زندگی، کینسر اور امید

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

آج کیلینڈر پر نگاہ پڑی تو اندازہ ہوا کہ اکتوبر بھی شروع ہو چکا ہے۔ اکتوبر میں کیا خاص بات ہے؟ بدلتے موسم کی دستک یا کچھ اور بھی؟ جی ہاں یہ بریسٹ کینسر آگاہی کا مہینہ ہے۔ کینسر کا لفظ ہی عام انسان کو خوفزدہ کرنے کے لئے کافی ہے اور بیچاری عورت کو جہاں بہت سے تاوان اپنی صنف کی وجہ سے ادا کرنے پڑتے ہیں ان میں سر فہرست بریسٹ کینسر ہے مگر میڈیکل سائنس میں اتنی ترقی بھی ضرور ہو چکی ہے کہ بر وقت علاج سے اس پر قابو پا سکتے ہیں۔

وہ نومبر کی ایک کہر آلود اور یخ بستہ صبح تھی اور بادل برسنے کو تیار تھے جب میں اپنا چائے کا مگ لے کر ٹی وی کے سامنے بیٹھ گئی، آتے ہوئے سال میں کرکٹ کا ورلڈ کپ ہونے جا رہا تھا اور اس پر ایک دلچسپ پروگرام آ رہا تھا اور میں ٹھہری کرکٹ کی جنونی (بھائیوں میں پلنے بڑھنے کی وجہ سے ) سو آرام سے پروگرام میں کھو گئی۔

کچھ دن قبل میرا میمو گرام کا رزلٹ آنے کے بعد ہاسپٹل نے ایک اور ٹیسٹ کے لئے دوبارہ بلایا اور کہا کہ مزید احتیاط کے لئے کر رہے ہیں، بہرحال ٹی وی میں کھوئے ہوئے ہی مجھے میری سرجن کی کال آئی۔

فائزہ کیا آپ ابھی میرے یہاں آ سکتی ہیں، آپ کی بائیوپسی کی رپورٹ آ گئی ہے ”you have breast cancer“
مجھے اپنے کانوں پر یقین ہی نا آیا بھلا مجھ جیسی بھاگتی دوڑتی صحت مند عورت کو کینسر کیسے ہو سکتا ہے۔

آدھے گھنٹے کے بعد میں سرجن کے آفس میں ٹکر ٹکر ان کی شکل دیکھ رہی تھی، سرجن ایک بہت مہربان خاتون تھیں اور وہ دو گھنٹے سے زیادہ میرے ساتھ بیٹھی رہیں۔

میری آنکھوں کے سامنے اندھیرا تھا جس میں اپنے پیاروں کی شکلیں دیکھنے کی کوشش کر رہی تھی اور بہت جلد میں جن کے لئے ایک بھولی بسری یاد بننے والی تھی حتی کہ اپنے شوہر اور بچوں کے لئے بھی، اگر کوئی اپنے آخری سانس تک مجھے یاد رکھے گا تو وہ میری ماں ہو گی۔

والد کا دو سال پہلے کینسر سے انتقال ہو گیا تھا (اللہ تعالی کروٹ کروٹ درجات بلند کرے آمین) شوہر ملازمت کے سلسلے میں دوسری سٹیٹ میں مقیم تھے، بیٹی نے یونیورسٹی شروع کی تھی اور بیٹا دس سال کا تھا اور امریکہ میری کوئی فیملی نہیں تھی بس ایک دھند تھی جس میں کچھ نظر نہیں آ رہا تھا۔

تمہیں بہت بہادر اور مضبوط ہونا ہوگا

ڈاکٹر نے میرا ہاتھ تھاما، کینسر سے جنگ مشکل ضرور ہے مگر نا ممکن نہیں، اس دشمن سے تمھیں یہ جنگ جیتنا ہے مگر صبر اور حوصلے کے ساتھ!

ڈاکٹر میں بہت مضبوط اور بہادر عورت ہوں اور اس دشمن کو ہر حال میں شکست دوں گی
مجھے اپنی آواز سنائی دی مگر اس کا کھوکھلا پن دونوں پر واضح تھا

میڈیکل سائنس بہت ترقی کر چکی ہے اور بروقت تشخیص کی صورت میں تو جان بچانی بہت حد تک ممکن ہے، وہ بول رہی تھیں

مگر میرے والد۔ میری آنکھوں سے آنسؤں کا سیلاب بہہ نکلا، ڈاکٹر میرا ہاتھ تھامے بیٹھی رہیں اور علاج کے تکلیف دہ مراحل اور ان سے منسلک پیچیدگیاں ڈسکس کرتی رہیں انھوں نے ممکنات اور نا ممکنات پر صاف صاف بات کی اور میری حتمی صحت کو میری ”willpower“ سے مشروط کیا گویا

اک آگ کا دریا ہے اور ڈوب کے جانا ہے

ایک ہارے ہوئے جواری کی طرح میں گھر واپس آئی شوہر چھ سو میل دور اپنی جاب پر جانے کے لئے تیار تھے شاید وہ بہت کچھ کہنا چاہتے تھے مگر کہہ سکے تو اتنا کہ ”be brave“ اور چلے گئے کیونکہ وہ جاب کریں گے تو میرے ہاسپٹل بلز ادا ہو سکیں گے کیونکہ امریکہ میں انشورنس کے علاوہ بہت سے میڈیکل بل آپ کو اپنی جیب سے دینے پڑتے ہیں اور میرے سرہانے بیٹھ کر تو میری کوئی مدد نہیں ہو سکتی گو کہ ایسی حالت میں انسان کو ایموشنل سپورٹ کی سب سے زیادہ ضرورت ہوتی ہے خاص طور پر لائف پارٹنر کی مگر بعض حقیقتیں اتنی تلخ ہوتی ہیں کہ ان سے نظر چرانی پڑتی ہے۔

اگلا مرحلہ امی اور بھائیوں کو بتانے کا تھا وہ طے ہوا پھر دوستوں کی باری آئی، یہاں کچھ نگاہوں میں خوف بھی تھا اور تجسس بھی

تمہاری فیملی ہسٹری ہے؟
کتنا پھیل گیا ہے؟
کوئی امید ہے، ڈاکٹر کیا کہتے ہیں؟
زیادہ تو پریشان تھے اور مجھے اپنی دعاؤں کے حصار میں رکھ رہے تھے۔

میری سرجری ایک ہفتے میں ہو گئی اور کینسر کس سٹیج پر تھا یہ بھی پتہ چل گیا اور زندگی کے اس موڑ پر مجھے احساس ہوا کہ اللہ تعالی کے سامنے کس منہ سے جاؤں گی، اس کی بے پناہ نعمتوں کا میں نے کب کبھی شکر ادا کیا تھا میرے گناہوں کی تو کوئی حد نہیں، تو کیا یہ میرے گناہوں کی سزا ہے؟ استغفراللہ، میں سجدے میں گر گئی، اللہ تعالی اگر یوں سزا دینے لگے تو قیامت سے پہلے قیامت آ جائے وہ تو ستر ماؤں سے زیادہ محبت کرتا ہے۔

چھے ہفتے بعد کیمو کا سلسلہ شروع ہو گیا جو ایک جان لیوا عمل ہی لگا اور پہلی دفعہ ہی سارے بال اتر گئے اور آئی بروز بھی، کسی بھی قسم کے بال و پر کے بغیر ایک تربوز نما تھوبڑا اور یہ ایک عورت کے لئے کافی بڑا جذباتی صدمہ ہوتا ہے، میرے بچے میری بہت دلجوئی کرتے اور میرے شوہر (ویک اینڈ پہ گھر آتے تھے ) میری کیفیت سمجھنے کی کو شش کرتے ہوئے میری حوصلہ افزائی کرتے۔ کیمو تھیراپی میری زندگی کا خوفناک ترین تجربہ تھا بلکہ میرا خیال تھا شاید میں اس تکلیف سے سروآئیوو نا کر سکوں، ایڑیاں رگڑنا کسے کہتے ہیں میں سمجھ گئی تھی اور اس پر پاکستانی ٹیم کی ناقابل بھروسا کارکردگی نے الگ اذیت میں مبتلا کر رکھا تھا۔

موسم کا مزاج بھی عام طور پہ خراب ہی رہتا تھا اور مستقل برفباری اور دھند بہت ڈسٹربنگ تھی۔ کیمو سیشن کے بعد پہلا ہفتہ بہت ناقابل بیان تکلیف میں گزرتا دوسرے ہفتے سے میں اپنے بچوں سے بات چیت کی کوشش کرتی ( باقی تمام دوستوں کو میں نے خبر گیری سے منع کر دیا تھا) تیسرے ہفتے میں کچھ لیکوئیڈ وغیرہ لیتی اور اگلی ڈوز کا ٹائم آ جاتا۔

وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ”روز کینسر سنٹر“ کے ڈاکٹرز اور نرسز کے ساتھ تعلق استوار ہونے لگا، ہنسی مذاق اور روزمرہ کے حالات و واقعات پر تبصرہ ہوتا میں ان کو کرکٹ کے قصے کہانیاں سناتی وہ لوگ ہنس ہنس کر باتیں کرتے ہوئے کیمو کے سیشن کے علاوہ بھی مختلف قسم کے انجیکشن بیکٹیریا اور وائرس سے بچاؤ کے نام پر لگاتے رہتے۔ انھی بے یقین اور افسردہ دنوں میں میرے بڑے دونوں بھائی اور بھابیاں ہوا کا تازہ جھونکا بن کر آئے مگر کچھ ہی دن کے بعد وہ لوگ واپس چلے گئے اب پھر میں تھی اور ہسپتال کے چکر تھے۔ مسلسل سٹیرائیڈز لینے کے باوجود وزن گر رہا تھا مگر چہرے پر سوجن بہت زیادہ تھی اور رنگ جیسے گرے سا ہو گیا تھا لیکن وہ وقت بھی گزر گیا۔

تاب لاتے ہی بنے گی غالب
واقعہ سخت ہے اور جان عزیز
تین ہفتے کے ریسٹ بعد مجھے ریڈی ایشن پریپ کے لئے بلایا گیا
اک اور دریا کا سامنا تھا منیر مجھ کو
میں اک دریا کے پر اترا تو میں نے دیکھا

اس کے بعد مسلسل چالیس روز بلا ناغہ ریڈیو تھراپی ہوئی اور اس کے تین مہینے کے بعد فائنل ایم آر آئی کے بعد مجھے کینسر فری قرار دیا گیا

اور خدا کی کون کون سی نعمتوں کو تم جھٹلاؤ گے

برا وقت تھا گزر گیا الحمدللٰہ اور یہ میں ضرور کہوں گی کہ کینسر ایک جان لیوا بیماری ہے مگر اللہ تعالی پر مکمل توکل، دعا اور جدید علاج سے اس کے ساتھ جنگ جیتی جا سکتی ہے۔ ہاسپٹل والے اب تک (کرونا سے پہلے ) مجھے بعض خواتین کی ہمت افزائی اور کونسلنگ کے لئے بلاتے تھے۔

کینسر ہسپتال کے تمام ڈاکٹرز اور نرسز کو میرا سلام اور اللہ تعالی سب کو اس موذی مرض سے محفوظ رکھے (آمین)

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •