کئی چاند تھے سر آسماں : شمس الرحمٰن فاروقی سے ایک گفتگو

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ممتاز ادیب اور نقاد شمس الرحمٰن فاروقی سے 2010 اور 2015 میں لاہور میں تفصیلی انٹرویو کرنے کا موقع ملا، جن میں ان کے معرکہ آرا ناول ’کئی چاند تھے سر آسماں‘ کے بارے میں جو گفتگو ہوئی، اسے یکجا کر کے پیش کرنے کا خیال، بک کارنر جہلم کی طرف سے، اس ناول کے تازہ اور دیدہ زیب ایڈیشن کی اشاعت سے آیا۔ انٹرویوز سے سوالات حذف کر کے جوابات اس انداز میں ترتیب دیے ہیں کہ ’کئی چاند تھے سر آسماں‘ کی کہانی اس کے مصنف کی زبانی بیان ہو جائے۔

***        ***

ناول کے خیال نے کیسے جنم لیا؟

میں نے افسانے لکھے تو انھیں لوگوں نے بہت پسند کیا، اور مجھ سے کہا گیا کہ اور بھی افسانے لکھے جائیں۔ میرے ذہن میں یہ خیال آیا کہ داغ کی شخصیت ایسی ہے کہ اس پر لکھا جاسکتا ہے۔ داغ کے بارے میں پڑھا تو اس کی اماں جان کے حالات بھی پڑھے۔ میں نے کہا کہ یہ تو بہت حیران کن خاتون ہیں، جو صدیوں میں پیدا ہوتی ہے۔ یہاں سے وزیر خانم کی شخصیت کو ناول کا موضوع بنانے کے خیال نے جنم لیا۔

”غالب افسانہ“ کی کامیابی نے مجھے بتایا کہ میں مزید افسانہ نگاری کر سکتا ہوں۔ اس افسانے کی کامیابی نے مزید افسانے لکھوائے۔ پھر ان افسانوں کی کامیابی نے ”کئی چاند تھے سر آسماں“ تک پہنچایا۔ وزیر خانم جس طرح کی عورت ہے اس کے لیے جب تک کوئی پس منظر نہ ہو اس کو صحیح طریقے سے بیان نہیں کر سکتے۔ جس طرح میر کے افسانے میں، میں نے چالیس صفحے کا پس منظر لکھا، تو میں نے سوچا کہ یہاں بھی تاریخی، تہذیبی، واقعاتی، تجرباتی اور سوانحی معاملات کا بیان ہو جس کا منتہاے کمال وزیر خانم ہو۔ وہ ایک باکمال خاتون تھی، جس طرح کی زندگی اس نے اس زمانے میں گزاری آج کی خواتین کے لیے بھی مشکل ہے۔ اس نے ایک مشکل زندگی بسر کی لیکن کبھی حالات سے شکست تسلیم نہیں کی۔

میں نے یہ ناول سردیوں میں شروع کیا، دل کا مریض ہوں اور سردی مجھے بہت بری لگتی ہے کیوں کہ سردی میں تکلیف بڑھ جاتی ہے۔ اس مرض میں نیند بھی کم آتی ہے۔ میں جب یہ ناول لکھنے کے بارے میں سوچ رہا تھا، ان دنوں میری آنکھ رات کو کھل جاتی۔ پھر مجھے نیند نہیں آتی تھی۔ اب دو بجے میری آنکھ کھلی ہے اور میں بیٹھا لکھ رہا ہوں۔ کوئی چیز تو تھی جو مجھے اس عمر میں کام پر مجبور کر رہی تھی۔ اس عمر میں مسائل ہوتے ہیں، بیماریاں ہوتی ہیں، سبھی کام خود ہی کرنا پڑتے ہیں تو یہ سب اللہ کی مہربانی ہے کہ یہ سب کچھ ہو گیا۔ مجھ میں ایک خوبی ہے کہ کام کے دوران کسی قسم کی مداخلت ہو، میرے کام پر اس کا اثر نہیں پڑتا۔ مجھے ناول لکھنے کے دوران مسائل بالخصوص بیماری کے مسائل کی وجہ سے درمیان میں ڈیڑھ برس رکنا پڑا۔ لیکن جب میں نے دوبارہ لکھنا شروع کیا تو مجھے کوئی مشکل نہیں ہوئی۔ وقفوں اور رکاوٹوں کے باوجود ناول کی Integrity کسی سطح پر متاثر نہیں ہوئی۔ ناول لکھنے کے دوران ایک بار کمپیوٹر سے پچاس صفحے اڑ گئے جو مجھے دوبارہ لکھنا پڑے۔ ناول کے ابتدائی ساٹھ صفحات میں نے اپنی بیٹی کے کہنے پر دوبارہ تحریر کیے۔

یہ تاریخی ناول نہیں

تحقیق میں نے ناول کے سلسلے میں اس طرح سے نہیں کی کہ جس طرح سے مغرب میں ہوتا ہے کہ آپ نے ایک موضوع کا انتخاب کیا اور پھر اس پر کتابیں اکٹھی کیں، کوئی بندہ ملازم رکھا، نوٹ بنائے۔ میرے ساتھ اس طرح کا معاملہ تو بالکل نہیں تھا۔ یہ ضرور ہے کہ جن کتابوں کا میں نے ناول کے آخر میں ذکر کیا ہے تو ان کتا بوں سے میں نے یہ کام لیا ہے کہ کسی تاریخ کو Verify یا کسی واقعہ کو Confirm کرنا تھا کہ وہ پہلے کا ہے یا بعد کا ہے۔ یا پھر نیشنل آرکائیوز سے نواب شمس الدین احمد کے مقدمے کے بارے کچھ معلومات ملیں جو عام ذرائع سے نہ مل سکتی تھیں۔

ناول کے بارے میں کہا گیا کہ اس میں جگہ جگہ تحقیق جو ہے، وہ بیانیہ کے اوپر غالب آ گئی ہے۔ میں اس بات کو نہیں مانتا۔ سب سے میں نے یہی سنا کہ آپ کا ناول شروع کیا تو ختم کر کے ہی چین لیا۔ اس میں علمیت زیادہ ہونے کی جہاں تک بات ہے، تو اگر کوئی یہ کہے کہ اس میں فارسی شعر بہت زیادہ ہیں تو بھائی یہ کون سی علمیت ہے؟ جس کلچر کو ہم بیان کرنا چاہتے ہیں اس کلچر میں فارسی اور اردو شاعری گھلی ملی تھی۔ اس زمانے میں لوگ اٹھتے بیٹھتے شعر کہتے اور پڑھتے تھے۔ اس تہذیب کو اگر بیان کرنا ہے، یا اسے میں ری کال کر رہا ہوں تو اس کے جو Obviousتقاضے ہیں ان کو تو میں پورا کروں گا۔

کتاب مصنف کی ملکیت ہے۔ وہ اگر کہے کہ ناول ہے تو وہ ناول ہے۔ مصنف خود اس کا نقشہ بناتا ہے۔ اس کی نیت اور عندیہ بھی کوئی چیز ہوتا ہے۔ معنی نہیں، ہیئت کے اعتبار سے یہ بات کہتا ہوں۔ میں نے تاریخی ناول نہیں لکھا۔ اس میں تاریخی کردار نہیں۔ وہ کردار نہیں، جنھوں نے برصغیرکی تاریخ پر اثر ڈالا ہو۔ ان لوگوں کا ذکر ہے، جو تاریخ کے حاشیے بلکہ حاشیے کے بھی کونے میں ہیں۔ اس میں تاریخ وغیرہ کچھ نہیں، اس تہذیب کا بیان ہے، جس کو ہم بھول چکے ہیں، اور نہیں جانتے کہ کبھی وہ تھی۔ یہ ناول لڑکی کے بارے میں ہے، جو بہت خوبصورت ہے۔ بڑھاپے کا اس پر اثر نہیں۔ شعر پڑھتی ہے۔ بذلہ سنج ہے۔ مسلمان گھرانے سے ہے۔ باہمت ہے۔ اپنے لیے خود انتخاب کرتی ہے، اس کے لیے لڑتی ہے، اس کا نتیجہ اچھا ہو برا ہو اس کی پروا نہیں۔

1857 اور 1947 کی جو دوہری Disunity ہے، اس کے بغیر میں ناول نہیں لکھ سکتا تھا۔ اس Disunity نے ہمیں اپنی تہذیب سے اتنا بیگانہ اور دور کر دیا ہے کہ اب ہم اسے تلاش بھی نہیں کر سکتے۔ بالفرض اگر اس کلچر کو تلاش کرنے کی کنجی ہمیں مل بھی جائے تو ہمیں معلوم ہی نہیں ہوگا کہ اس کا استعمال کس طرح کرنا ہے۔

منظر جسے لکھتے ہوئے مشکل پیش آئی

ناول کے ترجمے میں نہیں لیکن جب اردو میں ناول لکھ رہا تھا تو ایک مقام پر مشکل پیش آئی۔ وزیر خانم جب نواب شمس الدین کے گھر جاتی ہے، تو اب معاملہ یہ ہے کہ شب باشی کا مرحلہ کیسے لایا جائے، کس نہج سے لایا جائے، یہ بھی نہ لگے کہ وزیر خانم اتاؤلی ہو رہی ہے، نہ ہی وہ مجبور لگے، اس کا وقار اور تمکنت برقرار رہے۔ اس سے قبل دونوں میں ملاقات رہ چکی ہے، خط کتابت ہو چکی، تحفے تحائف کا معاملہ بھی ہو گیا تھا، جس کے بارے میں لکھ آیا تھا لیکن نواب شمس الدین کے ہاں اس کا جانا اور بات آگے بڑھانا مجھے مشکل لگا لیکن ہو گیا اور میں نے اسے لکھ ڈالا جس کی لوگوں نے تعریف بھی کی۔

کھانے کا ذکر تو ہے ناول میں، انتظار صاحب کی مراد تھی کھانوں کے نام نہیں، جیسے داستانوں میں ہوتے ہیں۔ جب انھوں نے لکھا تو خیال آیا کہ میں نے ایسا کیوں نہ کیا۔ وجہ یہ کہ مجھے یہ بڑی ڈیڈ سی فہرست لگتی ہے۔ مثلاً روٹی کی پندرہ قسمیں ہیں، ان میں سے بارہ کو میں جانتا نہیں کہ کیسی ہوتی ہیں۔ اگر میں ایسا کرتا تو فہرست سازی ہوتی۔ سوچ سوچ کر کھانوں کے نام ڈالنا فہرست سازی اور مکینیکل سا کام لگتا۔ اس کے بجائے دوسری چیزوں کا بیان اہم لگا جیسے کپڑوں یا زیورات کے بارے میں لکھنا۔

زبان کا تخلیقی استعمال

زبان کے معاملے میں حتی الامکان کوشش کی ہے کہ جس زمانے کا ذکر ہو، اس زمانے کے مطابق زبان کا استعمال ہو کیوں کہ اس زمانے کے انسان کا صحیح مزاج اور اس کی شخصیت کے جو مختلف رنگ ہیں وہ اس دور کی زبان کے بغیر کھلتے نہیں ہیں۔ زبان کے استعمال سے ہی آپ اس پرانی تہذیب کو جلوہ گر کر سکتے ہیں۔ میں نے ناول میں ایسا کوئی لفظ نہیں لکھا جو اس زمانے میں مستعمل نہ ہو۔ جہاں مجھے شک ہوا اور شک بھی وہیں ہوا جہاں ہونا چاہیے تھا تو میں نے وہ لفظ چھوڑ دیا۔

کلام میر اور داستانوں سے شغف

ناول لکھنے کے سلسلے میں میر کا کلام میرا بہت بڑا رہبر ثابت ہوا۔ میر میں یہ خوبی ہے کہ جو بھی اسے چھو لیتا ہے اس میں کچھ نہ کچھ سنہرا پن ضرور جھلک جاتا ہے۔ ناول کے لکھنے میں داستانوں سے شغف، لفظوں سے دلچسپی اور ادب کی کلاسیکی روایت سے لگاؤ نے بھی اہم کردار ادا کیا۔ ناول کو برصغیر میں بھی اور باہر بھی لوگوں نے بہت سراہا ہے۔ ناول کو عام طور پر دیر سے جگہ ملتی ہے، لیکن شائع ہوتے ہی اس کا نوٹس لیا گیا، یا ناول کے ساتھ یہ ہوتا ہے کہ اشاعت کے کچھ عرصہ بعد اسے لوگ بھلانے لگتے ہیں لیکن شائع ہونے سے لے کر اب تک اس ناول کی مانگ برقرار ہے۔ جہاں تک یہ معاملہ ہے کہ ناول کی مقبولیت اور پذیرائی کی وجہ سے میری جو دوسری علمی حیثیات ہیں، وہ ذرا پیچھے رہ گئی ہیں تو اس کی مجھے فکر نہیں کیوں کہ تخلیقی کام کی اہمیت اور زندگی کسی بھی دوسرے علمی کام سے زیادہ ہوتی ہے۔

مصنف بطور مترجم

’اپنی تحریر کو ترجمہ کرنے میں آزادی ہو جاتی ہے۔ کسی دوسرے کے فکشن کو ترجمہ کریں تو متن سے وفادار رہنا ہوتا ہے اور اس کا احترام کرنا پڑتا ہے۔ متن میرا اپنا ہے تو مجھے آزادی ہے کہ اگر کوئی اردو کا لفظ انگریزی میں کہیں آہی نہیں رہا یا انگریزی کے آہنگ میں فٹ نہیں بیٹھ رہا تو میں کچھ اور لکھ سکتا ہوں۔ مجھے معلوم ہے مافی الضمیر کیا ہے۔‘ کئی چاند تھے سر آسماں ’کے ترجمے کے بارے میں شکایت ہوئی کہ انگریزی پرانی اور مشکل ہے۔ اردو میں جس عہد کا بیان ہے، اس کا آج کی انگریزی میں ترجمہ نہیں ہو سکتا تھا۔ اس ذائقہ کو تھوڑا برقرار رکھنے کے لیے، جدید انگریزی تقاضے پورے نہیں کر سکتی تھی۔ محنت تو ہے، لیکن لفظوں میں بچپن سے دلچسپی ہے۔ جہاں نیا لفظ سنا، کان کھڑے ہو گئے۔ ہمارے زمانے میں تو کیا، اب بھی جو انگریزی پڑھائی جاتی ہے، وہ زیادہ تر اٹھارہویں انیسویں صدی تک آ کر ختم ہوجاتی ہے۔ اب اس زمانے کی کتابوں کے جو نئے ایڈیشن بنے ہیں، طالب علموں کو پڑھانے کے لیے، ان کے حاشیہ میں ایسے ایسے الفاظ کے معنی ہیں، جو میرے خیال میں بالکل سامنے کے ہیں اور ان کے معنی مجھے خوب معلوم ہیں۔ بیس بائیس برس کا جو لڑکا امریکا اور لندن میں پڑھ رہا ہے، اس کے لیے یہ الفاظ غیرمانوس ہیں۔ انگریزی پڑھی بہت ہے، اس لیے مجھے پرانے الفاظ یاد تھے، اس لیے زیادہ ڈھونڈنا نہیں پڑا۔ ترجمے میں ایک سال، ایک مہینہ لگا۔ ترجمے میں ناول کی جزیات اور پروٹوکول سب آ گئے۔ فارسیت اس کی قربان کرنی پڑی جو ایک اضافی لطف تھا۔ عورتوں کی زبان قربان کرنی پڑی۔

علامتی اسلوب کے مداح کا اس اسلوب سے گریز کیوں؟

یہ بات کئی لوگوں نے کہی۔ میں نے یہ تھوڑی کہا تھا کہ لکھنے کا صرف ایک اسلوب ہے، جس کو اختیار کریں۔ میں نے تو کہا کہ کئی طرح کے اسلوب ہو سکتے ہیں، اور آج میں جس اسلوب کی سفارش کر رہا ہوں، وہ پرانے اسالیب سے ہٹ کر ہے۔ پرانا منسوخ کبھی نہیں ہوتا، پرانے کو استعمال کرنے کا سلیقہ آنا چاہیے۔ میں نے یہ تھوڑی کہا کہ اس طرح کا افسانہ نہ لکھیں، نہ کہا کہ آپ اس طرح کا افسانہ ہی لکھیں۔ میں نے بات کی کہ آپ کو آزادی ہونی چاہیے یہ نہیں کہ افسانے کا جو نمونہ پریم چند نے بنا دیا یا منٹو نے بنا دیا، اس کے پابند ہو کر رہ جائیں اور اس سے آگے نہ جائیں۔ میں نے جب تجریدی اور علامتی افسانے کو سراہا تو ساتھ میں یہ تو نہیں کہا کہ اور طرح کی چیزیں نہ لکھو۔ میں نے ”شب خون“ میں ”منزل ہے کہاں تیری“ کے نام سے تجریدی رنگ میں افسانہ لکھا۔ یہ نہیں کہ میں اس رنگ میں لکھنے پر قادر نہیں۔ لیکن مجھے آزادی ہے کہ جو بات مجھے کہنی ہے، اس کے لیے جو ہیئت مجھے پسند ہے، اسے استعمال کرتا ہوں۔

میں اس تہذیب کے بارے میں لکھ رہا ہوں، جس کے بارے میں لوگوں کا کہنا ہے، وہ ہے ہی نہیں، اکثر لوگوں کے خیال میں وہ کبھی تھی ہی نہیں، اس کو میں کسی صورت سامنے لانا چاہتا ہوں۔ بتا رہا ہوں کہ وہ تہذیب اس طرح سے تھی، لوگوں کی داخلی زندگی تھی، وہ عقل و شعور رکھتے تھے، عشق کے بارے میں ان کے تصورات تھے، یہ نہیں کہ ہمارا کوئی ماضی ہی نہیں تھا۔ ہم بالکل جاہل اجڈ اور غیر ترقی یافتہ تھے۔ ہم نے تو دنیا دیکھی نہیں تھی، جب نیا زمانہ آیا تو ہماری آنکھ کھلی۔ میں نے بتایا کہ نہیں ہماری بھی ایک زندہ تہذیب تھی۔ اگر ان باتوں کے لیے انور سجاد یا سریندر پرکاش کا اسلوب اختیار کروں تو سامنے ہی کچھ نہیں آئے گا۔ وہ جس تہذیب کے افسانے ہیں، وہ اپنی جگہ درست اورمعتبر، اور میں جس تہذیب کے بارے میں لکھ رہا ہوں وہ بھی درست اور معتبر لیکن فرق یہ ہے کہ وہ تہذیب زندہ ہے اور میں جس تہذیب پر لکھ رہا ہوں وہ زندہ نہیں، اور لوگوں کے ذہنوں میں اس کا کوئی نقش نہیں۔

فکشن میں اپنا زمانہ کیوں نہیں؟

لڑکپن میں جب میں خود کو فکشن نگار بنانے کی کوشش کر رہا تھا، آس پاس زندگی میں جو ہو رہا تھا اسے دیکھتا تھا۔ اس کے بارے میں ایک آدھ افسانہ لکھا۔ تعریف بھی ہوئی۔ ”دلدل سے باہر“ کے نام سے پچاس اکاون میں ناولٹ لکھا جو چار قسطوں میں ”معیار“ میرٹھ میں شائع ہوا۔ ایک دوست کے پاس ہے، وہ اسے چھپوانے کی دھمکی دیتے رہتے ہیں۔ ہاتھ جوڑتا ہوں کہ بھائی معاف کردو۔ اس میں یہی تھا کہ دیہاتی زندگی سے شہری زندگی میں لڑکا جاتا ہے، تواسے عشق وشق ہوجاتا ہے۔ اس کے بعد فکشن لکھنا چھوڑ دیا۔ اٹھارہ بیس برس پہلے دوبارہ فکشن کی طرف آیا، تو اب یہ ہے کہ زندگی کے عام واقعات یا چیزیں ہیں، ان کو فکشن میں ڈھال دوں، تو اس سے میں خود کو قاصر پاتا ہوں۔ مجھے فکشن لکھنے کے لیے ہمیشہ فاصلہ چاہیے ہوتا ہے۔ روزمرہ کی چیزیں میرے لیے افسانہ نہیں بنتیں۔ فکشن میں کوشش کرتا ہوں، جو بہت پہلے ہو چکا ہے، اسے دوبارہ لا سکوں۔

کہانی لکھی جا رہی ہے

” قبض زماں“ کے بعد ایک ناول شروع کیا ہے۔ اس کا پس منظر لکھنؤ ہے۔ جرات کے دو شاگرد تھے۔ دونوں نے طے کیا کہ گومتی کے کنارے جا کر معاملہ طے کریں گے۔ وہاں تلواریں نکل آئیں۔ ایک کم زخمی ہوا۔ دوسرا لڑائی کے بعد زخموں سے چور گھر پہنچا۔ لوگوں نے پوچھا، کیا معاملہ ہوا؟ کیا قصہ ہوا؟ اس نے ظاہر نہ کیا۔ دو دن بعد مر گیا۔ اب جو صاحب قاتل تھے، اس ڈرسے کہ مقتول کے گھروالے پکڑیں گے یا پولیس والے، اس لیے وہ ڈرکے مارے دلی بھاگ گئے۔

وہاں جا کر خواجہ میر درد کے شاگرد ہو گئے۔ چند برس دلی میں رہے۔ پھر سوچا اب معاملہ دب گیا ہوگا۔ لوگ بھول گئے ہوں گے۔ لکھنؤ کے لوگوں کو کچھ خبرتھی کہ یہ وہی آدمی ہے، جس نے مارا ہے۔ اب اس کی لکھنؤ آمد کا لوگوں کا نہ جانے کس طرح پتا چلا کہ قاتل شہر میں پہنچا تو اسے مار دیا۔ پرانے تذکرے پڑھتا رہتا ہوں۔ ان میں جرات کے ان شاگردوں کا احوال پڑھنے کو ملا جو دلچسپ لگا۔ اب یہ چھوٹی سی کہانی ہے اس کو پھیلاؤں گا۔ یہ اہم لوگ نہیں تھے۔ لکھنو اور دلی کا ماحول آ جائے گا۔ انشا او ر جرات کو ڈالیں گے۔ لکھنؤ کی تہذیب کی اصل صورت بیان کرنے کی کوشش کروں گا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •