نوشابہ کی ڈائری: 22 اگست کی تقریر… اور شہر بدل گیا

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

10 ستمبر 2016

وہ نعرہ زمین پر پڑا تھا، میرے قدموں کے پاس ”ہم نہ ہوں، ہمارے بعد، الطاف الطاف“ میں ایم کیو ایم کے مسمار کردیے یونٹ آفس کے دور تک بکھرے ملبے سے بچتی ہوئی چل رہی تھی کہ اچانک ٹوٹی دیوار کا یہ ٹکڑا راستے میں آ گیا، میں پل بھر کو رکی، بار بار اس تحریر کو پڑھا اور آگے بڑھ گئی، یہ سوچتے ہوئے جو ایسا ناگزیر تھا آج اس سے کیسا گریز کیا جا رہا ہے۔ کراچی اور مہاجروں کی تاریخ لکھی جائے گی تو اس میں ”22 اگست 2016“ کا دن دو ادوار کے بیچ ایک لکیر بن کر سامنے آئے گا۔ بائیس اگست کی شام اس شہر میں کسی کے لیے سویرا بن کر آئی تو کسی کو طویل اندھیری رات کے حوالے کر گئی۔

”ائے اب دیکھنا کیسی ایسی کی تیسی پھرتی ہے ان کم بختوں کی“ مہرالنساء نے بڑے جوش سے بائیں ہاتھ کی پشت دائیں ہتھیلی پر مار کر کہا تھا تو میرے گھر بیٹھی ساری عورتوں کا ایک ہی سوال تھا، ”کیوں کیا ہوا“ امی ابو کے امریکا جانے کے بعد میرا گھر محلے کی عورتوں کا مرکز بن گیا ہے۔ تقریباً ہر شام دو چار عورتیں آ کر بیٹھ جاتی ہیں۔ آنے والیوں میں اکثر پہلی مہرالنساء ہوتی ہیں۔ جس دن ان کا شوہر، نصیراللہ بابر کے آپریشن کے دوران ایک ”مقابلے“ کی نذر ہوا، دو بچوں کے ساتھ کرائے کے مکان میں رہتی مہر النسا کی دنیا ہی اجڑ گئی۔

میٹرک پاس مہرالنسا سلائی کر کے جیسے تیسے بچوں کی بھوک بہلاتی اور خود کو بھوکی نظروں سے بچاتی رہیں۔ پھر ایک دن ایم کیو ایم کا مہربان ہاتھ ان کی طرف بڑھا۔ پہلے مہینے کا راشن آتا رہا پھر ”شہید کی بیوہ“ کو ”سرٹیفکٹ آف ٹیچنگ“ کی سند دلوا دی گئی، اس کے ساتھ ہی سرکاری پرائمری اسکول میں استانی کی ملازمت مل گئی اور ہماری گلی میں ایک پلاٹ ان کے نام ہو گیا۔ ایم کیو ایم کی ”خدمت خلق فاؤنڈیشن“ کے شہدا فنڈ سے وقتاً فوقتاً مالی امداد کا سلسلہ بھی جاری تھا۔

ان کے گھر میں قدم رکھتے ہی جس چیز پر سب سے پہلے نظر پڑتی وہ الطاف حسین کی بڑی سی تصویر تھی۔ ایم کیو ایم کے شعبۂ خواتین کی سرگرم کارکن، الطاف حسین کو اپنا مربی سمجھنے والی، ان کی عقیدت سے سرشار، متحدہ کے ہر جلسے ہر مظاہرے میں شریک مہرالنسا الطاف حسین کے خلاف کچھ سننے کی روادار نہ تھیں، ویسے بھی ان کے سامنے ایسا کچھ کہنے کی ہمت کس میں تھی۔

”پریس کلب پر بھوک ہڑتال چل رہی ہے نا، کارکنوں کی گم شدگی اور ماروائے عدالت قتل کے خلاف۔ آج تو بھائی نے ایسی صاف صاف باتیں کری ہیں کہ بس“ مہرالنساء نے تفصیل بتانا شروع کی۔ وہ میرے بتانے کے باوجود ماورائے کو ”ماروائے“ ہی کہتی ہیں، ”بولے پاکستان پوری دنیا کے لیے ناسور ہے، پاکستان دنیا کے لیے ایک عذاب ہے، پاکستان دنیا کے لیے دہشت گردی کا مرکز ہے، اس پاکستان کو ہمارے بزرگوں نے بنا کر غلطی کی جس کی تلافی ہم اسے توڑ کر کریں گے، ٹکڑے ٹکڑے کرڈالیں گے۔

کہنے لگے، یہ مجھے کتنا بھی غدار بولیں مجھے یہ پاکستان نہیں چاہیے۔ بھائی نے کیا گرج دار آواز میں پاکستان مردہ باد کا نعرہ لگایا، پھر خوب نعرے لگے پاکستان مردہ باد کے۔“ وہ فخریہ بتا رہی تھیں اور ہم سب منہ کھولے اور آنکھیں پھاڑے سن رہی تھیں۔ ”آخر میں بھائی نے پوچھا، آپ لوگ یہاں سے ابھی اے آر وائی اور سما چینل جا رہے ہیں؟ نعرے لگے۔ بھائی کا ہو ایک اشارہ، حاضرحاضر لہو ہمارا۔ ایک ساتھی بولی۔ بھائی! بس آپ کا اشارہ چاہیے۔

بھائی نے کہا۔ بسم اللہ، بسم اللہ۔ سارے مرد عورت کارکن زینب مارکیٹ کی طرف چلے گئے چینلوں کی بینڈ بجانے، اور روکو بھائی کی تقریریں اب پتا چلے گا، میں جوڑوں کے درد کی وجہ سے نہیں جا سکی، سیدھی گھر آ گئی۔“ مہرالنسا تفصیل بتا کر ”اچھا اب چلوں، بہت تھک گئی ہوں“ کہہ کر روانہ ہو گئیں، انھیں سنتی ہکا بکا عورتیں بھی اٹھ گئیں۔ اتنے میں دیر سے گئی ہوئی لائٹ آ گئی، میں نے ٹی وی کھولا تو ہر چینل پر الطاف حسین کی اس تقریر کا تفصیل کے بغیر ذکر تھا اور ایم کیو ایم کے کارکنوں کے صدر کی زینب مارکیٹ اسٹریٹ کے پاس قائم چینلوں کے دفاتر پر حملے کے مناظر گردش کر رہے تھے۔

اے آر وائی کے دفتر پر تعینات گارڈ سے اسلحہ چھین کر کارکن اندر گھس گئے تھے، بری طرح توڑ پھوڑ، عملے پر تشدد کیا گیا۔ وہاں پہنچنے والی رینجرز اور پولیس پر پتھراؤ کیا گیا، ٹی وی چینلوں کی ڈی سی این جی وینز پر ڈنڈے اور پتھر برسائے گئے، پورا علاقہ میدان جنگ کا منظر پیش کر رہا تھا، پولیس اور حملہ آوروں میں گولیوں کا تبادلہ بھی ہوا اور نہ جانے کس کی گولی ایک بدقسمت نوجوان کی جان لے گئی۔

اس رات میں دیر تک ٹی وی دیکھتی رہی، ہر چینل کے ٹاک شو میں یہی تذکرہ تھا۔ ڈاکٹرعامر لیاقت حسین ہر چینل پر تن تنہا الطاف حسین کا دفاع کر رہے تھے۔ وہ اس تقریر کو ظلم پر ہونے والا جذباتی ردعمل باور کرانے کی کوششوں میں مصروف تھے۔ ظلم تو ہوا تھا۔ ایم کیو ایم کے کتنے ہی کارکن گزشتہ تین چار سال کے دوران لاپتا کیے گئے، ان میں سے کچھ لاش کی صورت بازیاب ہوئے، کئی کارکنوں کو گرفتاری، مقدمہ اور عدالت کے مراحل سے گزرے بغیر گولیاں برسا کر سزائے موت دے دی گئی۔

لیکن یہ سب اتنے بڑے پیمانے پر نہیں تھا کہ پاکستان توڑنے کی بات کر کے حالات مزید بگاڑ لیے جائیں۔ پھر اس آپریشن میں ماضی کی طرح عام مہاجر کی عزت نفس پامال کی گئی نہ اسے کسی بھی طرح ستایا گیا کہ مہاجروں پر ظلم کا واویلا کیا جائے۔ خود ایم کیو ایم اپنے مخالفین، اپنے ہی کارکنوں، رہنماؤں اور پولیس والوں کے ساتھ کیا کرتی رہی؟ گم شدگی اور ماورائے عدالت قتل کا نشانہ صرف ایم کیو ایم ہی تو نہیں بنی، قانون نافذ کرنے والوں کے ہاتھوں قانون، اخلاق اور انسانیت کو بوٹوں تلے روندنے کی کہانیاں تو وزیرستان سے بلوچستان اور پنجاب کے شہروں سے سندھ کے قصبوں تک ملک کے چپے چپے پر لکھی ہیں۔

سوشل میڈیا پر الطاف حسین کی اس تقریر کی وڈیو دیکھ کر میں پریشان تھی کہ اب کراچی میں جاری آپریشن کہیں ”ملک دشمنوں کے خلاف جنگ“ میں نہ بدل جائے۔ شکر ہے یہ تو نہ ہوا، لیکن وہ رات پورے شہر کو بدل گئی۔ پولیس نے پریس کلب پر لگا ایم کیو ایم کا بھوک ہڑتالی کیمپ اکھاڑ پھینکا، رینجرز نے نائن زیرو کو سربمہر کر دیا، ڈاکٹرفاروق ستار، عامرخان، خواجہ اظہارالحسن، ڈاکٹرعامر لیاقت حسین سمیت متحدہ کے کئی راہ نماؤں اور بیسیوں کارکنوں کو حراست میں لے لیا گیا، کراچی کے مختلف علاقوں اور حیدرآباد میں ایم کیو ایم کے کتنے ہی سیکٹر اور یونٹ آفس بند کردیے گئے۔

لحیم شحیم، بڑی بڑی مونچھوں والے رینجرز کے اہل کار رانا ٹھاکر کی گرفت میں پھنسے منحنی سے ڈاکٹرفاروق ستار کی تصویر پوری صورت حال کی عکاس تھی۔ اگلے روز ڈاکٹرفاروق ستار ٹی وی اسکرین پر الطاف حسین سے مکمل لاتعلقی کا اظہار کرتے نظر آئے۔ انھوں نے کہہ دیا، ”متحدہ کے فیصلے اب لندن کے بجائے پاکستان میں ہوں گے۔“ اس روز مختلف تھانوں میں الطاف حسین کے خلاف غداری کے مقدمات درج ہو گئے۔

شہر کتنا بدلا بدلا نظر آتا ہے۔ جگہ جگہ لگی الطاف حسین کی تصاویر ہٹا دی گئی ہیں، ایم کیو ایم کے لاتعداد دفاتر یہ کہہ کر توڑ دیے گئے ہیں کہ وہ پارکوں اور سرکاری اراضی پر قائم تھے۔ الطاف حسین کے نام سے منسوب یونی ورسٹی کا بورڈ بھی اکھاڑ پھینکا جا چکا ہے۔ یہ یونیورسٹی ملک ریاض نے بنانے کا اعلان کیا تھا۔ ایک ”الطاف حسین یونیورسٹی“ کراچی میں دوسری حیدرآباد میں۔ حیدرآباد میں تو اس جامعہ کا سنگ بنیاد رکھنے کی تقریب بھی ہوئی تھی، جس سے خطاب کرتے ہوئے الطاف حسین نے ملک ریاض کو فرشتہ قرار دیا تھا۔

ملک ریاض۔ ایک پراسرار کردار۔ یہ فرشتہ ملک بھر میں ”بحریہ ٹاؤن“ کے نام سے جنتیں تعمیر کر رہا ہے۔ کراچی میں بھی۔ سنا ہے ایم کیو ایم کے خلاف آپریشن میں پولیس مقابلوں سے شہرت پانے والے راؤانوار نے ”فرشتے“ کی کراچی والی بہشت آباد کرنے کے لیے ”ملک الموت“ کا جلوہ دکھا کر سستے داموں زمینیں حاصل کیں۔ ”فرشتہ“ سیاست دانوں کا بھی دوست ہے، جاوید چوہدری جیسے صحافی بھی اس کی نثری ”منقبت“ لکھتے ہیں، اس کی جنت کے قصیدے اخبارات میں خبر کی صورت بڑے اہتمام سے شایع ہوتے ہیں، وہ پر پھیلائے ان بلندیوں میں بھی محوپرواز ہے جہاں پاک فوج کا پاک پایۂ تخت ہے۔ راؤانوار۔ فوج۔ الطاف حسین۔ فرشتہ۔ کیسا بھید بھرا رشتہ!

ایسا ہی پراسرار رشتہ کراچی کا لندن سے رہا۔ کہرے سے لپٹے لندن سے کراچی کو آگ بھیجی جاتی رہی، کراچی کا باسی عمران فاروق لندن کی پناہ گاہ میں بھی محفوظ نہ رہ سکا۔ اب یہ رشتہ پاکستان توڑ ڈالنے کی خواہش کے برملا اظہار نے توڑ دیا ہے۔ عام لوگوں سے یہ رشتہ اس وقت ختم ہوا تھا جب پچھلے سال لاہورہائی کورٹ نے الطاف حسین کی تقاریر اور تصاویر نشر یا شایع کرنے پر مکمل پابندی عاید کردی تھی۔ یہ فیصلہ الطاف حسین کی ان تقاریر کی بنیاد پر کیا گیا جن میں وہ آپے سے باہر ہو گئے تھے۔ کئی سال سے وہ آپے میں رہتے ہی کم ہیں۔ برتری کا وہ مقام جہاں پیروکار اور تابع فرمان بہت، دوست کوئی نہیں، جیون ساتھی سے چند سال ہی میں علیحدگی، قریبی لوگ بس خوف کے تعلق سے بندھے، کسی پر اعتبار نہیں، ”آرزو“ کی شکست، اور پھر بدمست کرتا انگور کا پانی۔

یہی ہونا تھا جو ہوا۔ ہر کچھ دن بعد الطاف حسین کا خطاب بحث کا ایک نیا باب کھول دیتا۔ کبھی صحافیوں کو مخاطب کر کے کہا، ”کسی نے ٹھوک دیا تو مجھے الزام نہ دینا۔“ کبھی ڈی جی سندھ رینجرز بلال اکبر اور ڈائریکٹرجنرل آئی ایس آئی رضوان اختر کے لیے کہا، ”مرنے کے بعد ان کی لاشیں قبروں سے نکال کر سڑکوں پر لٹکائیں گے“ ، جانے کس حالت میں دھمکی دی ”بلال اکبر کتے کی موت مارا جائے گا۔“ ایک تقریر میں کراچی میں آپریشن کرتے رینجزر کے اہل کاروں کے لیے پیش گوئی کی، ”وہ دن آئے گا جب ہم گلیوں میں ان کی کھوپڑیوں سے فٹبال کھیلیں گے۔“

الطاف حسین کا المیہ یہ ٹھہرا کہ وہ بادشاہ بے ریاست اور آمر بے حکومت رہے۔ ان کے کارکن آنکھیں بند کیے ان کی پیروی کرتے رہے ہیں، ایم کیو ایم کے بہت سے راہ نما بند کمروں ہی میں اپنے نہایت قابل اعتماد افراد کے سامنے ان کے خلاف کچھ کہہ پاتے تھے، عام مہاجر کی جرات نہیں تھی کہ کھلے عام الطاف حسین پر ذرا بھی تنقید کر سکے، لیکن مہاجر بستیوں سے باہر قدم رکھتے ہی الطاف حسین کا راج ختم۔ سو باقی پاکستان میں ہمیشہ سے ان پر کھل کر تنقید کی جاتی رہی۔

شومئی قسمت کہ ڈھلتی عمر میں جب ان کی برداشت جواب دے گئی تو عمران خان جیسا بدلحاظ کراچی میں ان کے مقابل آکھڑا ہوا، جو وزیراعظم نواز شریف کو بھی ”اوئے“ کہہ کر مخاطب کرتا ہے۔ بدعنوانی کے خلاف بات کرتا اور تبدیلی کا نعرہ لگاتا عمران خان مہاجروں کے دل میں بھی اترنے لگا۔ 2013 کے انتخابات میں تحریک انصاف نے بھرپور مہم چلائے بغیر کراچی سے بڑی تعداد میں ووٹ لیے اور ایم کیو ایم کی ایک روایتی نشست بھی جیت لی۔ ان انتخابات میں ووٹروں کی کتنی طویل قطاریں تھیں، میں نے اس سے پہلے اتنے لوگوں کو ووٹ دینے کے لیے نکلتے نہیں دیکھا۔ قطار میں اپنے آگے کھڑی خاتون سے باتیں ہونے لگیں، انھوں نے بتایا کہ وہ اور ان کے شوہر پندرہ سال پہلے کینیڈا منتقل ہونے کے بعد پہلی بار ووٹ ڈالنے وطن آئے ہیں۔ ”تبدیلی کے لیے“ میرے ”کیوں“ پر آنے والے جواب کا صاف مطلب تھا کہ وہ تحریک انصاف کو ووٹ دینے آئی ہیں۔ میں کوئی بائیس، تئیس سال بعد ووٹ دینے گئی تھی، تبدیلی کے لیے، ابو نے بھی تحریک انصاف کو ووٹ دیا۔ ہر سیاسی جماعت سے نالاں سارنگ ووٹ دینے گیا ہی نہیں۔

الطاف حسین کو خوف زدہ اور مشتعل کرنے کے لیے تحریک انصاف کی یہ معمولی سی کامیابی ہی کافی تھی کہ تحریک انصاف سندھ کی نائب صدر زہرہ شاہد کے قتل پر عمران خان کا ردعمل اور الطاف حسین کے خلاف ان کے بیانات نے جلتی پر تیل کا کام کیا۔ یہاں تک کہ نائن زیرو پر بلائی گئی پریس کانفرنس کے موقع پر بڑی تعداد میں جمع ہونے والے کارکنوں سے خطاب کرتے ہوئے الطاف حسین نے ایم کیو ایم کی ’رابطہ کمیٹی‘ کو آڑے ہاتھوں لیا اور کارکنوں سے ”شکایت“ کی کہ تحریک انصاف کا سربراہ انھیں گالیاں دے رہا ہے لیکن ’رابطہ کمیٹی‘ کچھ نہیں کر رہی۔

انھوں نے کمیٹی کے ارکان کو مشین قرار دیا۔ اپنی توہین اور بے بسی کا تذکرہ کرتے ہوئے، جب انھوں نے رونا شروع کیا تو کارکن برہم اور جذباتی ہو گئے۔ انھوں نے وہاں موجود اپنے رہنماؤں کا گھیراؤ کر کے انھیں پیٹنا شروع کر دیا۔ کارکنوں نے اس منظر کو فلم بند کرنے والے صحافیوں اور کیمرہ مینوں پر بھی تشدد کیا۔ کوئی کہتا ہے الطاف حسین نے تقریر میں کارکنوں سے ان رہ نماؤں کو ”جوتے مارنے“ کو کہا تھا، کوئی اسے کارکنوں کی اپنی کارستانی قرار دیتا ہے۔ اس تماشے کو ایم کیو ایم کے حلقوں میں ”جوتا پریڈ“ کا نام دیا گیا۔ ”ائے بالکل ٹھیک ہوئی جوتا پریڈ، جس کے نام پر عزت ملی ہے اس کی عزت کی خاطر کچھ نہیں کر رہے“ مہرالنسا نے میرے پوچھنے پر اس جملے کے ساتھ تفصیلات بیان کرنے کا آغاز کیا تھا۔

ایم کیو ایم کے نغموں کی جو پہلی کیسٹ سامنے آئی اس میں شامل ایک نغمے کے بول ذہن میں گونج اٹھے، ”یہ قافلہ سرسید کا، یہ قافلہ ہے جوہر کا۔“ سرسید کا خلوص، مولانا جوہر کی علمیت، حسرت موہانی کی جرات رندانہ، ٹیپوسلطان کی شجاعت، لیاقت علی خان کا ایثار۔ اس قافلے کی ساری متاع لٹ گئی، اپنی ذات کو منزل سمجھتا شخص قافلہ سالار بنا، پھر منزل بھول بھال کر قافلہ اپنے سالار کے لگائے تماشوں کی نذر ہو گیا۔ روز کے تماشے، قیادت چھوڑنے کا اعلان، گھنٹوں کا ڈراما، کارکنوں کی ”نہیں بھائی نہیں“ کی تکرار، اور رات کے کسی پہر قائد فیصلہ واپس لینے پر مجبور، کبھی ادائیں دکھا کر گانا، کبھی اداکاری کا فن آزمانا، کبھی رو رو کر دوسروں کو ہنسانا۔ تہذیب، شائستگی، نفاست اور اعلیٰ قیادت پر ناز کرنے والے مہاجروں کے سر شرم سے جھک جاتے۔

الطاف حسین عمران فاروق کے قتل کے مقدمے میں پھنسے تو قرار پایا کہ پاکستان کی اسٹیبلیشمنٹ تو الطاف حسین کے خلاف سازشیں کرتی ہی رہی ہے اب عالمی اسٹیبلیشمنٹ بھی ان کے خلاف سازش کا جال بن رہی ہے۔ انھوں نے یہ دعویٰ کرتے ہوئے اس سازش کا انکشاف کیا کہ وہ کسی عالمی قوت کے سامنے سر نہیں جھکائیں گے۔ اس ”سازش“ کے خلاف ایم کیو ایم نے ریلی نکالی۔ اور جب منی لانڈرنگ کیس میں وہ حراست میں لیے گئے تو یہ بھی سازش قرار پائی اور لندن پولیس کی اس کارروائی کے خلاف کراچی سمیت سندھ کے شہری علاقوں میں کئی دن تک دھرنے دیے گئے۔ یہ سب کتنا مضحکہ خیز تھا۔ ہم دور تک پھیلے سنیما میں بیٹھے ہمہ وقت ایک ایسی فلم دیکھنے میں مصروف تھے جو ایکشن سے شروع ہوئی تھی لیکن وقفے کے بعد کامیڈی میں بدل چکی تھی۔

”ایم کیو ایم کے رہنماؤں کی حالت قابل رحم تھی۔ انھیں رات کے دو بجے حکم ملتا کہ کارکنوں کو جمع کرو جلسہ کرنا ہے۔ کبھی رات تین بجے گھر لوٹنے والے کو حکم موصول ہوتا، ابھی واپس نائن زیرو پہنچو، بھائی خطاب کرنا چاہتے ہیں۔ وہ کسی مشورے کے بغیر کارکنان سے یا ٹی وی پر خطاب شروع کر دیتے تھے۔“ نوشاد چچا نے جو کچھ ایم کیو ایم کے رہنماؤں سے سنا مجھے سنا رہے تھے۔ ”موصوف کو بولنے کا ہوکا لے ڈوبا۔ ٹی وی چینلوں کو خود فون کر کے کہتے کہ فلاں ایشو پر میرا بیپر لو۔ ایک مرتبہ کسی چینل کے دفتر فون کر کے کہا۔ میں الطاف حسین بات کر رہا ہوں۔ کال سننے والا نوجوان ڈیسک ایڈیٹر سمجھا، کوئی الطاف حسین کی آواز بدل کر مذاق کر رہا ہے۔ اس نے ’چل بے‘ کہہ کر فون رکھ دیا۔“ نوشاد چچا سے یہ واقعہ سن کر بہت ہنسی آئی، لیکن دل پھر اداسی سے بھر گیا۔

سمجھ میں نہیں آتا یہ اداسی کیوں ہے۔ احساس شکست ہے شاید۔ احساس محرومی۔ اور اس سے بھی بڑھ کر شناخت کی امنگ لیے کتنے ہی نوجوانوں نے اس تنظیم سے ناتا جوڑا تھا، لفظ ”مہاجر“ نئے معنی میں ڈھلا، جوش اور جذبے کی ساری تمازتوں سمیت سینوں میں بس گیا تھا، جوانیاں نچھاور کی گئیں، جانیں واری گئیں، زندگیاں تباہ ہو گئیں، خواب قربان کر دیے گئے۔ اس لیے بھی کہ اس تنظیم کا قائد اور سارے رہنما عام لوگ تھے، چھوٹے چھوٹے گھروں میں بستے، موٹرسائیکلوں، بسوں پر سفر کرتے۔ کتنے اپنے لگتے تھے یہ سارے۔ اس اپنائیت نے ایم کیو ایم کو سندھ کے مہاجر اکثریتی شہروں کی واحد سیاسی قوت بنا دیا۔ یوں مہاجروں، ایم کیو ایم اور کراچی کی کہانی ایک ہو گئی۔ اور اب تک یہ کہانی ایک ہی ہے، تین الگ الگ قصے آپس میں گتھ کر ایک کتھا بناتے۔ کہانی تب شروع ہوئی تھی جب کراچی میں ”مہاجر احساس“ نے جنم لیا۔ صدیوں سے اردو بولتے لوگ برصغیر میں دور دور تک بکھرے تھے، ہر جگہ مسلمان اقلیت، گجراتیوں، میمنوں جیسے وہ مسلمان بھی جو اردو نہیں بولتے تھے مگر تاریخ اور جذبات کے دھارے میں اردو بولنے والوں کے ساتھ بہنا جن کا مقدر تھا۔

پھر ہندوستان تقسیم ہوا۔ اس گروہ کے لاکھوں لوگ ”دو قومی نظریہ“ دل میں بسائے سرحد پار کر کے مغربی اور مشرقی پاکستان آبسے۔ کراچی تو ان سے لبالب بھرگیا اور چھلک کر پھیلتا چلا گیا۔ مسلمان اور پاکستانی قوم کے نام پر قومیتوں کے فطری وجود کا جتنا انکار کیا جاتا رہا، پاکستانی صوبوں میں قومیتی شعور اتنا ہی زور پکڑتا گیا۔ یہ ان کے لیے ایک نئی صورت حال تھی۔ آنکھیں ذرا کھلیں۔ پھر تعصب، زیادتیاں، ناروا سلوک رنگ لانے لگا، انھیں لگنے لگا وہ دوسروں سے الگ ہیں۔

دنیا میں جس کا وجود ہے اس کا نام ہے، یہ ’بے نام‘ کیسے رہ سکتے تھے، سو دوسروں نے انھیں اور انھوں نے خود کو مختلف ناموں سے پکارا۔ ہندوستانی، مہاجر، کراچی والے۔ آخر کراچی میں ”مہاجر قومیت“ نے جنم لیا، محمودالحق عثمانی کی پانچویں قومیت کی شکل میں، بھٹو دور کے فسادات کے بعد اصولی طور پر سندھ کو دو لسانی صوبہ منوانے کی صورت میں، نواب مظفرحسین کے تشکیل کردہ محاذ میں لفظ مہاجر کی شمولیت کے رنگ میں۔ اور پھر مہاجر قومی موومنٹ کا ظہور ہوا، آندھی طوفان کی طرح، اور نتائج بھی آندھی طوفان کے چھوڑے آثار جیسے۔

”نہیں واپس نہیں آنا“ شہاب بھائی کا پچھلے ہفتے فون آیا تو میں نے ان سے کہا اب کراچی میں آپ کو کوئی خطرہ نہیں، واپسی کا ارادہ ہے۔ انھوں نے صاف جواب دے دیا۔ ایم کیو ایم کی کام یابی کے لیے دن رات ایک کر کے ذرا سے اختلاف پر گولیاں کھانے والے شہاب بھائی امریکا گئے تو پلٹ کر واپس نہیں آئے۔ ”مصطفیٰ کمال بھی تو آ گیا شہاب بھائی“ میں نے مذاقاً کہا، ”وہ اپنے آسرے پر نہیں، دوسروں کے سہارے پر آیا ہے۔“ میں سوچتی ہوں ایک اجنبی معاشرے میں زندگی کیسے گزاری جا سکتی ہے۔

شہاب بھائی نے اس کا عجیب جواب دیا، ”اپنوں میں ایک دن اجنبی ہوجانے سے بہتر ہے اجنبیوں کے ساتھ زندگی گزار دی جائے۔ جانتے ہیں غیروں میں ہیں، پھر جو ملے احسان لگتا ہے، نہ ملے تو حق تلفی کا احساس نہیں ہوتا۔“ عمران نے بھی امریکا سے آنا چاہا تھا مگر زینت پھپھو نے یہ کہہ کر منع کر دیا کہ میں ایک بیٹا گنوا چکی ہوں دوسرا نہیں کھونا۔ کئی سال تک عرفان کی کوئی خبر نہ ملی، اور خبر ملی تو یہ کہ وہ القاعدہ سے منسلک ایک گروہ کے خلاف پولیس کی کارروائی میں مارا گیا۔

زینت پھپھو عرفان کی میت کے سرہانے گم صم بیٹھی اسے تکے جا رہی تھیں، جیسے آنکھوں میں بھر لینا چاہتی ہوں۔ آنکھ سے ایک آنسو نہ نکلا، آخر چند ماہ بعد جان نکل گئی۔ عمران کو سختی سے منع کر دیا تھا، ”میں مرجاؤں تب بھی مت آنا۔“ ہمارے نوجوان ہر آگ میں کودے ہیں، ہر آگ میں جلے ہیں، دنیا کے ہر حادثے نے ہمارے آنگن اجاڑے ہیں۔

بھائی جان کے بار بار کہنے اور شہر کے حالات کے باعث میں نے بھی امریکا چلے جانے کا تہیہ کر لیا تھا۔ بائیس اگست کی تقریر نے جو ہلچل مچائی اس کے بعد یہ ارادہ مزید پختہ ہو گیا۔ سارنگ کو بتایا، اس نے سنا اور خاموش رہا، میری طرح کتابوں کا عاشق میرا بیٹا بولتا کم ہے سوچتا بہت ہے، اپنے سے زیادہ دوسروں کے لیے۔ تحریک انصاف میں شامل ہو گیا تھا۔ انتخابات میں لوگوں سے مل مل کر انھیں تبدیلی کی خاطر ووٹ دینے کے لیے راضی کرتا رہا۔

ایک دن اسے دن یونٹ آفس بلاکر دھمکی دی گئی، وہی یونٹ آفس جس کا ملبہ اب تک سڑک کنارے بکھرا ہوا ہے، وہاں بھی چپ رہا، لیکن دھمکی کو پیروں تلے مسلتا تحریک انصاف کے لیے کام کرتا رہا۔ مگر جب عمران خان نے دھرنا شروع کیا اور ”ایمپائر کی انگلی“ اٹھنے کی بات کی، تو سارنگ اپنی خاموشی لیے دھرنے سے اٹھا اور بس پکڑ کر سیدھا گھر پہنچا۔ ”کیا ہوا“ مجھے یقین تھا کہ میرا ضدی بیٹا تھکاوٹ کی وجہ سے تو نہیں پلٹا۔ ”یہ بھی دھوکا ہے ماما۔ تبدیلی ایسے نہیں آتی۔“

آج ناشتے پر میں نے پھر امریکا کا ذکر چھیڑا۔ ”نہیں ماما! مجھے نہیں جانا، آپ چاہتی ہیں تو ماموں کے پاس چلی جائیں، آپ کو بھائی اور نانا نانی کی یاد آتی ہو گی“ اس کا کورا جواب میرے لیے غیرمتوقع تھا، میں سمجھ رہی تھی وہ سیاست اور حالات سے مایوس ہو کر اس دیس میں بس جانے کو ترجیح دے گا جو پاکستانی نوجوانوں کے خوابوں میں بستا ہے۔

”تم جانتے ہو بیٹا اس ملک کی معیشت کا حال، اور اس شہر کی حالت۔ اب تو لگتا ہے مہاجروں پر اور برا وقت آنے والا ہے۔“ میں نے اسے سمجھانا چاہا، ”برے وقت کا علاج اچھی تدبیر ہوتا ہے ماما! جو ہم نے کبھی کی ہی نہیں۔“ اف میرا فلسفی۔ میں نے اسے دیکھتے ہوئے سوچا، ”کبھی تو، کسی زمین پر تو ہماری وہ نسل آئے، جو نہ خود سوچے نہ کوئی اس سے پوچھے کہ کہاں سے آئے ہو، والدین کا تعلق کہاں سے ہے؟ اب تک ہم مہاجر قید خانے میں تھے، ہمارے ہاتھ باندھ دیے گئے تھے، ہمیں خود آگے بڑھ کر کچھ کرنے کی اجازت نہیں تھی۔ یہی وہ لوگ ہیں جو تحریک پاکستان کا ہراول دستہ تھے، انھوں نے ایوب خان کی آمریت سے ٹکر لی، یہ وہ ہیں، جنھوں نے بھٹو دور میں سڑکوں پر آ کر لسانی بل کا نفاذ ناکام بنا دیا تھا۔

یہ سب کسی ’قیادت‘ کے بغیر کیا گیا، ہمارا روگ تو ہماری یہ قیادت تھی۔ مجھے یہیں رہنا ہے، مہاجر پہچان، سندھی قومیت اور پاکستانی قوم کی شناخت کے ساتھ۔ ہمیں اپنا سارا جوش، ساری صلاحیتیں اور قابلیتیں جگا کر حالات کا مقابلہ کرنا ہے۔ ہمیں اپنے لوگوں کو مایوسی، محرومی اور عدم تحفظ کے احساسات سے نکالنا ہے۔ یہ وہ عارضے ہیں جو قوموں کو پستی میں گراتے اور نوجوانوں کو جرائم کی طرف لے جاتے ہیں۔“ وہ بولے جا رہا تھا، میں سنے جا رہی تھی۔

پھر وہ ”ایک منٹ“ کہتا اپنے کمرے میں چلاگیا، پلٹا تو اس کے ہاتھ میں ایک فائل تھی۔ ”یہ دیکھیے“ وہ میرے برابر آ کر بیٹھ گیا اور فائل میرے سامنے پھیلادی۔ فائل کے کور پر بڑابڑا لکھا تھا، ”جدوجہد فاؤنڈیشن۔“ وہ سمجھانے لگا، ”یہ فاؤنڈیشن، فوجی فاؤنڈیشن کے طرز کا Conglomerate ہوگا، یعنی ایسی کمپنی جس کی چھتری تلے بیسیوں کاروبار کیے اور صنعتی و فلاحی سرگرمیاں انجام دی جا سکتی ہیں۔ یہ فاؤنڈیشن مہاجر نوجوانوں کو خودانحصاری کے راستے پر لے جائے گی۔

اس کے تحت مختلف کاروبار شروع کر کے نوجوانوں کو روزگار فراہم کیا جائے گا، حاصل شدہ منافع کے ایک حصے سے بے روزگار اور کم آمدنی والے ہنرمند افراد کو گھریلو صنعتوں کے لیے قرضے دیے جائیں گے، اس قرضے پر سود نہیں لیا جائے گا، بلکہ فاؤنڈیشن ہر مقروض صنعتی یونٹ کے منافع میں مخصوص مدت تک پانچ فی صد کی شراکت دار ہوگی۔ یہ قرضے بے سوچے سمجھے کسی بھی صنعت کے لیے نہیں دیے جائیں گے، پورا منصوبہ ہوگا کہ کن مصنوعات کی ملک میں اور بیرون ملک مانگ ہے، سروے کرنے کے بعد متعین تعداد میں ایسی مصنوعات کی گھریلو صنعتیں لگوائی جائیں گی۔

ہر پروڈکٹ کے گھریلو کارخانوں پر مشتمل ایک یونٹ تشکیل دیا جائے گا، جسے فاؤنڈیشن کے ماہرین مصنوعات برآمد کرنے، رسک منیجمینٹ اور دیگر کاروباری امور میں پیشہ ورانہ معاونت فراہم کریں گے۔ قرض لینے والوں کو کوئی قانونی مشکل پیش آئی تو ہماری قانونی ٹیم ان کے ساتھ کھڑی ہوگی، اور اگر انھیں رشوت جیسے مسائل کا سامنا کرنا پڑا تو ہمارے رضاکار پرامن احتجاج کے ذریعے ایسی کوششوں کو ناکام بنا دیں گے، ہم سڑک اور پریس کلب پر نہیں، مشکلات پیدا کرنے والے یا اس محکمے کے اعلیٰ حکام کے گھر پر اور گلی میں احتجاج کریں گے۔ ان رضاکاروں کا فاؤنڈیشن سے براہ راست تعلق نہیں ہوگا، یہ خود انحصاری کی جدوجہد میں فاؤنڈیشن کے بس مددگار ہوں گے۔“

میں حیرت سے کبھی اسے کبھی اپنے سامنے پھیلی فائل کو دیکھ رہی تھی، ”مگر میرے شیخ چلی یہ سب ہوگا کیسے“ ، مجھے یہ سب ”یوٹوپیا“ لگ رہا تھا۔ ”تحریک انصاف چھوڑنے کے بعد سے میں اسی پروجیکٹ پر کام کر رہا تھا، یہ منصوبہ پروفیسر دانیال کا ہے، وہ جن کا میں نے آپ کو بتایا تھا کہ امریکا سے معیشت میں پی ایچ ڈی کرنے کے بعد وہاں ملنے والی ساری پیشکشیں ٹھکرا دیں اور پاکستان واپس آ کر پڑھا رہے ہیں۔ وہ بہ طور کنسلٹینٹ تاجروں اور صنعت کاروں سے رابطے میں رہتے ہیں، اور ایک پروفیشنل، دیانت دار اور مخلص انسان کے طور پر اپنی ساکھ بنا چکے ہیں۔

“ مجھے یاد آ گیا۔ کوئی سال بھر پہلے سارنگ نے کہا تھا آج شام کچھ دوست گھر پر آئیں گے، جس ”دوست“ نے پہلی دستک دی وہ کوئی پچاس پچپن سال کا کھچڑی بالوں والا عینک لگائے ایک بردبار شخص تھا۔ ”یہ پروفیسر دانیال ہیں“ سارنگ نے تعارف کرایا تھا۔ ایک ایک کر کے بہت سے نوجوان ہمارے چھوٹے سے کمرے میں سما گئے، دیر تک باتیں اور لکھت پڑھت ہوتی رہی۔ ”انھوں نے پہلے مجھ جیسے اپنے کچھ شاگردوں کو تیار کیا، ہمارے سامنے یہ منصوبہ پیش کیا، پھر شہر کے کئی صنعت کاروں اور تاجروں سے بات کی، وہ اس مقصد میں تعاون کرنے پر تیار ہیں، ہمارے رضاکاروں کی تعداد اب سو کے قریب پہنچ چکی ہے، بس ضروری کارروائی کے بعد یہ منصوبہ شروع ہو جائے گا۔

آگے جاکر فاؤنڈیشن کے تحت تعلیمی ادارے بھی قائم کیے جائیں گے۔ ہمارے قائم کردہ کالجوں میں ذہین نوجوانوں کو خاص طور پر سی ایس ایس کے امتحان کے لیے تیار کیا جائے گا۔ شروع میں یہ منصوبہ مہاجروں کے لیے ہوگا، پھر سندھی بولنے والوں اور دیگر قومیتوں کے افراد کو بھی اس کا حصہ بنایا جائے گا۔ اس طرح ہم مہاجروں اور دوسروں کو قریب بھی لائیں گے اور ہماری بگڑی ہوئی شناخت کو سنورنے کا موقع بھی ملے گا۔ پروفیسر دانیال ہم لوگوں کے ساتھ اندرون سندھ کئی شہروں میں بھی گئے تھے، ہم نے لاتعداد تاجروں، صنعت کاروں اور سماجی کارکنوں سے رابطے کیے ہیں اور انھیں مائل کرنے کی کوشش کی ہے کہ وہ کراچی کے مختلف علاقوں، حیدرآباد، کوٹری، سکھر، میرپورخاص اور نواب شاہ میں ہمارے دیے گئے تصور کے مطابق فاؤنڈیشنز قائم کریں۔ کئی لوگ آمادہ ہو گئے ہیں، اور تین چار نے تو اس پر کام بھی شروع کر دیا ہے۔“

سارنگ کے آنکھوں کی چمک، چہرے کی سرخی۔ سب گواہی دے رہے تھے کہ اس کا سچا جذبہ کام یاب ہوگا۔

”ہم کچھ بڑے صنعت کاروں کو ’کراچی ڈیویلپمنٹ کمپنی‘ کے قیام پر رضا مند کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، جو شہر کے انفرا اسٹریکچر کی بہتری اور ترقی کے لیے کام کرے گی۔ ہم نے انھیں پورا منصوبہ تیار کر کے دیا ہے۔ یہ کمپنی شہریوں کی مالی شراکت سے چلے گی۔ یہ سرٹیفیکٹس کا اجراء کرے گی، جن کی مالیت ہزار روپے سے لے کر 10 لاکھ روپے تک ہوگی۔ سرٹیفیکٹ کا خریدار شہری اپنی ادا کی گئی رقم کے تناسب سے منافع کا حق دار ہوگا۔ یہ کمپنی شہر میں پل، سڑکیں، پارک، اسپتال تعمیر کرے گی، ان منصوبوں سے ٹول ٹیکس، ٹکٹ اور فیس کی مد میں جو کثیر رقم حاصل ہوگی اس سے مزید منصوبے بنائے جائیں گے۔ اپنی شراکت داری کے باعث شہری مالی فوائد بھی حاصل کریں گے اور ان منصوبوں کا خیال بھی رکھیں گے۔“

سارنگ کے لہجے میں کتنا اعتماد کتنی امید تھی۔ کھڑکی سے آتی صبح کی دھوپ میں اس کی آنکھیں یوں روشن تھیں جیسے ان میں پورا سورج اتر آیا ہو۔

میں نے اپنی دعا کو اس کے منصوبے کا حصہ بنا دیا۔ وہ فائل کسی مقدس صحیفے کی طرح بڑے احترام سے اٹھائے اپنے کمرے میں چلا گیا، اور میں نے آنکھیں موند کر کرسی سے سر ٹکالیا۔ آج کا دن کیسا نیا نیا لگ رہا تھا، سوچ رہی ہوں خبر ہی نہ تھی، ترک وطن کا ارادہ ترک کر کے کتنا سکون ملتا ہے۔

اس سیریز کے دیگر حصےنوشابہ کی ڈائری 25 ادھر لیاری․․․․․ادھر کٹی پہاڑی․․․عمران فاروق شہید انقلاب قرار پائے!
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •