جنسی تعلق سے پہلے اور بعد مردوں اور خواتین کو حفظان صحت کی کون سی آٹھ عادات اپنانی چاہییں؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

سیکس ایجوکیشن

وبا کے اس دور میں پہلے سے کہیں زیادہ اپنے ہاتھوں کو دھونے کی ضرورت ہے اور ماہرین صحت کی جانب سے اس کی پُرزور انداز میں تاکید کی جا رہی ہے لیکن کیا کسی کے ساتھ جنسی تعلق قائم کرنے سے قبل اور بعد میں بھی ایسا کرنا ضروری ہے؟

جی ہاں ایسا کرنا بہت ضروری ہے مگر یہ بہت سے افراد کے لیے مشکل ہو سکتا ہے کیونکہ آپ کو کیسا لگے گا کہ مباشرت سے قبل کے پُرلطف لمحات میں خلل ڈال کر آپ اپنے پارٹنر سے یہ پوچھنے بیٹھ جائیں ’کیا آپ نے ہاتھ دھوئے ہیں؟‘

تاہم ماہر جنسیات (سیکسولوجسٹس) کا اصرار ہے کہ میاں بیوی کے مباشرت کے تعلقات سے قبل یہ جسمانی صفائی کا پہلا اور بنیادی اصول ہے اور اعضائے مخصوصہ میں ہونے والے انفیکشن سے بچنے کا انتہائی آسان اور سادہ سا حل۔

تھامارا مارٹنیز فارینیس ایسپل انسٹیٹیوٹ سے وابستہ ایک ماہر نفسیات و جنسیات ہیں۔ بی بی سی منڈو سے بات کرتے ہوئے انھوں نے بتایا کہ ’جنسی عمل سے قبل ہاتھوں، منھ اور دانتوں کی صفائی ضروری ہے کیونکہ جماع کے دوران یہ اعضا آپ کے پارٹنر کے اعضا سے مس ہوتے ہیں۔‘

انھوں نے بتایا کہ اپنے ہاتھوں کے علاوہ آپ کو روزانہ اپنے اعضائے مخصوصہ کو بھی صاف ستھرا کرنا چاہیے۔ انھوں نے کہا کہ صرف ’کوئیک واش (یعنی جلدبازی میں صفائی)‘ کافی نہیں۔

ماہر نفسیات و جنسیات وائسینٹ بریٹ کہتے ہیں کہ ’جنسی حفظانِ صحت بہت اہمیت کی حاصل ہے کیونکہ یہ جنسی طور پر منتقل ہونے والے انفیکشن (ایس ٹی آئی) کو روک سکتی ہے۔‘

وہ کہتے ہیں کہ جنسی حفظان صحت قائم رکھنا نہ صرف آپ کو جنسی طور پر طاقتور بناتا ہے بلکہ آپ کی خواہش مباشرت میں بھی اضافہ کرتا ہے۔

انھوں نے کہا کہ بدن اور جنسی اعضا کو باقاعدگی سے صاف ستھرا رکھنا ہی کسی جوڑے کے جنسی تعلق کو مزید مضبوط بنانے کی بنیاد فراہم کرتا ہے۔

مرد حضرات کے لیے ہدایات

برطانیہ کے پبلک ہیلتھ سروس (این ایچ ایس) نے اپنی ویب سائٹ پر یہ وضاحت کی ہے کہ مرد اور خواتین کو کس طرح اپنے اپنے اعضائے مخصوصہ کی مناسب صفائی ستھرائی کا بندوبست رکھنا چاہیے۔

مردوں کے لیے ضروری ہے کہ وہ شاور یا غسل کرتے وقت ہر روز اپنے عضو تناسل کو گرم پانی سے اچھی طرح دھوئیں خاص طور پر عضو کے ان حصوں کو جلد سے ڈھکے ہوتے تاکہ اس جگہ سمیگما یعنی لیس دار مادہ جمع نہ ہو پائے۔ سمیگما ایک لیس دار اینٹی بیکٹیریل ایجنٹ ہے۔

ڈاکٹر بریٹ کا کہنا ہے کہ ’سمیگما کے اکھٹے ہونے سے بچنے کا بنیادی علاج مرد کے عضو تناسل اور اس کے ارد گرد کی اچھے سے صفائی کرنا ہے۔‘

اگر اس جگہ سمیگما اکھٹا ہو جائے اور صفائی نہ کی جائے تو یہ مضر صحت بیکٹیریا کی افزائش نسل کے لیے مثالی ماحول فراہم کر سکتا ہے جبکہ یہ جسم میں بدبو پیدا کرنے کا باعث بھی بن سکتا ہے۔

ان جگہوں کی صفائی نہ کرنا جسم کے اس حصے میں سوجن کا باعث (ورم حشفہ) بھی بن سکتا ہے۔

این ایچ ایس کی ویب سائٹ پر طبی ماہر پیٹرک فرنچ لکھتے ہیں کہ ’یہ بہت حیرت کی بات ہے کہ بہت سے مرد اپنے عضو کے ان حصوں کو نہیں دھوتے جو کھال سے ڈھکے ہوتے ہیں۔ اور اس حوالے سے حفظان صحت کا خیال نہ رکھنا مردوں کے لیے نہ صرف طبی پیچیدگیوں کا باعث بن سکتا ہے بلکہ اس صورتحال کے ان کے پارٹنر پر بھی ناخوشگوار اثرات پڑتے ہیں۔‘

وہ اس بات سے متفق ہیں کہ ’مرد حفظان صحت کے ان اصولوں پر توجہ نہیں دے پاتے۔‘

انھوں نے بی بی سی کو بتایا ’معلومات کی کمی یا لاعلمی کی وجہ سے کچھ مرد اپنے مخصوص عضو کو صحیح طریقے سے نہ دھونے کی غلطی کرتے ہیں اس کے باوجود کہ اس کے منفی نتائج ہوتے ہیں جیسا کہ بدبو پیدا ہو جاتا، تکلیف اور انفیکشن۔‘

وہ وضاحت کرتے ہیں کہ مردوں کے جسم کا یہ حصہ انفیکشن اور دیگر یورولوجی مسائل کے پیدا ہونے کے لیے سب سے موزوں جگہ ہے۔

انھوں نے کہا کہ مرد کے جسم کا یہ وہ حصہ پیشاب اور مادہ منویہ کے اخراج کی جگہ ہے، جن کے جسم میں اکھٹے ہونے سے انفیکشن ہو جاتا ہے، بلکہ یہ وہ جگہ بھی ہے جو بہت زیادہ حساس ہے۔

وہ کہتے ہیں کہ اس کے علاوہ اگر ہم ان جگہوں پر پسینہ اکھٹا ہونے دیں گے اور انھیں باقاعدگی سے اچھی طرح دھوئیں گے نہیں تو ہمارا یہ عمل بیکٹیریا اور فنگس کے پھیلاؤ کو آسان بنا دے گا۔

این ایچ ایس مرد کے عضو مخصوصہ کے حصوں پر بہت سارا صابن اور شاور جیل کا استعمال نہ کرنے کا بھی مشورہ دیتا ہے اور ماہرین کے مطابق صرف صاف پانی سے اچھی طرح دھونا ہی کافی ہو سکتا ہے۔

این ایچ ایس کے مطابق اگر صابن استعمال بھی کرنا ہے تو ایسے ’ہلکا یا غیرخوشبودار ہونا چاہیے۔‘ یعنی صابن ایسا نہ ہو جو اپنے اندر موجود کیمیکلز کے باعث حساس جلد کے لیے تکلیف کا باعث بنے۔

’عضو تناسل کے پوشیدہ حصوں کو وافر مقدار میں پانی اور کم کیمیکل والے صابن کے استعمال سے صاف کیا جا سکتا ہے۔‘

خواتین کے لیے ہدایات

طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ بہت سی کمپنیاں اور صنعتیں خواتین کی اندام نہانی کی حفظان صحت کے لیے کام کر رہی ہیں تاہم اس حوالے سے غلط معلومات بہت زیادہ عام ہیں۔

این ایچ ایس ویب سائٹ کے مطابق ’قدرتی طور پر اندام نہانی خواتین کے جسم سے نکلنے والی رطوبتوں (وجائینل ڈسچارج) کی مدد سے اپنی صفائی خود کر لیتی ہے۔ اور مزید صفائی کے لیے اسے وجائینل وائپس کی ضرورت نہیں ہوتی۔‘

’اندام نہانی کے اندر قدرتی طور پر ایسا بہت سارے محفوظ بیکٹیریا موجود ہیں جو اس کی حفاظت کرتے ہیں۔‘

درحقیقت اندام نہانی کی صفائی کے لیے بازار میں دستیاب بہت سی کاسمیٹک مصنوعات کو طبی ماہرین اور ماہرین جنسیات نہ صرف غیر ضروری بلکہ خطرناک سمجھتے ہیں۔

تھامارا مارٹنیز کہتی ہیں کہ ’فرج (اندام نہانی کا انتہائی بیرونی حصہ) کو صابن دیگر دستیاب مصنوعات سے صاف ستھرا کیا جا سکتا ہے مگر پھر بھی ان اشیا کا استعمال اس بات پر منحصر ہے کہ کیا ایسا کرنے سے آپ کو جلن تو نہیں ہوتی یا انفیکشن تو نہیں ہو جاتا۔ میں تجویز کرتی ہوں کہ خواتین کے جسم کے اس حصے کو دن میں کم از کم ایک مرتبہ لازماً پانی سے دھوئیں۔‘

تاہم ماہرین جنسیات اس بات پر متفق ہیں کہ فرج کے علاوہ اندام نہانی کے اندر کے حصوں بازار میں دستیاب مصنوعات سے صاف کرنے کے خطرات فوائد سے کہیں زیادہ ہو سکتے ہیں اسی لیے وہ ان مصنوعات کو استعمال کرنے کی ہرگز سفارش نہیں کرتے ہیں۔

ایسی مصنوعات کو استعمال کرنے سے درج ذیل ممکنہ خطرات یا منفی ردعمل ہو سکتے ہیں:

  • پی ایچ میں تبدیلی (جلد کی ہائیڈروجن کی صلاحیت)
  • جلن اور کھجلی
  • اس مادے میں کمی جو اندام نہانی کو چکنا رکھتا ہے
  • الرجی
  • بیماریوں کے لگنے کے خطرے میں اضافہ
  • حمل کے دوران پیدا ہونے والی پیچیدگیاں، جیسا کہ قبل از وقت پیدائش کے خطرات کا بڑھ جانا

ماہرین صحت کا کہنا ہے کہ قدرتی طور پر ’ہمارا جسم اتنا عقلمند ہے کہ وہ اپنی داخلی حفظان صحت کو برقرار رکھنے کا طریقہ جانتا ہے۔‘ یعنی ہمیں صرف باقاعدگی سے بیرونی حصوں کی صفائی کو یقینی بنانا ہوتا ہے۔

برائٹ کا کہنا ہے کہ خواتین کے عضو مخصوصہ اور اس کے ارد گرد کے حصے پر خارش سے نمٹنے کے لیے نمدار کر دینے والی کریمیں موجود ہیں تاہم ایسی تمام مصنوعات سے دور رہنا چاہیے جن کا استعمال اس حصے کو خوشبودار بنانے کے لیے کیا جاتا ہے جیسا کہ خوشبودار صابن یا ڈیوڈرینٹس وغیرہ کیونکہ ان کے استعمال سے جسم کے اس حصے میں بیکٹیریا کے ممکنہ حملوں کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔

برائٹ ڈوچنگ یا خوشبو والے پیڈ استعمال کرنے کے خلاف بھی مشورہ دیتے ہیں۔

انھوں نے واضح کیا ’اندام نہانی عام طور پر خود کو صاف کرتی ہے۔ اس کی اندرونی جلد خود سے سیال مادہ پیدا کرتی ہیں جو مردہ خلیوں اور دیگر خرد نامیوں کو جسم سے باہر لے جاتا ہے۔‘

انھوں نے کہا کہ ایام ماہواری میں تو خواتین کو اس حوالے سے انتہائی احتیاطی تدابیر اختیار کرنی چاہییں۔

مرد اور خواتین، دونوں کے لیے ہدایات

ماہرین جنسیات کا مرد اور خواتین دونوں کے لیے پہلا مشورہ یہ ہے کہ وہ مباشرت سے پہلے اور بعد میں رفع حاجت (پیشاب) ضرور کریں۔

مارٹنز کہتے ہیں ’ناپسندیدہ انفیکشن سے بچنے کے جنسی جماع کے بعد پیشاب کرنا ایک بہترین اقدام ہے۔‘

’جنسی جماع کے اختتام پر باتھ روم جانا اور پیشاب کرنا جسم سے ہر اس مضر صحت چیز کو خارج کر دیتا ہے جو اس عمل کے دوران پیدا ہوتی ہیں۔ اور ایسا کرنا ان مضر صحت اشیا کو جسم کے اندر حساس حصوں تک نہیں پہنچنے دیتا۔‘

’جبکہ مباشرت سے قبل پیشاب کرنا اس لیے اہم ہے کیونکہ بنیادی طور پر یہ اطمینان بخش تعلقات اور جنسی عمل کے دوران غیر آرام دہ احساس کو دور کرتا ہے۔‘

برائٹ نے مزید کہا کہ یہ مشق ’پیشاب کی نالی کی کچھ بیماریوں کے انفیکشن کی ایک اچھی روک تھام ہے۔‘

انھوں نے کہا کہ ہمیں جنسی تعلقات قائم کرنے کے فوراً بعد پیشاب کرنا چاہیے تاکہ ہم بیماریوں سے بچ پائیں اور انفیکشن کا شکار ہونے کے امکانات کو کم کریں۔

’اور درحقیقت ایسا کرنے میں ناکامی، پیشاب کی نالی کی بیماریوں کے لگنے کی سب سے عام وجوہ میں سے ایک ہے۔‘

برائٹ کے مطابق خواتین کو اس قسم کے انفیکشن کا زیادہ خطرہ ہوتا ہے اور مباشرت کے 15 منٹ کے اندر اندر پیشاب کرنے کی عادت اپنائیں۔

جرنل آف فیملی پریکٹس کی سنہ 2002 میں شائع ہونے والی تحقیق میں کہا گیا ہے کہ صحتمند خواتین جو جماع کے 15 منٹ کے اندر پیشاب کرتی ہیں ان خواتین کے مقابلے میں پیشاب کی نالی کے انفیکشن کا کم شکار ہوتی ہیں جو ایسا نہیں کرتیں۔

اہم سفارشات:

  • روزانہ اعضائے مخصوصہ کو پانی سے صاف کریں
  • ہاتھ، منھ اور دانت صاف کریں
  • صاف انڈرویئر پہنیں اور اگر ممکن ہو تو سوتی کپڑے سے بنا زیر جامہ نہ پہنیں
  • اپنے ڈاکٹر سے ملیں اور سال میں ایک بار معمول کی جانچ پڑتال کریں
  • اعضا کی شکل، رنگ، سائز یا ساخت میں ہونے والی تبدیلیوں کی نشاندہی کریں اور باقاعدگی سے ان کا مشاہدہ کریں
  • جماع کے دوران کنڈوم کا استعمال کریں
  • تمام زیر ناف بالوں کو مونڈنے کی سفارش نہیں کی جاتی ہے کیونکہ بال عام طور پر اعضائے مخصوصہ کے لیے حفاظت کا کام کرتے ہیں، ان کو تراشنا بہتر ہے، لیکن انھیں مکمل طور پر نہ ہٹائیں۔
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 16703 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp