ہم چودھویں صدی میں زندہ ہیں

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ناطقہ سر بہ گریباں ہے، عقل محو حیرت ہے، ہوش و خرد انگشت بدنداں ہے، فہم و فراست سر پیٹ رہی ہے، شعور و آگہی سراپا احتجاج ہے اور احترام آدمیت و شرف انسانیت رو پیٹ رہی ہے کہ ہم بحیثیت قوم کدھر جا رہے ہیں۔ نئے پاکستان والوں نے اقتدار کے نشے میں قائد اعظم کے لگائے گئے باغ آزادی میں قومی مفاد، ملکی وقار اور تبدیلی کے نام پر ایسے ایسے گل کھلائے ہیں کہ اقبال و قائد کی روحیں بھی تڑپ اٹھی ہوں گی۔

کراچی میں رو نما ہونے والے واقعے نے ملک عزیز میں برائے نام جمہوریت کا پردہ بھی بری طرح چاک کر دیا۔ نام نہاد جمہوریت کی حقیقت سے یوں تو ہر شخص آشنا تھا، مگر دنیا کو دکھانے کے لیے جمہور اور جمہوریت کا یہ چہرہ بھی غنیمت تھا۔ مگر ہائبرڈ سیٹ اپ نے اس چہرے سے بھی جمہوریت کے مصنوعی غازے کو اتار کر اس کی اصلیت ظاہر کر دی۔ غضب خدا کا اکیسویں صدی میں بھی ہمارا چلن تیرھویں صدی کے فاتحین کی طرح ہے۔ بھارت سے تو ہم شکوہ کرتے ہیں کہ اس نے 65ء میں رات کی تاریکی میں ہم پر حملہ کر کے بزدلی کا ثبوت دیا، مگر ہم نے بھی تو نیم شب کے اندھیرے میں پورے صوبے کی پولیس چیف کو یرغمال بنا کر چادر اور چار دیواری کے تقدس کو پامال کرتے ہوئے ہوٹل کے دروازے توڑ کر ووٹ کو عزت دینے اور مادر ملت زندہ باد کے نعرے لگانے والے ”باغی“ اور ”غدار“ کو گرفتار کر کے، ملک کی جغرافیائی اور نظریاتی سر حدوں کی حفاظت کرنے کی نہایت بھونڈی کوشش کی۔

ادھر معتبر ذرائع کے مطابق فٹیف کے اجلاس میں سعودی عرب، چین اور ترکی جیسے ممالک نے بھی ہمیں گھاس نہیں ڈالی اور ہم حسب دستور گرے لسٹ میں پٹخ دیے گئے۔ گرے لسٹ سے نجات کے لیے تو ہم نے ایسے ایسے غیر انسانی اور جمہوریت و آزادی کش نسخے تجویز کیے تھے کہ جنہیں دیکھ کر بد نام زمانہ رولٹ ایکٹ اور ٹاڈا جیسے قوانین بھی شرمندہ ہو جاتے تھے۔ حیرت اس بات پر ہے کہ ہماری ہائبرڈ حکومت اور اس کے سرپرست اکیسویں صدی میں بھی مکر و فریب، جھوٹ اور دغا بازی سے کام لے کر دنیا کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کی نا کام کوشش کرتے ہیں اور جواب میں منہ کی کھاتے ہیں تو ملک کے اندر غداری کے فتوے جاری کرتے ہیں اور عالمی برادری سے جانبداری کا شکوہ کرنے لگتے ہیں۔

ملکوں کی دوستی کوئی دو لونڈوں کی جذباتی اور ہیجانی دوستی نہیں ہوتی بلکہ ہر ملک اپنا مفاد دیکھ کر عالمی بساط پر فیصلے کرتا ہے۔ سعودی عرب، ترکی اور چین نے مشکل ترین وقتوں میں ہماری مدد کی ہے مگر یہ ممالک کب تک ہمارے جھوٹ اور مکر و ریا پر پردے ڈالتے رہتے۔ جو کچھ ہم کر رہے ہیں کیا عالمی برادری اس سے آگاہ نہیں؟ جب نواز شریف نے آپ کو اپنا گھر صاف کرنے کا صائب مشورہ دیا تھا اور اسلامی ملکوں کا ٹھیکیدار بن کر دندناتے سے گریز کرنے کا کہتا تھا، تو آپ نے نے اس کے خلاف کبھی ڈان لیکس کا شکنجہ کسا اور کبھی پاناما برپا کر کے اقامے پر نکال باہر کیا۔

ایک تو ترکی کے ڈرامے ارطغرل کے مبالغے سے لبریز کردار ارطغرل نے ہمارے دماغ مزید خراب کر دیے ہیں۔ ہم کیوں نہیں تسلیم کرتے کہ دنیا اس قدر آگے جا چکی ہے کہ جہاں جسمانی طاقت اور قوت محض حیوانوں کا فخر بن کر رہ گئی ہے۔ اب دنیا علم، اخلاق، دلیل اور منطق کی طاقت کو مانتی ہے، اقبال کا مرد مومن و شاہین اور ارطغرل جیسے کردار قصۂ پارینہ بن چکے ہیں۔ اگر جسمانی اور عسکری طاقت ہی سب کچھ ہوتی تو سقوط ڈھاکا ہوتا نہ سقوط کشمیر۔

جب سے نئے پاکستان والوں کی حکومت آئی ہے ہر سیاسی حریف کو دھونس اور دھمکی سے ڈرایا جا رہا ہے۔ سوال اٹھانے والوں کو اٹھایا جا رہا ہے۔ پارلیمنٹ کے باہر احتجاجی مظاہرین پر لاٹھیاں برسائی جا رہی ہیں۔ پی ڈی ایم کی قیادت کو گرفتاریوں سے ڈرانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ مخالفین پر ایک پیج والی حکومت کا رعب جمایا جا رہا ہے۔ سندھ فتح کرنے کی دھمکیاں دی جا رہی ہیں۔ ہر مخالف کے خلاف دریدہ دہن اور منہ پھٹ لونڈوں کے ذریعے سب و شتم کا سلسلہ شروع کر رکھا گیا ہے۔

ملک کا وزیر اعظم خود بازاری زبان استعمال کر رہے ہیں۔ ووٹ کی پرچی کو عزت دینے کا مطالبہ کرنے والوں کو ”برچھی“ سے ڈرایا جا رہا ہے۔ ملک کے حساس اداروں کو جان بوجھ کر متنازع بنایا جا رہا ہے۔ ملک میں انارکی کی کیفیت جنم لے چکی ہے۔ وفاق اور سندھ کے درمیان تناوٴ شدت اختیار کر چکا ہے۔ آئینی بحران پیدا ہو چکا ہے اور ہمارے ذمہ داران مکالمے کی جگہ اپنی زبان سے آگ اگل رہے ہیں۔ وہ ہر بات، ہر مطالبے کے جواب میں دریدہ دہنی سے دھمکیاں دے رہے ہیں۔

پاکستان میں یہ پہلی حکومت آئی ہے جو مختلف سیاسی و انتظامی امور میں ہوشمندی کا مظاہرہ کرنے کے بجائے پانی پت کی چوتھی جنگ چھیڑ کر بیٹھی ہے۔ وزیر اعظم کلبھوشن کو تو سپر این آر او دینے کے لیے تیار ہیں مگر اداروں اور عوام کی بہتری کے لیے اپوزیشن کے ساتھ بیٹھنے کے روادار نہیں۔ جس کا نتیجہ یہ نکلا ہے کہ ہمارے آرمی چیف کو اپوزیشن سے مکالمہ و مذاکرات کرنا پڑتے ہیں۔

وزیر اعظم بار بار سیاسی اختلاف رکھنے والوں کو گرفتاریوں اور جیلوں سے ڈرا رہے ہیں۔ انہوں نے سیاسی رواداری کی جگہ نفرت و حقارت کا الاوٴ بھڑکا رکھا ہے۔ ایسے لونڈے لپاڑوں کو وزیر، مشیر بنا رکھا ہے جو ہر وقت میڈیا پر شرفا کی پگڑیاں اچھال رہے ہوتے ہیں۔ وزیر اعظم نے 22 سالہ جد و جہد کے دوران ایک ایسی نسل تیار کر دی ہے، جو دلیل کی جگہ دھمکی، مکالمے کی جگہ گالی، تہذیب و شائستگی کے جواب میں دشنام طرازی اور استدلال کے جواب میں الزام تراشی کا مظاہرہ کر کے وزیر اعظم سے داد و تحسین وصول کرتی ہے۔

ہم دست بستہ نئے پاکستان والوں سے گزارش کریں گے کہ یہ 2020 ہے نا کہ 1320، نہ پاکستان ان کا مفتوحہ علاقہ ہے اور نہ یہ فتوحات کا دور ہے، جس میں وہ لوگوں کو ”برچھی“ سے ڈرا دھمکا کر حکومت کرتے رہیں گے۔ حکومت کرنا ہے تو کارکردگی دکھانا پڑے گی۔ آپ کی گیدڑ بھبکیوں سے اب یہ قوم نہیں ڈرنے والی۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •