طالبان کے خونی سوات سے خوشیوں کے باغ تک

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

یہ علاقہ شروع سے ہی سرسبز اور شاداب رہا ہے۔ شیو شنکر بھگوان کے نام کی نسبت سے آباد ہونے والے شیوا گاؤں کو تہذیبوں کا امین کہا جاتا ہے۔ یہ خیبر پخونخواہ کا ضلع صوابی ہے جہاں سے سوات کے لئے روانہ ہونے سے پہلے محترم فرہاد زمان نے ایک قصہ سنا کے رخصت کیا جو اس طرح تھا۔ نماز فجر کی اذان سن کر، سید کمال کاکا لبیک کہتا ہوا مسجد کی طرف چل پڑا۔ کیا دیکھتا ہے کہ ایک مسافر حجرے سے نکل رہا ہے جس نے اپنا بستر سر پہ اٹھایا ہوا ہے اور تیز تیز قدم اٹھاتا گاؤں سے باہر جانے والے راستے کی طرف جا رہا ہے۔ سید کمال کاکا نے آسمان کی طرف منہ کر کے کہا کہ یا خدا کتنا نیک انسان ہے، جس نے سفر کے دوران اپنا بستر بھی ساتھ باندھ رکھا ہے۔ جب رات کے وقت حجرے میں انہوں نے صبح کے مسافر اور اس کے بستر والی بات سنائی تو سب ہنس پڑے اور سید کمال کاکا کو بتایا کہ وہ مسافر ہو سکتا ہے نیک ہی ہو مگر جو بستر باندھ کے لے گیا ہے وہ مسافر کا ہرگز نہیں تھا۔ وہ حجرے کا بستر تھا جو باندھ کے لے گیا تھا۔ ہم شیوا گاؤں سے بڑی آرام دہ گاڑی پہ نکل رہے تھے جس کی ڈرائیونگ سیٹ پہ وقار زمان بیٹھا تھا جو مطالعہ کا دلدادہ اور شعبہ تدریس سے وابستہ ہے۔ یہاں ایک طرف میگا لیتھ ہے تو دوسری طرف کڑا مار پہاڑکی چوٹی پہ یوسف شہربانوں کے قصے کا یوسف خان ابدی نیند سو رہا ہے۔ جہاں میگا لیتھ لڑائی جھگڑے کی داستان ہے تو دوسری طرف یوسف خان کی قبر پیار اور محبت کی یاد گار کے طور آج بھی موجود ہے۔

شیوا چوک سے مردان کی طرف مڑیں تو چوک میں ٹریفک کا وہی حال ہے جو آج کل ہماری معیشت کا حال ہے۔ صوابی مردان روڈ کو ڈبل کیا جا رہا ہے جس سے ٹریفک کی روانی بھی دریائے راوی کے پانی کی طرح رینگ رہی ہے۔ دونوں اطراف سے برابر فاصلہ طے کر لیں تو آپ کو سوات موٹر وے خوش آمدید کہتا ہے۔ سوات موٹر وے 81 کلومیٹر تک مکمل ہو چکا ہے اور ہمارے لئے یہ بات کسی اعزاز سے کم نہیں تھی کہ ایک دن پہلے تمام ٹنل ایک طرف سے کھول دیے گئے ہیں جہاں کام کرتے فوجی حضرات نظر آرہے ہیں۔ جگہ جگہ ایف۔ ڈبلیو۔ او اور پاک فوج کو سلام لکھا ملتا ہے جبکہ بڑی ٹنل کے ایک طرف درمیان میں مار خور نام کے جانور کا شاندار مجسمہ لگا دیا گیا ہے۔ جس کے ساتھ یہاں سے گزرنے والے سیاح اور مسافر اپنی تصویریں بنا رہے ہیں۔ نئے نئے راستے بنانے سے بہت کچھ بہتر ہو جاتا ہے ریاست پاکستان کو راہ کھوٹی کرنے کی بجائے نئے نئے راستے بنانا ہوں گے۔ ملک میں لوگوں کو ایک دوسرے سے دور کرنے کی بجائے ایک دوسرے سے جوڑنا ہوگا۔ طاقت سے محبت ترک کرنا ہوگی محبت کی طاقت کو سمجھنا ہوگا۔

ضلع سوات، ضلع شانگلہ، ضلع اپر دیر، ضلع لوئر دیر، چترال، بونیر اور مالاکنڈ ایجنسی پر مشتمل علاقہ مالا کنڈ ریجن کہلاتا ہے مگر ا س ریجن کا سب سے نمایاں، تہذیب و ثقافت کے سرمائے سے مالا مال، روایتی اور قدیم اقوام کا مسکن خطہ سوات ہے جو اپنے قدرتی حسن اور فطری مناظر سے مالا مال ہے۔ سوات داخل ہونے سے پہلے آپ کو مہنگی ترین چمچماتی گاڑیوں کے شورومز نظر ائیں گے جہاں دنیا بھر کی گاڑیاں کھڑی ہیں جو نان کسٹم پیڈ ہیں۔

جونہی آپ ضلع سوات میں داخل ہوں تو آپ کو گول چوک کا بڑا مینار خوش آمدید کہتا ہے یہ شموذی چوک ہے۔ جہاں سے ایک راستہ مینگورہ کی طرف جبکہ دوسرا کبل کی طرف جاتا ہے جہاں بخت شیر کا گھر ہے۔ یہ علاقہ صدیوں سے امن، محبت اور رواداری کا مظہر رہا ہے۔ ٹیلی فون کی جدید شکل موبائل پہ جان عزیزم شیر زمان نے ایک آدھ مرتبہ رابطہ کیا جس کی بدولت ہم سیدھے گھر کے سامنے تھے جہاں خائستہ خان اپنے قبیلے کے افراد کے ساتھ کھڑا تھا۔

خائستہ اور ان کے قبیلے کے بزرگوں سے گلے ملنے سے مہمان خانے کے سفر میں بڑی محبت اور چاؤ سے بھری باتیں تھیں بڑے پوچھ رہے تھے کہ سفر کیسا گزرا جب بولا گیا کہ ایسے ہی گزرا جیسے کچھ بھی نہیں گزرا تو سب کے سب ہنس پڑے۔ مہمان خانے میں گرم گرم چائے اور چائے کے ساتھ خشک میوہ جات اور ساتھ میں پڑے سیب کیلے اور جاپانی پھل کے ٹرے میں چھری کانٹے سجائے گئے تھے۔ جاپانی پھل کو (persamon) کہتے ہیں۔ اس پھل کا جاپان کے ساتھ کوئی تعلق ہے یا نہیں مگر ہمارے یہاں اس پھل کو اسی نام سے پکارا جاتا ہے۔

مہمان خانے سے نظر آ نے والے پہاڑوں سے سورج اٹکھیلیاں کر رہا تھا۔ جب بولا گیا کہ آ پ آرام فرمائیں گے یا واک کریں گے تو سب نے یک زبان بولا کہ واک کریں گے تو چند لمحے بعد بخت شیر کے مہمان خانے سے دریائے سوات کی طرف سفر جاری تھا۔ دریا سے پہلے ایک پن چکی کا سامنا ہے جہاں گاؤں کے لوگ آٹا پیستے ہیں جو دریا سوات کا گاؤں کے لئے ایک تحفہ ہی ہے۔ پن چکی سے دریا کی طرف جائیں تو  دھان کی فصل کاشت کی گئی ہے۔

سوات کا سارا علاقہ دریاؤں کی سرزمین ہونے کی بنا پر زرعی زمینوں پر مشتمل ہے۔ یہاں ہر قسم کی سبزیاں اگتی ہیں جن میں، آلو، ٹماٹر، پالک، کئی قسم کا ساگ، کدو، ٹینڈہ، بھنڈی، توری ہیں۔ اس کے علاوہ پھلوں میں سیب، مالٹا، خوبانی، انگور، ناشپاتی، آلوچا اور شفتالو کے باغات ہیں۔ سوات میں تین قسم کے چاول پیدا ہوتے ہیں جو ملک بھر میں مشہور ہیں۔ لونگی چاول، اشگمئے چاول، بیگمئے چاول یہاں کی سوغات کے طور مشہور ہیں۔

دریا سے ذرا پہلے ایک شکاری گروہ سے ملاقات ہوئی جو اپنے شکار سے وآپس آ رہے تھے۔ سب کے سب نوجوان اور اپنے کام کے ماہر تھے۔ جن کے پاس مچھلیاں پکڑنے والا جال، تین نسل کے کتے، بندوق اور کنڈیاں، کدال شامل تھے۔ ان کی روٹی روزی کا وسیلہ یہی شکار کھیلنا تھا۔ جس سے ان کے گھروں کا چولہا روشن ہوتا تھا۔ گروہ کے گرو کا کہنا ہے کہ ہمارا سوات دنیا کے بہترین پانیوں کے دریاؤں کا خطہ ہے۔ اس لئے ان دریاؤں میں بہترین قسم کی مچھلیاں پائی جاتی ہیں۔ جن میں سب سے زیادہ قیمتی اور پسندیدہ مچھلی ٹراؤٹ ہے جو اس خطے کی بڑی پیداوار ہے۔ ٹراؤٹ مچھلی نہ صرف قیمتی ہے بلکہ کھانے میں اس کی لذت نہایت منفرد ہے۔ سارے دن کا تھکا ہارا سورج پہاڑوں کے اس پار جانے ہی والا تھا ہم دیکھ رہے تھے کہ چھوٹے چھوٹے بچے اپنے مال مویشیوں کے ساتھ دریا عبور کر رہے تھے۔ یہ بچے اور ان کے مال مویشی انہی پہاڑوں اور دریاؤں میں پلے بڑھے ہیں۔ جس کے پتھر بہت نایاب اور قیمتی ہیں۔ بقول جان عزیزم شیر زمان کہ یہ پہاڑ اورچٹانیں بڑی ضدی ہوتی ہیں یہ اپنے راز کسی کو نہیں بتاتے صدیوں کی تاریخ کے چشم دید گواہ یہ پہاڑ اور پتھر کسی دن بول پڑیں تو کیسا لگے۔

دریا پارسی زبان کا لفظ ہے۔ جس کو سنسکرت میں ندی، عربی میں نہر، ترکی میں نیلاب، انگریزی میں ریور کہا جاتا ہے۔ یہاں کے چشموں کی روانی اسی دریا کی سیلانی ہے۔ رگ وید میں اس دریا کا ذکر سو استو کے نام سے ہوا ہے جبکہ یونانیوں نے سواتن اور چینیوں نے اسے سوپو فاسٹو کہا ہے میدان ٓعلاقوں کی نسبت پہاڑی علاقوں میں سورج جلدی سے پہاڑوں کے اس پار چلا جاتا ہے۔ ہم اور سورج اکٹھے ہی وآپسی کے لئے مڑے تھے ہم گاؤں کی طرف جبکہ سورج کسی اور بستی میں روشنی کرنے کے لئے جا رہا تھا تب تک ہم نے آدھے راستے کو ماضی کر لیا تھا۔

رات کے ہرکارے نے اپنا منصب سنبھال لیا تھا۔ پہاڑوں میں گھرے اس گاؤں کے اردگرد چارسو ننھے ننھے دیے ٹمٹمانا شروع ہو گئے تھے۔ جو دیکھنے میں ایسے ہی تھے جیسے ڈھیروں جگنو روشنی لئے بھولے بھٹکے مسافروں کو راستہ دکھا رہے ہوں۔ آج کی رات اور اس رات کی باتیں اور یادیں ہی زندگی ہیں۔ جب مینگورہ، مالم جبہ سے تمام یار لوگ خوش خوش وآپس لوٹ آئے تھے۔ محترم فتح نصر، فیصل چودھری، عمران رزمی، رانا منظور، اقرار حسین، رانا غلام مصطفی، محمد گل سمیت تمام دوست کھانے کے وقت پوری تیاری سے دسترخوان پہ موجود تھے۔

کھانے کے بعد ملک بھر سے آئے دوستوں کے ساتھ رات بھر باتیں یادوں میں تبدیل ہوتی رہیں۔ یہ کیسے ممکن تھا کہ محترم بخت شیر کے بیٹے کی شادی ہو دوست یار اکٹھے ہوں تو اس کی باجی جان کا ذکر نہ ہو۔ دھرتی ماں کی آن، مان اور شان تنویر جہاں سے مارچ 2005 ء سے علم و فکر کی شاہراہ پہ ساتھ ساتھ چلتے کا ساتھ ہے نجمہ شاہین اور اقرار حسین سے مل کے وہ زمانہ بھی یاد آ گیا جب جان عزیزم شیر زمان کی ہارٹ سرجری کے بعد ہم خیابان امین میں ان کے مہمان تھے۔

شادی کی تقریب کا آج آخری دن اور مہمانوں کی آمد جاری ہے۔ یہاں مکئی کی فصل عام ہے اور سفید دودھیا مکئی رانا منظور اور فتح نصر نے بھون کے کھلائی جس نے دوپہر کے کھانے تک پوری طرح ساتھ دیا۔ سوات کی تاریخ سینکڑوں نہیں بلکہ ہزاروں سالوں سے امن محبت اور پیار کی تاریخ ہے جس کا گواہ یہاں کا ایلم پہاڑ ہے جو صدیوں سے روحانی عقیدتوں کا مرکز رہا ہے۔ بدھ مت کے پیروکاروں کا یہ عقیدہ رہا ہے کہ اس پہاڑ پر مہاتما بدھ جی خود تشریف لائے تھے اور یہاں ایک پتھر پر کچھ دیر کے لئے آرام کیا تھا۔

ان پہاڑوں پر نہایت صحت افزاء جڑی بوٹیاں بھی اگتی ہیں یہاں پر درخت چممکدار پھولوں سے لدے نظر آتے ہیں ان پھولوں کو پشتو میں۔ ”نمیر“ کہتے ہیں ان پھولوں کو لوگ تبرک کے طور پر کھاتے ہیں۔ شموزئی قبیلے کا یہ گاؤں ایک خاص اہمیت کا حامل ہے یہاں نہایت اعلی قسم کے پتھر پائے جاتے ہیں جن میں زمرد بہت مشہور ہے یہ پتھر وادی سوات اور بالخصوص یہاں کی ایک علامتی معدنیات بن گیا ہے۔

مہمان خانے میں مہمانوں سے ملتے ڈاکٹر جان زادہ سے ملاقات ہوئی جو آئی سپیشلسٹ ہے انہوں نے ایک عرصہ لاہور کے ایل۔آر۔ بی۔ ٹی میں گزارہ ہے۔ جب ان سے دریافت کیا گیا کہ علاقائی سطح پہ بیماریوں کا تناسب کیسا ہے تو ان کا کہنا تھا کہ ہم آنکھوں کے آپریشن سے پہلے ہیپا ٹائٹس کا ٹیسٹ کرتے ہیں تو لاہور اور یہاں کا بہت فرق ہے یہاں وہ تناسب نہایت کم ہے جو لاہور میں بڑھتا ہی چلا جا رہا ہے۔ جس کی طرف حکومت وقت کو دھیان ہی نہیں بلکہ فوری دھیان کرنے کی ضرورت ہے۔ شادی کی دعوت کھانے کے بعد روایتی قہوے کا دور چل رہا تھا جب بخت شیر نے بتایا کہ ہم سے کوئی ملنے آیا ہے تو ہم نے خوش آمدید کہا تو اتنے میں دس گیارہ سال کی ایک بچی اور اس کے ساتھ در میانے قد کا ایک چست بدن نوجوان تھا۔

راقم الحروف کے ساتھ شیوا کے مکین وقار عالم بیٹھے تھے جب بخت شیر نے بتایا کہ یہ عائشہ ایاز ہے جو پاکستان کی کم عمر ترین گولڈ میڈلسٹ ہے ساتھ میں اس کے والد ایاز نائیک ہیں۔ عائشہ ایاز نے 2020 ء دوبئی میں ہونے والی انٹر نیشنل تائیکوانڈو چیمپئین شپ میں گولڈ میڈل جیت کر دنیا بھر میں پاکستان کا نام روشن کیا ہے بخت زمان یہ بتا چکا تو میں سوچ رہا تھا کہ ہمارے لئے یہ کس قدر اعزاز کا لمحہ ہے جہاں ایک طرف ہمارا ملک فرقہ واریت، انتہا پسندی، دہشت گردی کا شکار ہے تو دوسری طرف عائشہ ایاز جیسے بچے ہماری دھرتی کے بچے ہیں جواصل میں ہمارا حقیقی چہرہ ہیں۔

عائشہ ایاز نے بتایا کہ 2020 ء میں دوبئی میں ہونے والی انٹر نیشنل چمپئین شپ میں اس نے انگلینڈ کے کھلاڑی سے فائنل کھیلا اور طلائی تغمہ جیتا تھا جبکہ 2019 ء میں دوبئی میں ہی براؤن میڈل ملک کے نام کیا تھا۔ اس کا کہنا تھا کہ میں چوتھی جماعت کی طالبہ ہوں اور میری خواہش ہے کہ میں اولمپک کھیلوں اپنے ملک اور سوات کے لئے تغمہ جیتوں مجھے تائیکوانڈو میرے والد نے سکھایا ہے جو خود انٹر نیشنل کھلاڑی ہیں۔ مہمان خانے سے نظر آنے والے پہاڑوں پر سورج روشنی بکھیر رہا تھا دن پوری طرح سے روشن ہے اور ہم سوات کی دس سالہ عائشہ ایاز کی باتیں سن رہے تھے۔

سوات وہ جگہ ہے جہاں لوگوں نے طالبان کے ظالمانہ نظام کے سامنے سر جھکانے سے انکار کر دیا تھا۔ ایک طالبہ اور سوات کی بچی تھی جسے دنیا ملالہ یوسف زئی کے نام سے جانتی ہے۔ آج عائشہ ایاز کی باتیں سن کے یہ سوچ رہا تھا کہ ملالہ یوسف زئی کے خلاف کتابیں لکھنے والے دور نزدیک سے فتوی لانے والوں کے دماغی فتور کا دس سالہ عائشہ ایاز نے کریا کرم کر دیا ہے اور ان کی ذہنی پسماندگی کو تاریخ کے کوڑا دان میں پھینک دیا ہے۔

جس نے اپنی محنت، لگن اور جہد مسلسل سے اپنا نام تاریخ کے پنوں میں درج کروایا ہے۔ ریاستیں اپنے بچوں اور جوان ہوتے شہریوں کو جو اعتماد دیتی ہیں وہ ہماری ریاست دینے میں پوری طرح ناکام رہی ہے ریاست کو اپنا یہ رویہ ترک کرنا ہوگا اور اپنے بچوں اور نوجوانوں کو وہ اعتماد اور سہولتیں مہیا کرنا ہوگی جن کی بدولت ہمارے بچے دنیا بھر میں اپنے ملک و قوم کی پہچان بن سکیں۔ عائشہ ایاز کی آنکھوں میں چمک اور اعتماد ہے یہ اکتوبر کا مہینہ اور سال 2020 ء ہے۔

14 فروری 2011 ء سوات میں پیدا ہونے والی عائشہ ایاز کے خواب بڑے ہیں اور اس کا اعتماد ان خوابوں کی تعبیر بتا رہا ہے۔ آج بھی ہمارے کروڑوں بچے سکولوں سے باہر ہیں اکیسویں صدی میں بھی اپنے بچوں کو دینے کے لئے کاغذ اور پنسل نہیں ہے۔ اکتوبر کی 9 تاریخ اور سال 2012 ء کا ہے۔ جس دن طالبان نے سکول کی طالبہ کے سر میں گولی اتار دی تھی تب تک یہاں بہت سارے شہری ایسے تھے جنہوں نے صرف فوج کا نام سنا تھا مگر اس واقعے کے بعد روزانہ کی بنیاد پر یہاں فوجی بھائیوں کو کام کرتا دیکھ رہے ہیں۔

فوجی چھاؤنیاں بن رہی ہیں۔ آرمی پبلک سکول مکمل ہے جہاں عائشہ ایاز تعلیم حاصل کر رہی ہے۔ اس کے باوجود ہم کیوں نہیں سمجھتے کہ تعلیم ہی واحد راستہ ہے جس پہ چل کر ترقی کی شاہراہ پر دوڑا جا سکتا ہے۔ کفر اور غداری کے فتوؤں سے بہت سارا وقت اور توانائی ضائع ہوتی چلی جا رہی ہے مگر اس کے باوجود ہم اپنے شہریوں پہ اعتماد کرنے سے کیوں قاصر ہیں یہ بات سمجھ سے باہر ہے۔ وادی سوات سے شادی کی دعوت سے رخصت ہوتے وقت پھر خائستہ خان اور ان کے قبیلے کے بزرگ قطار میں کھڑے تھے جونہایت محبت اور شفقت سے مہمانوں کو الوداع کر رہے تھے۔

ہم سوات سے صوابی کے لئے نکل رہے تھے جب بابا کی جان ازابیل کا وائس میسج موصول ہوا کہ میرے لئے دریائے سوات سے چھوٹے چھوٹے پتھر ضرور لایئے گا۔ ازابیل کا جنم دن اکتوبر کا یہی ماہ ہے جس کی 12 تاریخ ہے جس کے لئے راقم کو گھر پہنچنا ہوگا ازابیل کے بتائے گئے دریائے سوات کے پتھروں کے ساتھ اور یہ بات ہم سب کو ذہن نشین کر لینی چاہیے کہ ہمارا جو حال ہے وہ ہمارے بچوں کا ماضی ہو گا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •