مجرا دیکھو بسکٹ کھاؤ، ٹینشن کو دور بھگاؤ

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

گزشتہ چند دنوں کے دوران بسکٹ کے ایک اشتہار کے حوالے سے سوشل میڈیا پر جو جنگ جاری رہی، وہ سبھی کے علم میں ہو گی۔ بسکٹ کا اشتہار کیا ریلیز ہوا، گویا پاکستان کو ایک طوفان فحاشی نے گھیر لیا۔ اس اشتہار کا مواد پاکستان کی اخلاقی اقدار کے مطابق نہ ہونے کی بنا پر پیمرا نے پاکستان براڈکاسٹر ایسوسی ایشن، پاکستان ایڈورٹائزنگ ایسوسی ایشن، اور پاکستان ایڈور ٹائزرز سوسائٹی کو تنبیہ کی کہ اشتہار کے مواد پر نظر ثانی کی جائے۔

ہوا کچھ یوں کہ 4 اکتوبر کو مہوش حیات صاحبہ نے ایک ٹویٹ کے ذریعے عوام کو ملک کی تہذیب و ثقافت کے حسین رنگوں کی سیر کی دعوت دی تھی۔ اس وقت تک ایڈ ریلیز ہو چکا تھا۔ لیکن ابھی یہ رنگ پوری طرح ہماری ٹی وی سکرینز پر اپنی بہار نہ دکھانے پائے تھے کہ پیمرا نے تنبیہی مراسلہ جاری کر دیا۔ اس میں کہا گیا تھا کہ اشتہارات ایسے ہونے چاہئیں جو بسکٹ یا سرف جیسی مصنوعات کے استعمال سے مطابقت رکھتے ہوں اور ان کا مواد عوام کے جذبات میں تلاطم برپا کرنے کا سبب نہ بنے۔ اس کے باوجود دل کی تسلی نہ ہوئی تو اشتہار کے نشر کرنے پر ہی پابندی عائد کر دی۔ (خیر، آخری خبریں موصول ہونے تک اشتہار کو مختصر کر کے آن ائر کیا جا رہا ہے۔ )

پیمرا کی جانب سے اس پابندی یا تنبیہی مراسلے سے اخلاقیات اور مشرقی شرم و حیا کے پاسداروں کے کلیجے میں ٹھنڈ پڑ گئی اور وہ اپنی فتح کی خوشی میں شادیانے بجانے لگے۔ ایسی ایسی ٹویٹس پڑھنے کو ملیں کہ مجھے لگا گویا پاکستانی قوم کی اکثریت کسی فوج کا حصہ بن چکی ہے۔ ”اسلام کے نام پر حاصل کردہ مملکت خداداد میں ٹی وی سکرین پر مجرا نہیں چلے گا۔ ہم اسلامیان پاکستان اپنا سر کٹا دیں گے مگر یہ فحاشی نہیں ہونے دیں گے۔“

مذکورہ اسلامیان پاکستان بریگیڈ کی کمان حسب معمول انصار عباسی صاحب فرما رہے تھے۔ انہوں نے ہی اپنی ٹویٹ کے ذریعے پیمرا کی خوابیدہ غیرت کو یہ کہہ کر بیدار کیا تھا: بسکٹ بیچنے کے لئے اب ٹی وی سکرین پر مجرا چلے گا؟ کیا پیمرا نام کا کوئی ادارہ ہے؟ بس، پھر کیا تھا؟ عباسی صاحب کے پیروکاروں کی فوج چلی آئی سوشل میڈیا پر اور ہیجان خیز رقص سے لوگوں کے جذبات میں تلاطم برپا کرنے والی اداکارہ مہوش حیات صاحبہ کو نشانے پہ لے لیا۔

غیرت مند اسلامیان پاکستان نے خوب بڑھ چڑھ کر ”مجرا نما رقص“ کرنے کی پاداش میں اداکارہ پر حملے کیے اور پاکستان کی اخلاقی اقدار کے قلعے میں نقب لگانے والوں کے ہوش ٹھکانے پہ لگا دیے۔ ان تابڑ توڑ حملوں کے جواب میں مہوش صاحبہ ”حملہ آوروں“ کے منہ لگنے کی جرات نہ کر سکیں اور خاموشی کے حصار میں پناہ لینے میں ہی عافیت سمجھی۔ جو پہلے مہوش حیات کے ”مجرے“ سے پریشان تھے، انہیں بعد میں اداکارہ کی خاموشی بھی بری لگنے لگی۔

کچھ لوگ اس بات پر تالیاں بجاتے نظر آئے کہ کیسا مزہ چکھایا ہے محترمہ کو، دوبارہ ایسا بے حیائی والا رقص کرنے کی جسارت نہ کریں گی۔ بھلا ہمارے پاکیزہ ملک خصوصاً بلوچستان میں کہاں ایسا رواج ہے کہ عورت ذات یوں لہک لہک کے ناچتی گاتی پھرے۔ بلوچستان کے مرد ایسے بے غیرت نہیں کہ لڑکیوں اور عورتوں کو اپنے ہاتھوں پر اٹھائے پھریں جیسا کہ اشتہار میں دکھایا گیا۔ مہوش صاحبہ نے لباس کے ساتھ دوپٹہ اوڑھنے کا تکلف گوارا نہیں کیا۔

اب دوپٹے کے بغیر کسی عورت کو سکرین پر اعضا کی شاعری کرتے دیکھ کر مردوں کے دلوں میں کیسی کیسی آگ لگتی ہو گی، تبھی تو ہمارے ہاں جنسی جرائم میں اضافہ ہو رہا ہے۔ معاشرے میں فحاشی پھیلانے کی ذمہ دار یہی اداکار اور ماڈلز ہیں۔ کس دل جلے نے مہوش حیات کی بے باکانہ لباس اور آئٹم سانگ پر رقص والی تصویر پوسٹ کر کے لکھا کہ ایسے ہی کاموں پر تو انہیں تمغۂ امتیاز سے نوازا گیا تھا۔

اس معاملے پر حسب سابق عوام کی رائے دو گروہوں میں منقسم نظر آئی۔ مذہبی رجحان کے حامل اور جذباتی لوگوں نے مہوش حیات صاحبہ کو گالیوں سے نواز کر اپنا اسلامی فریضہ خوب ادا کیا۔ لیکن غیر جذباتی، اعتدال پسند، اور فنون لطیفہ کی فہم رکھنے والے ذی ہوش لوگوں نے بجا طور پر یہی کہا کہ رقص کو مجرا کہنا بالکل غلط ہے اور اشتہار کے صرف تخلیقی اور تکنیکی پہلوؤں پر مثبت اور تعمیری تنقید ہونی چاہیے۔ دوسری طرف، مہوش حیات کے پرستاروں نے ان کے لئے حمایت کا اظہار کیا۔

رقص کو ”مجرا“ قرار دینے والے کی ذہنیت میں جو خرابی ہے، اسے تو کوئی ماہر نفسیات ہی دور کر سکتا ہے۔ یہ بات سمجھ سے بالاتر ہے کہ رقص کیسے اخلاقی اقدار سے متصادم ہو سکتا ہے۔ کیا پہلے کبھی کسی ایڈ میں رقص نہیں کیا گیا؟ ہاں، یہ یقیناً کہا جا سکتا ہے کہ ہماری ایڈورٹائزنگ انڈسٹری کو مزید بہتر کام کرنے کی ضرورت ہے۔

پتہ نہیں ڈراموں اور ٹی وی کے مواد کو متنازعہ بنا کر پابندی لگا دینے سے معاشرے میں کون سی مثبت اقدار کو فروغ مل رہا ہے؟ لگتا ہے پیمرا کے سربراہ کی کرسی پر کوئی ایسے صاحب بیٹھے ہیں جو فنون لطیفہ کے شعور اور تقاضوں سے بالکل عاری ہیں۔ ایک اشتہار کو خواہ مخواہ متنازعہ بنا کر پیمرا نے لاعلمی میں وہ کام انجام دے ڈالا جو وہ اشتہار بھی نہ کر سکتا تھا۔ اس تنازع کا یہ نتیجہ برآمد ہوا کہ لوگوں نے باقاعدہ سرچ کر کے انٹرنیٹ پر اور کچھ نے مہوش حیات کے آفیشل ٹویٹر اکاؤنٹ پر جا کر وہ ایڈ دیکھا۔ حتیٰ کہ کئی لوگ تو دیکھے بغیر ہی اس کے بارے میں ٹویٹس کرتے رہے۔ بس، بسکٹ بنانے والے ادارے کو اور کیا چاہیے تھا؟ ٹاپ ٹویٹر ٹرینڈ سے بڑھ کر بھلا کیا تشہیر ہو سکتی ہے؟

پیمرا جیسے ذمہ دار حکومتی ادارے کو یوں لوگوں کی ذاتی پسند و ناپسند اور شکایات سے متاثر ہو کر فیصلے کرنے سے گریز کرنا چاہیے۔ چند ہفتے قبل اے آر وائی کے ڈراما سیریل جلن پر بھی پیمرا نے پابندی عائد کی تھی لیکن چینل نے فوراً سندھ ہائی کورٹ سے رجوع کیا جس نے پابندی کو کالعدم قرار دے دیا۔ اور یوں وہ ڈراما بغیر کسی تعطل کے آن ائر جاتا رہا۔ ایسی پابندیوں کا کیا فائدہ جنہیں بعد ازاں عدالت میں چیلنج کر کے غلط اور کالعدم قرار دے دیا جائے۔

حرف آخر:
جب سے میں نے (انصار عباسی کے مطابق) وہ ”مجرا نما“ رقص دیکھا ہے، تب سے میرے احساسات میں ایسا طوفان برپا ہوا ہے کہ پہلے تو فوراً بازار جا کر بسکٹ کا بڑا پیک خریدا اور اب اس ڈاؤن لوڈ کردہ مجرے سے لطف اندوز ہوتے ہوئے بیٹھی بسکٹ کھا رہی ہوں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •