پنجاب کا سورما، دلا بھٹی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

تاریخ کی ستم ظریفی ہے کہ یہ صاحب اقتدار کی مرضی و منشا کے مطابق لکھی جاتی رہی ہے، جس کے باعث اکثر ہیرو کو ولن کا روپ دے دیا گیا۔ بسا اوقات یہ کارروائی بھی کی گئی کہ مخالف کرداروں کا ذکر ہی لوح تاریخ سے مٹا دیا گیا۔ تاریخ کی نفی در اصل اخلاقی کمزوری ہے۔ ہمارا یہ المیہ رہا ہے کہ ہم اپنی سر زمین کے بیش تر ہیرو سے نا واقف ہیں۔ جس معاشرے میں سکندر یونانی کو ہیرو گردانا جائے، وہاں عجب نہیں کہ مقامی ہیرو کے متعلق لا علمی موجود ہو۔

ایک زندگی طبعی ہے جو اوسطاً ستر سال پہ محیط ہوتی ہے، مگر ایک زندگی وہ ہے جو انسان پس مرگ جیتا ہے۔ اسے یہ فیصلہ کرنا ہوتا ہے کہ کیا زندگی کے ایک ایک لمحہ کا خراج دینا ہے یا جواں مردی سے جینا ہے۔ یہاں پنجاب کے ایک ایسے جنگجو کا ذکر ہے جسے تاریخ کے صفحات اتنی سطریں نہ دے سکے، جتنی اس کے شایان شان تھیں۔ مغلیہ سلطنت کے تاریخ دانوں نے تو اس کی بہادری و جواں مردی کا ذکر کرنے سے اجتناب کیا، مگر اس کا کردار زندہ رہا۔ جس نے شاہی صحیفوں میں جگہ نہ پائی، وہ عوام کے دلوں میں جگہ پا کر ہمیشہ کے لئے امر ہو گیا۔

سولہویں صدی میں جنم لینے والا پنجاب کا ایک عظیم ہیرو رائے عبد اللہ خاں بھٹی، المعروف دلا بھٹی، ساندل بار (دریائے چناب پر لاہور سے تقریباً 130 کلومیٹر دور پنڈی بھٹیاں ) کے ایک زمیندار طبقے کے، موروثی مقامی دیہی سرداروں کے خاندان تعلق رکھتا تھا۔ اس کے والد فرید بھٹی اور دادا بجلی یا ساندل بھٹی کو اکبر کے نافذ کردہ دین الٰہی کی مخالفت کی پاداش میں (بعض روایات کے مطابق زمین کی مرکزی مال گزاری قوانین کی مخالفت پر) سزائے موت دی گئی تھی۔ دلا بھٹی کی ماں ”لاڈھی“ نے دلا کے باپ اور دادا کے قاتلوں کا راز اپنے تک ہی رکھا، مگر ایک روز ایک خاتون سے الجھنے کے نتیجے میں، دلا بھٹی پر پوشیدہ حقیقت آشکار ہوئی اور اس نے اپنی ماں سے اس بارے میں دریافت کیا، تو معلوم پڑنے پر اس نے اکبری نظام کے خلاف جہاد کی ٹھان لی۔

تیرا ساندل دادا ماریا
دتا بورے وچ پا
مغلاں پٹھیاں کھالاں لاہ کے
بھریاں نال ہوا

چوں کہ یہ دور زراعت کا تھا، لہذا فصل خاطر خواہ حاصل نہ ہونے کے با وجود مغلیہ ہرکارے لگان کی مد میں سالانہ محصولات لے اڑتے تھے، جس کی وجہ سے مجموعی طور پر معاشی استحصال جاری تھا۔ دلا بھٹی نے نا صرف کسانوں کو اس ظلم سے بچایا، بلکہ جو مغلیہ قافلے اس کی زمین سے گزرتے تھے، انہیں لوٹ کر غریبوں میں بانٹنے کا عمل شروع کیا، جو اس کی موت تک جاری رہا۔ یہ وہ دور تھا، جب مغلیہ سلطنت کو بام عروج حاصل تھا اور جلال الدین اکبر اپنی سیاسی فہم و فراست سے ہندوستان پر قابض ہوتا جا رہا تھا۔

ایسے میں سلطنت کے ایک کونے میں نچلے طبقے کی بغاوت یقینی طور پر سلطنت کے استحکام کے لئے ایک چیلنج تھی۔ دلا بھٹی نے کسانوں کو تحفظ فراہم کر کے علی الاعلان بغاوت کا بیج بو دیا۔ دلا بھٹی کی بہادری کی گونج مغلیہ سلطنت کے مرکز فتح پور سکری کے کوچوں تک پہنچی، تو اکبر تمام درباری اسباب لیے ہجرت پر مجبور ہو گیا اور لاہور کو قریبا بیس سال مرکز بنایا، تا کہ اس بغاوت کا سر کچلا جا سکے۔

ایک روایت کے مطابق دلا بھٹی اور شہزادہ سلیم رضاعی بھائی ہیں، کیوں کہ اکبر کو نجومیوں نے مشورہ دیا تھا کہ اپنے بیٹے کو کسی سخت جان راجپوت عورت کی گود میں دینا۔ چناں چہ ان دونوں نے ایک ہی ماں کا دودھ پیا۔ دلا بھٹی کا کردار نہایت وسیع ہے۔ یہ بھی سچ ہے کہ وقت کی رفتار نے مبالغہ آرائی کو بھی تقویت دی اور بے شمار قصے اس بہادر سے منسوب کر دیے گئے۔ ایک قصہ یہ ہے کہ اکبر بادشاہ شکار کی تلاش میں ساندل بار کے علاقے میں گھس آیا اور شومئی قسمت دلا بھٹی کے سپاہیوں کے ہاتھوں گرفتار ہو گیا، مگر جب دلا بھٹی کے سامنے پیش ہوا تو خود کو ایک ’بھانڈ‘ ظاہر کیا، حالاں کہ دلا بھٹی بخوبی واقف تھا کہ بادشاہ ہے تو دلا بھٹی نے اسے جانے دیا کہ ”اس کی تضحیک کے لئے یہی کافی ہے کہ اس نے خود کو اتنا گرایا ہے اور جان کی بھیک مانگی ہے۔

”ایک قصہ یہ بھی ہے کہ ایک بار دلا بھٹی کے آدمیوں نے شہزادہ سلیم کو گرفتار کر لیا اور جب پیش کیا گیا، تو دلا بھٹی نے یہ کہہ کر رہا کر دیا کہ میری لڑائی اکبر سے ہے، اس کے خاندان سے نہیں۔ غرض یہ کہ ایک باغی راجپوت نے اکبر کو مجبور کیا کہ وہ بیس سال اپنے تخت کو لاہور رکھے۔ دلا بھٹی پنجاب کے لیے ایک مسیحا ثابت ہوا، جس نے مغلیہ استحصال کے شکنجے سے سیکڑوں کسانوں کو بچایا اور جبری محصولات کو نہ دینے کی تحریک کو بام عروج تک پہنچایا۔ اگر تاریخ تیرہویں صدی کے سکاٹش جنگجو ولیم والس کو یاد رکھتی ہے، تو یہ نا انصافی ہے کہ دلا بھٹی کو وہ مقام دینے سے قاصر رہی۔ اس میں بڑا کردار ہماری اپنائیت کا ہے۔

لوہڑی کی رسم پنجاب میں ہر سال موسم سرما کے عروج کے آخر میں منائی جاتی ہے جو کہ دلا بھٹی کی بہادری کے واقعے سے منسوب ہے۔ واقعہ کچھ یوں ہے کہ کوٹ نکہ (مغربی پنجاب کا ایک قصبہ) کی ایک خوبصورت ہندو لڑکی کو اغوا کیا جاتا ہے اور ایک مسلمان زمیندار اس سے زبر دستی شادی کرنا چاہتا ہے۔ دلا بھٹی کے سامنے ہندو باپ پیش ہوتا ہے اور استدعا کرتا ہے کہ اس کی داد رسی کی جائے، تو دلا بھٹی نا صرف اس زمیندار کا سامنا کرتا ہے بلکہ اس لڑکی کا نکاح اپنے ہندو دوست کے بیٹے سے کرواتا ہے۔ حتی کہ شادی کی تمام رسومات بھی خود ادا کرتا ہے۔ اس پر گیت کچھ یوں ہے :

سندر مندریے
(خوبصورت لڑکی )
تیرا کون وچارا
(تمہارے متعلق کون سوچتا ہے؟ )
دلا بھٹی والا
( بھٹی قبیلے کا دلا)
دلا دھی وہائی
(دلا نے بیٹی کی شادی کی)
سیر شکر پائی
(اسے ایک سیر شکر دی)
کڑی دا لال پٹاکا
(لڑکی نے سرخ کپڑے پہن رکھے ہیں )
کڑی دا سالو پاٹا
(لڑکی کی شال پھٹی ہوئی ہے )

یہ ان روایتوں میں سے ایک ہے جو پنجابی ہر سال جنوری میں منائے جانے والے تہوار لوہڑی کے پس منظر کے طور پر بیان کرتے ہیں اور یہ گیت لوہڑی کا ایک گیت ہے۔ ہندو اور سکھ پورا سال لوہڑی کا انتظار کرتے ہیں۔ (بھارتی فلم ’ویر زارا‘ میں بھی یہ فوک گیت شامل ہے ) ۔

لوہڑی والے دن بچے لوہڑی گاتے ہوئے گھر گھر جاتے ہیں اور ٹافیاں، مٹھائیاں اور پیسے لیتے ہیں۔ شام کے وقت آگ کے گرد دلا بھٹی کی یاد میں لوہڑی کے گیت گائے جاتے ہیں۔ مشرقی پنجاب میں لوہڑی کے روز عام تعطیل ہوتی ہے جب کہ مغربی پنجابیوں کو جن کے اپنے علاقے کا دلا بھٹی دوسروں کی عزتوں کو بچاتا تھا، انہیں تفصیل نہیں معلوم اور ان کی نئی نسل کو پتا ہی نہیں کہ لوہڑی کیا ہے۔

تاریخ کے صفحے پلٹے جائیں تو یہ عقدہ کھلتا ہے کہ دلا بھٹی کو جھانسا دے کر گرفتار کیا گیا اور بعد ازاں موجودہ لنڈا بازار کے ساتھ 1589 ء میں پھانسی دی گئی۔ شاہ حسین (المعروف مادھو لال حسین) نے اس ’رابن ہڈ آف پنجاب‘ کی شہادت پر کہا تھا:

کہے حسین فقیر سائیں دا
تخت نہ ملدے منگے

دلا بھٹی کی شہادت کے بعد ایک عرصے تک، دلا کا نام بھی لوگوں کے لئے ممنوع تھا۔ اس کا نام مغل عہد میں باغی کے روپ میں پیش کر کے ہمیشہ کے لئے ختم کرنے کی کوشش کی گئی۔ لیکن دلا بھٹی کا کردار پنجابی لوک داستان کی ایک خاص صنف ”وار“ میں زندہ رہا۔ یہ وار آج بھی پنجاب کے مختلف مگر انتہائی قلیل علاقوں میں زندہ ہے۔ مقامی ہیروز کے ساتھ نا انصافی برتنے میں جہاں تاریخ قصور وار ہے، وہیں ہم بحیثیت معاشرہ بھی دوشی ہیں۔ افسوس ہے کہ اس ملک میں ارطغرل غازی کے مجسمے کو لاہور کی شاہراہ پر نصب کیا جا سکتا ہے، مگر ایک عظیم جنگجو ’مسیحا اور ظلم کے خلاف تا عمر برسر پیکار رہنے والے رابن ہڈ آف پنجاب کی آخری آرام گاہ پر محض ایک بوسیدہ کتبہ نصب ہے۔

آؤ اج اک سودا کریے۔ تسی اپنے غزنوی لے لو
نادر لے لو۔ قاسم لے لو۔ بابر لے لو
سانوں ساڈے مرزے دے دیو۔ دلا دے دیو
وارث شاہ تے بلھے دے دیو

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
حافظ محمد رمضان اسلم کی دیگر تحریریں