سزائے موت کا خاتمہ اور پاکستان

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

انسانی حقوق کی تنظیموں کی جانب سے دنیا بھر میں سزائے موت ختم کرنے کے لئے جد و جہد جاری اور ہر سال 10 اکتوبر کو سزائے موت کے خاتمے کا عالمی دن بھی منایا جاتا ہے۔ اس سلسلے میں پاکستان سمیت دنیا بھر، اس موضوع پر ہیومن رائٹس کمیشن اور دیگر تنظیموں کی جانب سے سیمینار، کنونشن اور آن لائن میٹنگ منعقد کی جاتی ہیں، تو وہیں سزائے موت ختم کرنے کے عالمی مطالبہ کے مقابلے میں، پاکستان جیسے ملک میں سنگین جرائم میں ملوث مجرموں کو سر عام پھانسی دینے کے عوامی مطالبے روز بروز زور پکڑتے جا رہے ہیں اور سوشل میڈیا پر ہر طبقہء فکر سے تعلق رکھنے والے افراد اپنی آرا کا اظہار کرنے کے ساتھ پولیس اور نظام انصاف پر عدم اعتماد کا اظہار کرتے عوام خود سزائیں دینے پر بھی تلے ہوئے ہیں۔

گزشتہ دنوں اس کی بد ترین مثال، زیادتی کے مقدمے میں ملوث ملزم کو عدالت سے ضمانت پر متاثرہ بچی کے چچا نے ضلع کچہری کے احاطہ میں وکیل کے چیمبر میں فائرنگ کر کے ملزم کو موت کے گھاٹ اتار دیا، وہیں مظفر گڑھ میں ڈکیتی کرتے پکڑے جانے والے 3 ملزموں کو بد ترین تشدد کا نشانہ بناتے ہوئے، ان کے ہاتھ بھی کاٹ دیے گئے۔ جب کہ ملک کے دیگر شہروں میں اس طرح کے واقعات آئے دن سننے کو ملتے ہیں۔

دنیا بھر میں انسانی حقوق کی تنظیموں کی جانب سے کئی برسوں سے پھانسی کی سزا کے خلاف مہم چلاتے ہوئے کانفرنسیں اور سیمینار منعقد کیے جاتے رہے ہیں اور اس پر بہت ساری بات چیت کی گئی ہے، جس کی وجہ سے اب تک دنیا بھر کے 50 سے زائد ممالک پھانسی کی سزا ختم کر چکے ہیں اور پاکستان پر پھانسی کی سزا ختم کرنے کے لئے بہت عرصے سے عالمی دباؤ بھی ڈالا جا رہا ہے۔

پاکستان میں سر عام پھانسی دینے کا مطالبہ، قصور میں درندگی کا شکار زینب کیس میں سزا پانے والے مجرم کو دینے کے لئے زیادہ زور و شور سے کیا گیا۔ جس کے بعد جنسی درندگی کے مقدمات میں ملوث مجرموں کو سر عام پھانسی دینے کے لئے لاہور ہائی کورٹ میں درخواست بھی دائر کی گئی، جو اب تک زیر التوا ہے۔ تاہم زینب کیس کے مجرم کو سر عام پھانسی کی درخواست، فاضل عدالت عالیہ نے قبل از وقت قرار دے کر خارج کر دی تھی۔ اس طرح قومی اسمبلی کی کمیٹی کے اجلاس میں اسلامی نظریاتی کونسل اور چاروں صوبوں کی جانب سے سر عام پھانسی کی بھی مخالفت کی گئی۔ بعد ازاں ضلع لودھراں کے علاقہ دنیا پور میں 6 سالہ بچی کو زیادتی کے بعد قتل کر کے لاش گندے نالے میں پھینکنے والے ملزم کو بھی سر عام پھانسی دینے کا مطالبہ کیا گیا۔

پاکستان میں سال 1994ء میں سپریم کورٹ کی جانب سے از خود نوٹس لیا گیا کہ حکومت کی جانب سے سپیشل کورٹ آف سپیڈی ٹرائل ایکٹ 1992ء کے سیکشن 10 میں مجرموں کو عبرت ناک سزا دینے کے لیے حکومتی اختیار کی شرط کیوں رکھی گئی۔ مذکورہ کیس کی سماعت فروری 1994ء کو چیف جسٹس پاکستان نسیم حسن شاہ کی سربراہی میں پانچ رکنی بینچ نے کی، جس میں جسٹس شفیق الرحمن، جسٹس سعد سعود جان، جسٹس عبد القدیر چودھری اور جسٹس سجاد علی شاہ شامل تھے۔

عدالت کی جانب سے اٹارنی جنرل پاکستان، چاروں صوبوں کے ایڈووکیٹ جنرل کو طلب کرنے کے ساتھ سپریم کورٹ بار کے سینیئر وکلا سید افضل حیدر اور قاضی محمد جمیل کو بھی معاونت کے لیے طلب کیا گیا۔ فاضل عدالت نے قرار دیا کہ حکومت کی جانب سے کسی مجرم کو سر عام پھانسی دینا، آئین کے آرٹیکل 14 کے تحت انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہے، کیوں کہ ملک کا آئین ہر ملزم کی عزت نفس کو ہر حالت میں برقرار رکھنے کی گارنٹی دیتا ہے اور کسی قابل مذمت جرم میں ملوث مجرم کو بھی سر عام پھانسی دینا اس آئین کے آرٹیکل کی خلاف ورزی ہے۔

فاضل عدالت نے مذکور مقدمہ میں 12 اپریل 1999ء کو لندن میں کئی ممتاز اسلامی سکالروں کی جانب سے تیار اور شائع کیے جانے والے یونیورسٹی ڈیکلریشن آف ہیومن رائٹس ان اسلام کے آرٹیکل 7 کا بھی حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اسلام کسی ملزم کو تشدد کا نشانہ بنانے کی اجازت نہیں دیتا، کیوں کہ جرم کرنے والے کی سزا اللہ نے تجویز کر رکھی ہے لیکن اس کیس کی عدالتی فیصلہ سے قبل ڈپٹی اٹارنی جنرل ممتاز علی مرزا نے بیان دیا کہ حکومت نے پالیسی میٹر کے تحت اس قانون کو ختم کرنے کا فیصلہ کیا ہے، جس پر عدالت نے اس بیان کی بنیاد پر معاملہ داخل دفتر کر دیا۔

دریں اثنا سابق صدر ضیا الحق کے دور میں حکومت میں قلعہ کہنہ قاسم باغ ملتان پر مجرم کو سر عام پھانسی دی گئی اور اس وقت کے افراد کے مطابق وہاں پہلے سابق صدر ضیا الحق کے حق میں اور پھانسی کے بعد ان کے خلاف نعرے لگے۔ اس طرح ڈسٹرکٹ جیل ملتان کے احاطے میں بھی ایک مجرم کو سر عام پھانسی دی گئی، جسے دیکھنے کے لیے عوام ٹوٹ پڑے اور مرکزی دروازہ کھلا ہونے کے با وجود، جیل کی بیرونی دیوار ٹوٹ گئی اور کئی افراد زخمی بھی ہوئے تھے۔

اسلامی قوانین سے متصادم ہونے کی وجہ سے پاکستان جیسے اسلامی ممالک میں سزائے موت کے خاتمے میں عالمی دباؤ کے با وجود، ابھی تک حکومتوں کی جانب سے عوامی رد عمل کے پیش نظر، اس معاملے پر کبھی بھی کوئی پیش رفت نہیں کی گئی، تو دوسری جانب عوام میں لاقانونیت اور پر تشدد رویوں کے فروغ کے ساتھ انصاف میں تاخیر کے بڑھتے ہوئے رجحان کی وجہ سے خود سزائیں دینے کے عمل نے نا صرف غیر قانونی رویوں کو فروغ دیا ہے، بلکہ عالمی سطح پر ملک میں انتہا پسندی کے تاثر کو مزید مضبوطی حاصل ہوئی ہے۔

اس لاقانونیت نے کئی سوالیہ نشان ہمارے معاشرے پر کھڑے کر دیے ہیں۔ اس لئے ضرورت اس امر کی ہے کہ ملک میں سزائے موت ختم ہو یا نا ہو، اس کے لئے حکومتوں اور اداروں کو مل کر کوئی لائحہ عمل بنا کر عدم برداشت، پر تشدد رویوں اور غیر قانونی اقدامات کی حوصلہ شکنی کرنا ہو گی، تا کہ ہمارے ملک کا تاثر دہشت گردانہ، انتہا پسندانہ، تشدد آمیز اور جاہلانہ رسومات سے پاک ممالک کی صف میں شامل کیا جا سکے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •