کراچی کے دو جزائر پر وفاق اور سندھ حکومت کے درمیان تنازع کیا ہے؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

پاکستان میں وفاق اور حکومتِ سندھ کے درمیان دو جزائر بنڈو اور بنڈل کی ملکیت پر نیا تنازع شروع ہو گیا ہے۔

سندھ کی حکومت کا مؤقف ہے کہ جزائر صوبائی حکومت کی ملکیت ہیں اور ان پر وفاقی حکومت کا ملکیت کا دعویٰ یا ان سے متعلق آرڈیننس کا اجرا غیر قانونی ہے۔ سندھ حکومت نے وفاقی حکومت کے جاری کردہ حالیہ آرڈیننس کے خلاف قومی اسمبلی میں قرارداد بھی جمع کرا دی ہے۔

دوسری طرف وفاق نے صوبائی حکومت پر جزائر سے متعلق سیاسی کھیل کھیلنے کا الزام عائد کیا ہے۔

سندھ ہائی کورٹ میں بھی جزیروں کا انتظام وفاق کے سپرد کرنے کے خلاف درخواست کی سماعت شروع ہو گئی ہے۔ جب کہ عدالت نے وفاقی اور صوبائی حکومت کو نوٹس جاری کرتے ہوئے 23 اکتوبر تک تفصیلی جواب طلب کرلیا ہے۔

جزائر سے متعلق جاری کردہ آرڈیننس

گزشتہ ماہ کے اوائل میں صدر عارف علوی ‘پاکستان آئی لینڈ ڈویلپمنٹ اتھارٹی آرڈیننس 2020′ جاری کیا گیا تھا۔

اس آرڈیننس میں کہا گیا تھا کہ ‘ٹیریٹوریل واٹرز اینڈ میری ٹائم زونز ایکٹ 1976’ کے تحت ساحلی علاقے بھی وفاق کی ملکیت ہوں گے۔ جب کہ بنڈال اور بنڈو سمیت تمام جزائر کی مالک وفاقی حکومت ہوگی۔

آرڈیننس میں کہا گیا تھا کہ 'ٹیریٹوریل واٹرز اینڈ میری ٹائم زونز ایکٹ 1976' کے تحت ساحلی علاقے بھی وفاق کی ملکیت ہوں گے۔ جب کہ بنڈال اور بنڈو سمیت تمام جزائر کی مالک وفاقی حکومت ہوگی۔ (فائل فوٹو)
آرڈیننس میں کہا گیا تھا کہ ‘ٹیریٹوریل واٹرز اینڈ میری ٹائم زونز ایکٹ 1976’ کے تحت ساحلی علاقے بھی وفاق کی ملکیت ہوں گے۔ جب کہ بنڈال اور بنڈو سمیت تمام جزائر کی مالک وفاقی حکومت ہوگی۔ (فائل فوٹو)

اس کے علاوہ آرڈیننس کے مطابق وفاقی حکومت ‘پاکستان آئی لینڈز ڈویلپمنٹ اتھارٹی’ قائم کرے گی۔

آرڈیننس کے متن میں کہا گیا ہے کہ اتھارٹی کا ہیڈکوارٹر کراچی میں ہوگا اور علاقائی دفاتر دیگر مقامات پر قائم ہوں گے۔

متن کے مطابق اتھارٹی منقولہ اور غیر منقولہ جائیداد کا قبضہ حاصل کرنے کی مجاز ہوگی۔ آرڈیننس کے تحت اٹھائے گئے اقدام یا اتھارٹی کے فعل کی قانونی حیثیت پر کوئی عدالت یا ادارہ سوال نہیں کر سکے گا۔

آرڈیننس میں مزید کہا گیا ہے کہ اتھارٹی، غیر منقولہ جائیداد پر تمام لیویز، ٹیکس، ڈیوٹیاں، فیس اور ٹرانسفر چارجز لینے کی مجاز ہوگی۔

یہ بھی واضح کیا گیا تھا کہ آرمی کے لیفٹننٹ جنرل کے عہدے کے مساوی حاضر یا ریٹائرڈ افسر بھی اتھارٹی کے چیئرمین تعینات ہو سکیں گے۔ جب کہ چیئرمین کے عہدے کی مدت چار سال ہوگی۔ جس میں ایک بار توسیع ہو سکے گی۔

سندھ حکومت کی جانب سے پہلے تعاون کی یقین دہانی کا دعویٰ

اس حوالے سے وفاقی وزیر برائے بحری امور علی زیدی نے دعویٰ کیا ہے کہ سندھ حکومت نے پہلے جزائر کی وفاق کو حوالے کرنے کا یقین دلایا تھا۔

اپنے ٹوئٹ میں انہوں نے سندھ حکومت کی جانب سے لکھا گیا خط بھی شیئر کیا اور کہا کہ جزائر سے متعلق کوئی غیر قانونی قدم نہیں اٹھایا گیا اور سب دیکھ سکتے ہیں کہ پیپلز پارٹی کی قیادت کتنی منافق ہے۔

ٹوئٹ میں کہا گیا کہ سندھ حکومت نے بنڈل آئی لینڈ سے متعلق خط جولائی 2020 کو ارسال کیا تھا۔

سندھ لینڈ یوٹلائزیشن ڈپارٹمنٹ کی جانب سے جاری خط میں کہا گیا ہے کہ وفاقی حکومت کی درخواست پر عوامی مفاد کے لیے جزیرے حوالے کر رہے ہیں۔

خط کے متن کے مطابق جزیرے پر تعمیرات میں مقامی افراد اور ماہی گیروں کے مفادات کو تحفظ دیا جائے گا۔

سندھ حکومت کے تین سوالات

علی زیدی کے ٹوئٹ کا جواب دیتے ہوئے صوبائی وزیرِ اطلاعات سندھ ناصر حسین شاہ کا کہنا تھا کہ قوم کو بیوقوف بنانا بند کریں۔

ناصر حسین کا مزید کہنا تھا کہ وفاقی حکومت نے اجازت مانگی تو واضح رہے کہ یہ جزائر پورٹ اتھارٹی کے زیرِ انتظام نہیں۔ ان کے بقول مہربانی کر کے اس خط کو دوبارہ پڑھیں۔

انہوں نے علی زیدی سے سوال کیے کہ اگر یہ زمین آپ کی تھی تو آپ نے ہم سے ‘این او سی’ کیوں مانگا؟

ان کا مزید کہنا تھا کہ جواب میں یہ کہاں لکھا ہے کہ آپ کو زمین دے دی اور آپ کو صرف مقامی لوگوں کے فائدے کے لیے تعمیرات کی اجازت ہے۔

سندھ حکومت کی طرف سے خط کی واپسی

سندھ حکومت نے جولائی میں وفاقی حکومت کو لکھا گیا خط گزشتہ دنوں واپس لے لیا ہے۔

بورڈ آف ریونیو کے مطابق سندھ کابینہ کے فیصلے کی روشنی میں خط واپس لیا گیا۔ سندھ کے ساحلی جزائر صوبائی حکومت کی ملکیت ہیں۔ وفاقی حکومت کا جزائر پر ملکیت کا دعویٰ اور آرڈیننس کا اجرا غیر قانونی ہے۔

گورنر سندھ عمران اسماعیل کا کہنا تھا کہ وزیر اعظم کراچی کے جزائر پر 2 نئے شہر آباد کرنا چاہتے ہیں۔ (فائل فوٹو)
گورنر سندھ عمران اسماعیل کا کہنا تھا کہ وزیر اعظم کراچی کے جزائر پر 2 نئے شہر آباد کرنا چاہتے ہیں۔ (فائل فوٹو)

ترجمان سندھ حکومت اور مشیرِ قانون و ماحولیات بیرسٹر مرتضیٰ وہاب نے صوبائی وزیر اطلاعات ناصر حسین شاہ کے ہمراہ سندھ اسمبلی کے کمیٹی روم میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا ہے کہ وفاق نے ساحلی علاقوں کے جزائر پر آرڈیننس جاری کر کے سندھ و بلوچستان کے آئینی حقوق پر شب خون مارا ہے۔ جس کی پر زور انداز میں مذمت کر رہے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ‘ آئین کے آرٹیکل 172 کے تحت ساحلوں سے ملحق زمین صوبے کی ملکیت ہے۔

مرتضی وہاب کا مزید کہنا تھا کہ ‘ آئی لینڈ’ صوبائی ملکیت ہیں، وفاقی حکومت کی ملکیت نہیں ہیں۔

ان کے بقول یہ آرڈیننس جاری کر کے وفاق نے اپنے اختیارات سے تجاوز کیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ صدارتی آرڈیننس کے ذریعے یہ تاثر دیا گیا ہے کہ وہ شیڈول تبدیل کر سکتے ہیں۔ وفاقی حکومت کو پہلے ہی بتایا گیا تھا کہ آئی لینڈ سندھ کے عوام کی ملکیت ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ سندھ حکومت نے آئی لینڈ کی تعمیر و ترقی سے متعلق وفاق کو شرائط بتائی تھیں۔ جس پر وفاق نے اپنے اختیارات سے تجاوز کیا ہے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ دو ستمبر کو سندھ و بلوچستان کے حقوق پر ڈاکا ڈالا گیا۔ یہ بدنیتی ہے کہ دو ستمبر کو جاری کردہ آرڈیننس اکتوبر میں ظاہر کیا گیا۔

سندھ حکومت نے آئندہ آئی لینڈ پر وفاقی حکومت سے کسی قسم کی بات چیت نہ کرنے کا اعلان کیا ہے۔

بلاول بھٹو زرداری کی بھی مخالفت

آرڈیننس کی سندھ حکومت میں برسرار اقتدار جماعت پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو نے بھی مخالفت کی ہے۔

انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی صدارتی آرڈیننس کے ذریعے سندھ کے جزائر کے الحاق کی مخالفت کرے گی۔

‘وفاق اور سندھ جزائر کے نگران ہیں’

ان جزائر کے مستقبل کے حوالے سے ‘پاکستان فشر فوک فورم’ کے محمد علی شاہ نے وائس آف امریکہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ان جزائر کے مالک یہاں کے ماہی گیر ہیں۔

محمد علی شاہ کا کہنا تھا کہ وفاق اور سندھ حکومت ان جزائر کے ‘کسٹوڈین’ ہیں مالک نہیں ہیں۔

انہوں نے کہا کہ سندھ اور بلوچستان کے جزائر ماضی میں سمندر کا حصہ نہیں تھے بلکہ انڈس ڈیلٹا کا حصہ تھے۔ ان جزائر سے کئی لاکھ لوگوں کا روزگار وابستہ ہے۔ یہاں مینگروز کے جنگلات ہیں۔ اگر یہاں شہر آباد ہوں گے تو یہاں شدید ماحولیاتی مسائل پیدا ہوں گے۔

محمد علی شاہ نے بتایا کہ ان جزائر پر 2000 میں تھائی کمپنی سے مل کر آباد کاری کا منصوبہ بنایا گیا تھا۔ اس کے بعد دبئی کی ایک تعمیراتی کمپنی کے ساتھ مل کر یہاں ہاؤسنگ کا منصوبہ بنانے کا کہا گیا۔ اس کے بعد پاکستان کے پراپرٹی ٹائیکون کے ساتھ مل کر یہاں شہر بنانے کا سوچا گیا اور اب ایک بار پھر یہاں اتھارٹی بنا کر فائدہ اٹھانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

گورنر سندھ کی وزیرِ اعظم سے مشاورت

سندھ کے گورنر عمران اسمٰعیل نے وزیرِ اعظم عمران خان سے جمعرات کو اسلام آباد میں ملاقات کی جس میں گورنر سندھ کے مطابق وزیرِ اعظم نے بنڈو اور بنڈل آئی لینڈز سے متعلق امور صوبائی حکومت سے مل کر طے کرنے کی ہدایت کی ہے۔

وزیرِ اعظم سے ملاقات کے بعد اسلام آباد میں وفاقی وزیر برائے بحری امور علی زیدی کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے گورنر سندھ عمران اسماعیل نے کہا کہ وزیرِ اعظم کراچی کے جزائر پر 2 نئے شہر آباد کرنا چاہتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ بنڈل آئی لینڈ سندھ کا ہی حصہ رہے گا اور ڈیڑھ لاکھ نوکریاں پیدا ہوں گی۔ ان کے بقول بنڈل آئی لینڈ سے ہونے والی آمدنی سندھ حکومت کو ملے گی۔ گورنر سندھ نے کہا کہ وزیرِ اعظم ہاؤس میں میٹنگ بنڈل آئی لینڈ اور راوی سٹی سے متعلق تھی۔

ان کے بقول وزیرِ اعظم کی خواہش ہے کہ بنڈل آئی لینڈ، راوی سٹی سے زیادہ بہتری سے ابھرے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ دو نئے شہر آباد کرنا چاہتے ہیں۔ بنڈل آئی لینڈ کوئی ہاؤسنگ کا منصوبہ نہیں ہے۔ ان کے بقول 40 سے 50 لاکھ سیاح وہاں آئیں گے۔ تمام ریونیو سندھ حکومت کو جائے گا۔

یہ معاملہ اب عدالت میں بھی زیرِ سماعت ہے اور سندھ ہائی کورٹ میں جزیروں کا انتظام وفاق کے سپرد کرنے کے خلاف درخواست کی سماعت کے بعد عدالت نے وفاقی اور صوبائی حکومت کو نوٹس جاری کرتے ہوئے 23 اکتوبر تک تفصیلی جواب طلب کرلیا ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

وائس آف امریکہ

”ہم سب“ اور ”وائس آف امریکہ“ کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے مطابق ”وائس آف امریکہ“ کی خبریں اور مضامین ”ہم سب“ پر شائع کیے جاتے ہیں۔

voa has 196 posts and counting.See all posts by voa