چوتھی طرف مت جانا

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

وہ اپنی ذات سے کٹی ہوئی اپنے ہی گم شدہ وجود کا کوئی کھویا ہوا حصہ تھی، جو اپنی تلاش میں در در بھٹک کر اپنی اصل کو نہ پا سکے اور پھر اپنی موجودہ حالت ہی کو اصل سمجھ لے۔ عافیہ نام تھا اس کا، لیکن عافیت کے لغوی معنی بھی اس نے کبھی جاننے کی کوشش نہیں کی۔ کسی نے اسے بتانا بھی ضروری نہیں سمجھا۔ شاید زندگی کی گاڑی اس بری طرح راستہ نہ بھٹکتی، اگر وہ حادثہ نہ ہوتا، جو اس کی شخصیت کو نگل گیا۔ وہ شخصیت جو ابھی تعمیر کے ابتدائی مراحل میں قدم رکھ رہی تھی۔ آنکھ کھولی تو گھر میں ماں باپ، نانی اور چاچو کو پایا۔ اس کی ماں کا اس کے باپ کے ساتھ کوئی جوڑ نہیں تھا۔ وہ ایک ان پڑھ دیہی عورت تھی جو صرف اس لیے اس کے باپ کی زندگی میں شامل ہو گئی تھی کہ اس کی ماں نے اپنی بہن سے وعدہ کر لیا تھا۔ ماں کا وعدہ تو انعام علی نے خوب نبھایا لیکن زندگی اس کا ساتھ زیادہ دیر نہ دے سکی۔ آٹھ برس کی عافیہ اور تین سال کے معاذ کو اپنی نا تجربہ کار بیوی پر چھوڑ کر وہ اس دنیا سے کوچ کر گیا۔ اپنی مرضی کہاں تھی اس کی۔

انعام علی نے بینک بیلنس بھی چھوڑا تھا اور ایک فلیٹ اور چند دکانیں بھی، جن کا معقول کرایہ آتا تھا۔ لیکن پیسے کی ریل پیل اور ایک نا تجربہ کار دوسرے معنوں میں بے وقوف عورت کے ہاتھ میں لوگ جتنا فائدہ اٹھاتے کم تھا۔ اس آٹھ سالہ بچی کی تعلیم متاثر ہوئی۔ پھر تربیت۔ پھر نیک نامی اور پھر زندگی۔ ”بچی ہے“ کہہ کر بہت سی باتوں کو نظر انداز کرنا، ایک دن اس کی ماں کو اس کی اپنی نظروں میں گرا گیا۔

*********

اس کے گھر کے سامنے والی عمارت میں دو گھرانے آباد تھے۔ گراؤنڈ فلور پر شرافت عالم اپنی اہلیہ اور دو بیٹیوں اور تین بیٹوں کے ساتھ مقیم تھے اور پہلی منزل پر احسان عباسی ان کی تینوں بیٹیاں عافیہ کی پکی سہیلیاں تھیں۔ اپنے گھر سے زیادہ، وہ انہی کے یہاں پائی جاتی تھی۔ ہانیہ اس کی ہم عمر تھی۔ شزا اس سے دو برس بڑی اور ماہ نور ایک برس چھوٹی تھی۔ عافیہ پر کوئی روک ٹوک تو تھی نہیں۔ ماں سے اس کا تعلق بس ضد کرنے، فرمائشیں پوری کروانے تک ہی محدود تھا۔

”ہانیہ کیا ہوا“ وہ مزے سے ان تینوں کے مشترک کمرے میں داخل ہوئی، تو ہانیہ کو منہ بسورے دیکھ کر فوراً پوچھا۔

”ہونا کیا ہے، مما نے کریلے بنائے ہیں اور ہانیہ سے کہا ہے کہ کھانا ہے، تو کھاؤ ورنہ بھوکی رہو۔“ ماہ نور نے ساری داستان ایک جملے میں کہہ سنائی۔ اسے اس کے بعد کا سین پتا تھا۔ ”میری دوست بھوکی رہے گی تو میں بھی کچھ نہیں کھاؤں گی۔ میں ابھی پزا آرڈر کرتی ہوں۔“ اور پھر ایک گھنٹے بعد وہ سب پزا اور کولڈ ڈرنک سے سیر ہو کر کانوں میں ہینڈز فری لگائے گانے سننے میں مگن تھیں۔

شروع میں تو وہ تکلفاً منع بھی کرتی تھیں لیکن اب تو انھیں عادت ہو گئی تھی۔ ”عافیہ ہے ناں، عافیہ، تم ہماری چوتھی بہن لگتی ہو۔ سوچتی ہوں مما سے کہہ کر اس کمرے میں ایک بستر تمھارا بھی لگوا دوں۔“ شزا ہنس کر کہتی۔

”ہاں ہاں ضرور لیکن میری امی سے کون بات کرے گا۔“

”تمھارا تو کوئی بھائی بھی نہیں ہے یار۔“ وہ کہہ کر تالی مارتی اور ان کے مشترک قہقہے اس چھوٹے سے کمرے کی چھت کو چھونے لگتے۔ وہ نوعمر لڑکیاں تھیں، جنھیں ماؤں کی مکمل توجہ کی ضرورت تھی لیکن ایک کی ماں نا تجربہ کار اور بے وقوف تھی، تو دوسری طرف ان تینوں لڑکیوں کی ماں، شوہر سے نالاں اور اپنے کولیگ سے ہمدردیاں سمیٹنے کی شوقین تھی۔ اسے لگتا تھا کہ اس جیسی خوب صورت عورت کی شادی کسی امیر اور خوش شکل مرد سے ہونی چاہیے تھی، جو اس کے ناز اٹھاتا، لیکن احسان عباسی ایک کم رو، بیوی سے دبنے والا اور معمولی آمدنی کا حامل شخص تھا۔

بیوی کی پوسٹ بھی اس سے اچھی تھی اور وہ اپنی تنخواہ کا بڑا حصہ اپنی آرائش و زیبائش میں صرف کرتی تھی۔ بیٹیوں کو بھی ہمیشہ یہی تاکید کرتی کہ خود کو سجا سنوار کر رکھیں۔ تینوں بچیاں نوجوان تھیں۔ عافیہ عام سی شکل صورت کی حامل تھی، جب کہ وہ تینوں بہنیں خوب صورت بھی تھیں اور طرح دار بھی۔ ماں کی دی گئی آزادی اور باپ کی بے پروائی انھیں کسی اور ہی سمت لیے جا رہی تھی، لیکن نقصان کسی اور کا ہونے والا تھا۔

***********

عافیہ کے مہنگے کپڑے، جوتے، کاسمیٹکس سب پر وہ تینوں اپنا حق سمجھتی تھیں اور یہ حق انھیں عافیہ ہی نے دیا تھا۔ اس دن جب عافیہ سیڑھیاں چڑھ کر اس چھوٹے سے کمرے میں داخل ہوئی، تو اس کی سانسیں بے ترتیب تھیں۔

اس نے ہاتھ میں ایک کاغذ بھینچا ہوا تھا، جو اس کی ہتھیلیوں کی نمی سے بھیگ چکا تھا۔ وہ وہیں کارپٹ پر گرنے کے سے انداز میں بیٹھ گئی۔ ”کیا ہوا عافی؟“ ماہ نور لپک کر اس کے پاس پہنچی۔

”یار اس نے مجھے سیڑھیوں پر روک لیا اور زبر دستی یہ پیپر مجھے پکڑا دیا۔“
”کس نے روک لیا؟ کیا ہو گیا ہے؟ اور دکھاؤ ذرا کیا لکھا ہے اس میں؟“

شزا تیزی سے ایک ہی سانس میں تین سوال کرتے ہوئے اپنی جگہ سے اٹھی اور بھیگا ہوا کاغذ اس کے ہاتھ سے لے لیا۔ اور پڑھتے ہوئے اس کے چہرے کا رنگ بدلتا چلا گیا۔

”عافیہ تم مجھے بہت اچھی لگتی ہو سچ تو یہ ہے کہ میں تم سے محبت کرنے لگا ہوں۔ تمھاری سادگی نے میرے دل میں گھر لیا ہے۔ کیا تم میری محبت پر اعتبار کرو گی؟ عدیل۔“

”عدیل کی یہ جرات؟ میں ابھی شرافت انکل سے اس کی شکایت کرتی ہوں۔“ ہانیہ غصے میں بولی۔

عدیل شرافت صاحب کا بڑا بیٹا تھا۔ عمر میں عافیہ سے کوئی چھے سات برس بڑا ہو گا۔ خوش شکل بھی تھا اور ایک پرائیویٹ فرم میں اچھی پوسٹ پر تھا۔

”عدیل کو ٹھیک کرنا ہو گا۔“ شزا کے لہجے میں ایک کاٹ تھی وہ سب کے سامنے اسے عدیل بھائی اور پیٹھ پیچھے عدیل کہا کرتی تھیں۔

”نہیں نہیں تم انکل سے کچھ مت کہنا۔ پھر امی مجھے آنے نہیں دیں گی یہاں۔“ عافیہ گھبرا کر بولی۔

”اچھا ٹھیک ہے۔ کچھ نہیں کہوں گی۔ چلو ایک کام کرتے ہیں۔ ہانیہ، کاغذ اور قلم دو ذرا۔ چلو اس کو جواب لکھو۔“

شزا کے لہجے میں شرارت نہیں شر تھا، جسے عافیہ اس وقت سمجھی، جب سمجھنے کی ضرورت نہیں رہی تھی۔
”لکھو عدیل میں بھی تم سے محبت کرتی ہوں لیکن ڈرتی ہوں کہ کسی کو پتا چل گیا تو کیا ہو گا۔“
”یہ تم کیا کہہ رہی ہو شزا!“ عافیہ گھبرا کر بولی۔

”بہت مزا آنے والا ہے۔ زندگی نام ہی ایڈونچرز کا ہے، میری دوست۔“ اور پھر عافیہ وہ سب لکھتی چلی گئی۔ الفاظ میں جادو ہوتا ہے اور اس پر جادو چل گیا تھا۔

کبھی کبھی جادو فوراً اثر نہیں کرتا لیکن آہستہ آہستہ ایسے بے بس کر دیتا ہے کہ پھر دنیا تماشائی ہو جاتی ہے اور انسان تماشا۔ اور تماشا لگنے میں ابھی وقت تھا۔ پہلے تماشائی تو اکٹھے ہو جاتے۔ ابھی تو اسٹیج تیار ہو رہا تھا اور ریہرسل جاری تھی۔ وہ تو کسی کٹھ پتلی کی طرح ان لفظوں کی ڈوریوں سے حرکت میں تھی جو شزا کے تھے لیکن لکھوائے اس سے گئے تھے۔ عدیل اور اس کے درمیان موبائل ہوتے ہوئے بھی خطوط کا سلسلہ جاری تھا کیوں کہ اس کا موبائل اس کے چاچو کبھی کبھی چیک کر لیتے تھے۔ اس ڈر سے اس نے موبائل نمبر نہیں دیا تھا اسے، وہ روز اس سے ملنے لگی تھی۔ ان تینوں کے ماں باپ تو گھر میں ہوتے نہیں تھے۔ وہ وہیں اس سے ملنے آ جاتا تھا۔ رفتہ رفتہ لوگوں کی نظر میں یہ بات آ گئی۔ عافیہ پر سختی کی گئی مگر وہ ہٹ دھرمی پر اتر آئی۔

”مجھے عدیل سے شادی کرنی ہے۔ آپ اس کی امی سے بات کریں۔“ وہ ماں سے رو رو کر کہہ رہی تھی۔
”وہ کیوں نہیں بھیج دیتا تمھارے لیے رشتہ لے کر اپنی ماں کو؟“

”مجھے نہیں پتا، بس آپ جائیں اور بات کریں۔“ وہ ایسے ہی پیر پٹخ رہی تھی جیسے کسی بھی فرمائش کے وقت کیا کرتی تھی اور اس کی ماں اس کے ہاتھ میں وہ چیز لا تھماتی تھی۔

اور پھر اس کی ماں مجبور ہو کر شرافت علی کی بیوی کے سامنے بیٹھی تھی۔ اور وہ اس کی ناقص تربیت، غیر ذمہ داری، جہالت اور نہ جانے کتنی ایسی باتیں جو اس میں تھیں بھی نہیں، سب پر سیر حاصل گفتگو کے بعد، ایک جملے میں اپنا فیصلہ سنا رہی تھیں۔

”عدیل کی بات تو بچپن ہی سے میرے بھائی کے گھر طے ہے۔“

”میری بیٹی سے وعدے کیوں کیے اس نے؟“ ایک مجبور ماں لجاجت سے پوچھ رہی تھی۔ اس وقت اسے اپنی عزت کا خیال تھا نہ عزت نفس کا۔ اسے صرف اپنی بیٹی کی پروا تھی۔

”بچے نے دل لگی میں کچھ کہہ دیا، تو تم نے کیا اسٹامپ پیپر پر لکھا سمجھ لیا؟ محلے داری قائم رہے، اتنا ہی کافی ہے۔ ویسے جو حرکتیں اور جراتیں تم ماں بیٹی کی ہیں، محلہ تمھیں چھوڑتے ہی بنے گی۔“

اتنی ذلت کافی تھی اس مجبور ماں کے لیے، لیکن عافیہ کے سر سے جادو نہیں اترا تھا۔ وہ سر چڑھ کر بول رہا تھا۔ اس کے علاوہ کوئی آواز اس کے کانوں تک نہیں پہنچ رہی تھی۔ وہ عدیل کے گھر پہنچ گئی تھی۔

”جھوٹ کہہ رہی ہیں آپ۔ میں خود اس کی امی سے پوچھ کر آتی ہوں ابھی۔“

”عافیہ رک جاؤ۔“ ماں چلاتی رہ گئی۔ چھوٹا بھائی حیرانی سے دیکھتا رہ گیا۔ سب کھانے کی میز پر جمع تھے، جب وہ بے تابانہ ڈائننگ ہال میں پہنچی۔

”عدیل، امی کہہ رہی ہیں، تم اپنی ماموں کی بیٹی سے شادی کرو گے؟“ بلا تمہید اس نے اپنا مدعا بیان کرنا شروع کر دیا۔ ”جھوٹ ہے ناں یہ عدیل؟“ سب گھر والے ہکا بکا اسے دیکھ رہے تھے۔

وہ اس وقت بالکل بھی نارمل نہیں لگ رہی تھی۔ عدیل اپنی کرسی سے اٹھا اور اس کے بالکل قریب آ کر گویا ہوا۔

”یہ جھوٹ نہیں ہے۔“ عدیل کے الفاظ نہیں تھے، کسی نے اسے مائنس فورٹی کے درجہ حرارت میں لا کر پھینک دیا تھا۔

”بہت سردی لگ رہی ہے مجھے آنٹی کوئی شال ملے گی؟“ وہ عجیب کپکپاتی ہوئی حالت میں، اس کی ماں سے بولی۔ اس کی حالت دیکھ کر ایک لمحے کو عدیل کا دل کانپا، لیکن پھر اگلے ہی لمحے اس نے کچھ قدم پیچھے ہٹتے ہوئے اس سے کہا، ”جو لڑکی اپنی عزت خود نہیں کر سکتی، میں اسے کبھی اپنی عزت نہیں بنا سکتا۔ نکل جاؤ، میرے گھر سے۔ دوبارہ یہاں کبھی مت آنا۔ میری شزا سے شرط لگی تھی، میں کہتا تھا، عافیہ ایسی نہیں۔ لیکن میں غلط تھا۔ شزا شرط جیت گئی۔ تم واقعی ایک بد کردار لڑکی ہو۔“

*********

اور پھر عافیہ گھر تو آئی، مگر اپنا ذہنی توازن وہیں چھوڑ آئی۔ وہ کانپتی ہوئی گھر پہنچی۔ اور آتے ہی ماں سے مخاطب ہوئی۔ ”امی پنکھا بند کردیں۔ بہت سردی ہے۔“

کراچی میں ستمبر کے ستم گر موسم میں کوئی ایسی بات کہے، تو اس کی ذہنی حالت پر شبہ ہی ہو سکتا ہے۔ عافیہ کی ماں کو تو نہیں، البتہ چھوٹے بھائی کو ضرور یقین ہو گیا تھا کہ وہ اپنے حواس میں نہیں ہے۔ اس کے جسم سے پسینا بہہ رہا تھا۔ ستمبر کا حبس زدہ ماحول، بند پنکھا اور وہ تھی کہ بیڈ شیٹ اتار کر اپنے گرد لپیٹ چکی تھی۔

”امی باہر آ جائیں۔“
ماں کی آنکھوں سے ٹپ ٹپ گرتے آنسو دیکھ کر، معاذ ان کا ہاتھ پکڑ کر کمرے سے باہر لے جانے لگا۔

”اسے کیا ہوا ہے؟“ وہ بیٹے سے یوں پوچھ رہی تھیں، جیسے وہ کہے گا، ”کچھ نہیں، مذاق کر رہی ہے عافی۔“ مگر مذاق کرنے میں اور مذاق بننے میں فرق ہوتا ہے۔ وہ مذاق نہیں کر رہی تھی۔ محبت نے اسے مذاق بنا دیا تھا۔ دنیا مذاق اڑانے کو تیار کھڑی تھی۔

مذاق صرف ان چند جملوں کو نہیں کہتے، جن میں تمسخر پایا جائے۔ ایک وقت آتا ہے، جب ہم دردی میں بولے جانے والے جملے، کریدتی نگاہیں اور سوالیہ چہرے، مل کر مذاق کے دائرے میں سما جاتے ہیں۔ پھر وہ اس دائرے میں زور زور سے چیختے قہقہے لگاتے ہیں۔ اور سننے والے کو بے بس کر دیتے ہیں۔

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

شہزادی روز اپنے گھوڑے پر سوار ہو کر سیر کے لیے جاتی اور بادشاہ اسے رخصت کرتے ہوئے ہمیشہ ایک بات کہتا: ”تین طرف جانا، چوتھی طرف مت جانا۔“

ایک دن شہزادی نے سوچا، کیوں نا چوتھی طرف جا کر دیکھا جائے۔ آخر میرے بابا چوتھی طرف جانے سے کیوں روکتے ہیں۔ ایسا کیا ہے وہاں۔ شہزادی نے چوتھی طرف کا رخ کیا۔ نانی کہانی سناتے سناتے رکیں اور اس کی طرف دیکھا، وہ سو چکی تھی۔ ہر بار وہ سو جاتی تھی اور قصہ ادھورا رہ جاتا تھا۔ اگلی شب وہ پھر شروع سے کہانی سننے کی فرمائش کرتی۔ لیکن چوتھی طرف جا کر شہزادی پر کیا گزری، یہ وہ کبھی جان ہی نہ سکی۔ نہ جانے کس وقت اس کی آنکھ کھلی اور وہ سیدھی نانی کے کمرے میں جا پہنچی۔ پتا نہیں آج آنکھ کھلتے ہی اسے یہ کہانی کیوں یاد آ گئی تھی۔

”نانی جب شہزادی چوتھی طرف پہنچی تو پھر کیا ہوا؟“ وہ نانی کے سر پر کھڑی سوال کر رہی تھی۔ اسی غائب دماغی سے، جو اب ہر وقت حاضر رہتی تھی۔ نانی نے حیران و پریشان نظروں سے اسے دیکھا۔ کتنے عرصے بعد اس نے ان کے کمرے میں قدم رکھا تھا۔ وہ کمرا جس میں نانی کی کہانیاں سنتے سنتے وہ بڑی ہوئی، اب کہانیاں سننے کی عمر کہاں تھی، لیکن کہانی سننا کہانی بننے سے بہتر ہوتا ہے۔

”نانی! چوتھی طرف ایسا کیا تھا؟ شہزادی وہاں پہنچی تو کیا ہوا؟“

وہ پھر سوال دہرا رہی تھی، جیسے رات کو کوئی ادھوری کہانی سن کر سوئی ہو اور صبح اس کا اختتام جاننے کا تجسس اسے چین نہ لینے دے رہا ہو۔ نانی کو اس کی کیفیت سمجھنے میں کچھ وقت لگا۔

”شہزادی جب چوتھی طرف پہنچی تو پھر وہ ہمیشہ کے لیے سب سے بچھڑ گئی؛ واپسی کا کوئی راستہ ہی نہیں بچا اس کے پاس؛ وہاں خوش رنگ پھول تھے، پرندے تھے، آبشار تھے۔ سب اس کی واپسی کا راستہ روکے کھڑے تھے۔ ان کی کشش اسے سب بھلائے دے رہی تھی۔ نانی کو کہانی آج بھی ازبر تھی۔

”پھر جب وہ کسی کشش کے تحت آگے بڑھتی چلی گئی، تو اچانک اسے اپنے بابا کی یاد آئی۔ اس کا دل گھبرانے لگا۔ اس نے واپس پلٹنا چاہا تو ہر طرف آندھی کے جھکڑ چلنے لگے۔ آسمان پر ایسا اندھیرا چھا گیا کہ ہاتھ کو ہاتھ سجھائی نہ دے۔

”شہزادی راستہ بھٹک گئی اور پھر کبھی واپس نہ لوٹ سکی؟“

نانی آگے بھی کچھ کہہ رہی تھیں۔ مگر وہ کہانی سن کر اس بار سوئی نہیں تھی، جاگ گئی تھی۔ شہزادی واپس نہیں لوٹ سکی۔ کیوں کہ شہزادی کو چوتھے رستے نے تینوں رستے بھلا دیے تھے۔ وہ بھی تو تینوں رستوں سے بے زار ہو کر چوتھے رستے کی طرف بڑھی تھی، اور واپس نہیں لوٹ سکی تھی۔

”نہیں میں واپس لوٹوں گی، میں چوتھے راستے کے اندھیرے میں نہیں بھٹکوں گی۔“

وہ اٹھی اور عدیل کے دیے ہوئے چھوٹے چھوٹے تحفے۔ کارڈ، پھول، پرفیوم، سب ایک ایک کر کے اپنی کھڑکی سے اس کے گھر کی سمت پھینکنے لگی، جب پرفیوم کی بوتل سڑک پر گری تو خوشبو اور کانچ کے ٹکروں کے ساتھ ساتھ آواز بھی دور تک پہنچی تھی کئی کھڑکیاں کھلیں۔ دبی زبانوں سے طنز، افسوس، تنفر، تمسخر میں ڈوبے تبصروں کے ساتھ ساتھ دکھاوے کی توبہ و استغفار کے مظاہرے ہوئے۔ لیکن ایک کھڑکی سے جھانکتا چہرہ، عافیہ کے دل کو جیسے کاٹتا چلا گیا۔ نہیں وہ عدیل نہیں تھا۔ وہ شزا تھی، جو اسے اپنی چوتھی بہن کہا کرتی تھی۔

”میں نے تمھارا کیا بگاڑا تھا شزا؟“ وہ خود سے مخاطب تھی۔

کبھی کبھی ہم اپنے ہاتھوں خود ہی برباد ہو جاتے ہیں۔ اس لیے کہ ہم نے اپنی ذات کا سرا دوسروں کو تھما دیا ہوتا ہے۔

٭٭٭٭٭

اس کی شخصیت جو پہلے ہی متاثر کن نہیں تھی۔ اس واقعے کے بعد تو اور بھی گئی گزری ہو گئی۔ وہ بے تحاشا کھانے لگی تھی اس کا وزن تیزی سے بڑھ رہا تھا اور وہ اپنی عمر سے کئی برس بڑی لگنے لگی تھی۔ اس کی شخصیت میں ایک ابنارملٹی آ چکی تھی۔ وہ محلے کے کسی بھی گھر میں جا کر گھنٹوں بیٹھی رہتی۔ کوئی کچھ پوچھتا، تو جواب دے دیتی، نہیں تو چپ چاپ، خاموش بیٹھی رہتی۔ لوگوں کو اس کی حالت پر ترس آنے لگا تھا۔ یا شاید اس کی حالت دیکھ کر خوف خدا انھیں کچھ کہنے سے باز رکھتا تھا۔ اس کی یہ حالت دیکھ کر اس کی ماں نے اس فلیٹ میں منتقل ہونے کا فیصلہ کر لیا، جو کرائے پر دیا ہوا تھا۔ اس کی ماں کو لگا، شاید محلہ چھوڑ دینے سے سب ٹھیک ہو جائے گا۔ لیکن ہر کہانی میں سب ٹھیک نہیں ہوتا، کچھ کہانیاں ختم ہو جاتی ہیں، لیکن ان کے کردار کس بھٹکی ہوئی روح کی طرح اپنی کھوئی ہوئی ذات تلاش کرتے رہ جاتے ہیں۔ عافیہ کی طرح۔

Latest posts by عائشہ ناز (see all)
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
عائشہ ناز کی دیگر تحریریں