ہیں تاک میں شکاری نشانہ ہیں بستیاں

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

میں نے ایک موقع پر کچھ یوں کہا تھا:
کبھی منزل تو کبھی نقل مکانی مانگے
زندگی روز نئی ایک کہانی مانگے

پاکستان ایک ملک سے زیادہ تماشا اور تجربہ گاہ ہے، جہاں ہر چند سال کے بعد کوئی نا کوئی ایک تجربہ اور تماشا برپا کر دیا جاتا ہے۔ پاکستان کیا بنا کہ اس کے بنتے ہی تماشوں پر تماشے اور تجربوں پر تجربے شروع ہو گئے۔ جن مقاصد کے لئے عزت، آبرو، مال، دولت اور جانوں کی قربانیاں دی گئی تھیں، 14 اگست کا سورج طلوع ہوتے ہی اس مقصد عظیم کو تماشے میں تبدیل کر دیا گیا۔ جس سر زمین پر وعدوں اور دعووں کے مطابق خلافت کا اعلان ہونا چاہیے تھا (برادر معظم، مسلم لیگ کی اس دستاویز، قرارداد یا اعلان کا حوالہ دیجئے جس میں خلافت کا وعدہ کیا گیا تھا۔ مدیر)، گورنر جنرل بننے کے اعلان کے ساتھ ہی اسی طوق غلامی کو گلے میں دوبارہ پہن لیا گیا، جس سے نجات کے لئے 1857ء سے جد و جہد کا آغاز کیا گیا تھا۔

اس کے بعد سے تا حال پاکستان کا کوئی حال ہی سمجھ میں نہیں آتا کہ ہم اسلام چاہتے ہیں، جمہوریت کو پسند کرتے ہیں یا بوٹوں کی دھمک ہمیں اچھی لگتی ہے۔ پاکستان میں حکومتیں مارشل لائی رہی ہوں یا عوام نے انھیں اپنی رائے استعمال کر کے قائم کیا ہو، ان سب کے خلاف تحریکیں چلائی گئیں اور اس حد تک ان کو سرگرم رکھا گیا کہ فوجی آمریت ہو یا نام نہاد جمہوری حکومت، جب تک ان کے تخت کا تختہ نہیں کر دیا گیا، اس وقت تک تحریکیں خاموش ہو کر نہیں بیٹھیں۔

نکتے کی بات یہ ہے کہ پاکستان کے بننے سے پہلے یا پاکستان بن جانے کے بعد سے اب تک، جتنی بھی تحریکیں چلیں، ان سب میں مشترک بات مذہب اسلام کے مقدس نام کا سہارا دکھائی دی، لیکن پاکستان بن جانے اور حکومتوں کو گرا دینے کے بعد، وہ ساری قربانیاں جو تحریک چلانے کے مقاصد کے نام پر ملک کے عوام نے پیش کیں، ان کو فراموش کر کے تحریک کے سارے نو سر باز اپنے اپنے مذموم مفادات کے حصول میں مصروف عمل ہو گئے اور قوم سے کیے گئے سارے وعدوں سے منہ موڑ گئے۔

آمریتوں کے خلاف علم بغاوت بلند کرنا، ویسے بھی جوئے شیر لانے سے کم تو نہیں ہوا کرتا، لیکن اللہ کے سادہ دل بندوں کے دلوں میں اس کے دین کی محبت اتنے زبردست طریقے سے بھری ہوئی ہے کہ اگر کوئی جھوٹ موٹ بھی صرف ”مدینہ“ ہی کہہ دے تو اللہ کے یہ سادہ دل بندے جان و مال و عزت و آبرو کی قربانی دینے کے لئے تیار ہو جاتے ہیں۔ اسلام سے محبت کا عالم یہ ہے کہ وہ دساتیر اور فلسفہ ہائے سیاست جس کا اسلام سے کسی بھی قسم کا کوئی واسطہ و تعلق بھی نہیں ہو، اگر اس کے ساتھ ”اسلامی“ لگادیا جائے تو یہ اس پر بھی مر مٹنے میں دیر نہیں لگاتے۔ پاکستان میں بسنے والے ان ہی سادہ دل بندوں کی اسلام سے محبت کا فائدہ اٹھاتے ہوئے، جتنے بھی منافقان قوم و ملت ہیں، وہ بھر پور فائدہ اٹھاتے رہے اور آج بھی وہی سب مفاد پرست جمع ہو کر قوم کو ایک مرتبہ پھر بے وقوف بنانے کے لئے نکل کھڑے ہوئے ہیں۔

پاکستان میں اب سے قبل بھی حکومتوں کو ہٹانے کے لئے بڑی بڑی تحاریک چلائی جاتی رہی ہیں اور اس میں بھی کوئی شک شبہ نہیں کہ ان تحریکوں کے نتیجے میں مضبوط سے مضبوط حکومتوں کا دھڑن تختہ ہوتا رہا ہے لیکن کیا کسی نے اس بات پر بھی غور کیا ہے کہ تحریکیں ہر مرتبہ کے دھڑن تختے کے بعد خود تسبیح کے دانوں کے مانند کیوں بکھرتی رہی ہیں۔

ماضی کے متعدد حکومت مخالف اتحادوں کی طرح ایک مرتبہ پھر ”پاکستان ڈیمو کریٹک موومنٹ“ کے نام سے تحریک چلائی جا رہی ہے، جس کا اگر اب تک کوئی واضح مقصد سامنے آیا ہے، تو وہ صرف اور صرف موجودہ حکومت کو گھر بھیجنا ہے۔

یہ تحریک حکومت گرانے میں کس حد تک کامیاب ہوتی ہے، یہ بات قبل از وقت سہی لیکن یہ بات بہت واضح ہو کر سامنے آتی جا رہی ہے کہ اس کی کامیابی (خدا نخواستہ) ملک کی سالمیت کو ٹھیس پہنچانے کے خدشات سے لبالب ہے۔ جس طرح گوجرانوالہ کا جلسہ مسلم لیگ نون کا نمائندہ بنا دیا گیا، اسی طرح کراچی کا جلسہ پی پی پی پی کا نمائندہ بن گیا۔ ان دو جلسوں کی اٹھانیں بتا رہی ہیں کہ جہاں جہاں بھی جلسوں کا انعقاد کیا گیا، وہ پی ڈی ایم کے نہیں وہاں کے مقامی نمائندہ جلسے ہوں گے۔ بلوچستان میں اس کا رنگ کچھ اور ہو گا اور کے پی کے میں کچھ اور۔ ہر پارٹی اپنے اپنے علاقوں میں اپنے اپنے مقاصد کو زیادہ سے زیادہ مضبوط و مستحکم کرے گی، جس پر بظاہر پی ڈی ایم کے سر براہ مولانا فضل الرحمن کو کوئی اعتراض بھی نہیں۔ حکومت گر جانے کے بعد پی ڈی ایم کے ہاتھ کچھ بھی نہیں آئے گا، البتہ علاقائیت اور لسانیت کے نام پر ہر پارٹی اپنے آپ کو مضبوط سے مضبوط تر ضرور کرتی چلے جائے گی۔

اس کا ایک برا پہلو یہ بھی ہے کہ یہ پاکستان کی پہلی تحریک ہے جو حکومت سے زیادہ ”ادارے“ کے خلاف چلائی جاتی نظر آ رہی ہے۔ یہ بات کافی حد تک حقیقت ہے کہ پاکستان میں اب تک کوئی ایک تحریک بھی ”ادارے“ کی آشیرواد کے بغیر چلی ہے اور نہ کسی کامیابی تک پہنچی ہے۔ اگر اس مفروضے کو سامنے رکھا جائے تو گویا وہاں بھی (اللہ نہ کرے) ایک کشاکش والی کیفیت ضرور دکھائی دیتی ہے۔ ایک جانب اپنے اپنے صوبوں، علاقوں اور زبانوں میں سیاست کا تقسیم ہونا اور دوسری جانب مستحکم ادارے کی ساکھ کو کمزور سے کمزور بنانے کی کوشش، مستقبل میں ملک کی سالمیت کے لئے خطرے کی شور مچاتی گھنٹیاں نہیں تو پھر کیا ہے۔

ان سارے نکات کی روشنی میں پی ڈی ایم کی اس چلنے والی تحریک کے متعلق ”ندا فاضلی“ کا یہ شعر بہت پر مغز اور حسب احوال سا لگتا ہے:
ہیں تاک میں شکاری نشانہ ہیں بستیاں
عالم تمام چند مچانوں میں بٹ گیا

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •