قومی مسئلہ: بسکٹ کا اشتہار؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ہمارا ایک بہت بڑا المیہ یہ ہے کہ ہم نان ایشو کو ایشو بنا دیتے ہیں، جن کی آڑ میں حقیقی ایشو دبا دیے جاتے ہیں۔ پچھلے دو دن سے ہماری قومی بحث کا موضوع ایک بسکٹ کی مشہوری کے لیے بنایا جانا والا اشتہار ہے، جس کا نہایت باریکی سے مشاہدہ کر کے، ایک خود ساختہ اخلاقی داروغہ نے اس میں فحاشی کا کوئی پہلو ڈھونڈا، اور پھر اس کے خلاف مہم چلائی۔ پھر پوری دنیا میں انٹر نیٹ پر اخلاق باختہ فلموں کو سرچ کرنے میں سر فہرست ملک کے عوام نے ڈیجیٹل جہاد کے ذریعے معاشرے میں فحاشی کو فروغ دینے والوں کا تیا پانچہ کیا۔ نا صرف یہ بلکہ پاکستان الیکٹرانک میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی نے متعلق فریقین کو اس اشتہار کے مواد پر نظر ثانی کی ہدایت بھی جاری کر دی۔

پچھلے کئی ماہ سے قومی ٹیلی ویژن پر ایک ترکش ڈراما نشر ہو رہا ہے، جس میں قتل غارت گری اور مختلف مذاہب کے خلاف نفرت پر مبنی مواد کے سوا کچھ بھی نہیں ہے۔ نہ تو پیمرا نے کوئی نوٹس لیا، نا ہی کسی نیم پاگل مذہبی جنونی صحافی یا وزیر نے اسے معاشرے کے لیے زہر قاتل قرار دیا۔

دو دن قبل ایک ٹی وی پروگرام میں ایک شخص نے عسکری اشرافیہ پر تنقید کرنے والوں کے گلے کاٹنے کی بات کی، اور لوگوں کو قتل پر اکسا کر دہشت گردی کا مرتکب ہوا، لیکن اس پر بھی نہ تو پیمرا نے کوئی نوٹس لیا، نا ہی کوئی مقدمہ درج ہوا۔ نا ہی کسی نے اسے معاشرے کے لیے بربادی کا سبب گردانا۔

ٹی وی ڈراموں میں عورت پر تشدد کے سین دکھانے پر بھی، کوئی نہیں بولتا۔ نا ہی ہر روز عورتوں کے ریپ کے ان گنت واقعات سے کسی کو کوئی فرق پڑتا ہے۔

موٹروے گینگ ریپ کے واقعے کو کئی دن گزر گئے، مرکزی ملزم گرفتار نہیں ہوا۔ غیر ذمہ دار پولیس افسر نے متعدد مرتبہ متاثرہ خاتون کو مورد الزام ٹھہرایا، لیکن اس کے با وجود اسے اس معاشرے کی تباہی کا ذمہ دار نہیں ٹھہرایا گیا۔

عورت کے لباس سے اس کے کردار کی پیمائش کرتے منافق اور محدود سوچ کے حامل افراد، عورتوں اور بچوں کے خلاف جرائم جیسا کہ ریپ، غیرت کے نام قتل، گھریلو تشدد، کم عمری میں شادی، پر کبھی نہیں بولے، لیکن ہمہ وقت ایسے مناظر کی تلاش میں ہوتے ہیں، جس سے اس کے جسمانی خد و خال پر تبصرے کر سکیں۔

یہ نہیں کہ ہمارے معاشرے میں قابل توجہ مسائل نہیں ہیں، جن پہ فوکس کیا جائے۔ اصل مسئلہ ہماری ترجیحات ہیں۔

پچھلے بیس دن سے پنجاب یونیورسٹی لاہور اور بہا الدین زکریا یونیورسٹی ملتان کے بلوچ اور پشتون اسٹوڈنٹس اسکالر شپ کے خاتمے اور ریزرو سیٹوں میں کمی کے خلاف یونیورسٹیوں کے باہر احتجاجی دھرنا دے کر بیٹھے ہیں، لیکن کسی میڈیا ہاؤس نے کوریج تک نہیں دی۔

گلگت بلتستان میں، پچھلے دو دن سے عوامی ورکرز پارٹی کے بابا جان اور ان کے ساتھ طویل عرصے سے قید دوسرے سیاسی قیدیوں کی رہائی کے لیے دھرنا دیا جا رہا ہے، لیکن مین اسٹریم میڈیا پر بسکٹ کے اشتہار پر بحث ہو رہی ہے۔

اساتذہ کے بین الاقوامی دن کے موقع پر پشاور میں ایک احمدی پروفیسر کو اس کے عقیدے کی وجہ سے قتل کر دیا گیا، اس کے علاوہ بھی حالیہ دنوں میں کئی احمدی اور شیعہ کمیونٹی کے لوگوں کی ٹارگٹ کلنگ کی گئی لیکن بڑھتی ہوئی شدت پسندی اور مذہبی دہشت گردی پر کوئی بحث نہیں ہوتی۔ کسی کو معاشرے کے اس بگاڑ پر تشویش نہیں ہوتی۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •