مائی نیم از مبارکہ

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

پچھلی قسط میں بتایا گیا تھا کہ بیگم ایدھی نے نازلی اور رچرڈ کو اس حاملہ بچی کی اولاد لینے کے لیے ایک دو ماہ انتظار کرنے کی تلقین کی تھی۔

اگلے دن وہ تینوں کسی کے ہاں کھانے سے رات کو لوٹ رہے تھے۔ واپسی پر وہ ایک ایسے راستے سے گزرے جہاں ایک کھلی جگہ پر ریسٹورانٹ تھا۔ یہاں لوگ شیشہ پی رہے تھے۔ رچرڈ نے ضد کی کہ وہ یہاں کچھ دیر بیٹھ کر شیشہ پیئے گا۔ نازلی نے احتجاج کیا کہ شیشہ صحت کے لئے اچھا نہیں مگر رچرڈ نے ضد کی کہ کبھی کبھار سے کوئی فرق نہیں پڑتا اور کراچی میں تو ویسے بھی اتنا کاربن فضا میں موجود ہے کہ یورپ کے بعض صنعتی شہروں میں بھی اس سے کم کاربن فضا میں ہوگا۔ برصغیر کے کچھ شہروں میں ستر فیصد فضائی آلودگی وہاں کی گاڑیوں کی وجہ سے ہے۔

جب وہ بیٹھ کر وہاں عربی قہوہ اور شیشہ پی رہے تھے تو نازلی کچھ کھوئی کھوئی اور چپ چاپ سی تھی خاکسار نے اس سے اردو میں پوچھ ہی لیا کہ وہ کیوں اتنی اداس ہے۔ ؟

نازلی نے ایک دھماکہ کیا کہ ”وہ اس لڑکی کی بچے کو گود نہیں لینا چاہتی“ ۔

وہ کیوں؟ عدنان نے اس سے استفسار کیا

کہنے لگی کہ ”اس کا کلیجہ اس خیال سے ہی کٹ رہا ہے کہ لڑکی کے ساتھ ایک تو پہلے ہی بہت ظلم ہوا۔ وہ بمشکل موت کے منہ سے واپس آئی ہے، بچہ پیٹ میں ہونے کی وجہ سے وہ جس جذباتی کرب سے گزر رہی ہوگی اس کا اندازہ ایک عورت ہونے کے ناتے وہ بہت اچھی طرح کر سکتی ہے۔ دوسرا ظلم اس لڑکی پر یہ ہوگا کہ جب بچہ پیدا ہوگا تو اس بچے کو اس سے یہ کہہ کر جدا کر دیا جائے گا کہ اس کی موت واقع ہو گئی ہے اور اسے خاموشی سے دفنا دیا گیا ہے۔ مجھے یقین ہے ادارے والے اس بچی کو اس کا بچہ پہلے بھی نہ دیتے۔ اس کا جذباتی پہلو کچھ بھی ہو مگر ان کا فیصلہ دور رس، بے حد پریکٹیکل اور عمدہ ہے۔ اس کا تکلیف دہ پہلو بھی ہے مگر اس کی عملی افادیت اس کی جذباتی نا آسودگی پر بہت بھاری ہے۔

ان کی کوشش یہ ہی ہوگی کہ لڑکی واپس اپنے والدین کے پاس چلی جائے اور یہ راز کہ وہ ایک بچے کی ماں بن چکی ہے ہمیشہ کے لئے اس گھر کی چار دیواری میں دفن ہو جائے جہاں اس نے بچے کو جنم دیا۔ میرے لئے یہ سارا معاملہ ایک بہت بڑا اخلاقی تضاد ہے اور میں اس سے سمجھوتہ نہیں کر سکتی۔ ”

اس بیان کے ساتھ ہی اس کی آنکھوں میں آنسو تیرنے لگے، رچرڈ نے کھڑے ہو کر اپنے کرتے کے دامن سے اس کے آنسو پونچھے۔

نازلی نے ہچکیوں کے درمیان اسے بتایا کہ ”اس نے آج مغرب کی نماز میں اللہ سے دعا کی ہے کہ اسے کوئی اور بچہ گود لینے کے لئے دے۔ وہ اس لڑکی کا بچہ وہ نہیں لے گی۔“

رچرڈ نے خاکسار سے درخواست کی کہ ”کیا وہ کچھ اور بندوبست نہیں کر سکتا؟“

نازلی کہنے لگی وہ تین دن بعد واپس فرینکفرٹ چلی جائے گی۔ اگر کل کچھ ہو جائے تو اچھا ہے وہ دو دن کے لئے رچرڈ کو پرانا لاہور دکھانا چاہتی ہے۔

خاکسار چونکہ صبح خود تو سرکاری طور پر مصروف تھا لہذا وہ نعیم اور عنبرین کو گاڑی کے ساتھ بھیج دے گا۔ نعیم اس کا ایک بہت سمجھدار اور تعلقات والا افسر ہے۔ وہ چاروں واپس اس ادارے کی سربراہ کے پاس جائیں، ان کو اپنی مشکل بتادیں اللہ مسبب الاسباب ہے۔ ہو سکتا ہے کہ کوئی حل نکل آئے۔

واپسی پر انہیں اس ادارے کی کلفٹن برانچ پر رکھا ہوا جھولا دکھایا جس میں بعض دفعہ لوگ خاموشی سے اپنے بچے ڈال جاتے ہیں۔

اگلے دن جب یہ چاروں سینٹر پر پہنچے تو مسز ایدھی انہیں وہاں دیکھ کر شدید برہم ہو گئیں اور فرمانے لگیں ”کیا سمجھتے ہو تم لوگ، بچہ لینا کوئی نانی واڑہ ( نانی کا آنگن ہے ) ہے۔ تم سمجھتے ہو کہ تمھارے پاس دولت ہے تو تم ساری دنیا خرید سکتے ہو، ۔ چپ کر کے یہاں کونے میں بیٹھ جاؤ جب تک میں نہ بولوں، یہاں سے ہلنا نہیں ورنہ آئندہ میرے سینٹر پر مت آنا۔ رچرڈ تو بے چارہ اس کی ڈانٹ کھا کر کمرۂ ملاقات سے باہر نکل گیا اور باہر گلیوں میں ٹہلنے لگا۔ جس معاشرے کا وہ فرد تھا وہاں گفتگو کبھی بھی ان الفاظ میں یا اس طور نہ ہوتی تھی۔

نازلی کو یہ فکر ہوئی کہ وہ ان پرانی کراچی کی گلیوں میں گم نہ ہو جائے، لہذا اس نے آنکھ کے اشارے سے نعیم کو اس کے ساتھ باہر رہنے کو کہا اور خود اس سوچ میں پڑ گئی کہ ادارے کی سربراہ نے انہیں سب کے سامنے ڈانٹ کو چپ چاپ بیٹھ جانے کو کیوں کہا۔

آج مسز ایدھی کا موڈ بہت خراب لگ رہا تھا۔ بچہ گود لینے کے لئے جتنے بھی جوڑے آئے ہوئے تھے تقریباً سب ہی کو ڈانٹ پڑ رہی تھی۔ نازلی نے سوچا کہ آخر میں وہ اس کا اور رچرڈ کا نہ جانے کیا حشر کریں گی۔ جب ملاقاتی ہال سے آخری جوڑا رخصت ہوا تو ا نہون نے دروازہ بند کرنے کو کہا اور والنٹیر کو حکم دیا کہ اس کے میاں کو بھی اندر بلا لے۔ رچرڈ ڈرتے ڈرتے ہال میں داخل ہوا اور اس کے پیچھے دھڑ سے دروازہ بند ہو گیا، نعیم بے چارہ ہال کے باہر ہی رہ گیا۔ نازلی کی ہمت نہ پڑی کہ وہ اسے بھی اندر بلانے کا کہے۔

رچرڈ کے اندر آتے ہی وہ کچھ کہا گیا کہ جس کی وہاں موجود کسی بھی فرد کو ہرگز توقع نہ تھی۔ مسز بلقیس ایدھی نے کہا، ”چل تیرے کو تیرا بچہ دوں“ ۔ وہ انہیں عین اس جگہ لے گئیں جہاں کل ان کی ملاقات اس لڑکی، وہاں موجود بچوں اور وہاں کام کرنے والی والنٹئرز سے ہوئی تھی۔ چند قدم کا یہ فاصلہ عنبرین، نازلی اور طیب کو بھی صدیوں کی مسافت لگا۔

جب وہ اندر پہنچے تو انہوں نے ایک بی بی کو کہا ”الماس! جا وہ بچی لے آ۔“

وہ گئی اور برابر کے کمرے سے ہلکے گلابی Fluffy کمبل میں لپٹی ایک کومل سی بچی لے آئی جو آنکھیں کھولے اپنے نئے ماں باپ کو دیکھے جاتی تھی۔ بچی خوبصورت بھی تھی اور کمبل کو دیکھنے سے لگتی تھی کہ وہ کسی اچھے گھرانے کی تھی۔ اس کی ناف پر جو ایک کلیمپ clamp لگا تھا۔ وہ یہ ظاہر کرتا تھا کہ اور اس کی پیدائش بھی بحفاظت اور صحت مند طریقے سے ہوئی ہے۔ بچی کو پیدا ہوئے ایک آدھ دن سے زیادہ عرصہ نہیں ہوا

مسز ایدھی نے نازلی کا ماتھا چوما اور آہستہ سے دعا دی کہ ”اللہ تیرا اور اس کا دونوں کا نصیبہ اچھا کرے۔ تیرا میاں بہت اچھا آدمی ہے، ادھر کے ہمارے مردوں جیسا وائڑہ (سندھی میمنی اور گجراتی زبان میں غیر سنجیدہ اور نخریلا) نہیں۔ کل رات کو ساڑھے دس بجے ہمارے وہ کلفٹن والے سینٹر پر رات کو ساڑھے دس بجے ایک ٹیکسی آکے رکی۔ ہمارے سینٹر کا انچارج باہر ہی کھڑا تھا۔ جو بڑی بی بچی کو جھولے میں ڈالنے کے لئے کار سے اتری تھی وہ گھبرا گئی مگر ہمارا انچارج بولا کہ میں اندر چلا جاتا ہوں آپ فکر مت کرو اور بچی کو ڈال دو تو عورت نے بچی کو اس کو دے دیا اور خود چلی گئی ٹیکسی میں بیٹھ کے۔“

سادہ لوح نازلی نے پوچھا کہ اچھا وہ لوگ ٹیکسی میں آئے تھے۔ ؟

مسز ایدھی کہنے لگیں ”اب وہ ٹیکسی میں آئے تھے کہ پانی کے جہاز میں تو اتنی پنچات (فکر) کیوں کرتی ہے۔ تو اور تیرا میاں فارم پر سائین کر اور بھاگ بچی کو لے کر۔ ایک سال بعد تو اس کا فوٹو بھیجنا۔

جس وقت وہ فارم پر سائین کر رہے تھے ادارے کی سربراہ کہنے لگی۔ ”یہ مالدار لوگ ادھر ٹیکسی میں آتے ہیں بچے ڈالنے، گھر کے مردوں اور ڈرائیوروں سے چھپانا ہوتا ہے بات کو، اپنی گاڑی کا نمبر بھی چھپانا ہوتا ہے نا۔ گھیلی (پاگل) ۔ ادھر یہ چھوڑ کر گئے اس کو ادھر میرے کو سیل فون پر انچارج کا فون آیا، میں بولی اس کو فوراً تو ادھر ایمبولنس میں ڈال کر پارسل کر میرے پاس۔ آج تیرا وہ بوائے ٖفرینڈ نہیں آیا۔ کیا ناراج (ناراض) ہو گیا ہے میرے سے۔ وہ جرا (ذرا) ناجک (نازک) مزاج لگتا ہے۔ افسر ہے نے۔ میرا میاں اس کی بہت تعریف کرتا ہے۔ بولا کہ اپنے کو اس کو کام جرور (ضرور) کرنا ہے۔

وہ ہدایت دینے لگی کہ ”نوزائیدہ بچوں کو شروع میں یرقان ہوجاتا ہے وہ جائے اور پہلے اس کا ٹیسٹ وغیرہ کرائے اور وہ اس کا نام کیا رکھے گی۔ اس کے بعد میونس پالٹی (میونسپلٹی) سے اس کا برتھ سارٹی فیکیٹ (سرٹیفکٹ) بنے گا وہ جو تیرا دوست ہے نا اس کو بولے گی تو سارا کام فون پر ہو جائے گا۔ دیکھ تیرے ساتھ اپنے دو فرشتے بھیجے ہیں نا۔ یہ مارا ماری کر کے سب کام کردیں گے۔ ہمارے ادھر افسروں کا بہت جور (زور) ہے۔ سمجھ لے اللہ دین کا جن ہوتے ہیں ان لوگ۔

 ”مبارکہ“ نازلی نے تمام تٖفصیلات میں صرف نام بتانے کو مناسب جانا۔

نعیم نے بچی کے ہاتھ میں پانچ سو روپے کا ایک نوٹ دیا۔ نازلی انکار کرتی رہی مگر نعیم کہنے لگا کہ یہ ہماری طرف رسم ہے۔

مسز ایدھی نے اس پر کہا کہ بچی خوش نصیب ہے۔ جس پر نازلی نے اپنا پرس کھول کر جتنے ڈالرز تھے وہ تو ان کے عطیات کے بکس میں ڈال دیے اور پاکستانی نوٹ وہاں عملے میں تقسیم کر دیے، عملہ پیسے لینے پر رضامند نہ تھا۔ وہ یہ سب خدمت بے لوث جذبے کے طور پر کرتے تھے، مگر جب نازلی نے بہت اصرار کیا اور یہ کہا کہ یہ سب کچھ اتنی اچانک ہوا ہے اسے اپنی اور میاں کی خوش قسمتی پر یقین نہیں آ رہا۔ اگر وہ کوئی غلطی کرے تو اس کی معافی دی جائے۔

ایدھی صاحب کے مرکز پر اس وجود متروکہ کے ایسے بھاگ جاگے کہ مبارکہ بی بی کی پیدائش کا سرٹیفکٹ اسی دن، جرمنی کا پاسپورٹ دوسرے دن بن گیا۔ اغا خان ہسپتال میں اسے کراچی کی سب سے مشہور ماہر امراض طفل پروفیسر در شہوار اکرم جو پاکستانی مندوب منیر اکرم کی ہمشیرہ ہیں۔ انہوں نے اس کا خاکسار کی درخواست پر تفصیلی طبی معائنہ کیا، ہسپتال سے نکل کر یہ معصومہ سیدھی کراچی کے ایک فائیو اسٹار ہوٹل کے بزنس سوئیٹ میں رہنے پہنچ گئی اور پاسپورٹ جاری ہونے کے پانچویں دن اپنے گھر اپنے دادا دادی کے پاس گاؤں جا پہنچی وہاں ان کی بڑی جائیداد تھی، رچرڈ ان کی اکلوتی اولاد ہونے کے ناتے اس جائیداد کا تنہا وارث تھا بلکہ اس کی بیوہ نانی کی جائیداد بھی اس ہی ملنی تھی جو جرمنی کی ایک مالدار یہودن تھی۔

سوچ کے کئی متوازی دھارے ہیں جو ذہن میں بہتے ہیں :

نازلی اور رچرڈ یہ سوچ سکتے ہیں کہ اس جدوجہد میں نازلی کے اس لڑکی کے ہونے والے بچے کو گود نہ لینے کے فیصلے کا کیا کردار تھا۔

خاکسار، ندیم اور عنبرین، جو اس پوری کاوش میں شریک رہے، یہ کردار اس ایک نصیب دار وجود کو اپنے والدین تک پہنچانے میں اللہ نے کہاں سے ایک نقطہ پر جمع کر دیے۔ اس بچی مبارکہ کی ماں کی بے خبری اور نصیب کا کیا رول تھا، کیا اس کے ماں کو پتہ ہوگا کہ اس کے بچی کس ناز و نعم میں پلے گی۔ کیا زندگی میں نصیب سے بڑھ کر بھی کسی اور شے کا دخل ہے؟

ہندوستان کا مشہور اداکار راج کپور کہا کرتا تھا۔ ”ماں جنم دے سکتی ہے، کرم (نصیب) نہیں دے سکتی۔“ مبارکہ کی ماں نے بھی اسے صرف جنم دیا تھا اور اسے کرم رضائے الہٰی سے ملا تھا۔

ائرپورٹ پر جب نعیم نے دعا دیتے ہوئے مبارکہ کو چوما، نازلی اور رچرڈ کو گلے لگایا تو آہستہ سے وقت رخصت ائرپورٹ پر اداکار راج کپور کے الفاظ دہراتے ہوئے صرف اتنا کہا۔ ”The Show must go on!“

سات آٹھ برس بعد نازلی ایک دن اتفاقاً چارلس ڈیگال ائرپورٹ پر بیٹھی اسے  Skypeپر مل گئی موسم کی شدید خرابی نے اس کی فلائٹ کا معمول درہم برہم کر دیا تھا۔ اس نے بتایا کہ مبارکہ خیر سے اب ساتویں برس کو پہنچ رہی ہے۔ رچرڈ کی والدہ اپنی والدہ کے انتقال کے بعد سوئٹزر لینڈ کے علاقے انٹر لاکن میں ان کے گھر منتقل ہو گئی ہیں۔ وہ سب وہاں رہتے ہیں۔ مبارکہ بھی انہیں کے ساتھ ہے۔

اسے انگلستان کی شہزادی بیٹریس، دوبئی کی شیخا حیا اور ٹینس کی مشہور کھلاڑی مارٹینا ہنگز کی طرح گھڑ سواری کا بہت شوق ہے۔ ساتویں سالگرہ پر دادی نے اسے ایک دس ہاتھ کا شیٹ لینڈ پونی (چھوٹے قد کا گھوڑا) تحفے میں دیا ہے۔ جس کا نام اس نے فرانسیسی زبان میں Filou (شریر لڑکا ) رکھ دیا ہے۔ پڑھائی میں اسے کوئی خاص دل چسپی نہیں۔

پڑوس میں رہنے والی ایک ہندوستانی فیملی کی وجہ سے اسے ستار بجانے اور گانے میں بہت مزا آنے لگا ہے اور فلم نوبہار کا گیت “اے ری میں تو پریم دیوانی، میرا درد نہ جانے کوئی”، “موہے پنگھٹ پر نند لال چھیڑ گیو رے” اور “اے دل ناداں، آرزو کیا ہے، جستجو کیا ہے” بہت عمدگی سے گاتی ہے۔ اسکول میں تیراکی کی چمپئین ہے۔ اس نے جب کہا کہ مبارکہ کو یہ پرانے گانے کیوں گانے کا شوق ہے تو نازلی ہنس کر کہنے لگی کہ I think she has an archaic soul like her dad (میرا خیال ہے کہ اس میں بھی والد کی طرح کسی قدیم روح کا بسیرا ہے ) وہ بھی بیتھون، شوپن اور موزارٹ کی سمفنیاں اپنی ماں کے ساتھ بیٹھ کر سنتا ہے۔ دوسرے موسیقی جو عورت یعنی ہماری پڑوسن سکھاتی ہے اسے ہندوستان چھوڑے تیس برس سے اوپر ہو گئے۔ اسی نے اس کے لئے چھوٹی ستار بنارس سے منگوائی ہے۔

اسے ایدھی صاحب کو یا ان کی بیگم کو یہ سب بتانے کا موقع نہیں ملا۔

مجھے یقین ہے وہ یہ سب سن کر خوش ضرور ہوتے مگر یہ دونوں میاں بیوی تو نیکی کر دریا میں ڈال قسم کے لوگ ہیں جن کے لیے غالب نے کہا تھا، ہاں بھلا کر ترا بھلا ہو گا۔ ایسے کئی واقعات ہوں گے جو ان کے ان مراکز خدمات سے جڑے ہوں گے۔ ہر وہ بے آسرا اور دل شکستہ وجود جو اللہ نے ایدھی صاحب کی وجہ سے سنوارا وہ یقیناً ان کے حق میں صدقہ جاریہ ثابت ہوگا۔ اللہ ان کے درجات بلند کرے۔ وہ جو کذب و ریا، ظاہری حلیے کی تبدیلی، بیان کی چاشنی اور تشدد کو دین کو سمجھ بیٹھے ہیں، اللہ ان کے قلوب ہائے گمراہ کو ایدھی صاحب کی تقلید میں بے لوث خدمت انسانی کی جانب پلٹ دے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

اقبال دیوان

محمد اقبال دیوان نے جوناگڑھ سے آنے والے ایک میمن گھرانے میں آنکھ کھولی۔ نام کی سخن سازی اور کار سرکار سے وابستگی کا دوگونہ بھرم رکھنے کے لیے محمد اقبال نے شہر کے سنگ و خشت سے تعلق جوڑا۔ کچھ طبیعتیں سرکاری منصب کے بوجھ سے گراں بار ہو جاتی ہیں۔ اقبال دیوان نےاس تہمت کا جشن منایا کہ ساری ملازمت رقص بسمل میں گزاری۔ اس سیاحی میں جو کنکر موتی ہاتھ آئے، انہیں چار کتابوں میں سمو دیا۔ افسانوں کا ایک مجموعہ زیر طبع ہے۔ زندگی کو گلے لگا کر جئیے اور رنگ و بو پہ ایک نگہ، جو بظاہر نگاہ سے کم ہے، رکھی۔ تحریر انگریزی اور اردو ادب کا ایک سموچا ہوا لطف دیتی ہے۔ نثر میں رچی ہوئی شوخی کی لٹک ایسی کارگر ہے کہ پڑھنے والا کشاں کشاں محمد اقبال دیوان کی دنیا میں کھنچا چلا جاتا ہے۔

iqbal-diwan has 53 posts and counting.See all posts by iqbal-diwan