جزائر پر آبادی: انسان بمقابلہ آبی حیات

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

وفاقی حکومت جہاں ایک طرف کلین اینڈ گرین پاکستان کے تحت پورے ملک میں شجرکاری مہم کے ذریعے ماحولیات کی بہتری کے دعوے کر رہی ہے، وہیں وہ اپنے کچھ اقدام سے ماحولیات کو سنگین نقصان پہنچانے کے درپے ہے۔ حکومت کی طرف سے کراچی کے ساحل کے قریب جڑواں جزائر بھنڈار اور ڈنگی پر نیا شہر تعمیر کرنے کے منصوبے نے ایک نیا تنازع کھڑا کر دیا ہے۔

کراچی کی سمندری حدود میں کسی وقت ماحول دشمن منصوبوں کے خلاف سرگرم رہنے والے صدر مملکت عارف علوی نے 2 ستمبر کو صدارتی آرڈیننس کے ذریعے، آئی لینڈ اتھارٹی کے قیام کی منظوری دی ہے۔ کمیٹی جزائر پر تعمیراتی منصوبوں کی نگرانی کرے گی۔ اس ساری منصوبہ بندی کو وفاقی اور سندھ حکومت نے ایک ماہ تک عوام سے چھپائے رکھا۔ اتھارٹی کا چیئرمین مقرر کرنے کے لئے جب اشتہار دیا گیا تو عوام کو اس کا علم ہوا، جس کے بعد وفاق کے اس منصوبے پر عوام کا سخت رد عمل سامنے آیا ہے۔ سوشل میڈیا کے علاوہ ماحولیات، ماہی گیروں اور آبی حیات کے تحفظ کے لئے کام کرنے والی تنظمیوں کی جانب سے سخت احتجاج کیا جا رہا ہے۔

کراچی میں ماہی گیروں کی بستی ابراہیم حیدری سے ایک گھنٹے کی دوری پر، بحیرہ عرب میں واقع بھنڈار اور ڈنگی جزیروں پر وفاقی حکومت ایک نیا شہر تعمیر کرنا چاہتی ہے، جہاں تقریباً 8 لاکھ کے قریب لوگوں کو بسایا جائے گا۔ حکومت کا کہنا ہے کہ ان جزائر پر دنیا کی سب سے بڑی عمارت اور شاپنگ مال تعمیر کیا جائے گا، جس سے ملک میں سیاحت بڑھے گی اور لوگوں کو روزگار ملے گا، لیکن اس کے بر عکس وہاں سے 20 لاکھ کے قریب ماہی گیروں کا جو روزگار جڑا ہے، وہ ختم مکمل طور ہو جائے گا اور جزائر پر موجود تمر کے جنگلات ختم ہونے سے ماحولیاتی تبدیلیوں کے جو اثرات مرتب ہوں گے، اس پر کوئی بحث نہیں ہو رہی۔

کراچی کا 75 کلو میٹر طویل ساحل، کیپ مونزے سے پورٹ قاسم تک پھیلا ہوا ہے۔ ساحل سے تھوڑی دوری پر انڈس ڈیلٹا کے کنارے یہ جڑواں جزائر واقع ہیں۔ یہ جزائر ساحل سے تقریباً 2.4 کلو میٹر کی دوری پر ہیں۔ ڈنگی جزیرہ 3 ہزار 170 ایکڑ، جب کہ بھنڈار جزیرہ 5 ہزار 70 ایکڑ پر محیط ہے۔ بھنڈار جزیرے پر میگا سٹی منصوبے کے لئے 2006 ء میں بھی کام کا آغاز ہوا تھا، اس وقت دبئی کی ایک کمپنی نے اس پر کام کا آغاز کیا، لیکن سیاسی بحران اور لوگوں کے شدید رد عمل کے بعد یہ منصوبہ کاغذوں تک ہی محدود رہا۔ 2013 ء میں اس منصوبے پر ملک ریاض نے بھی دل چسپی ظاہر کی اور امریکی کمپنی کے ساتھ مل کر اس پر کام کا آغاز کیا، لیکن مقامی لوگوں اور سندھ کے عوام نے اس کو یکسر مسترد کرتے ہوئے، اس کوشش کو نا کام بنا دیا۔

اگر ہم تاریخ میں دیکھیں تو سن 1800 ء میں کراچی کے بندر گاہ پہ صرف مچھیروں کی بستیاں ہی ہوا کرتی تھیں اور وہ مچھلیوں کا شکار کیا کرتے تھے۔ صدیوں سے ان کا گزر بسر اسی سمندر سے جڑا تھا، لیکن نو آبادیاتی نظام کے بعد، یہاں لوگوں کی بستیاں قائم ہونا شروع ہوئیں، جس سے آبی حیات اور نباتات کا خاتمہ ہونا شروع ہوا۔ کراچی کے ساحل پر قبضہ کر کے وہاں بڑی عمارتیں اور (Huts) تعمیر کرنے سے اب سمندر میں بسنے والی مخلوق اپنے بقا کی جنگ لڑ رہی ہے۔ اس کے علاوہ شہر قائد کا 80 فی صد سیوریج، فیکٹریوں کا زہریلا پانی اور سالڈ ویسٹ سمندر برد ہوتا ہے، جس سے میرین لائف شدید خطرے سے دو چار ہے۔ کراچی کے ساحل کی حدود میں گندگی کے ڈھیر کسی سے ڈھکے چھپے نہیں۔ ایسے میں ان جزائر پر شہر بننے سے وہاں کے سمندر کا کیا حشر ہو گا، اس سے ہم سب بخوبی واقف ہیں۔

مچھیروں کی نمائندہ تنظیم فشر فوک فورم کے مطابق ماہی گیر مچھلی کے شکار کے لئے ابراہیم حیدری سے گہرے سمندر میں جانے کے لئے اس جزیرے سے گزرتے ہیں اور یہ لوگ اس جزیرے پر پڑاؤ بھی ڈالتے ہیں۔ جہاں وہ رات گزارنے کے ساتھ مچھلیاں سکھاتے ہیں۔ تنظیم کے مطابق، قاسم بندر گاہ کا گزر بھی انہی جزیروں سے ہے۔ ان جزائر پر میگا سٹی پراجیکٹ سے دونوں راستے بند ہو جائیں گے، جس سے 20 لاکھ کے قریب ماہی گیروں کا روزگار ختم ہو جائے گا۔ اس کا اثر براہ راست ملکی معیشت پر ہو گا، اور ممکنہ آبادی سے ماحولیاتی تبدیلیاں بھی رونما ہوں گی۔

انڈس ڈیلٹا کے سب سے بڑے دو جڑواں جزائر کا بڑا حصہ تمر کے جنگلات سے گھرا ہوا ہے، جس میں کئی ساحلی، نباتات اور حیوان ہیں اور یہ جنگلات دور دراز سے آنے والے مہمان پرندوں کا مسکن بنتے ہیں۔ تمر کے درخت کی کٹائی سے وہاں پرورش پانے والی کئی اقسام کی حیات، ان جزیروں کا رنگ روپ تبدیل کرنے سے خطرے سے دو چار ہوں گے۔ اس لیے وہاں کسی بھی قسم کا منصوبہ تحفظ ماحولیات پاکستان کے قانون کی خلاف ورزی ہو گا۔

تمر کے درخت کسی بھی سمندری طوفان کے سامنے ایک دیوار کا کردار ادا کرتے ہیں۔ ان کی کٹائی سے شہر قائد کو بڑے طوفانوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ اگم ہم دیکھیں تو سریلنکا، کمبوڈیا اور نارتھ امریکا میں سمندری طوفانوں سے بڑا نقصان ہوتا ہے، جس کی بڑی وجہ وہاں کے جزائر پر انسانی آبادی، جنگلات کا خاتمہ اور دیگر ماحولیاتی تبدیلیاں ہیں، لیکن ہمیں قدرت کی طرف سے ایک بہترین ماحول ملا ہے، اگر ہم اس قدرتی نظام کے خلاف اقدام اٹھائیں گے، تو یقیناً آنے والے وقت میں ہمیں اس کے سنگین نتائج بھگتنا پڑ سکتے ہیں۔

کراچی کے جزائر پر میگا منصوبوں کے ذریعے اس ترقی سے، ہم کراچی کو دنیا کا ایک خوبصورت شہر تو بنا سکتے ہیں، لیکن اس سے ہونے والی ماحولیاتی تبدیلیوں سے جو نقصان ہو گا، اس کا ازالہ شاید ہم صدیوں تک نہ کر سکیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •