میرے دیس کا بسکٹ اور سانڈے کا تیل

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

پچھلے دنوں وطن عزیز میں ٹیلی وژن پر چلنے والے بسکٹ کے ایک اشتہار کو لے کر خاصی گرما گرمی دیکھنے میں آئی۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ مسئلہ بسکٹ کی کوالٹی، ذائقے یا قیمت کا نہیں تھا مگر ہماری صحافت کے ایک سرخیل کو بسکٹ بیچنے کا یہ انداز پسند نہیں آیا۔ ان کو لگا کہ اشتہار میں بسکٹ کی مٹھاس اور اس کو پیش کرنے والی محترمہ کے خد و خال اور ان کی لطافت کو گڈ مڈ کر دیا گیا ہے۔ ان کو اعتراض تھا کہ اب اس موئے بسکٹ کو کون دیکھے گا، سبھی اس رنگین اور تھرتھراتی ہوئی پیسٹری کی طرف ہی متوجہ ہوں گے۔ بس پھر کیا تھا ان کے ایمان نے جوش مارا اور انہوں نے پیمرا کو للکارا اور اس کے ایمان کو جھنجوڑا کہ وہ اس بے ہودہ اور فحاشی کے علم بردار اشتہار کو فوری طور پر بند کرے۔

خدا جانتا ہے جب تک محترم صحافی نے اس طرف توجہ نہیں دلائی تھی میں ٹی وی پر چلنے والے بسکٹ کے اس اشتہار میں صرف بسکٹ کو ہی دیکھتا تھا۔ ایک عام میڈیا صارف کی طرح میرے ذہن میں بھی یہی تھا کہ بسکٹ کا نیا اشتہار آیا ہے۔ پھر اس میں دیس کا بھی تو ذکر تھا، اب اتنے محب وطن تو ہم ہیں ہی کہ کہیں دیس کا ذکر ہو رہا ہو تو توجہ کر لیتے ہیں۔ میں داد دیتا ہوں اس مرد مجاہد کو جس نے بر وقت اپنی عقابی اور ایکسرے سے مزین نظروں سے اشتہار میں وہ عنصر دیکھ لیا، جو آگے چل کر معاشرتی انتشار، بے راہ روی اور فحاشی و عریانی کا باعث بنتا۔

اگر یہ اشتہار کچھ اور دن چلتا رہتا تو سلطنت خداداد پاکستان کے شاہین، ارطغرل، ٹیپو، غوری، ابدالی اور ایوبی نوجوانوں کے اخلاق اور جواں مردی پر برے اثرات کا احتمال تھا۔ اپنے ساتھ ہونے والی اس بے حیائی پر بسکٹ تو شاید گرم چائے میں ڈوب مرا ہو، مگر میں ایک پاکستانی مسلمان ہونے کے ناتے سے ابھی تک اس چاشنی میں ڈوبا ہوا ہوں، جس کی اس مرد قلندر نے اس اشتہار میں نشان دہی کی۔

اس سارے معاملے میں مذکور صحافی کا بھی کوئی قصور نہیں۔ جس تحریک کی بنا پر انہوں نے اس اشتہار پر رد عمل دیا، یہ ایک کیفیت ہے جو ہر اس شخص پر طاری ہو جاتی ہے، جس کو زندگی کے رنگ اور ان کی رعنائی کو قریب سے دیکھنے کا موقع نہیں ملتا، اور اگر ملتا ہے تو ان کی ہمت نہیں ہوتی کہ آگے بڑھ کر ملنے والی خوشی کو گلے لگا سکیں۔ یہ کیفیت ان افراد میں بھی بدرجہ اتم موجود ہوتی ہے، جنہوں نے زندگی کے کسی مرحلے میں خوب موج مستی کی ہوتی ہے اور زندگی کے ہر رنگ کو بانہوں میں سمیٹا ہوتا ہے اور پھر اچانک وہ پارسائی اور نیک نامی کے رستے پر چل نکلتے ہیں۔

یہ اچھی بات ہے مگر بگاڑ اس وقت آتا ہے جب یہ لوگ زبردستی دوسروں کو بھی ہم رکاب کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ آپ اپنے اچھے عمل اور حسن سلوک سے دوسروں کو اپنا ہم خیال بنا سکتے ہیں مگر زبردستی، ڈرا دھمکا کر اور دھونس سے اپنی سوچ اور عقیدے کو دوسروں پر مسلط نہیں کر سکتے۔ آپ کو بسکٹ نہیں پسند تو نہ کھائیں باقر خانی کھا لیں، مگر دوسروں کو تو کھانے دیں۔

اس کیفیت میں مبتلا لوگ فحاشی اور عریانی پر اس قدر تحقیق کرتے ہیں کہ انہیں سات پردوں میں پوشیدہ فحاشی بھی با آسانی نظر آ جاتی ہے۔ لوگوں کے خاص طور پر خواتین کے بیٹھنے کے انداز، سونے کی پوزیشن، چلنے کی رفتار، ہنسنے اور بات کرنے کے طریقے سے لے کر کپڑوں کے ڈیزائن اور ان کی بناوٹ میں عریانی کا پہلو تلاش کر لینا ان لوگوں کے بائیں ہاتھ کا کھیل ہے۔ بات یہیں پر ختم نہیں ہوتی یہ لوگ تحریروں، نظموں، افسانوں، رنگوں، روشنیوں حتیٰ کہ حکیموں اور ڈاکٹروں کی کتابوں میں سے بھی عریانی کا پہلو ڈھونڈھ نکالتے ہیں۔

میرے ایک دوست ہیں صدیقی صاحب، میرے ساتھ ہی دفتر میں کام کرتے ہیں۔ صدیقی صاحب اوائل جوانی میں تلاش معاش کے لئے تھائی لینڈ چلے گئے تھے اور وہاں ایک ساحلی بار میں بطور ویٹر نوکری کر کے گزر بسر کرنے لگے۔ صدیقی صاحب اپنی زندگی کے اس حصے کا تذکرہ کسی سے بھی نہیں کرتے، میری چوں کہ ان کے ساتھ گہری دوستی ہے اس لیے ایک دن انہوں نے باتوں ہی باتوں میں مجھے اس بارے میں بتا دیا، مگر ساتھ ہی نہایت سنجیدہ شکل بنا کر مجھے باور کرایا کہ یہ ان کی زندگی کا بد ترین حصہ تھا۔ اب وہ ما شا اللہ، توبہ تائب ہو گئے ہیں اور ایک نیک اور صالح زندگی گزار رہے ہیں۔

یوں تو صدیقی صاحب خواتین اور لڑکیوں کی طرف آنکھ اٹھا کر نہیں دیکھتے، اگر ان کی موجودگی میں میرے کیبن میں کوئی ساتھی خاتون آ جائے تو یہ فوراً باہر نکل جاتے ہیں، مگر خاتون کے باہر جاتے ہی واپس آن دھمکتے ہیں اور عین اس کرسی پر بیٹھتے ہیں، جس پر خاتون بیٹھی تھیں اور سرگوشی کے انداز میں پوچھتے ہیں، ”کیا کہہ رہی تھی“ ۔ عریانی اور فحاشی کے حوالے سے صدیقی صاحب کے اپنے ہی اصول ہیں۔ پچھلے دنوں انہوں نے چھاتی کے سرطان کے حوالے سے منعقدہ ایک سیمینار میں چلنے سے محض اس لیے انکار کر دیا کہ اس میں لفظ ”چھاتی“ آتا ہے۔

میں نے کہا یار تم اسے بریسٹ کینسر کہہ لو۔ بولے لا حول و اللہ، یہ لفظ تو اور بھی بے ہودہ اور شہوت سے لبریز ہے۔ موصوف کا یہی خیال انگریزی کے لفظ ”SEX“ کے متعلق بھی ہے، بقول ان کے یہ لفظ ادا کرتے ہی انسان میں نفسانی خواہشات سر ابھارنے لگتی ہیں۔ جینز اور مخلوط تعلیم کو فحاشی کی بڑی وجہ سمجھتے ہیں اور موبائل فون کو اخلاقی بگاڑ کی اصل وجہ قرار دیتے ہیں شاید یہی وجہ ہے کہ وہ اپنے موبائل فون پر ہر وقت ایک پیچیدہ سا کوڈ لگا کر رکھتے ہیں۔ سوشل میڈیا کو برائیوں کی جڑ سمجھتے ہیں اور اس کا اظہار و پرچار اپنی فیس بک او ر انسٹاگرام پر تواتر سے کرتے رہتے ہیں۔

کل کچھ فرصت تھی اس لیے میں صدیقی صاحب کو لے کر چائے پینے قریبی کھوکھے پر چلا آیا۔ وہاں پر میں نے صدیقی صاحب کو بسکٹ والے اشتہار کے حوالے سے کریدا، وہ تو جیسے پہلے ہی تپے بیٹھے تھے۔ ایک لمبا چوڑا لیکچر اس اشتہار اور عریانی پر دے ڈالا۔ میں تو یہ موضوع چھیڑ کر ہی پچھتا رہا تھا۔ میں نے کہا کہ چھوڑیں صدیقی صاحب، آئیں چلتے ہیں۔ صدیقی صاحب چائے کے پیسے دینے لگے تو ان کی جیب سے ایک پرچی گر پڑی۔ میں نے اٹھا کر دیکھی تو وہ سانڈے کے تیل کا اشتہار تھا۔

میں نے پوچھا، صدیقی صاحب یہ کیا ہے۔ صدیقی صاحب نے جھٹ میرے ہاتھ سے وہ اشتہار چھینا اور شرمندہ سے لہجے میں بولے، کچھ نہیں بس وہ جوڑوں میں درد رہتا ہے، کسی نے بتایا تھا کہ یہ تیل درد کے لئے مفید ہے تو رکھ لیا۔ جب میں نے دیکھا کہ وہ نظریں چرا رہے ہیں، تو میں نے بات بدلی اور آگے بڑھتے ہوئے اونچی آواز میں کہا، ”صدیقی صاحب، میرے دیس کا بسکٹ میٹھا ہو سکتا ہے، نمکین ہو سکتا ہے مگر فحش نہیں۔“

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •