مولانا عادل خان کی شہادت اور چند سوالات

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

کراچی کو ایک مرتبہ پھر کرائے کے قاتلوں نے سوگوار کر دیا۔ ایک مرتبہ پھر انہی عناصر نے ماضی کی طرح علما دشمن کھیل کی تجدید کرتے ہوئے جامعہ فاروقیہ (شاہ فیصل کالونی کراچی) کے رئیس مولانا ڈاکٹر عادل خان کو گیارہ اکتوبر کی رات اپنے ڈرائیور سمیت شہید کر دیا۔ مولانا عادل خان کو اللہ تعالی کروٹ کروٹ جنت نصیب فرمائے، کیا دیانت دار اور جری مولانا تھے۔ مولانا نمونہء اسلاف اور ولی کامل حضرت سلیم اللہ خان ؒ کے بڑے صاحب زادے تھے۔

جامعہ فاروقیہ میں اپنے والد محترم کے شاگرد رہے تھے اور 1973ء میں اسی جامعہ ہی سے فاضل ہوئے۔ 1976ء میں کراچی یونیورسٹی سے بی اے ہیومن سائنس میں گریجویشن کرنے کے دو برس بعد آپ نے عربی زبان میں ماسٹر کیا، جب کہ 1992ء میں اسلامک کلچر میں پی ایچ ڈی کر کے ڈاکٹر بنے۔ بہترین مدرس اور اعلی درجے کے خطیب ہونے کے ساتھ مولانا نے خود کو ایک مخصوص انداز کے ساتھ علوم دینیہ کی خدمت کے لئے وقف کر رکھا تھا۔ آپ جدید علوم سے بھی بہرہ ور تھے، اسلامی دنیا کے بدلتے حالات پر گہری نظر رکھتے تھے۔

مقاصد شرعیہ، علوم حدیث، اسلامی معیشت اور اسلامی تاریخ کے علاوہ مولانا عربی اور اردو ادب میں بھی خصوصی دل چسپی رکھتے تھے اور اردو و عربی کے علاوہ انہیں انگریزی اور کئی دوسری بولیوں پر کمانڈ حاصل تھا۔ مولانا سے ملاقات کا شرف مجھے دس سال قبل اس وقت نصیب ہوا، جب ہم جامعہ فاروقیہ میں دورہء حدیث میں داخلہ لینے گئے ہوئے تھے۔ اسی روز مولانا جامعہ کے دفتر اہتمام میں ایک کونے میں تشریف فرما تھے اور ان کے اردگرد علما کرام جمع تھے۔

بعد میں جب جامعہ فاروقیہ میں داخلے کی منظوری مل گئی، تو نا صرف مولانا عادل خان ہمارے استاد بنے، بلکہ ہمیں ان کے والد حضرت سلیم اللہ خان ؒ کا شاگرد بننے کی سعادت بھی حاصل ہوئی۔ پہلے پیریڈ میں حضرت سلیم اللہ خان صاحب بخاری اول پڑھاتے تھے، جب کہ مولانا عادل خان بخاری ہی کا دوسرا حصہ مغازی کا درس دینے آتے تھے۔ مولانا عادل جلالی طبیعت کے مالک تھے، تاہم اخلاص، دیانت اور انکسار ان کا طرہء امتیاز تھا۔ قانون کا جنون کی حد تک پا بند تھے اور اصولوں پر مصلحت کرنے والے قطعاً نہیں تھے۔

جامعہ فاروقیہ میں ایک سال پڑھنے کے بعد ہم رخصت ہوئے، تو مولانا عادل نے بعد ازاں جامعہ کے تمام تر انتظامی امور کو اپنے بھائی مولانا عبید اللہ خالد کے حوالے کر کے خود اسلامی ملک ملائیشیا چلے گئے، جہاں انہوں نے کوالالمپور کی مشہور یونیورسٹی میں تقریباً تقریباً سات سال تک کلیۃ المعارف الوحی اور انسانی علوم میں بطور پروفیسر خدمات انجام دیں۔ اس سے قبل مولانا کئی سال تک امریکا میں بھی رہے، جہاں وہ ایک اسلامی مرکز سے منسلک رہے۔

2018ء میں ملائیشیا کی ہائر ایجوکیشن نے انہیں اپنی مایہ ناز تحقیق کی بنا پر انہیں فائیو اسٹار رینکنگ ایوارڈ سے نوازا۔ تین سال پہلے جب حضرت سلیم اللہ خان ؒ انتقال کر گئے تو ملائیشیا کو خیر باد کہہ دیا، مولانا عادل ایک مرتبہ پھر جامعہ فاروقیہ (شاہ فیصل کالونی) کی ذمہ داریاں سنبھالنے لگے اور تا دم شہادت یہیں پر خدمات دیتے رہے۔ بلکہ آج کل جامعہ فاروقیہ کی مرکزی شاخ سے زیادہ ان کی توجہ حب چوکی میں واقع جامعہ فاروقیہ ثانی (فیز ٹو) پر مرکوز تھی۔

آپ ہی کی کوششوں سے بہت پہلے فیز ٹو بنا تھا اور آپ کی مساعی کی بدولت یہ شاخ اب بار آور ہو گئی ہے، جہاں سیکڑوں طلبا خالص عربی زبان میں دینی اور جدید عصری تعلیم کے حصول کے لئے کوشاں ہیں۔ مولانا کو اللہ تعالیٰ نے علوم دینیہ کے ساتھ ساتھ عصری علوم کی نعمت سے بھی نوازا تھا۔ ملائیشیا سے لوٹنے کے بعد وہ ایک نئے ولولے اور وژن کے ساتھ خدمات سر انجام دینے کے لئے سامنے آئے تھے۔ آپ ناموس صحابہ کرام ؓ اور اہل بیت کی عظمت کی خاطر اہل سنت و الجماعت کے فرقوں کے بیچ اتحاد کے لئے سرگرم تھے اور دشمن نے اسی جرم کی پاداش میں انہیں شہید کر دیا۔

زیادہ افسوس مجھے ریاست مدینہ کے ان نام نہاد حکمرانوں پر ہے، جو معمول کی طرح غیر معقول بیانات دے دے کر اپنے بنیادی فریضے سے جان چھڑا رہے ہیں۔ پچھلے دنوں پولیس کا دعویٰ سامنے آیا ہے کہ انہوں نے سی سی ٹی وی فوٹیج کی مدد سے مولانا کے قاتل کا خاکہ تیار کر کے گویا بہت بڑا تیر مارا ہے۔ میں نہیں سمجھتا کہ ریاستی سرکار کب تک قاتلوں کے خاکے تیار کرنے اور سی سی ٹی وی فوٹیج نکالنے کے ل احاصل دعووں سے قوم کو ورغلاتی رہے گی؟

اس شہر میں مختلف فرقوں کے چوٹی کے سیکڑوں جید علما کرام شہید ہوئے لیکن قاتلوں کو گرفتار کرنا تو در کنار، حکومت نے اس بارے میں کبھی کوئی سنجیدگی بھی نہیں دکھائی ہے۔ کیا کوئی بتا سکتا ہے کہ ایسی وارداتوں کے دوران میں غفلت برتنے کی صورت میں اس سرکار نے کبھی کسی پولیس آئی جی، ایس ایچ او، یا ڈی پی کو بر طرف کیا ہے؟ کوئی ہے جو ثابت کردے کہ واردات کے بعد نام نہاد جے آئی ٹی کی کوئی رپورٹ کا کوئی مثبت نتیجہ نکلا ہو؟

کیا قتل کے نہ تھمنے والے واقعات کو صرف بھارت کی خفیہ ایجنسی کی کار ستانی قرار دے کر ہمارے غافل حکمران اس طرح کے بے لگام دعووں کے ذریعے خود کو بری الذمہ کر سکتے ہیں؟ کلمہ طیبہ کے مبارک نام پر بننے والی ریاست کے اصل حاکمو! خدارا! اس قوم کی اولاد کو اپنا سمجھ کر ان کی زندگیوں سے کھیلنے والوں سے مزید نمٹ لو۔ کیوں کہ ایک دن اس بارے میں پوچھا جائے گا، وا اللہ! پوچھا جائے گا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •