہ پہلے سے زیادہ تفصیل سے بتاتے تھے۔

پروفیسر ڈاکٹر تسنیم چیمہ، یہ physiology کی ہیڈ تھیں، viva میں کنسیپٹ کتنا کلیئر ہے، وہ اس طرح سنتی تھیں، ڈسپلن کی سخت پابند تھیں۔

ڈاکٹر تیمور، یہ اناٹومی پڑھاتے تھے، نوجوان تھے تو سپورٹس ویک میں فل ایکٹیو ہوتے تھے۔
ڈاکٹر عائشہ، یہ بھی اناٹومی پڑھاتی تھیں، غصہ کم ہوتی تھیں، لیکن مارکنگ سخت کرتی تھیں۔
ڈاکٹر راضیہ رضوان، یہ physiology پڑھاتی تھیں، یہ مسکراتے مسکراتے ہی چیپٹر ختم کر دیا کرتی تھیں۔
پروفیسر ڈاکٹر رابعہ عثمانی، ڈسپلن اور ریسرچ پر کسی قسم کا کوئی سمجھوتہ نہیں کرتی تھیں۔

یہ تھے، میرے میڈیکل کالج کے کچھ اساتذہ، ان سے اتنی یادیں جڑی ہیں کہ الفاظ کم پڑ جائیں۔ ابھی کتنے ہی اساتذہ ایسے ہیں، جن کا ذکر نہیں کر سکا۔

میں آج جو کچھ بھی ہوں، اپنے ان اساتذہ کی وجہ سے ہوں! میری اللہ سے دعا ہے کہ وہ میرے سبھی اساتذہ کو صحت و تندرستی سے نوازے اور یہ لوگ ایسے ہی علم کے متلاشیوں کو علم کی روشنی سے منور کرتے رہیں، امین۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •