گیت نگار حسرت ؔجے پوری کی بیٹی کشور جے پوری سے ایک بات چیت

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

مجھے حسرتؔ کے گیتوں سے ہمیشہ ہی دل چسپی رہی۔ ان سے میرا لگاؤ یوں بھی بڑھ گیا، جب میں نے ان کے تذکرے میں کہیں پڑھا کہ وہ اردو کے مشہور شاعر مولانا حسرتؔ موہانی سے بے حد عقیدت رکھتے تھے۔ اسی نسبت سے آپ نے اپنا تخلص حسرتؔ اختیار کیا۔ ان کی کہی ہوئی پہلی غزل کا یہ شعر ملاحظہ ہو:
کس ادا سے وہ جان لیتے ہیں
مرنے والے بھی مان لیتے ہیں

حسرتؔ کا سلسلہ اردو غزل کے عظیم شاعر مرزا غالبؔ تک پہنچتا ہے۔ آپ کے نانا، فدا حسین فدا ؔ جے پوری، آغا دہلوی کے شاگرد تھے، جن کا شمار مرزا غالبؔ کے شاگردوں میں ہوتا تھا۔ اسی نسبت سے آپ کا سلسلہ تلمذ مرزا غالبؔ تک پہنچتا ہے۔

حسرتؔ جے پوری نے گیت نگاری کے ساتھ فلم ”مغل اعظم“ کے روح رواں فلم ساز آصف کریم المعروف
’ کے آصف‘ کے لئے ایک فلم ”ہلچل“ (1951ء) کی کہانی بھی لکھی تھی۔

یہ میرے لئے بھی بہت زبردست خبر تھی کہ بر صغیر کے نامور فلمی گیت نگار حسرتؔ جے پوری کی بیٹی پاکستان میں رہتی ہیں۔ مجھے یہ بات پاک و ہند کے معروف فلمی گیت نگار حضرت تنویر ؔ نقوی کے بیٹے شہبازؔ تنویر نقوی نے بتائی۔ شہباز کا شکریہ کہ اس نے حسرتؔ جے پوری صاحب کی بیٹی کشور جے پوری سے بات چیت کا اہتمام کروایا۔ مجھے اس سے گفتگو کر کے بے حد خوشی ہوئی۔ اس بات چیت کی خاص خاص باتیں پڑھنے والوں کے لئے پیش ہیں:
”تمہارا نام کشور کس نے رکھا؟“ میں نے سوال کیا۔
”میرے والد نے ہی میرا نام کشور جہاں رکھا۔ وہ کہا کرتے تھے کہ تم کشور ہندوستان ہو۔ لفظ کشور کا مطلب ہے فتح۔ پھر کشور ایک بہت ہی خوب صورت شہزادی کا نام بھی تھا۔ اس مناسبت سے والد صاحب نے یہ نام رکھا۔“

” تمہارے والد شاعری کے میدان میں کیسے آئے؟“
”میرے والد کو شاعری خدا کی طرف سے عطیہ تھی۔ تقریباً اٹھارہ یا انیس سال کی عمر ہی سے انہوں نے شاعری شروع کر دی تھی۔ والد کے استاد ان کے نانا تھے۔ والد صاحب نے ان سے فارسی اور اردو، بولنا لکھنا اور پڑھنا سیکھا۔ یوں سمجھیں کہ شاعری کا سلسلہ ان کے گھر سے ہی شروع ہو گیا تھا“

حسرتؔ خود رقم طراز ہیں: ”شعر و شاعری کی تعلیم میں نے اپنے نانا جان سے حاصل کی لیکن عشق کا سبق رادھا نے پڑھوایا۔“ را دھا ان کے سامنے والے گھر کے جھروکے میں اکثر آتی جسے دیکھ کر حسرتؔ کہہ اٹھتے تھے:
تو جھروکے سے جو جھانکے تو میں اتنا پوچھوں
میرے محبوب تجھے پیار کروں یا نہ کروں
مزید یہ:
تم سامنے بیٹھی ہو اور جان نکل جائے
مرنا تو کسی دن ہے ارمان نکل جائے

حسرت ؔ کے تذکروں میں یہ دل چسپ بات ملتی ہے کہ رادھا کے لئے لکھی گئی نظمیں بعد میں ان کے مقبول ترین فلمی گیت ثابت ہوئے۔ جیسے فلم ”سنگم“ (1964) میں شنکر جے کشن کی موسیقی اور محمد رفیع اور لتا کہ آوازوں میں یہ گیت: ’یہ میرا پریم پتر پڑھ کر، تم ناراض نہ ہونا‘ رادھا ہی کے لئے لکھا گیا۔

بہر حال بات کشور کی گفتگو کی ہو رہی تھی: ”میری دادی کا نام فردوسی بیگم تھا۔ ان کی بھی آواز بہت اچھی تھی۔ اس طرح والد بہت ہی با صلاحیت خاندان سے متعلق تھے۔ اسی لئے شاعری ان کی رگ رگ میں بسی ہوئی تھی۔“

” میرے والد صاحب 1922ء میں جے پور میں پیدا ہوئے۔ یہ ایک بڑا اعزاز ہے کہ ان کے جیتے جی ہی وہ راستہ جو والد کی حویلی ’فردوسی منزل‘ کو جاتا تھا اس کا نام حکومت راجھستان نے ’حسرتؔ جے پوری مارگ‘ رکھ دیا۔ مارگ ہندی میں سڑک کو کہتے ہیں۔ ایک شاعر کی زندگی میں اس کے گھر کی سڑک اس کے نام ہو جائے، یہ بلا شبہ بڑا اعزاز ہے۔“

ایک سوال کے جواب میں کشور نے بتایا:
”میری دادی پیار سے میرے والد کو ’دولہا‘ بلاتی تھیں۔ لیکن اس پیار کے با وجود، ان کو میرے والد کی شعر و شاعری بالکل بھی پسند نہیں تھی۔ کئی مرتبہ منع کرنے کے بعد بھی شاعری سے باز نہ آنے کی پاداش میں ایک دن انہوں نے نہایت غصے کی حالت میں والد صاحب کا بستر بند اوپر کی منزل سے اٹھا کر نیچے پھینک دیا اور کہا: ’جا نکل جا یہاں سے۔ تو زندگی میں کبھی کچھ نہیں کر سکتا۔‘ یوں وہ گھر سے نکالے جانے کے بعد راجھستان چھوڑ کر سیدھا بمبئی آ گئے۔“ (یہ زمانہ میرے مطابق 1940ء بنتا ہے)۔

”بمبئی آ کر میرے والد صاحب نے ایک سے زیادہ کام کیے۔ انہوں نے فٹ پاتھ پر کھلونے بیچے اور بس کنڈکٹری بھی کی۔ ان کی تنخواہ 11 روپے ماہانہ تھی (اس وقت روپے کی قدر آج کے مقابلے میں بہت زیادہ تھی)۔ والد بمبئی میں فٹ پاتھ پر سوتے تھے۔ بمبئی میں گزر بسر کرنا بے حد مشکل کام تھا (اب بھی ہے)۔ فٹ پاتھ پر ان کے آس پاس اور لوگ بھی تھے، جن میں زیادہ تر مزدور طبقہ تھا۔ ایسے میں والد کے فٹ پاتھ کے ساتھیوں میں ایک مزدور فٹ پاتھ پر ہی فوت ہو گیا۔ والد صاحب بہت ہی نرم دل انسان تھے۔ انہیں اس بات سے اتنا دکھ پہنچا کہ انہوں نے بے ساختہ ایک نظم ’مزدور کی لاش‘ کے عنوان سے لکھی۔”

”وقت گزرتا رہا۔ والد فٹ پاتھ پر کھلونے بیچنے اور بس کنڈکٹری کے ساتھ شاعری بھی کرتے رہے۔ یہ 1949ء کا زمانہ ہو گا، جب ایک دن راج کپور صاحب کے والد، پرتھوی راج کے مشہور زمانہ پرتھوی تھیٹر میں ایک مشاعرے میں والد صاحب کو بھی موقع دیا گیا۔ انہوں نے وہی نظم ’مزدور کی لاش‘ سنائی۔ سننے والوں میں ’پاپا جی‘ بھی بیٹھے تھے۔ سب لوگ پرتھوی راج کو پیار سے پاپا جی کہتے تھے۔ انہیں وہ نظم بے حد پسند آئی۔ مشاعرے کے اختتام پر انہوں نے والد صاحب کو بلوا کر کہا کہ میرا بیٹا ایک فلم ’برسات‘ بنانے جا رہا ہے، تم میرے بیٹے کو ضرور مل لو۔ یوں میرے والد صاحب کو فلمی دنیا میں متعارف کرانے والے پرتھوی راج ہیں۔”

”انہوں نے اپنے بیٹے راج کپور کو تجویز کیا کہ حسرت ؔ نیا لڑکا ہے، جوان ہے اور اچھا لکھتا ہے، اس کو موقع ضرور دینا۔ ( بالکل یہی بات انہوں نے گیت نگار شیلیندر نے کے لئے بھی راج کپور سے کہی تھی)۔ والد کے گیت نگار ساتھی شیلیندر انکل ریلوے میں ویلڈر تھے۔ وہ بھی بہت اچھا لکھتے تھے۔ ان کو بھی ایک مشاعرے میں پرتھوی راج نے سن کر منتخب کیا تھا۔ پھر جلد ہی شنکر سنگھ رگھو ونشی المعروف شنکر، جے کشن دیا بھائی پن چھل المعروف جے کشن، اقبال حسین المعروف حسرتؔ جے پوری اور شنکر داس کیسری لال المعروف شیلیندر کی گولڈن ٹیم بن گئی۔ یہ آج تک مانی جاتی ہے۔ راج کپور کی 1966ء تک کی تمام فلموں میں والد صاحب اور شیلیندر انکل نے بہت اچھے گانے لکھے۔”

” دونوں بہت پیار سے رہتے تھے۔ کبھی ان کے درمیان کوئی ان بن نہیں ہوئی۔ والد صاحب دل سے بہت رومانی تھے۔ جے کشن انکل بھی رومانی واقع ہوئے تھے۔ اس لئے والد کی جوڑی زیادہ تر جے کشن انکل کے ساتھ بنتی تھی اور شیلیندر انکل کی شنکر انکل کے ساتھ۔ تو جتنے بھی ٹاپ ہٹ رومانی گانے ہیں، وہ والد کے جے کشن انکل کے ساتھ ہیں۔ والد نے جے کشن انکل کا نام گیتوں کا ’کنہیا‘ رکھا تھا۔ میرے والد اور جے کشن انکل کا تعلق بہت ہی مضبوط تھا۔ اتنا مضبوط کہ میں آپ کو بتلا نہیں سکتی۔ والد ان کا مزاج سمجھتے تھے اور جہاں جے کشن انکل نے کہا، حسرت! میاں یہاں یہ لکھ ڈالو تو والد اسی وقت وہیں بیٹھ کر سیکنڈوں میں گانا لکھ دیتے تھے۔ اتنے قابل تھے میرے والد۔“

گفتگو کا رخ موسیقار جوڑی شنکر جے جشن کی جانب مڑ گیا۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا:
”شنکر جے کشن موسیقار بننے سے پہلے موسیقار حسن لال بھگت رام کے معاونین تھے۔ وہاں سے یہ جوڑی راج کپور فلمز میں آئی۔ آگے چل کر یہ چار افراد کی ڈبل جوڑی بن گئی: شیلیندر، شنکر حسرت اور جے کشن۔“

”میرے والد کی زندگی کا سب سے پہلا گانا، ’جیا بے قرار ہے، چھائی بہار ہے، آ جا مورے بالما تیرا انتظار ہے‘ تھا۔“

” گھر میں تمہارے والد صاحب کیسے تھے؟“
”گھر میں والد بہت ہی پیارے باپ اور پیار کرنے والے شوہر تھے۔ ہم بچوں سے بے حد پیار کرتے تھے۔ وہ کہتے کہ میری جائیداد میری بیوی بچے ہیں۔ مجھے اچھی طرح سے یاد ہے کہ جب ہمارے گھر پر لوگ کسی مدد کے لئے آتے، تو والد ےا سوچے سمجھے میری والدہ سے کہتے تھے: ’بلقیس! جو مانگتے ہیں انہیں دے دو۔‘ میرے والد صاحب، میری والدہ کو ’بلقیس زمانی‘ کہتے تھے۔ کیوں کہ میری والدہ نے میرے والد کا ہر اچھے برے حال میں ساتھ دیا۔ وہ کہتے تھے کہ آج میں جو کچھ بھی ہوں، وہ اللہ پاک کی مہربانی پھر میری بیوی کے غیر مشروط پیار کی وجہ سے ہی ممکن ہوا۔ والد نے اپنے گیتوں میں جس پیار کا ذکر کیا ہے اس میں میری والدہ کا ایک بہت بڑا حصہ بھی ہے۔ مثلاً فلم ”میرے حضور“ (1968ء) میں شنکر جے کشن کی موسیقی میں ان کا ایک گیت ’غم اٹھانے کے لئے میں تو جیے جاؤں گا، سانس کی لے پہ تیرا نام لیے جاؤں گا‘ بہت مشہور ہوا تھا۔ اصل میں یہ گیت میرے والد نے میری والدہ کے لئے لکھا تھا۔”

”1961ء میں فلم“ سسرال” میں والد صاحب کے لکھے اور شنکر جے کشن کی موسیقی میں ایک گیت پر محمد رفیع صاحب کو، اس سال کے بہترین میل پلے بیک سنگر کا فلم فیئر ایوارڈ حاصل ہوا۔ گانے کے بول تھے:
تیری پیاری پیاری صورت کو کسی کی نظر نہ لگے، چشم بد دور
مکھڑے کو چھپا لو آنچل میں، کہیں میری نظر نہ لگے، چشم بد دور

”یہ کسی لڑکی یا ہیروئن کو دیکھ کر یا کسی فلمی سیچو ایشن پر نہیں لکھا گیا بلکہ یہ انہوں نے میرے بڑے بھائی پر لکھا تھا، جب وہ چھوٹا سا تھا۔ اس کا نام اختر جے پوری ہے۔ پھر میں کشور ہوں اور پھر میرا چھوٹا بھائی آصف جے پوری ہے۔“

” تمہارے والد صاحب کا فلمی سفر کیسا رہا؟“
”میرے والد کا سفر فلمی صنعت میں بہت اچھا اور شاندار رہا۔ انہوں نے تقریباً ڈھائی ہزار گانے لکھے اور 63 موسیقاروں کے ساتھ کام کیا۔ میرے والد صاحب نے بعض موسیقار باپ اور بیٹے دونوں کے ساتھ بھی کام کیا جیسے: ایس ڈی برمن اور آر ڈی برمن، سردار ملک، (جو میرے پھوپھا اور میرے شوہر کے تایا ہیں) اور انو ملک (اصل نام انور سردار ملک)، چتر گپت اور ان کے بیٹے آنند ملند، پھر اپریش لہری اور ان کے بیٹے بپی لہری، ندیم شیرون اور شیرون کے بیٹے سنجیو درپن کے ساتھ کام کیا۔“

”گھر میں تمہارے والد صاحب کا کیسا مزاج ہوتا تھا؟“
”والد صاحب دریا دل انسان واقع ہوئے تھے۔ وہ سبھی کو پیار دینے والے اور سب کی مدد کر نے والے تھے۔ انہوں نے میرے سامنے بہت سے لوگوں کی مدد کی۔ ہمارے گھر کے ملازم تک والد سے بہت پیار کرتے تھے، کیوں کہ وہ ان کو عزت دیتے اور ان سے بھی بہت پیار سے پیش آتے تھے۔ جب دور نزدیک سے والد کے چاہنے والے ان سے ملنے گھر پر آتے، تو والد ان کو دروازے تک چھوڑنے جاتے تھے۔ میں ان کو ہمیشہ کہتی تھی:
’ڈیڈی! آپ ایسے اچھے نہ بنیں! دنیا اتنے اچھے لوگوں کو برداشت نہیں کرتی۔‘ وہ کہتے: ’بیٹا کوئی بات نہیں! اس کا صلہ میں نے اپنے اللہ سے لینا ہے۔ انسان تو کسی کو کوئی صلہ نہیں دے سکتا۔‘ اتنے اچھے انسان تھے وہ۔”

”تمہارے والد صاحب کے لکھے فلم ’رام تیری گنگا میلی‘ کے ایک گیت پر کئی طرح کی کہانیاں مشہور ہیں۔ اصل کہانی کیا ہے؟“
”میں بتاتی ہوں کہ ڈیڈی نے گانا ’سن صاحبہ سن! پیار کی دھن، میں نے تجھے چن لیا، تو بھی مجھے چن۔‘ کیسے لکھا۔ لتا جی کو بھی یہ گانا بہت پسند ہے۔ اس کا ذکر انہوں نے اپنے کئی ایک انٹرویو میں کیا ہے۔ ایک موسیقار (نام لکھنا مناسب نہیں) نے میرے والد صاحب سے کہا: ’حسرت ؔصاحب! اب آپ گانے لکھنا بھول گئے ہیں۔ آپ بڈھے ہو گئے ہیں۔‘ ڈیڈی نے یہ چیلنج قبول کر لیا۔ وہ راج صاحب (راج کپور) کے پاس گئے، جو اس وقت فلم ’رام تیری گنگا میلی‘ (1985ء) بنا رہے تھے۔ اس کے موسیقار رویندر جین تھے اور گیت بھی وہی لکھ رہے تھے۔ ڈیڈی نے راج انکل سے کہا کہ بس مجھے ایک گانا اس فلم میں دے دو، میں اپنے آپ کو ثابت کرنا چاہتا ہوں۔ تو والد صاحب کو انہوں نے موقع دیا:
سن صاحبہ سن پیار کی دھن
میں نے تجھے چن لیا
تو بھی مجھے چن
ایک کامیاب گیت ثابت ہوا۔ اس وقت بھی اور آج بھی کتنا مقبول ہے۔ اور ان شا اللہ ہمیشہ مقبول رہے گا۔”

حسرتؔ کے تذکروں میں یہ بات ملتی ہے کہ وہ سادگی پسند تھے۔ ہوائی جہازوں میں سفر کرنے کے وسائل رکھنے کے با وجود، ریل گاڑی کے سیکنڈ کلاس ڈبے میں سفر کرتے تھے۔ سفر کے دوران میں ان کے مداح جب تعجب کا اظہار کرتے تو وہ کہتے: ’میں بھی تو تمہارے جیسا ہی انسان ہوں۔’

ان کی بیوی، بلقیس بیگم بہت سلیقہ شعار اور بہترین گھر گھر ہستی والی خاتون ہونے کے ساتھ پیسے کے معاملے میں زبردست منتظم بھی تھیں۔ انہوں نے حسرتؔ کے پیسوں کو جائیداد بنانے میں خرچ کیا۔ یوں ان کا یہ گھرانا کبھی تنگی کا شکار نہ ہوا۔ 1966ء میں شیلیندر کی موت اور اپنی دو فلموں ”میرا نام جوکر“ (1970ء) اور ”کل آج اور کل“ (1971ء) کی نا کامی کے بعد، راج کپور نے بہ وجوہ دوسرے موسیقار اور گیت نگاروں سے کام لینا شروع کر دیا۔ یہ بلقیس بیگم ہی تھیں، جن کی دور اندیشی سے وہ وقت بھی بہت آرام سے گزرا، جب حسرتؔ صاحب کے پاس فلمیں نہیں رہیں۔

حسرتؔ جے پوری صاحب نے فلم ”مغل اعظم“ کے روح و رواں فلم ساز آصف کریم المعروف ’کے آصف‘ کے لئے ایک فلم ”ہلچل“ (1951ء) کی کہانی بھی لکھی۔

دیگر گیت نگاروں کی طرح حسرتؔ نے بھی اپنی فلمی شاعری، فلمی ضرورتوں کو دیکھتے ہوئے کی۔ جیسے سیچو ایشن، کہانی کو آ گے بڑھانا وغیرہ۔ لیکن ان کی غیر فلمی شاعری کا بڑا حصہ غزلیات پر مشتمل ہے۔ وہ بھی مجروح ؔسلطان پوری، شکیل بدایونی، ساحرؔ لدھیانوی، قتیلؔ شفائی اور حضرت تنویرؔ نقوی کی طرح زبان اور بیان میں ستھرا اور اعلیٰ ذوق رکھتے تھے۔ یہی تو وہ گنتی کے چند خوش نصیب گیت نگار ہیں جنہوں نے فلمی شاعری میں بھی وقار کا خاص خیال رکھا۔

حسرت ؔکی غیر فلمی کاوش میں ان کا مجموعہ کلام ”آبشار“ کا بہت چرچا ہے۔ اس سے اقتباس پیش خدمت ہے:
وہ اپنے چہرے میں سو آفتاب رکھتے ہیں
اسی لئے تو وہ رخ پر نقاب رکھتے ہیں
وہ آنکھوں میں کاجل، وہ بالوں میں گجرا
ہتھیلی پہ اس کی، حنا مہکی مہکی
اے دوست مجھے گردش حالت نے گھیرا
تو زلف کی کملی سے چھپانے کے لئے آ

حسرت ؔ صاحب کو فلموں کے ناموں کی مناسبت سے عنوانی گیت لکھنے کا ملکہ حاصل تھا۔ ان کے دور میں اس میدان میں کوئی قابل ذکر نام سامنے نہیں آیا۔ اس زمانے میں عنوانی گیت کسی فلم کو مقبول کروانے میں ایک اہم کردار ادا کرتے تھے۔ چند مثالیں پیش کرتا ہوں: فلم ”دیوانہ“ (1967ء) میں شنکر جے کشن کی طرز میں مکیش کی آواز میں گیت: ’دیوانہ مجھے لوگ کہیں، میں سمجھوں جگ ہے دیوانہ‘، ”دل ایک مندر“ (1963ء) میں گیت ’دل ایک مندر ہے‘، ”رات اور دن“ (1967ء) میں شنکر جے کشن کی طرز میں لتا منگیشکر کی آواز میں گیت ’رات اور دن دیا جلے، میرے من میں پھر بھی اندھیارا ہے‘، ”گم نام“ (1965ء) میں شنکر جے کشن کی موسیقی میں لتا کی آواز میں ’گم نام ہے کوئی، بد نام ہے کوئی، کس کو خبر کون ہے وہ، ان جان ہے کوئی‘۔

حسرتؔ کو 2 فلم فیئر ایوارڈ حاصل ہوئے۔ پہلا، فلم ”سورج“ (1966ء) میں شنکر جے کشن کی طرز پر محمد رفیع کی آواز میں گیت: ’بہارو پھول برساؤ، میرا محبوب آیا ہے‘۔ دوسرا، فلم ”انداز“ (1971ء) میں شنکر جے کشن کی طرز پر کشور کمار کی آواز میں گیت: ’زندگی اک سفر ہے سہانا، یہاں کل کیا ہو، کس نے جانا‘۔ س کے علاوہ انہیں ورلڈ یونیورسٹی ٹیبل کا ڈاکٹریٹ ایوارڈ دیا گیا اور اردو کانفرنس میں جوشؔ ملیح آبادی ایوارڈ سے نوازا گیا۔

فلم ”میرے حضور“ (1968ء) میں ہندی اور برج بھاشا میں گلوکار منا ڈے کی آواز اور شنکر جے کشن کی موسیقی میں گیت ’جھنک جھنک تیری باجے پائیلیا۔‘ پر انہیں ”امبیکر“ ایوارڈ دیا گیا۔

”تم تو اپنے ابا کی لاڈلی تھی! تمہارے لئے بھی کچھ لکھا؟“
”اللہ پاک نے میرے والد صاحب کو اتنا نام دیا ہے۔ میں اللہ تعالیٰ کا بہت شکر ادا کرتی ہوں کہ اتنی بڑی ہستی کی اکلوتی اور لاڈلی بیٹی ہوں۔ وہ مجھ سے بے انتہا پیار کرتے تھے۔ انہوں نے میرے لئے بھی گانے لکھے۔ جیسے فلم ’رواج‘ (1972ء) کی لوری، جس کی طرز شنکر جے کشن نے بنائی:
تجھ جیسی لاڈلی لاکھوں میں ایک
ملتی ہے جس کی نیت ہو نیک

”تو ڈیڈی نے میری فرمائش پر یہ میرے لئے لکھی تھی۔ میں یہ کہنا چاہتی ہوں کہ جب تک سورج چاند رہیں گے میرے ڈیڈی کا نام اس دنیا میں بہت روشن رہے گا۔ اور حسرتؔ جے پوری کو کبھی کوئی بھلا نہ سکے گا۔ آپ لوگوں سے بس یہی التجا ہے کہ انہیں پیار کیجیے۔ ان کے نغموں کو خوب سنا کیجیے اور ان کو دعائیں دیجیے“۔
”جی ہاں ضرور!“

میں جب بھی فلم ”پگلا کہیں کا“ (1970ء) میں شنکر جے کشن کی موسیقی میں محمد رفیع کی آواز میں حسرتؔ صاحب کا یہ گیت سنتا۔
ہوں، ایسا محسوس ہوتا ہے کہ جیسے انہوں نے یہ اپنے ہی لئے لکھا تھا:
تم مجھے یوں نہ بھلا پاؤ گے
جب کبھی بھی سنو گے گیت میرے
سنگ سنگ تم بھی گنگناؤ گے
حسرتؔ جے پوری 17 ستمبر 1999ء کو ملک عدم روانہ ہو گئے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •