انڈیا میں ہاتھرس کیس: میڈیا کا کیمرہ آف ہو چکا ہے، ماں اب بھی رو رہی ہے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

آنکھوں میں منظر دھندلا ہو رہا ہے۔ ہر گزرتے لمحے کے ساتھ اس واقعے کی تصویر بھی ماند پڑتی جارہی ہے۔ باجرے کے کھیت، لاش کو نذر آتش کرنے کی جگہ اور خود گاؤں بھی۔

جرم کے شواہد مٹانے کی آخری کوشش یہ تھی کہ پولیس نے اہل خانہ کی اجازت کے بغیر مبینہ ریپ کی متاثرہ لڑکی کی لاش کو جلا دیا تھا۔ یہ 29 اور 30 ستمبر کی درمیانی رات تھی جب رات کے اندھیرے میں شعلے کھیتوں کے بیچ میں بلند ہونا شروع ہوئے۔

وہ دلت (ہندوؤں کی پسماندہ ذات) برادری سے تعلق رکھتی تھی۔ لواحقین کا کہنا ہے کہ گاؤں کے ٹھاکروں (اعلیٰ ذات والوں) نے لڑکی کا ریپ کرنے کے بعد اسے قتل کرنے کی کوشش کی تھی۔ گاؤں میں دلتوں کے کل چار گھر ہیں۔

بچی کے ساتھ حیوان جیسا سلوک کرنے کے الزام میں ٹھاکروں کے چار نوجوانوں کو گرفتار کر لیا گیا۔ یہ چند موٹی موٹی باتیں ہیں۔ باقی سب کی اپنی اپنی کہانیاں ہیں۔

اسی سے متعلق

ہاتھرس کیس: ‘غیر معمولی اور ہولناک‘ کیس میں گواہوں کو تحفظ فراہم کرنے کا حکم

ہاتھرس ’گینگ ریپ‘: متاثرہ خاندان سے ملاقات کے لیے جاتے ہوئے راہل اور پرینکا گاندھی حراست میں

ہاتھرس ریپ کیس: ایک جان لیوا حملہ اور تنہائی میں ادا کی گئیں آخری رسومات

ہاتھرس کے بعد بلرام پور میں بھی مبینہ گینگ ریپ، سوشل میڈیا صارفین کی حکومت پر تنقید

ماں کو یاد ہے کہ وہ اپنی بیٹی کے بالوں کی چوٹی بناتی تھیں۔ ان کی بیٹی نے اپنے لمبے بالوں کو سنوارنے کے لیے جو کلپ لگا رکھا تھا وہ اس وقت ٹوٹ گیا جب اسے کھیتوں میں گھسیٹا گیا۔

وہ کچھ یاد کرتے ہوئے کہتی ہیں: ‘اس کے بال بہت لمبے تھے۔ وہ مجھے اپنے بال باندھنے کو کہتی تھی۔‘ انھیں بچی کی ہر بات یاد ہے۔

لیکن اس گاؤں میں صرف ایک ہی سچ نہیں ہے۔ یہاں ایک سچائی دوسرے کے خلاف کھڑی ہے اور چیلنج کر رہی ہے۔

جتنے منھ اتنی باتیں

انڈیا کے دارالحکومت نئی دہلی سے ملحقہ مغربی اتر پردیش کا چاندپا گاؤں ایک پُرسکون مقام ہے۔ اگر آپ چاندپا کے آس پاس کے علاقوں پر نظر دوڑائيں تو باجرے کی فصل چھ فٹ اونچی تک نظر آئے گی۔

متاثرہ لڑکی تقریباً دو ہفتوں تک زندگی کی جنگ لڑتی رہی لیکن آخر کار وہ 29 ستمبر کی صبح ابدی نیند سو گئی۔

یہ 14 ستمبر کی بات ہے جب ماں نے اپنی بیٹی کو خون سے لت پت حالت میں پایا۔ وہ بڑی مشکل سے سانس لے پا رہی تھی۔

ماں نے بیٹی کے ننگے بدن کو اپنی ساڑھی سے ڈھانپ لیا اور اسے لے کر چندپا تھانے پہنچی۔ ان کی طرف سندیپ کے خلاف بچی کے قتل کی کوشش کی ایک رپورٹ درج کی گئی تھی۔

ماں کہتی ہے کہ اس وقت اس کے ذہن میں ایک لمحے کے لیے بھی یہ خیال نہیں گزرا کہ بیٹی مر جائے گی۔

ابتدائی طور پر اس کے خاندان نے جنسی تشدد یا ریپ کی شکایت نہیں کی تھی۔ اس کی وجہ یہ تھی تاکہ معاشرے اور برادری میں بیٹی کی بدنامی نہ ہو۔

بعد ازاں متاثرہ لڑکی نے موت سے قبل جو بیان دیا اس میں ملزم کے خلاف عصمت دری کا الزام بھی عائد کیا گیا تھا۔ لیکن اب متاثرہ لڑکی کے لواحقین کی ہر شکایت پر پوچھ گچھ کی جارہی ہے۔ ان کی تکلیف کو مسترد کیا جا رہا ہے۔

اب اس معاملے میں غیرت کے نام پر قتل کی بات بھی کہی جا رہی ہے۔ کہا جارہا ہے کہ بچی کے اہل خانہ نے بیٹی کو غیرت کے نام پر قتل کر دیا۔

یہ دعویٰ کیا جاتا ہے کہ اس لڑکی کا ایک ملزم کے ساتھ رابطہ تھا اور بھائی کو اس کا پتا چل گیا اور پھر اس نے اپنی بہن کو اتنا مارا کہ اس کی موت واقع ہوگئی۔

کچھ لوگ تو یہاں تک کہہ رہے ہیں کہ گھر والوں نے اپنی بیٹی کو اس لیے مار ڈالا کہ انھیں معاوضے کی رقم مل جائے گی۔

ایسے دعوے کرنے والوں کو ملزمان سے ہمدردی رکھنے والے رہنماؤں اور صحافیوں سے شہہ مل رہی ہے۔ انھیں یہ دلائل رٹائے جا رہے ہیں۔

لیکن اگر آپ گاؤں کا صرف ایک چکر لگائيں تو آپ کو احساس ہوگا کہ وہ سب جھوٹ بول رہے ہیں۔

لڑکی کے زخموں پر سوال کرنے والے افراد

پوسٹ ٹروتھ کے اس دور میں کسی بھی رپورٹر کے لیے حقائق تلاش کرنا ایک بہت بڑا چیلنج ہوتا ہے۔ مرد اور عورت میں تمیز رکھنے والا معاشرہ ایک رپورٹر کو بھی عورت اور مردوں کے خانوں میں رکھ کر بات کرتا ہے۔

نتیجہ یہ ہوا کہ کہانی کا رُخ مڑ جاتا ہے۔ آج ریپ اور اس کے جسم پر نظر آنے والے زخموں کو چیلنج کیا جا رہا ہے۔

ذات پات اور برادری کے نام پر اس واقعے کے گرد سیاسی مورچہ بندی ہو رہی ہے۔

اتر پردیش حکومت نے کانگریس رہنما راہل گاندھی اور پرینکا گاندھی واڈرا کو طویل ڈرامے کے بعد متاثرہ کے اہل خانہ سے ملنے کی اجازت دے دی۔ پھر ان کے ساتھ میڈیا کو بھی گاؤں کے اندر جانے کی اجازت دی گئی۔

اس کے بعد ٹھاکروں کو انصاف دلانے کے لیے گاؤں کے آس پاس کے دیہات میں پنچایتیں بلائی گئیں۔ جو لوگ ان پنچایتوں میں حصہ لے رہے ہیں وہ یہ دعویٰ کر رہے ہیں کہ اس معاملے میں ٹھاکروں کو غیر ضروری طور پر ملوث کیا گیا ہے۔

اس سارے واقعے کا رُخ تبدیل کرنے کے لیے اب ذات پات کے فرق کا استعمال کیا جا رہا ہے۔ یہاں اخلاقیات نام کی کوئی چیز نہیں ہے۔ جب میں گاؤں کی طرف جانے والی سڑک سے گزر رہی تھی تو میں نے اسی طرح کی ایک پنچایت ہوتی دیکھی۔ خیال رہے کہ حملہ کرنے والوں نے اس لڑکی کی گردن بھی توڑ دی تھی۔

تمام شواہد توڑے مروڑے جا رہے ہیں۔۔۔

چار اکتوبر کو جب پولیس نے میڈیا کو گاؤں میں جانے کی اجازت دی تھی اس کے اگلے ہی دن سیاسی جماعتوں کے کارکن پولیس کی جانب سے لگی رکاوٹوں کے قریب احتجاج کر رہے تھے۔

پولیس نے فساد کش انداز میں حفاظتی بندوبست کر رکھا تھا۔ اسی دوران تھوڑی سی جگہ دیکھ کر میں اندر داخل ہو گئی۔ مجھے کسی نے نہیں روکا۔

پولیس اہلکار نے مجھے بتایا: ‘گاؤں یہاں سے دو کلومیٹر دور ہے۔ آپ کو پیدل ہی جانا ہوگا۔’

جائے وقوعہ کی طرف جانے والی سڑک ویران تھی۔ کبھی کبھی کسی صحافی کو گاؤں یا واقعے کی جگہ چھوڑنے کے لیے کوئی موٹر سائیکل اس راستے سے گزرتی۔

گاؤں میں کیمرے اور لائیو رپورٹنگ

جائے وقوعہ پر جانے کا تجربہ پورے گاؤں کی صورتحال کا احساس دلاتا ہے۔ لیکن اب سارے شواہد راکھ ہو گئے ہیں۔

راستے میں ایک شخص سے میری ملاقات ہوئی۔ انھوں نے بتایا کہ وہ قریبی گاؤں کے کسان ہیں۔

پھر فورا بول پڑے۔ ‘میرا نام نرسنگھ ہے۔ میں ٹھاکر ہوں۔ میڈیا جو کچھ دکھا رہا ہے وہ سچ نہیں ہے۔ لڑکی کا ملزم کے ساتھ چکر چل رہا تھا۔ وہ ہماری بیٹی بھی تھی۔’

میں نے پوچھا تو پھر اس کا ریپ کیوں ہوا؟ نرسنگھ نے جواب دیا؛ ‘خود جاکر معلوم کرو۔’ پھر وہ جلدی سے وہاں سے چلا گیا۔

گاؤں میں بہت سے کیمرے لگے تھے۔ تاروں کا جال سا بنا ہوا تھا۔ رپورٹرز کا مجمع لگا تھا۔ بہت سے اپنی پیٹھ پر بیگ لادے تھے جس پر لائیو لکھا تھا۔

مائیک کے ساتھ رپورٹرز خوب ‘تماشا’ کر رہے تھے۔ ان سب کو اسی خبر کی اطلاع دینے کے لیے گاؤں بھیجا گیا تھا۔ اسی کے ساتھ انھیں لڑکی کے لیے انصاف کا مطالبہ کرنے کی ایک بہت بڑی ذمہ داری بھی دی گئی تھی۔ بالکل اسی طرح جس طرح انھوں نے اداکار سوشانت سنگھ راجپوت کے معاملے میں کیا تھا۔

آل انڈیا میڈیکل سائنز کی فرانزک رپورٹ میں سوشانت کی موت کو خودکشی قرار دیا گیا ہے۔ اب سوشانت کے لیے انصاف کا مطالبہ کرنے والوں کے ساتھی پورے جوش کے ساتھ اس گاؤں میں جمع ہو گئے تھے۔۔ اونچی آواز میں تقریباً شور مچاتے ہوئے اب وہ ہاتھرس کی اس لڑکی کے لیے انصاف کا مطالبہ کر رہے تھے۔

ہر دو فرلانگ پر براہ راست رپورٹنگ جاری تھی۔

ٹی آر پیز کی یہ جنگ کسی بھی سچ کو جھوٹ کے ہزاروں پردے کے پیچھے چھپانے کی طاقت رکھتی ہے۔ اگر آپ اس تنگ گلی سے گزرتے ہیں جو لڑکی کے گھر جاتی ہے تو آپ کو پورے راستے میں صرف کچھ رپورٹرز کی آواز سنائی دیتی ہے۔

مردہ لڑکی ‘لائیو’ رپورٹنگ بن گئی

وہ ہلاک شدہ لڑکی اب ‘لائیو’ ہو چکی ہے۔ اب اس معاملے میں ایک ‘صداقت’ حکومت بھی ہے۔ بس چند دنوں کی بات ہے اور سارا بیانیہ بدلا ہوا نظر آئے گا۔

دو مقامی صحافی مجھ سے پوچھتے ہیں کہ کیا آپ سچ کی تلاش میں ہیں؟ وہ مجھے اپنا سچ پیش کرتے ہیں۔ ایک نے کہا: ‘دونوں کے اہل خانہ کے مابین لڑائی چل رہی تھی۔ میں آپ کو اس کے کاغذات بھیج سکتا ہوں۔ ٹھاکر تو بے قصور ہیں۔‘

اس صحافی نے اس سے قبل ایک خبر بھیجی تھی جس میں بتایا گیا تھا کہ خاندانوں کے درمیان زمین کے ایک ٹکڑے کے متعلق تنازع تھا۔ اس وقت ٹھاکروں کے اہل خانہ پر ایس سی/ ایس ٹی ایکٹ (پسماندہ ذات کے تحفظ کا قانون) کے تحت مقدمہ درج کیا گیا تھا۔

یہ 15 سال پہلے کی بات ہے۔ بات کرتے ہوئے ہم اس دوران ملزم کے گھر کے باہر پہنچ گئے۔ ایک عورت وہاں کپڑے دھو رہی تھی۔ وہ مجھ سے کہتی ہیں: ‘کوئی بھی ہم سے سچ نہیں پوچھ رہا ہے۔’

پھر وہ خاتون مجھے اپنے حصے کی حقیقت بتاتی ہیں: ‘لڑکوں کو غلط طور پر پھنسایا گیا ہے۔ وہ مجرم نہیں ہیں۔ لڑکی کے بھائی کا نام اور ہمارے دیور کا نام ایک جیسا ہے۔ جب اس نے نام لیا تو اس نے کس کا حوالہ دیا؟’

یہ واضح ہے کہ مرتی ہوئی لڑکی کی آخری گواہی کی یہاں کوئی اہمیت نہیں ہے۔

‘مرنے سے پہلے کوئی جھوٹ نہیں بولتا’

سپریم کورٹ نے پی وی رادھا کرشنن بنام کرناٹک حکومت کے معاملے میں کہا تھا کہ مرنے سے پہلے کسی کا بیان حتمی ہے اور استثنیٰ سے بالاتر ہے۔

ملک کی سب سے بڑی عدالت نے اپنے فیصلے میں لاطینی محاورے کا حوالہ دیا جس کا مطلب ہے کہ ‘مرنے سے پہلے کوئی جھوٹ نہیں بولتا۔’

استھیاں یعنی میت کی جلی ہوئی راکھ ابھی گاؤں میں پڑی تھیں جہاں آدھی رات کو پولیس نے اسے نذر آتش کیا تھا۔ اس جگہ تک پہنچنے کے لیے مجھے باجرے کے کھیتوں سے گزرنا پڑا۔

جب میں وہاں پہنچی تو ایک رپورٹر اسی لمحے وہاں سے براہ راست اطلاعات دے رہا تھا۔ لیکن کسی کو نہیں معلوم کہ ایسی لڑکی کو جلانے کی کیا جلدی تھی جس کے مرنے سے قبل ہاتھ پیر اور گردن ٹوٹ چکی تھی۔

ریاستی حکومت نے اپنے دفاع میں سپریم کورٹ میں استدلال کیا کہ اگر رات دیر گئے لاش نہ جلائی جاتی تو فسادات کا خدشہ تھا۔

رپورٹر کہتا ہے کہ ‘آپ کو یہاں ذات پات کا حساب کتاب نہیں سمجھ آئے گا۔‘

گاؤں میں بہت سارے ایسے لوگ بھی ملے جو یہ کہتے پھر رہے تھے کہ گھر والوں کو بیٹی کی موت کا دُکھ نہیں ہے۔ ’انھوں نے تو ٹھیک سے سوگ بھی نہیں منایا۔‘

گاؤں میں بہت سارے لوگ ہیں جو اس بات پر یقین رکھتے ہیں۔ اس موقع پر موجود کچھ رپورٹرز بھی یہی کہتے ہیں۔

زیادہ تر رپورٹرز مرد ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ کنبے کو دیکھنے کے بعد ایسا نہیں لگتا کہ انھوں نے اپنی بیٹی کھو دیا ہے۔ ایک کہتا ہے کہ انھیں بہت ساری رقم ملی ہے۔ لیکن کوئی نہیں سمجھتا کہ غریب بھی اپنے پیاروں کے انتقال کا غم مناتا ہے۔

معاوضے سے جانے والے کی کمی کو پورا نہیں کیا جاسکتا ہے اور آنسو بہانے سے درد کا اظہار نہیں ہوتا ہے۔ پچھلے کئی دنوں سے گاؤں میں ایک بھیڑ ہے جو مقتولہ کے گھر کے گرد جمع رہتی ہے۔

جس دن زیادہ تر نامہ نگاروں نے اپنا بوریا بستر سمیٹ لیا اس دن بھی وہ ماں بھی رو رہی تھی۔ وہ کہتی ہیں کہ مجھے اس شور میں بہت ہی عجیب لگ رہا ہے۔

پچھلے کئی دنوں سے انھیں سیاستدانوں، سماجی کارکنوں، پولیس اور صحافیوں نے گھیر رکھا تھا۔ ایسی صورتحال میں ان کے دکھ کو بھی بدنیتی سمجھا گیا۔ لیکن شاید اس ماں نے اپنی بیٹی کا غم اپنے دل میں ہمیشہ کے لیے چھپا لیا۔

گاؤں کی سب سے نچلے درجے کی ذات ’والمیکی

بیشتر ٹھاکر گاؤں کے والمیکیوں کو ہندو نہیں مانتے ہیں اور نہ ہی انھیں برابری کے درجہ کا شہری سمجھتے ہیں۔

’اچھوت‘ والی سوچ ابھی بھی مضبوطی سے قائم ہے۔ اسے کسی کے بارے میں اپنی رائے قائم کرنے کا پیمانہ سمجھا جاتا ہے۔ لیکن ریپ کے معاملات میں کوئی اچھوت نہیں ہے۔

‘جنسی خواہشات’ کو معمول بنا لیا گیا ہے۔ کسی کا غرور اور خواتین کو کمتر سمجھنا ذات پات کی بندشوں کو کہاں مانتا ہے۔ اس کا ثبوت اس ملک میں دلت خواتین کے ساتھ زیادتی کے بےشمار واقعات ہیں۔

یہاں والمیکیوں کو ’بھنگی‘ کہتے ہیں۔ جو ذات پات کے نظام کی سب سے نچلی سطح سے تعلق رکھتے ہیں۔

گاؤں میں والمیکی برادری کے چار کنبے ہیں۔ ان سب کے مکانات پاس پاس ہی ہیں۔ یہ مکانات باقی گاؤں سے تھوڑے فاصلے پر ہیں۔ ایک راستہ ان مکانات کو باقی گاؤں سے جوڑتا ہے۔ یا دوسرے لفظوں میں یہ راستہ انھیں گاؤں سے الگ کرتا ہے۔

یہ تقسیم اور یہ تفریق نہ جانے کتنے سالوں سے جاری ہے۔ سندھیا مقتولہ کی بھابھی ہیں۔

ان کی بہن پریتی کہتی ہیں کہ ’ایٹاوہ میں اس کے گاؤں میں والمیکیوں کے ساتھ اتنا زیادہ امتیازی سلوک نہیں ہوتا ہے۔ لیکن اس گاؤں میں کسی والمیکی نے کوئی سامان خرید لیا تو وہ اسے واپس بھی نہیں کرسکتا کیونکہ اس نے اس کو چھو کر سامان کو گندا کردیا ہے۔

جس سے محبت اس سے ریپ کیسے؟

پریتی کا کہنا ہے کہ اگر بھنگیوں کا سایہ بھی ٹھاکروں پر پڑجائے تو وہ خود کو ناپاک سمجھتے ہیں۔

جب سے دلی سے میت آئی ہے اسی وقت سے پریتی یہاں ہے۔ وہ اسے جانتی تھی۔

وہ پوچھتی ہے کہ ‘آپ مجھے بتائیں، اگر آپ کسی سے محبت کرتے ہیں تو، کیا آپ اس کا ریپ کریں گے؟ کیا محبت کرنا جرم ہے؟ انھیں عورت کی طاقت کا احساس کرانا ہوگا۔ ہمیں ان چیزوں کی مخالفت کرنی ہوگی۔’

پریتی ان باتوں سے بہت پریشان ہیں جو مقتولہ کے بارے میں کی جارہی ہیں۔

وہ کہتی ہیں: ‘جب آپ کسی نچلی ذات میں پیدا ہوں گے تبھی آپ کو ملک کے ذات پات کے نظام کا اچھا اندازہ ہوگا۔ آپ ابھی ہمارے مسئلے کو نہیں سمجھ سکتے ہیں۔ آپ کو اندازہ نہیں ہے کہ وہ ہمیں کس نظر سے دیکھتے ہیں۔

’اگر وہ غلطی سے کبھی ہم سے چھو گئے تو وہ گھر جاکر سب سے پہلے نہاتے ہیں۔ ہم سب جانتے ہیں۔ ذات پات کا ہمارا تجربہ بالکل مختلف ہے۔ یہ ہمارا روز مرہ کا تجربہ ہے۔’

لڑکی کے اہل خانہ کے تحفظ کا کیا حل ہے؟

پورے گاؤں میں پولیس اہلکار دکھائی دیتے ہیں۔ چار اکتوبر کو دلت رہنما چندر شیکھر آزاد نے کہا تھا کہ جب تک ریاستی حکومت متاثرہ خاندان کو سکیورٹی نہیں دیتی ہے وہ متاثرہ خاندان کو اپنے ساتھ لے جانا چاہتے ہیں۔

چندر شیکھر آزاد کہتے ہیں: ‘اگر کنگنا کو سکیورٹی مل سکتی ہے تو میرے کنبے کو کیوں نہیں؟"

’مجھے اس حکومت پر یقین نہیں ہے۔ مجھے صرف سپریم کورٹ پر اعتماد ہے۔ اگر وہ کنبے کو تحفظ نہیں دیتے تو میں ان کو اپنے ساتھ لے جاؤں گا۔‘

تاہم بعد میں چندر شیکھر آزاد ان لوگوں کو اپنے ساتھ لیے بغیر چلے گئے۔ آزاد نے بعد میں کہا کہ انھیں کنبے کو لے جانے کی اجازت نہیں ملی۔

چندر شیکھر آزاد کے خلاف دفعہ 144 کی خلاف ورزی کی بنا پر ایف آئی آر درج کی گئی ہے۔ اترپردیش پولیس نے 400 سے زیادہ دیگر نامعلوم افراد کے خلاف بھی یہی مقدمہ درج کیا ہے۔

آزاد نے اہل خانہ سے بند کمرے میں ملاقات کی تھی اور پھر پریس کانفرنس کی۔ جب دلتوں کے رہنما اور بھیم آرمی کے سربراہ چندر شیکھر آزاد کی گاؤں آنے کی خبر عام ہوئی تو راجپوتوں کی جماعت کرنی سینا نے بھی ‘سچ کی چھان بین’ کے لیے ایک ٹیم گاؤں بھیج دی۔

کرنی سینا کے سبھاش سنگھ نے کہا تھا کہ وہ گاؤں اس لیے آئے کہ بھیم آرمی کے رہنما چندر شیکھر آزاد بھی یہاں آرہے تھے اور ان کے صدر دفتر سے انھیں گاؤں پہنچنے کے لیے بھی کہا گیا تھا۔

سبھاش سنگھ نے کہا: ‘ہم نے بھی سوشانت سنگھ راجپوت کے معاملے میں لڑ کر انصاف حاصل کیا۔ میڈیا نے اس میں ہماری بہت مدد کی۔ اور اب دیکھتے ہیں کہ یہاں حقیقت کیا ہے۔’

میں سمجھ نہیں پائی کہ خودکشی کے معاملے میں کس سے لڑ کر انھوں نے انصاف حاصل کیا ہے۔


  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 21709 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp