ایک امریکی سیاست دان سے ملاقات

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

نیویارک میں رواں ہفتے، اپنے پرائمری ڈاکٹر سے اپوائنٹمنٹ تھی۔ ڈاکٹر نے ایک سائیڈ کی کڈنی میں انفیکشن خیال کرتے ہوئے مزید ٹسٹ تجویز کیے۔ جن میں بلڈ ورک، ایکسرے اور گردوں کا الٹراساؤنڈ بھی شامل تھا۔ انہی ٹیسٹوں کے لیے ہم نیویارک کے علاقے فلیشنگ میں واقع لینیکس نامی لیب پہنچے تھے۔

لیب کے پارکنگ ایریا میں میری نظر پہلے سے موجود پرانے ماڈل کی گاڑی ”جیگوار“ پر پڑی۔ جس کی سائیڈ والے شیشے پر لگے سٹکر پر ”سٹیٹ اسمبلی کی نشست پر امیدوار بن سنگر کو ووٹ دیں“ ۔ کے الفاظ درج تھے۔

امریکا میں ہونے والے صدارتی، کانگریس، ریاستی اسمبلیوں اور سٹی اور کاؤنٹی امیدوار، انتخابات میں حصہ لینے کے لیے مختلف طریقوں سے اپنی تشہیری مہم چلاتے ہیں۔ روایتی مہم، جس میں ٹی وی چینل پر لائیو مباحثوں کے علاوہ مختلف اخبارات و جرائد میں اشتہارات کے علاوہ سڑکوں اور گلیوں کے چوراہوں پر چھوٹے بڑے سائز کے ہورڈنگ بھی شامل ہوتے ہیں۔ موجودہ انتخابی گہما گہمی میں لوگ اپنی من پسند پارٹیوں اور امیدواروں کے سٹیکر بھی اپنی گاڑیوں پر آویزاں کیے ہوئے نظر آتے ہیں۔

کرونا کی وبا کے با وجود، امریکا کی اکثر ریاستوں میں اگر چہ قبل از وقت پولنگ شروع ہو چکی ہے۔ نیویارک سمیت دیگر چند ریاستوں میں ارلی ووٹنگ چوبیس اکتوبر سے شروع ہو رہی ہے۔ جو تین نومبر تک جاری رہے گی۔ تاہم صدارتی انتخابات کا بڑا انتخابی معرکا تین نومبر کو ہی برپا ہو گا۔

تین نومبر کو ہونے والے انتخابات میں کروڑوں امریکی رائے دہندگان صدر کے علاوہ کانگریس کے ایوان نمائندگان کے 435، سینٹ کے 35 اور پچاس امریکی ریاستوں کے سات ہزار سے زائد اراکین کا انتخاب کریں گے۔

اب پارکنگ لاٹ میں نظر آنے والی گاڑی جس پر ووٹ بن سنگر، فار نیویارک سٹیٹ اسمبلی، والے سٹیکر کی جانب چلتے ہیں۔ پارکنگ لاٹ میں کھڑی گاڑی پر لگے“بن سنگر” کے متعلق مجھے جاننے کا تجسس پیدا ہوا تو میں اس گاڑی کے پاس پہنچ گیا، جس میں بڑی عمر کے ایک صاحب تشریف فرما تھے۔ ہیلو ہائے کے بعد جب میں نے ایک ہاتھ سے اشارہ گاڑی پر لگے سٹیکر اور دوسرے ہاتھ سے اشارہ بڑے میاں کی جانب کیا۔ اور پوچھا کہ “کیا آپ ہی بن سنگر ہیں؟” تو اس پر انہوں نے اپنی گاڑی کا شیشہ مزید نیچے کیا اور چہرے پر خوش گوار مسکراہٹ سجا کر اثبات میں سر ہلایا۔

مزید تعارف ہوا تو دوران گفتگو انہوں نے بتایا کہ ان کا اصل نام بنجمن۔ بی۔ سنگر ہے۔ تاہم عوامی اور سیاسی حلقوں میں وہ بن سنگر کے نام سے معروف ہیں۔ وہ 1929ء میں فلیشنگ، نیویارک میں پیدا ہوئے۔ ابتدائی تعلیم مقامی سکول پی ایس 20 اور ہائی سکول کا امتحان پبلک ہائی سکول فلیشنگ، نیویارک سے پاس کیا۔ کالج کی تعلیم سٹی کالج آف نیویارک سے حاصل کی۔ انہوں نے مزید بتایا کہ بارہ سال کی عمر میں وہ بوائے اسکاؤٹس کے ساتھ منسلک ہو گئے تھے۔ بعد ازاں وہ ایگل سکاؤٹ بھی بنے۔

بن سنگر کا کہنا تھا کہ وہ ایک سابق ریٹائرڈ فوجی ہیں۔ انہوں نے امریکا کی جانب سے لڑتے ہوئے کورین وار (1950۔ 1953) میں حصہ بھی لیا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ فل ٹائم سیاست دان ہیں اور گزشتہ کئی سال سے مقامی سیاست میں سرگرم ہیں۔ وہ نیویارک سٹیٹ اسمبلی کے حلقہ 22 کے انتخابات میں حصہ لیتے رہے ہیں۔

اپنی عمر اور سیاست کے متعلق پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں بن سنگر نے خوش دلی سے جواب دیا کہ اگلے سال فروری میں ان کی عمر 92 سال ہو جائے گی۔ اتنی عمر میں سیاست اور متحرک زندگی؟ کے جواب میں وہ برجستہ گویا ہوئے کہ سیاست دان کبھی ریٹائر نہیں ہوتا۔ اور نا ہی بڑھاپے کو سیاست کی راہ میں حائل ہونے دینا چاہیے۔

عمر رسیدہ مگر تجربہ کار سیاست دان بن سنگر کا موجودہ امریکی صدارتی انتخابات کے نتائج کے بارے میں کہنا تھا کہ اگلے ماہ ہونے والا صدارتی انتخاب صرف ٹرمپ اور بائیڈن کے درمیان محض ایک الیکشن نہیں ہے۔ یہ ایک طرح سے ٹرمپ اور جمہوریت کے مابین انتخاب ہے، اور انہیں یقین ہے کہ جمہوریت جیتے گی۔

بن سنگر نے اپنی سیاسی وابستگی کے حوالے سے بتایا کہ وہ شروع سے ہی ڈیموکریٹک پارٹی کے ساتھ وابستہ ہیں۔ فلیشنگ ڈیموکریٹ کلب کے فعال ممبر اور گزشتہ کئی انتخابات کی پرائمری میں حصہ لے چکے ہیں۔ ماضی میں وہ فلیشنگ کی موجودہ کانگریس وومن گریس منگ کے والد جم منگ کے ساتھ بھی ڈیموکریٹک پارٹی کی جانب سے پرائمری انتخابات میں مد مقابل رہے ہیں۔ ڈیموکریٹک پارٹی کی جانب سے نیویارک کے علاقے فلیشنگ کی سیاست میں متحرک، تجربہ کار اور سینئر سیاست دان بن سنگر اپنی سیاسی زندگی کے علاوہ دیگر کئی گروپوں کے ساتھ بھی سرگرم ہیں۔

بن سنگر نیویارک کے علاقے وائٹ اسٹون میں سابق فوجیوں کی تنظیم وی ایف ڈبلیو (ویٹرن آف فارن وارز) پوسٹ 4787 سے وابستہ ہیں۔ وہ جنگ کے سابق جیوئش فوجیوں کے سینیئر وائس کمانڈر اور سابق فوجیوں کے مفاد میں کام کرنے والے ادارے امریکن لیجئین کے کمانڈر کی حیثیت سے اپنی خدمات سر انجام دے چکے ہیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •