مقامی بلوچ گلوکار حنیف چمروک کے قاتل گرفتار نہ ہو سکے، ان کو پہلے ’تنبیہہ‘ بھی کی جا چکی تھی

محمد کاظم - بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کوئٹہ

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

دو روز گزرنے کے باوجود بلوچستان کے ضلع کیچ سے تعلق رکھنے والے مقامی گلوکار حنیف چمروک کے قاتلوں کی گرفتاری کے حوالے سے پیش رفت نہیں ہو سکی ہے۔

تاہم پولیس حکام کا کہنا ہے کہ ان کے ہلاکت کی مختلف پہلوﺅں سے تحقیقات ہو رہی ہیں۔

حنیف چمروک انسانی حقوق کی تنظیم بلوچ ہیومن رائٹس آرگنائیزیشن کی سابق وائس چیئرپرسن طیبہ بلوچ کے والد تھے۔

بلوچ ہیومن رائٹس آرگنائزیشن (بی ایچ آر او) کی چیئرپرسن بی بی گل بلوچ نے فون پر بی بی سی کو بتایا کہ حنیف چمروک کو اس وقت فائرنگ کرکے ہلاک کیا گیا جب وہ اپنے گھر کے باہر چھ سے سات افراد کے ہمراہ بیٹھے تھے۔

ان کا کہنا تھا کہ جمعرات کو رات دس بجے چند مسلح افراد ان کے گھر کے باہر آئے تھے اور وہاں انھوں نے حنیف چمروک کو ہدف بنا کر ہلاک کیا۔

ضلع کیچ کے ایس ایس پی نجیب اللہ پندرانی نے بتایا کہ دو نامعلوم موٹر سائیکل سواروں نے انھیں فائرنگ کر کے ہلاک کیا۔

یہ بھی پڑھیے

بلوچستان: ’ڈاکٹروں کا اغوا کاروبار بن گیا‘

طالب علم حیات بلوچ کے مبینہ قتل کے مقدمے میں ایف سی اہلکار گرفتار

بلوچستان: صحافی شاہینہ شاہین کے قتل کے مقدمے میں شوہر نامزد

صحافی انور جان کے مبینہ قتل پر بلوچستان میں بڑے پیمانے پر احتجاج کیوں ہوا؟

حنیف چمروک کون تھے؟

حنیف چمروک ضلع کیچ کے ہیڈ کوارٹر تربت سے کچھ فاصلے پر واقع سنگانی سر کے علاقے کے رہائشی تھے۔

بی بی گل نے بتایا کہ حنیف چمروک ایک غریب آدمی تھے جو مقامی سطح پر گلوکاری کرتے تھے اور رکشہ چلاکر اپنے بال بچوں کے لیے روزی روٹی کا انتظام کرتے تھے۔

بی بی گل بلوچ کا دعویٰ ہے کہ حنیف چمروک کی کسی سے کوئی دشمنی نہیں تھی لیکن ان کے بقول ان کو اس وقت پریشانی کا سامنا کرنا پڑا جب ان کی بیٹی طیبہ کوئٹہ میں لاپتہ افراد کی بازیابی کے لیے آواز اٹھانے لگیں اور ’حقوق انسانی کی کارکن‘ کی حیثیت سے ان افراد کے رشتے داروں کے ساتھ احتجاجی سرگرمیوں میں حصہ لینا شروع کیا۔‘

طیبہ بلوچ، لاپتہ افراد، بلوچستان، مسنگ پرسنز، جبری گمشدگی، حنیف چمروک

BBC
طیبہ بلوچ (انتہائی دائیں جانب) انسانی حقوق کی کارکن ہیں تاہم والد کو مبینہ طور پر ’تنبیہ‘ کیے جانے کے بعد وہ لاپتہ افراد کی بازیابی کی تحریک سے کنارہ کشی کر چکی تھیں

’بعض حلقوں کی جانب سے تنبیہہ کی گئی‘

سنہ 2018 سے 2019ء ک طیبہ بلوچ کی کوئٹہ میں بلوچستان سے لاپتہ افراد کی بازیابی کے لیے قائم بھوک ہڑتالی کیمپ میں شرکت روز کا ایک معمول بن گئی تھی۔

یہ کیمپ جدید دنیا کی تاریخ کا طویل ترین علامتی بھوک ہڑتالی کمیپ ہے جس کو چار ہزار دن سے زائد کا عرصہ مکمل ہو چکا ہے۔

لاپتہ افراد کے رشتے داروں کی تنظیم وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز کی جانب سے قائم اس بھوک ہڑتالی کیمپ میں نہ صرف وہ ہر اس احتجاج میں شرکت کرتی رہیں جو کہ تنظیم کی جانب سے منعقد کیے جاتے رہے، بلکہ اُن لاپتہ افراد کے رشتہ داروں کی تحریری پریس کانفرنسیں بھی پڑھتی تھیں جو کہ ناخواندگی کی وجہ سے خود ایسا نہیں کر سکتے تھے۔

بی بی گل بلوچ نے بتایا کہ طیبہ بلوچ اپنے فعال کردار کی وجہ سے بی ایچ آر او کی وائس چیئر پرسن مقرر کی گئی تھی۔

بی بی گل کا کہنا تھا کہ ’طیبہ بلوچ نے انھیں اپنے والد کی ان پریشانیوں اور مشکلات سے آگاہ کیا تھا جو کہ انسانی حقوق کی کارکن کی حیثیت سے اُن کی سرگرمیوں کے بعد پیش آنی شروع ہوئی تھیں۔‘

بی ایچ آر او کی چیئرپرسن کے مطابق ’طیبہ بلوچ نے مجھے بتایا تھا کہ ان کے والد نے ان کو کہا ہے کہ وہ ان سرگرمیوں سے دور رہیں کیونکہ انھیں بعض حلقوں کی جانب سے تنبیہ کی گئی ہے۔‘

بی بی گل کا کہنا تھا کہ والد کے منع کرنے کے بعد طیبہ بلوچ نے تقریباً گذشتہ ایک سال سے لاپتہ افراد کی بازیابی کی مہم اور بلوچستان میں حقوق انسانی کی مبینہ خلاف ورزیوں کے حوالے سے ہونے والے احتجاجوں میں شرکت سے کنارہ کشی اختیار کر لی تھی۔

طیبہ بلوچ، لاپتہ افراد، بلوچستان، مسنگ پرسنز، جبری گمشدگی، حنیف چمروک

BBC
طیبہ بلوچ لاپتہ افراد کی بازیابی کے لیے قائم کردہ علامتی بھوک ہڑتالی کیمپ میں شریک ہیں

بی بی گل بلوچ نے الزام عائد کیا کہ ’پہلے بلوچستان میں ان لوگوں کو براہ راست ہدف بنایا جاتا تھا جو کہ کسی سیاسی سرگرمی یا ریاست کی جانب سے کالعدم قرار دی جانے والی کسی تنظیم سے وابستہ تھے لیکن اب کچھ عرصے سے ان کے رشتہ داروں کو بھی نشانہ بنایا جا رہا ہے۔‘

حکومت بلوچستان کے ترجمان لیاقت شاہوانی نے رابطہ کرنے پر اس الزام پر کوئی تبصرہ نہیں کیا اور کہا کہ یہ معاملہ وزیر داخلہ کے دائرہ اختیار میں آتا ہے۔

بی بی سی کی جانب سے متعدد بار رابطے کی کوشش کے باوجود وزیر داخلہ بلوچستان میر ضیاء اللہ لانگو سے رابطہ نہیں ہو سکا۔

تاہم اس سے قبل سرکاری حکام ایسے الزامات کو سختی سے مسترد کرتے رہے ہیں۔

دوسری جانب ایس ایس پی کیچ نجیب اللہ پندرانی نے بی بی سی کو بتایا کہ حنیف چمروک کے قتل کا مقدمہ نامعلوم افراد کے خلاف درج کیا گیا ہے۔

انھوں نے بتایا کہ اس حوالے سے کوئی گرفتاری عمل میں نہیں آئی ہے۔

ایس ایس پی نے بتایا کہ اس واقعے کی تحقیقات مختلف پہلوﺅں سے ہورہی ہیں اور تحقیقات مکمل ہونے کے بعد ہی یہ بتایا جاسکے گا کہ یہ ٹارگٹ کلنگ کا واقعہ تھا یا اس کے محرکات کچھ اور تھے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 16075 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp