مرد بھی مجبور ہو سکتا ہے!

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ہمارے معاشرے میں تمام معاملات زندگی میں مرد کو برتری حاصل ہے چاہے وہ گھریلو ہو یا سماجی۔ رعب دار، غصے کا تیز، پتھر دل، احساس سے نالاں جیسی ان تمام خصوصیت کو ہم نے خود ہی مرد کے ساتھ منسلک کر دیا ہے۔ ہوش سنبھالتے ہی ہمارے ذہنوں میں مرد کی تصویر کچھ یوں بنا دی جاتی ہے کہ خود بہ خود مرد اپنی شخصیت کو اسی انداز میں ڈھالنے لگتا ہے۔ اگر غور کریں تو کیسے یہ سوچ ہم پر حاوی ہوئی؟ اور اتنا پھیلی کہ دلوں میں سرایت کر گئی جس کے مطابق ہنسنا اور رونا مرد سے مشروط نہیں، اگر وہ روئے تو کہا جاتا ہے عورتوں کی طرح آنسو نہ بہاؤ اور اگر ہنسنے لگے تو کہا جاتا ہے آخر کب سنجیدہ ہو گئے؟ اگر کوئی مرد نزاکت یا نرمی سے بات کرنے لگے تو ہمارا معاشرہ اسے تیسری قوم سے گردانتا ہے۔

باپ، بھائی، شوہر یا دوست مرد کا کوئی روپ ذمہ داری سے خالی نہیں پھر چاہے گھریلو بھاگ دوڑ ہو یا دنیاوی اسے ہر وقت چاق و چوبند رہنا پڑتا ہے یہی وجہ ہے کہ ہر کام کو قبل از وقت نمٹانے کی کوشش کرتا ہے۔ اسی بھاگ دوڑ میں اکثر و بیشتر اپنے ہی عزیزوں سے سالوں سال ملاقات نہیں کرنا، ایک کی بجائے دو تین جاب کرنا، اپنوں کے لیے ہر تکلیف کو برداشت کرنا، کسی کو ہنسی دینے جھوٹی مسکراہٹ سجانا یہ مرد ہی کی ذات ہے جو بیک وقت کئی فرائض انجام دیتی ہے پھر بھی مرد ازل سے بد نام رہا ہے۔ کوئی انسان مکمل یا پر فیکٹ نہیں ہوتا لیکن ہم نے یہ طے کر لیا ہے کہ مرد کو پر فیکٹ ہی ہونا چاہیے اور اگر اس میں کچھ کمی و بیشی رہ جائے تو اس کو اتنا کوسا جاتا ہے، وہ مجبوراً اپنی شخصیت کو بدل دیتا ہے۔

جب مرد حضرات بازار جاتے ہیں، اپنی ضرورت کی چیز لینے کے لیے ایک ہزار کی بجائے دو ہزار میں لینے سے بھی نہیں کتراتے بقول مردوں کے یوں وہ اپنا وقت بھی بچاتے ہیں اور ساتھ ساتھ بے جا بحث سے بھی بچ جاتے ہیں۔ آج کے دور میں کوئی کسی سے پیچھے نہیں رہنا چاہتا یہی خواہش ان میں ایک دوسرے سے نفرت و حسد جیسے جراثیم بخش رہی ہے۔ اور پھر سونے پہ سہاگہ ایسی باتیں سن لینا جیسا کہ تمہارا دوست تم سے اچھا ہے، اس کی تنخواہ اتنی زیادہ کیوں ہے؟

تمہاری کیوں نہیں؟ ، فلاں بھی کام کرتا ہے لیکن اپنی فیملی کو بھی وقت دیتا ہے، کبھی کوئی کام بھی کر لیا کرلو گھر آ کر پڑے رہتے ہو، گھر آتے ہی کیوں ہو آفس میں ہی سو جایا کرو، دوسروں کے بچے دیکھو کہاں سے کہاں پہنچ گئے ایک ہمارے فرزند نالائق، ایسے دوستوں کی صحبت میں رہو گے تو کبھی آگے نہیں بڑھ سکو گے، وغیرہ وغیرہ عموماً یہ کلمات مردانگی کی انا کو پاش پاش کر دیتے ہیں جس کے نتیجے میں غصہ و چڑچڑاہٹ ایک فطری عمل ہے۔

اس سب کے باوجود مرد کا ایک روپ پیار و محبت سے بھرا ہے جس سے کبھی انکار نہیں کیا جاسکتا لیکن اکثر ایسے مردوں کے ساتھ جانے انجانے کچھ برا ہی ہوجاتا ہے، آپ اپنے اردگرد نظر دوڑائیں تو دنیا ایسے حضرات سے بھری پڑی ہے جو اپنوں کے لیے اپنا سب کچھ گنوا دیتے ہیں، اپنی خوشیاں، اپنے سکون اور بدلے میں انہیں وہ حاصل نہیں ہوتا جس کے وہ حقدار ہیں۔ اگر ہم لڑکوں کی کم عمری میں دیکھیں تو ماں باپ فیصلہ کرتے ہیں کہ بچہ بڑا ہو کر کون سی فیلڈ سے منسلک ہوگا بہت ہی کم و بیش ہوتا ہے کہ بچہ اپنی مرضی سے اس بات کا فیصلہ کرے کہ اسے اپنی فیلڈ کو منتخب کرنے کی ذمہ داری دی جائے وگرنہ جو والدین چاہتے وہی بچپن سے اس کے ذہن میں بٹھا دیا جاتا ہے کہ تمھیں فلاں عہدے پر فائز ہونا ہے۔

ابھی اس مرحلے سے جیسے تیسے نکلے نہیں ہوتے بیٹا کماؤ پوت ہو گیا ہے اس سے پہلے کوئی لڑکی اس کو اپنے جال میں پھنسا لے اس کے ہاتھ پیلے کردو پھر وہ بچارا کسی کو پہلے ہی دل کیوں نہ دے بیٹھا ہو اس میں گھر والے دس کیڑے گنوانا شروع کر دیتے ہیں اور بالآخر اسے اپنی فیملی کے لیے مجبوراً سر خم کرنا پڑتا ہے، لیکن اس وقت گھر والے یہ نہیں سوچتے ان کے اس رویہ سے کسی کی نظروں میں وہ آسمان سے زمیں میں جا گرتا ہے کیونکہ ہمارے معاشرے کا المیہ ہے کہ وہ تصویر کا دوسرا رخ نہیں دیکھتے اور نفرتوں کا انبار لگا دیتے ہیں اگر ہم مرد کی بھی مجبوری سمجھیں تو منفی خیالات کبھی آپ کے پاس نہ بھٹکے لیکن افسوس اس طرح کی سوچ بہت کم خواتین میں پائی جاتی ہے۔

اتنا ہی نہیں یہاں کچھ ایسی خواتین بھی پائی جاتی ہیں جو بچارے معصوم مردوں کے دل سے کھیل جاتی ہیں صرف اپنی وقتی ضرورت کے لیے پھر کوئی نیا ملتے ہی پچھلے کو بھول جاتی ہیں ایسے میں اس مرد کو بہت ٹھیس پہنچتی ہے اور یوں وہ آہستہ آہستہ ڈپریشن کا شکار ہو جاتے ہیں کیونکہ وہ اس بات کی بھڑاس نکالتے ہی نہیں کہ کسی لڑکی نے دھوکا دیا اور اکیلے ہی اس میں کڑھتے رہتے ہیں اور نتیجتاً نہ صرف گھر کا ماحول خراب ہوتا ہے بلکہ اس انسان کی شخصیت بھی بکھر جاتی ہے۔

زندگی بہت مختصر ہے اپنے لیے تو سب جی جاتے ہیں لیکن اگر وفادار مرد آپ کی زندگی میں ہے چاہے وہ باپ، بھائی، دوست، شوہر یا بیٹے کے روپ میں کیوں نہ ہو ان کی قدر کی جائے کیونکہ یہ مرد ہی ہیں جو آپ کے لیے اپنی خوشیوں کو پس پشت ڈال دیتے ہیں اور اس کا اظہار بھی نہیں کرتے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •