میں ہواؤں سے ہراساں اور دل گرفتہ

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

پاکستان کی سیاسی ہانڈی میں بہت ہی ابال لگ رہا ہے۔ اس ہانڈی میں کیا پک رہا ہے کسی کو بھی معلوم نہیں ہے۔ اس ہانڈی کو پکانے والے بہت سے لوگ ہیں۔ سب کے پاس اپنا اپنا مصالحہ ہے۔ پاکستان میں جمہوریت بھی اسی سیاسی ہانڈی کی طرح بے توقیر ہو رہی ہے، جمہوریت کا بنیادی اصول برداشت ہے جس سے ہمارے سیاسی نیتا بالکل ناآشنا سے ہیں۔ پھر معاشرے میں اصول اور قواعد بدلتے جا رہے ہیں۔ آزادی سے پہلے جب گورا صاحب کی سرکار تھی اور اصول بھی ان ہی کے چلتے تھے اس زمانے میں اچھی اور بری شہرت بڑی اہمیت کی حامل ہوتی تھی۔ اگر کسی سرکاری افسر کی شہرت کسی بھی وجہ سے خراب ہوجاتی یا داغ دار ہوتی تو ایسے سرکاری افسر کے لیے ملازمت کرنا مشکل ہوجاتا۔ ایک تو عام لوگ ایسے افسر کو منہ نہ لگاتے اور معاشرتی طور پر وہ ناپسندیدہ تصور کیا جاتا اور وہ کوشش کرتا کہ وہ کوئی کام سرانجام دے سکے جس سے اس کی خراب شہرت کی معافی تلافی ہو سکے۔ صرف خراب شہرت کی وجہ سے ترقی روک لی جاتی۔ مگر اب نہ شہرت کا معاملہ ہے اور نہ کسی کو کوئی خوف ہے کہ کیا ہوگا؟

ملک میں نامعلوم سی افراتفری ہے۔ عمران کی تحریک انصاف انتخابات میں کامیابی حاصل کرنے کے بعد حکومت بنانے میں کامیاب ہوئی۔ اس سے پہلے ہی سابق وزیراعظم میاں نواز شریف کو ملک کی سب سے بڑی عدالت نے قوانین کو نظر انداز کرنے کی وجہ سے سزا سنا دی اور وہ الیکشن کے لیے نا اہل ہو گئے۔ دوسری طرف ان کی پارٹی ان کی الفت میں اتنی گم ہے کہ وہ اس حقیقت کو ماننے کو تیار ہی نہیں۔ پھر سابقہ وزیراعظم کو تماشا لگانے کا پرانا شوق ہے۔ ان کی قسمت ہی نہیں اور دوسرے کوئی عوامل ایسے تھے اور ہیں جن کی وجہ سے وہ پاکستان کے تین دفعہ وزیراعظم بھی بن گئے مگر ان کا قول رہا۔ سب کچھ چھوڑا ہم نے نہ چھوڑی اک ہوشیاری۔ میاں نواز شریف کو بنانے والے اور چلانے والے نہ صرف ہوشیار ہیں بلکہ وہ ہماری سیاست اور ریاست میں سرمایہ کاری بھی کرتے ہیں۔ میاں نواز شریف کی سعودی عرب سے واپسی، معافی اور تلافی میں ہمارے سعودی، امریکی اور برطانیہ دوست بھی شامل تھے اور اب جب وہ دوبارہ انصاف اور قانون کی آنکھوں میں دھول جھونک کر لندن یاترا کے لئے چلے گئے تو ہمارے بیرون ملک دوستوں نے سرکار کے احساس اداروں سے مدد بھی لی اور سابق وزیراعظم کو بیرون ملک منتقل کیا۔

اس میں کوئی شک نہیں جنرل ضیا کی موت کے بعد فوج نے فیصلہ کیا تھا کہ ملک کو جمہوریت پر چلنے میں مدد کی جائے اور سیاست دانوں کو عادت ڈالی جائے کہ وہ آئین کے جمہوری حقوق کی پاسداری کریں اور فوج کچھ عرصہ کامیاب رہی۔ پھر دوبارہ بیرون ملک کے کچھ دوستوں نے میاں نواز شریف کو مشورہ دیا کہ وہ ملک کے وزیراعظم کی بجائے امیرالمومنین بن جائیں۔ ان دوستوں کو اندازہ تھا کہ فوج جو جمہوریت کو سپورٹ کر رہی ہے وہ رنگ میں بھنگ نہ ڈال دے اور اس وجہ سے اس وقت کے آرمی چیف کو بدلنے کا فیصلہ ہوا۔ فوج والے بھی ہوشیار تھے کہ جمہوریت کے چیمپئن کیا کرنے جا رہے ہیں۔ فوج کو ایسا فیصلہ قبول نہ تھا اور میاں نواز شریف کو فارغ کر کے آرمی کے جنرل نے سرکار کی باگ ڈور سنبھال لی۔ ہمارے دوست ممالک جو فوج کے ساتھ مشاورت کرتے رہتے تھے۔ اب کچھ فوج سے ناراض سے ہو گئے۔ برطانیہ، امریکہ اور سعودی عرب کے دوستوں کو باور کرانے کی کوشش کی گئی کہ ہم جمہوریت کو نظرانداز نہیں کر رہے مگر کوئی یقین کرنے کو تیار نہ تھا پھر امریکہ میں جو عظیم دہشت گردی ہوئی جس کے بعد دنیا میں سیاست کا نظریہ ہی بدل گیا اور پاکستان کی فوجی سرکار کی ہمارے دوستوں کو اہمیت محسوس ہوئی۔

جب نواز شریف پر جہاز کے اغوا کا مقدمہ بنا تو ہمارے بیرون ملک مہربانوں کو اندازہ ہوا کہ ان کا مہرہ تو پٹ جائے گا۔ پھر نواز شریف پر سرمایہ کاری کرنے والے بدیسی دماغوں نے سعودی عرب کو مجبور کیا کہ وہ نواز شریف کا تاوان ادا کر کے اس کو اپنے ہاں پناہ دیں۔ سعودی عرب نے لبنان کے لوگوں کی معرفت بات چیت شروع کی اور پاکستان فوج کو باور کرایا کہ نواز شریف کم از کم دس سال تک پاکستان کا رخ نہیں کریں گے۔ دوسری طرف فوج نے جمہوریت کو دوبارہ رائج کرنے کے لئے اقدامات کیے اور ملٹری سرکار نے سیاست دانوں کو اہمیت اور حیثیت دی۔ بے نظیر اور میاں نواز شریف کو این آر او دیا گیا اور ملک میں جمہوریت کو پہچان ملی۔ مگر یہ ایسی جمہوریت تھی کہ ہمارے نیتا عوام کی بہبود کا کچھ بھی نہ کرسکے۔ بیرونی دوستوں اور مہربانوں کی رہنمائی سے عالمی معاشی اداروں کے غلام سے بن گئے اور ایسے ایسے اقدامات کیے گئے جو سیاست اور جمہوریت کے لیے بھی نشان ستم تھے۔ پیپلز پارٹی کے آصف زرداری اور مسلم لیگ کے شریف برادران نے صرف اور صرف اپنے اثاثوں میں اضافہ کیا وہ بھی کرپشن کے ذریعے۔ چھپ کر نہیں چھپا کر شب خون مارا جمہور پر ۔

دوسری طرف پاکستان سے الگ ہونے والا بنگلہ دیش بھی جمہوریت کی جنگ میں بدحال رہا۔ وہاں لوگ ہمارے ہاں کے لوگوں سے زیادہ فہم و فراست رکھتے ہیں۔ انتخابات ہوتے رہے اور اب بنگلہ دیش ایک مضبوط معیشت والا اسلامی ملک ہے اور ہم سے بہتر ہے۔ کرپشن ہے اور ر ہے گی بھی مگر ملک کے مفادات پر سودا نہیں کرتے۔ ادھر ہمارے ہاں جمہوریت کو کندھا دینے کے لئے ہماری فوج نے آصف علی زرداری کو صدر بنوایا اور اس امید کے ساتھ کہ بیرون ملک دوستوں کو آصف علی زرداری پر بھروسا ہے۔ ان کی بھی فوج سے جلد ہی ٹھن گئی اور ان کو خودساختہ جلاوطنی اختیار کرنی پڑی۔ فوج ناراض تھی مگر فوج کے بیرون ملک احباب نے فوج کو مجبور کیا آصف کو معاف کردو۔ پھر فوج نے میاں نواز شریف کے ساتھ معاملے صاف کیے اور ان پر اعتماد کیا مگر یہ اعتماد بھی یک طرفہ تھا اب کی بار وزیراعظم نواز شریف فوج پر اعتبار کرنے کو تیار نہ تھے مگر حال دل چھپا کر اور پنجاب کے صوبے دار کی مان کر فوج کو قبول کیا۔ بھارت کے ساتھ تعلقات نے وزیراعظم کی حیثیت کو متاثر کیا اور فوج پریشان تھی کہ باہر کے دوست پاکستان کی سیاست اور ریاست کے ساتھ کیا کرنا چاہتے ہیں۔

پاکستان کے سابق کمانڈر راحیل شریف نے کافی کوشش کی کہ وزیراعظم کا دل صاف ہو جائے۔ وزیر داخلہ چودھری نثار بھی اس معاملہ میں پریشان سے تھے۔ داخلہ امور کی وجہ سے اور دہشت گردی کی جنگ میں مشاورت سے فوج چودھری نثار کے ساتھ رابطہ میں رہتی تھی۔ نواز شریف کو یہ پسند نہ تھا۔ دوسری طرف انتخابات کے بعد عمران خان نے دھرنا پروگرام شروع کیا جو اس کا جمہوری حق تھا اور وہ دھرنا چلا بھی مگر عمران خان کو بیرون ملک سے علامہ طاہر القادری کی کمک ملی۔ کپتان عمران خان مقررہ ہدف حاصل نہ کرسکے۔ راحیل شریف نے جمہوری سرکار کی بہت مدد کی اور مدد بھی سعودی، برطانوی اور امریکی دوستوں کے کہنے پر کی۔ راحیل شریف کی مقررہ مدت ختم ہونے کو تھی اور سعودی عرب عالمی مسلم افواج کے لیے ان کی خدمات حاصل کرنا چاہتا تھا مگر وزیراعظم کو یہ بات پسند نہ تھی۔ سعودی عرب نے کوشش کی اور راحیل شریف کو اپنے ہاں ایک حیثیت دے دی۔ راحیل شریف کو گلہ تھا کہ نواز شریف کی اتنی اخلاقی مدد کی اور فوج نے جمہوریت کی کمزور کشتی کو سہارا دیا مگر سیاست دان بدعملی سے باز ہی نہیں آرہے پھر جنرل باجوہ کا بھی وقت آ گیا۔ پنجاب کا یہ جاٹ خاصا خوش قسمت رہا۔

کپتان عمران خان کی حکومت کو دو سال سے زیادہ عرصہ ہونے کو ہے۔ یہ دو سال بڑے مشکل تھے۔ تبدیلی کی کوشش بار بار ہوتی نہ کپتان کچھ تبدیل کر سکا اور نہ ہی سیاست دان۔ لگتا یوں ہے کہ عمران خان اپنے پانچ سال پورے کرے گا اس کو پتا ہے کہ وہ دوبارہ انتخابات جیت سکتا ہے مگر پاکستان کے بیرون ملک راکھیل اس کو قبول کرنے کو تیار نہیں۔ وبا کی وجہ سے پاکستان محفوظ ہے۔ ہمارے سیاست دان اپنی کرپشن کی صفائی دینے کو تیار نہیں۔ وہ سچ بولنے کو تیار نہیں۔ پہلے پہل فوج نے کوشش کی کہ سیاست دان اس کمزور جمہوری دور کو چلنے دیں مگر اب سیاست دان فوج پر بھی شک کر رہے ہیں اور سابق بیمار وزیراعظم کا لندن سے بھاشن ہے کہ ہم عمران کے خلاف نہیں بلکہ اس کے لانے والوں کے خلاف ہیں۔ اس کے لانے والوں میں الزام فوج پر لگایا جا رہا ہے۔ اب کی بار سابق وزیراعظم کو برطانیہ، امریکہ اور سعودی عرب کی کمک مل چکی ہے۔ فوج اس نئی صورت حال پر غور کر رہی ہے۔ یہ صورت حال جنرل باجوہ کے لیے تشویشناک ہے اور ہمارے بیرون ملک سیاست دان جمہوریت اور فوج دونوں سے بدگمان ہیں اور فوج نہیں چاہتی کہ وہ ملکی دفاع کے علاوہ کسی اور مسئلہ میں کوئی کردار ادا کرے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •