سانحہ کار ساز کی یاد میں

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

اسے معلوم تھا کہ وہ موت سے لڑنے جا رہی ہے۔ وہ اپنے دشمنوں سے بخوبی واقف تھی۔ اسے معلوم تھا کہ ریاست پاکستان کی ”مستقل“ مقتدر قوتیں، اپنے اقتدار کو دوام بخشنے کے لیے کسی بھی حد تک جا سکتی ہیں۔ وہ ان کی رگ رگ سے واقف تھی، اپنے باپ کی موت کے بعد سے ان کے خلاف ایک مسلسل جدوجہد کر رہی تھی کہ ”نہ ان کی رسم نئی ہے نہ اپنی ریت نئی“۔ اس کی جد و جہد تھی، اس ملک کے لیے۔ جمہوریت کے لیے۔ شخصی آزادیوں کے لیے۔ روشن خیال اور ترقی پسند سوچ کے لیے۔ ملائیت کی چھتری تلے پلنے والی آمریت سے آزادی کے لیے۔ مظلوموں کے لیے۔ مزدور اور کسان کے لیے۔ عوام کے حق حکمرانی کے لیے۔ یعنی میرے لیے۔ اور آپ کے لیے۔

اسے علم تھا کہ پاکستان جیسے ملک میں یہ لڑائی آسان نہیں ہے۔ حریف نا صرف بہت طاقتور ہے، بلکہ بے رحم بھی۔ منافقت اور پروپیگنڈا اس کا خاص ہتھیار ہے۔ اسی ہتھیار کا سہارا لے کر جب چاہتا ہے، اسلام کا لبادہ اوڑھ لیتا ہے۔ اور جہاد کے پر فریب نعرے کے ذریعے عوام کے مذہبی جذبات کو اپنے حق میں استعمال کرتا ہے۔ چاہے اس کے لیے اپنے معصوم ذہن نوجوانوں کو ”شہادت“ کی بھینٹ چڑھانا پڑے۔ چاہے اس کے لیے عدم برداشت اور مذہبی منافرت کے بیج بونے پڑیں۔ اور جب ضرورت پڑتی ہے تو بغل میں کتے دابے، روشن خیالی کا چورن بیچنا شروع کر دیتا ہے۔ دو دہائیوں سے بنائے گئے نام نہاد ہیرو ایک پل میں ولن قرار دے سکتا ہے۔ مقصد صرف اپنے اقتدار کو دوام بخشنا، عوام چاہے جئیں یا مریں، اس کی صحت پر کوئی اثر نہیں پڑتا۔

ان تمام باتوں کا ادراک ہونے کے با وجود، اس وقت کے نمرود کی جلائی گئی آگ میں، وہ کود پڑنے کے لیے تیار تھی، کہ ”عشق ہو مصلحت اندیش تو ہے خام ابھی“۔

اس عشق نے اسے اس جہاز میں بیٹھنے کا حوصلہ دیا کہ جس کی منزل موت کی وادی تھی۔ لیکن یہ راستہ اس کا اپنا چنا ہوا تھا۔ وہ مجبوراً نہیں بلکہ برضا و رغبت اس وادی پر خار میں قدم رکھنے کے لیے تیار تھی۔

کراچی ایئرپورٹ پر جہاز کی سیڑھیوں پر کھڑے، اس کی آنکھ سے بہنے والا ایک ایک آنسو وطن سے اس کی محبت کا ثبوت تھا۔ لیکن اس کا عزم و حوصلہ پہاڑوں سے بلند اور مضبوط تھا۔ اس کا یہی عزم تو انہیں بھاتا نہیں تھا۔ انہیں جھکے ہوئے سر پسند تھے، اٹھا ہوا سر تو گردن زدنی جرم تھا۔ پھر سونے پہ سہاگا، عوام کا سمندر اس کے استقبال کے لیے ایئرپورٹ پر امڈ آیا۔ ڈھول کی تھاپ پر ہونے والا والہانہ رقص، حاکموں کے قلعوں کی در و دیوار کو ہلا رہا تھا۔

چناں چہ سانحہ برپا ہو کر رہا۔ پاکستان کی تاریخ کا بد ترین دہشت گردی کا واقعہ، 150 قیمتی جانیں اس دہشت گردی کا شکار ہوئیں۔ وہ اس حملے میں بال بال بچی۔ لیکن اسے جھکایا نہ جا سکا۔ وہ زیادہ ہمت اور جرات سے کھڑی ہو گئی۔ لیکن 150 جانیں ان خون آشام بلاؤں کی پیاس بجھا نہ سکیں۔ ان کے کلیجوں میں ٹھنڈ نہ پڑ سکی۔ اور ٹھیک دو ماہ اور نو دن کے بعد ایک شہید وزیر اعظم کے نام پر بنے ایک باغ کے پھولوں کو، ایک اور وزیر اعظم کے لہو سے سینچا گیا۔ بد قسمتی سے اس پدر سری سماج میں مردانگی، جرات کا استعارہ ہے۔ لیکن مجھے یقین ہے کہ آنے والا وقت ایک عورت یعنی بے نظیر کو جرات کے استعارے کے طور پر استعمال کرے گا۔

سانحہ کارساز پاکستان کے لیے کی گئی جمہوری جد و جہد میں، قربانی اور شہادت کی سب سے بڑی مثال ہے۔ پاکستان کی تمام سیاسی جماعتوں کی سیاسی جد و جہد ایک پلڑے میں رکھ دیں، تو بھی شاید سانحہ کارساز کا پلڑا بھاری رہے گا۔

یہ 18 اکتوبر اور 27 دسمبر کا ثمر تھا کہ آنے والے دس سال جمہوریت کو سانس لینے کا موقع میسر آ سکا۔ اس جمہوریت کی آبیاری شہیدوں کے خون سے کی گئی تھی۔ اٹھارہویں ترمیم سے اٹھنے والی مٹی کی خوشبو میں 18 اکتوبر کے شہیدوں کے خون کی مہک بھی شامل تھی۔ اس جمہوریت نے دہشت گردی سے لے کر ممبئی اور ایبٹ آباد تک ہر عفریت کا مقابلہ کیا۔ معیشت سے لے کر لوڈ شیڈنگ تک ہر مسئلے کے حل کے لیے اس جمہوریت ہی نے راہ دکھائی۔ لیکن جمہوریت کی راہ میں کانٹے بچھانے والوں کو یہ ادا پسند نہ آئی۔ کبھی سابق صدر پاکستان کے قصر صدارت کے باہر ایمبولینس کھڑی کی جاتی اور کبھی اقامہ کے نام پر منتخب وزیر اعظم معتوب ٹھہرتا۔

یہاں تک کہ 25 جولائی 2018ء ہم پر مسلط کیا گیا۔ آج جمہوریت پھر پابند سلاسل ہے۔ لیکن اس ملک کے دو بزرگ سیاستدان آصف علی زرداری اور میاں نواز شریف ”اہل نظر“ کی آنکھوں میں کانٹا بن کر کھٹک رہے ہیں۔ ایک گیارہ برس کی جیل کاٹ کر اور بیوی کی شہادت کو سینے سے لگائے پاکستان کھپے کا نعرہ لگا چکا کہ جس کا قرض اس قوم نے آج بھی چکانا ہے۔ دوسرا جلا وطنی سے لے کر لندن میں بیوی کی ناگہانی موت کا صدمہ سہہ چکا اور ووٹ کو عزت دو کا نعرہ لگاتا ہے۔

یہ دو بوڑھے سیاستدان محترمہ شہید بی بی کا علم اٹھائے، آج اس ملک پر قابضین کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بات کر رہے ہیں۔ گوجرانوالہ کا جلسہ امید سحر ہے، لیکن بہت سا سفر ابھی باقی ہے۔ امید واثق ہے کہ بی بی شہید کا خون رائیگاں نہیں جائے گا اور ہم کم از کم آنے والی نسل کو ایک جمہوری، خوش حال اور روشن خیال پاکستان دے سکیں گے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
احسن وقار عباسی کی دیگر تحریریں