کیا امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ذہنی طور پر نابالغ ہے؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

نوٹ: ڈونلڈ ٹرمپ کی بھتیجی میری ٹرمپ ’جو ایک سائیکولوجسٹ ہیں‘ کی حالیہ کتاب TOO MUCH AND NEVER ENOUGH: HOW MY FAMILY CREATED THE WORLD ’S MOST DANGEROUS MAN

کے چند اقتباسات کا ترجمہ اور تلخیص

ڈونلڈ ٹرمپ آج بھی ایک ایسے بچے کی طرح سوچتا ہے جسے اپنے جذبات پر کوئی قابو نہیں۔ ڈونلڈ کو اپنے بچپن میں نفسیاتی مسائل کا سامنا کرنا پڑا اور جب کوئی انسان بچپن میں نفسیاتی بحران اور تشدد کا شکار ہوتا ہے تو اس کے مزاج میں نفسیاتی کجی پیدا ہو جاتی ہے۔ وہ عمر بھر اپنی خواہشات کو حد سے زیادہ چاہتا ہے اور اسے زندگی میں جو بھی ملے اس سے مطمئن نہیں ہوتا۔ جب ڈونلڈ کی عمر اڑھائی برس تھی تو اس کی والدہ اتنی بیمار ہوئی کہ اسے ہسپتال داخل ہونا پڑا۔

اس طرح ڈونلڈ ماں کی محبت اور تحفظ سے کافی عرصے تک محروم ہو گیا۔ اس کا والد فریڈ اس کا واحد جذباتی سہارا بنا لیکن فریڈ اپنی پیشہ ورانہ مصروفیات کی وجہ سے اپنے بیٹے کو وہ پیار اور تحفظ نہ دے سکا جس کی اسے ضرورت تھی۔ فریڈ ایک نرگسیت کا مارا باپ تھا جسے بچوں سے زیادہ اپنے دولت کے خواب پسند تھے۔ وہ اپنے بیٹے کے مسائل سے بالکل بے خبر اور بے نیاز تھا۔ وہ اپنے بچوں کو محبت دینے کی بجائے ان سے تابع فرمانی کی امید رکھتا تھا۔

دھیرے دھیرے ڈونلڈ اپنے باپ سے خوفزدہ رہنے لگا۔ اسے ڈر رہتا کہ اگر اس نے باپ سے کچھ مانگا تو وہ ناراض ہو جائے گا۔ ڈونلڈ اپنے باپ کے غصے سے ڈرتا تھا اور اس سے جذباتی طور پر دور رہتا تھا۔ ڈونلڈ کا المیہ یہ تھا کہ جس سے اسے محبت کی ضرورت تھی وہ اسی سے خوفزدہ تھا۔ بچپن کے ان تجربات نے ڈونلڈ کی شخصیت کو مسخ کر کے رکھ دیا۔

سولہ جون 2015 کو جب ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا کہ وہ امریکہ کا صدر بننا چاہتا ہے تو میں سمجھی کہ یہ ایک بھونڈا مذاق ہے۔ میرا خیال تھا کہ ڈونلڈ ٹرمپ خود بھی سنجیدہ نہ تھا۔ اسے شہرت اورمقبولیت کی ہوس تھی۔ جب روس کے ولادمیر پیوٹن نے اس کی مدد کا وعدہ کیا تو اس کا حوصلہ بڑھا۔

جب میری خالہ نے ڈونلڈ ٹرمپ کی صدر بننے کی خواہش کی خبر سنی تو کہنے لگیں ’وہ ایک مسخرہ ہے۔ یہ ممکن ہی نہیں کہ وہ صدر بنے، اسے بھلا ووٹ کون دے گا‘

ان دنوں مں بھی اپنی خالہ سے متفق تھی۔

جب یہ خبر مشہور ہوئی کہ ڈونلڈ ٹرمپ امریکہ کے کامیاب ترین تاجروں میں سے ایک ہے تو میری خالہ نے کہا ’کیا لوگ نہیں جانتے کہ وہ اپنی زندگی میں پانچ دفعہ بینک کرپٹ ہوا ہے‘ ۔

جب ہم ڈونلڈ ٹرمپ کا نفسیاتی تجزیہ کرتے ہیں تو ہمیں اندازہ ہوتا ہے کہ اس اس کی شخصیت میں ایک نفسیاتی مسئلہ نہیں بہت سے مسائل ہیں۔

نہ صرف وہ انتہائی خطرناک حد تک نرگسیت کا شکار ہے بلکہ اس میں اینٹی سوشل پرسنیلیٹی ڈس آرڈر کی علامات بھی ہیں۔ ایس شخصیت میں تکبر ’غصہ اور دوسروں کے جذبات کو نظر انداز کرنا شامل رہتا ہے۔ ایسے لوگ نہ صرف جرائم کرتے ہیں بلکہ ان جرائم پر نہ تو نادم ہوتے ہیں نہ ہی احساس گناہ کا شکار ہوتے ہیں۔ وہ اسے اپنا حق سمجھ کر کرتے ہیں۔

ڈونلڈ ٹرمپ کی روزمرہ کی زندگی بھی نہایت غیر صحتمند ہے۔ ایک دن میں دس ڈائٹ کوک پینا اور رات کو صرف چند گھنٹے سونا اس کا روزانہ کا معمول ہے۔

ڈونلڈ ٹرمپ کی شخصیت کی کجی پیچیدہ بھی ہے اور گنجلک بھی۔
۔ ۔ ۔

بدقسمتی سے ڈونلڈ ٹرمپ کی سوچ ’شخصیت اور طرز زندگی کی کجی صرف اس کے خاندان تک محدود نہیں رہی بلکہ اب وہ سارے ملک اور ساری دنیا کو منفی طور پر متاثر کر رہی ہے۔

یہ بھی امریکہ کی بدبختی ہے کہ ریپبلکن پارٹی کے معزز رہنما اور معتبر نمائندے ڈونلڈ ٹرمپ کی خامیوں ’کوتایوں اور تباہ کاریوں پر پردے ڈالنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

ڈونلڈ ٹرمپ اس تواتر سے جھوٹ بولتا ہے کہ وہ نہ صرف خود کو بلکہ سارے امریکہ کو یقین دلانے میں کامیاب ہو جاتا ہے کہ وہ سچ ہے۔

اپنے باپ کی طرح ڈونلڈ ٹرمپ کا بھی خدا ڈالر ہے۔ وہ ہر چیز کو معیشت کی کسوٹی پر پرکھتا ہے۔
اسے عام انسانوں کے دکھوں اور مسائل میں کوئی دلچسپی نہیں۔

کووڈ 19 کے بارے میں اس کا رویہ نہایت غیر ذمہ دارانہ ہے جس کی وجہ سے لاکھوں انسانوں کی جانیں خطرے میں ہیں۔

ڈونلڈ کالوں اور اقلیتیوں کے مظالم سے نہ صرف بے خبر ہے بلکہ ان کے بارے میں دل میں تعصب رکھتا ہے۔ جب امریکیوں نے ٹی وی پر ایک معصوم سیاہ فام شہری جارج فلائڈ کا ایک سفید فام پولیس افسر ڈیرک شوون کے ہاتھوں قتل دیکھا تو ڈونلڈ ٹرمپ نے اس جا رہا نہ اور ظالمانہ عمل پرکوئی اعتراض نہ کیا۔ وہ تو خود اتنا متعصب ہے کہ شاید یہ سوچ رہا ہوگا کہ جارج فلائڈ کی گردن پر ڈیرک شوون کے گھٹنے کی بجائے میرا گھٹنا کیوں نہ تھا۔

میرے لیے یہ بات ناقابل یقین تھی کہ اتنے زیادہ امریکیوں نے ڈونلڈ ٹرمپ کے حق میں ووٹ دیے۔ کیا وہ نہیں جانتے کہ ڈونلڈ ٹرمپ ہماری جمہوری روایت کے لیے ایک سنگین خطرہ ہے۔

اگر ڈونلڈ ٹرمپ دوسری بار بھی صدر بن گیا تو وہ امریکی جمہوریت کے تابوت میں آخری کیل ہوگا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ڈاکٹر خالد سہیل

ڈاکٹر خالد سہیل ایک ماہر نفسیات ہیں۔ وہ کینیڈا میں مقیم ہیں۔ ان کے مضمون میں کسی مریض کا کیس بیان کرنے سے پہلے نام تبدیل کیا جاتا ہے، اور مریض سے تحریری اجازت لی جاتی ہے۔

dr-khalid-sohail has 380 posts and counting.See all posts by dr-khalid-sohail