سوشل میڈیا کا ”مکو ٹھپنے“ کا آغاز

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

سیاست میں بیانات نہیں ٹھوس واقعات ہی اہم تبدیلیا ں لاتے ہیں۔ مثال کے طور پر مارچ 1977 کے انتخابات میں مبینہ دھاندلی کے خلاف نواپوزیشن جماعتوں کی جانب سے چلائی تحریک شدت کی انتہاؤں کو چھونے لگی تو بالآخر مسلح افواج کے سربراہان نے ایک مشترکہ بیان جاری کیا۔ اس بیان کو ”آئین کے مطابق“ قائم حکومت کی حمایت کا واضح اور بھرپور اظہار تصور کیا گیا تھا۔ یہ بیان مگر 5 جولائی 1977 کو روک نہیں پایا تھا۔ بیانات پر نہیں بلکہ ٹھوس واقعات پر اپنی توجہ لہٰذا مرکوز رکھیں۔ اس ضمن میں اہم ترین واقعہ میری دانست میں سوشل میڈیا پر بہت ہی مقبول ”ٹک ٹاک“ پر لاگو ہوئی پابندی بھی ہے۔

یہ Appہمارے ہمالیہ سے اونچے اور سمندروں سے بھی گہرے دوست۔ چین۔ میں ایجاد ہو کر دنیا بھر میں چھا چھو گئی۔ آسٹریلیا کی ایک کمپنی نے چند ماہ قبل مگر بہت تحقیق کے بعد یہ الزام لگایا کہ مذکورہ App کی بدولت چینی سرکار اور اس کی انٹیلی جنس ایجنسیاں اسے استعمال کرنے والوں کی ذاتی زندگی کے بارے میں ہر نوعیت کی تفصیلات جمع کر رہی ہیں۔ ان میں سے چند معلومات کسی صارف کو ”بلیک میل“ کرنے کے لئے بھی استعمال ہو سکتی ہیں۔

ٹک ٹاک کو گویا ایک جی بہلانے والی App نہیں بلکہ چین کا 5th Generation جنگ میں اپنی کامیابی کو یقینی بنانے والا Strategic Weapon ٹھہرا دیا گیا۔ یہ App جب ”ہتھیار“ ٹھہرا دی گئی تو امریکی صدر نے اصرار کیا کہ ”ٹک ٹاک“ کو اس کے ملک میں صرف اسی صورت استعمال ہونے کی اجازت دی جائے گی اگر اس کا مکمل کنٹرول کسی امریکی کمپنی کے سپرد کر دیا جائے۔ اس ضمن میں اس نے ایک ڈیڈ لائن بھی طے کردی۔ امریکہ کی ایک عدالت نے مگر امریکہ میں اس کے فیصلے کے خلاف Stay Orderجاری کر دیا۔

ٹک ٹاک پر لہٰذا امریکہ میں پابندی نہ لگ پائی۔ امریکہ میں مقیم چینی نژاد شہری اور وہاں موجود طالب علم ٹک ٹاک کے علاوہ ”مادر وطن“ سے رابطے کے لئے فیس بک کے بجائے چین ہی کی ایجاد کردہ Wechatسے رجوع کرتے ہیں۔ امریکی حکام اس Appکے بارے میں بھی بہت پریشان ہیں۔ اس کا استعمال روکنے کی کوئی صورت مگر دریافت نہیں کرپارہے۔ بھارت کی مودی سرکار کو لیکن ”ٹک ٹاک“ کے اپنے ملک میں استعمال پر پابندی لگانے میں ایک منٹ بھی نہیں لگا۔

لداخ کی سرحد پر چینی افواج کے ہاتھوں ہوئی پٹائی نے اس تناظر میں مناسب جواز فراہم کر دیا۔ چین مگر پاکستان کا جگری یار ہے۔ ہماری حکومت ”ٹک ٹاک“ کو ”دشمن کا ہتھیار“ ٹھہرانہیں سکتی۔ بنیادی فکر اسے یہ لاحق ہوئی کہ اس کے ذریعے وطن عزیز میں ”فحاشی وعریانی“ پھیل رہی ہے۔ ہماری نوجوان نسل گمراہ ہو رہی ہے۔ ذاتی طور پر ”ٹک ٹاک“ نے مجھے اپنی جانب کبھی راغب نہیں کیا۔ مجھے شبہ ہے کہ یہ فقط بہت ہی نوجوان لوگوں کو پسند آتی ہے۔

اس کے ذریعے پھکڑپن کی جو گنجائش ہے وہ میرے ذوق کے مطابق نہیں۔ ”فحاشی اور عریانی“ کے فروغ کے تناظر میں ٹک ٹاک کے کردار اور اثر کا جائزہ لینے کے قابل نہیں۔ ہماری حکومت نے مناسب تحقیق کے بعد ہی لیکن اس پر پابندی لگائی ہوگی۔ عالمی سیاست کا ادنیٰ طالب علم ہوتے ہوئے اگرچہ مجھے یہ خدشہ لاحق ہے کہ چینی حکومت کو پاکستان جیسے برسوں پرانے دوست کی جانب سے ”ٹک ٹاک“ پر لگائی یہ پابندی پسند نہیں آئے گی۔ اشاروں کنایوں میں شاید ہم سے جلد ہی رجوع کی درخواست ہوگی۔

یہ بات لکھنے کے بعد مگر خیال آیا ہے کہ گزشتہ چند مہینوں سے ہمارے ہاں مسلسل قوم کو متنبہ کیا جا رہا ہے کہ وطن عزیز میں انتشار وخلفشار پھیلانے کے لئے ہمارے ازلی دشمن سوشل میڈیا کو بہت مہارت سے استعمال کر رہے ہیں۔ ٹویٹر، فیس بک اور یوٹیوب اس ضمن میں دشمنوں کا موثر ہتھیار ٹھہرائے گئے ہیں۔ واقعہ اس کے بعد یہ بھی ہوا کہ آٹھ ماہ کی طویل خاموشی کے بعد ”عدالت سے سزا یافتہ“ نواز شریف نے ان Appsکو لندن میں بیٹھے ہوئے ”تخریبی پیغامات“ دینے کے لئے تواتر سے استعمال کرنا شروع کر دیا۔

پیمرا کے قوانین کے تحت چلایا ہمارا ذمہ دار اور محب وطن میڈیا نواز شریف کی جانب سے جاری ہوئے پیغامات کی تشہیر سے گریز کرتا ہے۔ یہ گریز مگر کاآمد ثابت نہیں ہورہا۔ اب 16 اکتوبر سے حکومت مخالف جماعتیں جلسے جلوسوں کا آغاز بھی کررہی ہیں۔ یقینی بات ہے کہ اپنی تشہیر کے لئے وہ ٹویٹر، فیس بک اور یوٹیوب ہی سے رجوع کریں گی۔ ان Appsکو Regulateاور کنٹرول کرنے کے طریقے لہٰذا ہر صورت ”ڈھونڈنا“ ہوں گے۔ بنیادی مشکل مگر یہ ہے کہ ان Appsکی اجارہ دار کمپنیاں حکومتوں سے بھی طاقت ور ہو چکی ہیں۔

کرونا کے دنوں میں نازل ہوئے لاک ڈاؤن نے بلکہ ان کی اہمیت کو توانا تر بناڈالا ہے۔ اب Work From Homeکی ثقافت فروغ پارہی ہے۔ بہت تحقیق کے بعد دعویٰ یہ بھی ہو رہا ہے کہ شاید کرونا ختم ہونے کے بعد بھی بے تحاشا دھندوں کے اجارہ دار سیٹھ اپنے ملازموں کے گھر ہی سے کام کرنے کو ترجیح دیں گے۔ اس رویے کی بدولت انہیں دنیا کے بڑے شہروں میں مہنگے ترین علاقوں میں کثیر المنزلہ عمارتوں میں دفاتر قائم کرنے کی ضرورت باقی نہیں رہے گی۔

ان دفاتر کی عدم موجودگی انہیں مزید منافع کے قابل بنائے گی۔ کرونا کی وجہ سے اپنی اہمیت کو مسلم ثابت کرنے کے بعد ٹویٹر، فیس بک اور یوٹیوب کی اجارہ دار کمپنیاں مزید مغرور ہو گئی ہیں۔ وہ امریکی اور یورپی حکومتوں کو بھی خاطر میں نہیں لارہیں۔ پاکستان جیسے غریب ملکوں کی شکایات پر غور کی ضرورت محسوس نہیں کریں گی۔ غالباً انہیں اس امر پر آمادہ کرنے کے لئے عمران حکومت کے کسی بہت ہی مفکر مصاحب نے یہ سوچا ہوگا کہ ”ٹک ٹاک“ ، پرپابندی لگانے سے سوشل میڈیا کا ”مکوٹھپنے“ کے عمل کا آغاز کیا جائے۔

فیس بک یا یوٹیوب کی مالک کمپنیوں سے مذاکرات کرتے ہوئے ہم انہیں بتاسکتے ہیں کہ اپنے ہاں سوشل میڈیا کو ریگولیٹ کرنے کے لئے ہم نے اپنے انتہائی قریب ملک چین کا لحاظ نہیں کیا تو وہ کس کھیت کی مولی ہیں۔ انہیں ہماری شکایات پر سنجیدگی سے غور کرنا ہوگا۔ جو ”حکمت عملی“ میں فرض کر رہا ہوں اگر واقعتاً عمران حکومت کے کسی مفکر مصاحب نے بہت سوچ بچار کے بعد اختیار کی ہے تو یہ اپنی سرشت میں قطعاً بچگانہ ہے۔ حکومت کو ٹویٹر، فیس بک اور یوٹیوب پر کامل کنٹرول کے ہرگز قابل نہیں بنائے گی۔

پاکستان میں ہزاروں نوجوان ان Appsکے ذریعے روزی کمانے کے عادی ہوچکے ہیں۔ تقریباً ہر دوسرا صحافی بھی اپنا یوٹیوب چینل چلانے کو مجبور ہو رہا ہے۔ یوٹیوب کے ذریعے ”تخریبی پیغام“ کو فروغ دینے والے صحافیوں کو بآسانی بندے کا پتر بننے کو مائل کیا جاسکتا ہے۔ یہ سوال مگر اپنی جگہ قائم رہے گا کہ بیرون ملک بیٹھ کر ہمارے لئے مشکلات کھڑی کرتے Content Developersکی بابت کیا حکمت عملی اختیار کی جائے۔ انٹر نیٹ پر کامل پابندی ہی اس کا واحد حل ہے۔

ایسی پابندی مگر دور حاضر میں ممکن نہیں۔ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب کے لئے وزیر اعظم عمران خان صاحب حال ہی میں انٹرنیٹ پر میسر سہولت ہی سے رجوع کرنے کو مجبور ہوئے تھے۔ آئی ایم ایف سے 6 ارب ڈالر والے پیکیج کی بقیہ اقساط حاصل کرنے کے لئے ان دنوں مشیر خزانہ اور ان کے معاونین Virtual Meetingsہی کر رہے ہوں گے۔ Work From Homeوالی ثقافت آنے والے برسوں میں ایسی ہی ”ملاقاتوں“ کو ترجیح دے گی۔ ان سے مفرممکن نہیں۔

ہماری ”اقدار“ کو عریانی اور فحاشی سے بچانا یقیناً ایک نیک فریضہ ہے۔ اسے سرانجام دیتے ہوئے مگر یہ حقیقت بھی یادرکھنا لازمی ہے کہ ہمارے کسان نے چھ مہینوں کی محنت کے بعد جو گندم اگائی تھی اسے جن داموں پر سرکاری گوداموں میں جمع کرنے کے لئے تقریباً زورزبردستی اٹھایا گیا تھا اب فقط چھ ماہ بعد بازار میں دگنے داموں پر میسر ہوتی ہے۔ وہ گندم چکی سے پسواکرگھر لاؤ تو فی الوقت 3200 روپے فی من خرچ کرنا ہوتے ہی۔

اس میں مزید اضافہ لازمی نظر آ رہا ہے۔ سردی ابھی پوری شدت سے شروع نہیں ہوئی مگر ”فارمی انڈہ“ بھی پنجاب کے قصبات میں 15 روپے فی نگ ہو گیا ہے۔ میری شدید خواہش ہے کہ فحاشی پر کڑی نگاہ رکھنے والے Investigativeصحافت کے حوالے سے جید مشہور ہوئے میرے چند دوست کبھی یہ اطلاع بھی فراہم کریں کہ ایک کلو آٹے کے کتنے پیڑے توے پر پکائی روٹی کے لئے تیار ہوسکتے ہیں۔ عام گھر میں اس طرح لگائی روٹی پر کتنی رقم خرچ ہوتی ہے۔

کم از کم چار افراد پر مبنی کنبے کو ہر ماہ کتنی روٹیاں درکار ہوتی ہیں۔ ہمارے غریب اور متوسط طبقے کے گھرانوں کو مطلوبہ روٹیاں بآسانی میسر ہیں یا نہیں۔ ٹی وی سکرینوں پر خواتین کے پہنے کپڑوں کو بہت لگن سے ”پیمائش“ کرنے والے صالح افراد کو کبھی کبھارزندگی کے لئے لازمی شمار ہوتی روٹی کو ”ماپنے“ کے لئے بھی استعمال کرلینا چاہیے۔

بشکریہ نوائے وقت۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •