آزاد ریاست جموں و کشمیر سیاحوں کے لئے جنت، مگر کیسے؟ (2)

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

آزاد ریاست جموں و کشمیر کو اللہ تعالی نے خوبصورت اور حسین وادیوں، سرسبز جنگلات اور دلکش دریاؤں سے نوازا ہے۔ اسی لئے اسے جنت نظیر کہا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ یہ ریاست قدیم تاریخی ورثے کی مالک بھی ہے۔ سیاحتی نقطہ نظر سے یہ ملکی اور غیر ملکی سیاحوں کے لئے ایک جنت ہے۔ اس کی وادیاں اور ان میں واقع قدرتی جھیلیں کسی بھی یورپین ملک سے زیادہ خوبصورت ہیں۔ اس کا قدیم ترین تاریخی ورثہ کسی بھی بین الاقوامی تاریخی ورثے سے کم نہیں ہے۔ لیکن ریاست کی بدنصیبی یہ ہے کہ آج تک کسی بھی حکومت نے اس پر صحیح توجہ نہیں دی اور نہ ہی سیاحت کی بہتری کے لئے کوئی ٹھوس اقدامات اٹھائے ہیں۔

زمانہ قدیم میں بھی علم حاصل کرنے کے لئے یونیورسٹیاں اور عبادت گاہیں تعمیر کی گئیں۔ بادشاہوں نے اپنے رہنے کے لئے بڑے بڑے محلات اور بیرونی حملہ آوروں سے بچنے کے لئے بڑے بڑے قلعے تعمیر کیے۔ آزاد کشمیر میں بھی ایسی بہت سی قدیم عمارتیں موجود ہیں۔ قدرتی حسن بھی سیاحوں کو اپنی طرف کھینچتا ہے۔ برف پوش پہاڑ۔ آبشاریں۔ جھیلیں۔ گھنے جنگلات اور حسین وادیاں بھی لوگوں کی توجہ کا مرکز بنتی ہیں۔ ہماری خوش قسمتی کہ ہماری ریاست میں یہ سب بدرجہ اتم موجود ہیں۔ آزاد کشمیر اس وقت تین ڈویژن پر مشتمل ہیں۔ میرپور۔ راولاکوٹ اور مظفرآباد۔ ان میں میرپور اور مظفرآباد میں تین تین جب کہ راولاکوٹ میں چار اضلاع ہیں۔ یہ سارے ڈویژن قدرتی حسن اور تاریخی اہمیت کی حامل تعمیرات سے مالا مال ہیں۔

میرپور ڈویژن میں بہت ساری تاریخی قدیم تعمیرات ہیں۔ ان میں چار پانچ بہت پرانے قلعے ہیں۔ میرپور ایک بہت پرانا شہر تھا جو منگلا ڈیم بننے کی وجہ سے منگلا جھیل کے پانیوں میں ڈوب گیا۔ منگلا قلعہ۔ ڈڈیال کا قلعہ رام کوٹ۔ بھمبر میں واقع قلعہ باغ سر اور بڑجن اور کوٹلی کا تھروچی قلعہ قابل دید تاریخی مقامات ہیں۔ اس کے علاوہ میاں محمد بخشؒ کا مزار۔ سمعوال شریف کی تاریخی مسجد اور تعلیمی درسگاہ۔ علی بیگ میں واقع بہت پرانا اور مشہور گردوارہ بھی ان میں شامل ہیں۔ کسی زمانے میں بھمبر مغلوں کے کشمیر جانے کا راستہ تھا اس لئے اسے باب کشمیر بھی کہا جاتا تھا۔ انہوں نے اس گزرگاہ پر مسجدیں۔ باولیاں اور سرائیں تعمیر کروائی ان میں بھمبر کا ہاتھی دروازہ۔ سرائے سعد آباد اور بھمبر کی مغل مسجد شامل ہیں۔

راولاکوٹ ڈویژن میں بہت خوبصورت مقامات ہے۔ راولاکوٹ میں بنجوسہ ایک خوبصورت اور مبہوت کر دینے والی جھیل ہے اس پر قائم ریسٹ ہاؤس میں ذوالفقار علی بھٹو نے قیام کیا تھا۔ اس کی خوبصورتی کو دیکھ کر انھوں نے یہاں ایک چیئرز لفٹ لگانے کامنصوبہ منظور کیا جس پر بوجوہ عمل درآمد نہ ہو سکا۔ تولی پیر کی خوبصورت وادی۔ پونچھ دریا اور تتا پانی جہاں گرم پانی کا چشمہ ہے، دیکھنے سے تعلق رکھتے ہیں۔ پلندری میں واقع برال قلعہ بھی دیکھنے والا ہے۔ باغ سے فاروڈ کہوٹہ کی طرف جاتے ہوئے سدھن گلی۔ گنگا چوٹی اور اس کے ساتھ ہی ایک بہت خوبصورت گنگا جھیل دیکھنے کے لائق ہے۔

مظفرآباد ڈویژن قدرتی حسن سے مالامال ہے۔ اس میں سرسبز جنگلات سے مزین وادیاں۔ سطح سمندر سے دس ہزار فٹ سے زیادہ بلندی پر واقع خوبصورت ترین جھیلیں اور آبشاریں دیکھنے والوں کی آنکھوں کو خیرا کر دیتی ہیں۔ جیسے ہی کوہالہ پل سے آزاد کشمیر میں داخل ہوں تو چھ سات کلومیٹر کے فاصلے پر قائداعظم محمد علی جناح سے منسوب ایک ہٹ ہے، جہاں آپ نے قیام کیا۔ مظفرآباد شہر میں لال قلعہ ایک قدیم تاریخی قلعہ ہے۔ مظفر آباد شہر سے ایک گھنٹے کی مسافت پر نو ہزار فٹ کی بلندی پر پیر چناسی ایک خوبصورت پہاڑی مقام ہے۔ وادی نیلم پہاڑی سیاحت کے لئے ایک مثالی جگہ ہے۔ نیلم وادی پہاڑوں میں آسمان کی مانند ہے۔ لوگ کہتے ہیں کہ اگر آپ واقعی فطرت سے محبت کرتے ہیں تو آپ کو ہر جگہ خوبصورتی مل جائے گی۔ خوبصورت نیلم ویلی دیکھنے والا اپنی روح اور دماغ میں تازگی اور سکون محسوس کرتا ہے۔ شاردہ کی قدیم ترین درس گاہ۔ مندر اور یونیورسٹی کے آثار۔ شوہنٹر ویلی میں واقع شہوہنٹر جھیل۔ خوبصورت برف پوش پہاڑوں میں گھری رتی گلی جھیل۔ سطح سمندر سے 13500 فٹ بلند چٹھا کٹھہ جھیل اور شاردہ میں ہی واقع سرال جھیل خوبصورتی میں اپنی مثال آپ ہیں۔ نیلم ویلی حقیقت میں اتنی خوبصورت ہے کہ آپ اس کا مقابلہ سوٹزرلینڈ سے کر سکتے ہیں۔

پچھلے مضمون میں میں نے سیاحت کے فروغ کے لئے پانچ بنیادی نکات بیان کیے تھے ان کے مطابق اگر ہم آزاد کشمیر کی سیاحت کا جائزہ لیں تو ہمیں مندرجہ زیل اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔

٭ پاکستان اور آزاد کشمیر میں سیاح آنے سے ڈرتے ہیں۔ پچھلی تین چار دہائیوں سے یہاں سیکورٹی کے حالات کافی دگرگوں تھے اس لئے بیرون ملک سے سیاح یہاں آنے سے کتراتے تھے۔ اب بھی صورت حال میں کوئی خاص تبدیل نہیں آئی۔ سیاحت کے فروغ کے لئے ہمیں اپنے ہاں امن و امان کی صورت حال بہت ہی بہتر بنانی ہو گی۔ مقامی پولیس کا رویہ بھی سیاحت میں بڑی اہمیت کا حامل ہوتا ہے۔ گو کہ آزاد کشمیر میں پولیس کا رویہ پنجاب اور سندھ کی پولیس سے کافی بہتر ہے لیکن ابھی اس میں بہت زیادہ تبدیلی لانے کی ضرورت ہے۔ دو تین سال پہلے ایک دفعہ مظفرآباد میں ہونے والی ہمارے بینک کی ایک میٹنگ میں شرکت کرنے والی خواتین کو کوہالہ پل پر کافی ہزیمت اٹھانی پڑی تھی۔ ہم برطانیہ اکثر آتے جاتے ہیں، کہیں بھی کبھی کسی نے ہم سے پاسپورٹ یا شناختی کارڈ چیک نہیں کیا۔ کوہالہ پر لوگوں کو بہت تنگ کیا جاتا ہے۔ اس کا سد باب بہت ضروری ہے۔

٭ آزاد کشمیر میں جتنے بھی تاریخی مقامات ہیں ان سب کی حالت بہت ہی مخدوش ہے۔ تمام قلعے بری طرح ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہیں۔ دارالحکومت مظفرآباد میں شہر کے وسط میں واقع لال قلعے کی دیواریں گری ہوئی ہیں۔ رام کوٹ میں حکومت نے چند دن پہلے فنکشن تو کیا ہے لیکن اس کی حالت بھی بہت خراب ہے۔ اس تک پہنچنے کا کوئی راستہ ہی نہیں ہے۔ سمعوال شریف کی تاریخی مسجد۔ علی بیگ کا گردوارہ بہت خراب حالت میں ہیں۔ پچھلے بہتر سال سے جو چیز جہاں تھی اس میں کوئی بہتری نہیں آئی، بلکہ قدرتی آفات کی وجہ سے ان کو بہت نقصان پہنچا ہے۔ نیلم ویلی میں میں بھی تاریخی مقامات کا کوئی پرسان حال نہیں ہے۔

٭ سیاحت کی صنعت کے لئے ٹورسٹ گائیڈ ایک اہم جزو ہے۔ سیاحت کی پروموشن کے لئے تربیت یافتہ ٹورسٹ گائیڈز کا ہونا بہت ضروری ہیں۔ پاکستان میں چونکہ ٹورسٹ انڈسٹری ہے ہی نہیں اس لئے یہاں ٹورسٹ گائیڈ کی تربیت کا بھی کوئی انتظام نہیں ہے۔ پڑھے لکھے تربیت یافتہ ٹورسٹ گائیڈ وقت کی اہم ضرورت ہیں۔ ایمانداری بھی سیاحت کا اہم وصف ہے۔ سیاحوں کی چیزوں کی حفاظت اور ان سے بیجا مطالبات نہ کرنا بہت ضروری ہے۔ ایک دفعہ تھائی لینڈ میں کرنسی چینج کرواتے ہوئے ہمارا ایک سو ڈالر کا نوٹ وہاں گر گیا۔ ہم نے رسید پر ہوٹل کا کمرہ نمبر اور ہوٹل کا نام لکھوایا تھا۔ ہوٹل واپس آ کر ہمیں پتہ چلا تو ہم نے کرنسی ایکسچینج پر فون کیا تو انھوں نے ہمیں سو کا نوٹ ہوٹل میں بھیج دیا۔

٭ دوسری بنیادی بات اپنے سیاحتی مقامات تک رسائی ہے۔ ہماری قومی ائرلائن ان دنوں بہت بری حالت سے دوچار ہے۔ لیکن ماضی میں بھی سیاحت کے لئے اس کا کوئی کردار نہیں رہا بلکہ وہ دوسروں سے زیادہ کرایہ چارج کرتے تھے۔ باقی دنیا کی ائر لائنیں بیرونی دنیا سے سیاحوں کو اپنے وطن میں لانے کے لئے سستے پیکج دیتے ہیں تا کہ زیادہ سے زیادہ لوگ ان کے ملک میں آ سکیں۔ ایمریٹس۔ ٹرکش ائرویز۔ تھائی ائرلائن اور یورپ اور امریکہ کی بہت سی کمپنیاں یہ کام کرتی ہیں۔ اس کے بعد ائرپورٹس سے شہروں میں آمد کے لئے پبلک ٹرانسپورٹ۔ ٹرین اور ٹیکسیوں کے ذریعے آسان رسائی بہت ضروری ہے۔ ہمارے کسی بھی انٹرنیشنل ائرپورٹ سے شہر تک پہنچنے کے لئے پبلک ٹرانسپورٹ کا کوئی نظام موجود نہیں ہے۔ ٹرین کو تو چھوڑیں بسوں کا بھی کوئی خاطر خواہ انتظام نہیں ہے۔ ٹیکسی والوں کو اگر کوئی غیر ملکی سیاح مل جائے تو اس کے کپڑے تک اتار لیتے ہیں۔ یہاں چونکہ ٹورازم ہی نہیں ہے اس لئے شہروں یا ہوٹلوں سے ان سیاحتی مقامات تک رسائی کے لئے پبلک ٹرانسپورٹ موجود نہیں ہے۔ نہ ہی کوئی ٹورازم کمپنی ہے جو یہ انتظام کرسکے۔ اکا دکا کچھ پرائیویٹ کمپنیاں ہیں جو یہ کام کر رہی ہیں وہ بھی کوئی منظم طریقہ سے نہیں۔ پہاڑی مقامات کی سیاحت کے لئے رابطہ سڑکوں کا ہونا بہت ضروری ہے۔ نیلم ویلی میں واقع خوبصورت جھیلوں تک پہنچنے کے لئے راستے بہت ہی دشوار گزار اور مشکل ہیں۔ اسی طرح گنگا چوٹی اور بنجوسہ جانے والی سڑکوں کا بہت ہی برا حال ہے۔ مجھے آزاد کشمیر کے تمام شہروں اور قصبوں میں ملازمت کے سلسلے میں سفر کرنے کا تجربہ ہوا ہے۔ اس وقت ایک دو کو چھوڑ کر باقی تمام سڑکوں کی حالت بری ہے۔ سیاحت کے فروغ دینے کے لئے ہمیں سڑکوں کی حالت بہتر بنانے کی ضرورت ہے۔

٭ آزاد کشمیر میں شعبہ اطلاعات کا پورا سیٹ اپ موجود ہے۔ لیکن کسی بھی ضلعی صدر مقام پر کہیں بھی اس ضلع میں واقع تاریخی مقامات کے بارے میں کوئی کتابچہ آپ کو نہیں ملے گا۔ کسی سڑک پر آپ کو کوئی مائل سٹون یا سائن نہیں ملے گا جس سے آپ کو سفر یا اگلے مقام کا پتہ چل سکے، گو کہ یہ محکمہ شاہرات کا کام ہے۔ لیکن سیاحت کے متعلق لٹریچر محکمہ سیاحت اور اطلاعات کی ذمہ داری ہے۔ اگر کسی محکمہ نے شاہرات پر یہ سائن بورڈ لگوا بھی دیے ہیں تو ہماری پبلک اتنی اچھی ہے کہ چار چھ ماہ میں ہی وہ توڑ پھوڑ کر پھینک دیتی ہے۔

٭ سیاحت کے لیے آنے والے سیاحوں کے رہنے کے لئے اچھے۔ معیاری صاف ستھرے اور سستے ہوٹل چاہیں جو کہ سیاحتی مقامات کے نزدیک ترین ہوں۔ یا پھر ایسے معیاری اور صاف ستھرے ہوسٹل ہوں جہاں سیاح قیام کر سکیں۔ میرپورڈویژن کا اگر جائزہ لیں تو میرپور شہر میں دو معیاری اور بجٹ ہوٹل موجود ہیں۔ پرل کانٹیننٹل بھی زیر تعمیر ہے اور کچھ معیاری گیسٹ ہاؤس بھی ہیں۔ بھمبر میں سرکاری ریسٹ ہاؤس ہیں لیکن کوئی اچھا ہوٹل نہیں ہے۔ اسی طرح کوٹلی میں بھی پرائیویٹ گیسٹ ہاؤسز کے علاوہ سرکاری ریسٹ ہاؤس موجود ہیں۔ راولاکوٹ میں ایک دو اچھے ہوٹل ہیں اور پرائیویٹ گیسٹ ہاؤس بھی ہیں۔ سرکاری ریسٹ ہاؤس بھی موجود ہیں۔ مظفر آباد میں دو تین معیاری ہوٹل ہیں کچھ گیسٹ ہاؤس بھی ہیں۔ اس کے علاوہ پی سی بھی ہے لیکن وہ عام سیاحوں کی پہنچ سے باہر ہے۔ بنکاک جیسے مہنگے شہر میں آپ کو فائیو سٹار ہوٹل میں کمرہ دس ہزار میں مل جاتا ہے وہی کمرہ مظفرآباد میں پندرہ سے بیس ہزار میں ملتا ہے۔ البتہ نیلم ویلی میں معیاری ہوٹلوں اور گیسٹ ہاؤسز کی بہت کمی ہے۔ وادی نیلم میں سرکاری سطح پر بہت سے ریسٹ ہاؤسز ہیں لیکن وہاں صرف سرکاری افسر ہی ٹھہر سکتے ہیں۔ ان میں کنڈل شاہی کے مقام پر کٹن ریسٹ ہاؤس ہے جہاں صرف سرکاری سفارش پر جگہ مل سکتی ہے۔ اگر تمام سرکاری ریسٹ ہاؤسز کو کمرشل پیمانے پر چلایا جائے اور انھیں پرائیویٹ کمپنی کو ٹھیکے پر دے دیا جائے تو سیاحت کی کافی مدد ہو سکتی ہے۔ اس کے علاوہ وادی نیلم میں معیاری ہوٹل اور گیسٹ ہاؤس تعمیر کرنے کی اشد ضرورت ہے۔

٭ سیاحت کی ایک اور اہم ضرورت اچھے صاف ستھرے اور معیاری کھانے ہیں۔ انٹر نیٹ، فون اور دوسری سہولیات ہیں جو یہاں بھی اب میسر ہیں۔ لیکن آزاد کشمیر میں فون کمپنیوں کی سروس بہت ہی خراب ہے۔ ہمیں دو سال پہلے سری لنکا میں تیز ترین انٹرنیٹ اور بہترین فون پیکج اتنے سستے داموں ملا کہ ہم حیران رہ گئے۔ ان سیاحتی مقامات پر ایک اور بہت ہی اہم ضرورت ہے پبلک ٹوائلٹس کی۔ اس میں ہم تمام ملکوں سے بہت ہی زیادہ پیچھے ہیں۔ پاکستان کے کسی بھی سیاحتی مقام پر صاف ستھری اور معیاری ٹوائلٹس میسر نہیں ہیں۔ جو ہیں وہ اتنی گندی اور غیر معیاری ہیں کہ ان کو استعمال کرنے کو دل نہیں کرتا۔ ہمیں آزاد کشمیر کے سارے سیاحتی مقامات پر پبلک ٹوائلٹس تعمیر کرنے کی اشد ضرورت ہے۔

٭ ان سیاحتی مقامات کے ساتھ کچھ اور چھوٹی چھوٹی سرگرمیاں بھی سیاحوں کا ایک آدھ دن کے لئے توجہ کھینچ سکتی ہے۔ منگلا جھیل میں کشتی رانی اور موٹر بوٹ کا استعمال سیاحوں کی توجہ حاصل کر سکتا ہے اس کے علاوہ دریا پونچھ میں جہاں دریا کا پاٹ تھوڑا سا چوڑا ہے وہاں پر رافٹنگ ہو سکتی ہے۔ اسی طرح شندور کی طرز پر کھڑی میں لہڑی کے مقام پر گھوڑوں کی نیزہ بازی کا کھیل منعقد کیا جاتا ہے۔ اس کو منظم طریقہ سے بڑے پیمانے پر منعقد کر کے سیاحوں کی توجہ حاصل کی جا سکتی ہے۔

ہمارا ٹورازم ڈیپارٹمنٹ آزاد کشمیر کے بارے میں ابتدائی معلومات کا کتابچہ چھاپتا ہے۔ اس کو ایک اچھے طریقے سے سیاحت کی ساری معلومات ڈال کر جدید انداز میں چھپوا کر مختلف جگہوں پر رکھوایا جائے خاص کر ہماری انٹر نیشنل ائرپورٹس پر۔ آج کل انٹرنیٹ کا دور ہے ٹورازم کے لیے آزاد کشمیر کے بارے میں ایک ویب سائٹ لانچ کی جائے۔ کیونکہ موجودہ ٹورازم کی ویب سائٹ پر سیاحوں کے لیے مکمل معلومات نہیں ہیں۔ ٹورازم کے لئے بلاگ لکھوائے جائیں۔ آزاد کشمیر کے لوگ بڑے مہمان نواز اور کھلے دل کے مالک ہیں وہ بڑی خوش دلی سے سیاحوں کا استقبال کریں گے۔ کرونا کا یہ فیز ختم ہونے پر ایک قابل عمل پالیسی بنا کر اس پر صحیح طریقے سے عمل کیا جائے تو ہم بھی سیاحت سے اربوں نہیں تو کروڑوں ڈالر ضرور کما سکتے ہیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •