روایتی سیاست اور حکومت!

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

آج سے دو سال قبل جب عمران خان کی سیاسی جماعت تحریک انصاف نے انتخابی میدان میں کامیابی حاصل کی اور عمران خان نے بطور وزیراعظم زمام اقتدار سنبھال لیا تو کل کی حکمران اور آج کی اپوزیشن دو بڑی قومی سیاسی جماعتوں مسلم لیگ نون اور پیپلز پارٹی نے ماضی کی روایت کو برقرار رکھتے ہوئے ان انتخابات کو دھاندلی زدہ قرار دیا اور تحریک انصاف کی کامیابی پر عوام کامینڈیٹ چرانے کا الزام لگا کر درپردہ اسٹیبلشمنٹ کو قصور وار ٹھہرانا شروع کر دیا اور اسے ایک سلیکٹڈ وزیراعظم کا لقب دیا گیا۔

قومی اسمبلی کے فلور پر دو سال قبل بلاول بھٹو زرداری نے پہلے سیشن میں ہی وزیر اعظم عمران خان کو مبارکباد دیتے ہوئے ”سلیکٹڈ پرائم منسٹر“ کہا اور یہ جملہ آج بھی وزیر اعظم عمران خان کا تعاقب کر رہا ہے۔ پاکستان کے سیاسی انتخابات کی تاریخ اٹھا کر دیکھ لیجیے مسلم لیگ نون اور پیپلز پارٹی کی تیس سالہ حکمرانی کا دور اقتدار ایسے ہی الزامات کا محور رہا ماضٰ میں دونوں جماعتیں ایک دوسرے پر عوامی مینڈیٹ چرانے کا الزام لگاتی رہی ہیں اور جب تیسری سیاسی قوت تحریک انصاف اقتدار میں آئی تو یہی آزمودہ سیاسی جماعتیں عمران خان کی حکمرانی کو ناجائز قرار دیتے ہوئیاپنے مفادات کے تحفظ اور اقتدار حاصل کرنے کے لئے الزاماتی للکار اور احتجاج کا راستہ اپناتے ہوئے سر جوڑ چکی ہیں۔

حالات اسی طرح وقوع پذیر ہو رہے ہیں جیسے ساٹھ کی دہائی میں منتخب حکومتوں کے معزول ہونے سے پہلے ہوتے رہے ہیں ذوالفقار علی بھٹو ’نواز شریف اور بے نظیر حکومتوں کو بر خاست کرنے کے لئے اپوزیشن جماعتوں کے اتحاد قائم ہوئے لیکن آج فرق صرف اتنا ہے کہ ماضی میں اسٹیبلشمنٹ کو ہی در پردہ قصور وار ٹھہرایا جاتا تھا لیکن آج کھلم کھلا ریاستی اداروں کے ساتھ ٹکراؤ پیدا کر کے عوام کو سڑکوں پر لانے کی کوشش کی جا رہی ہے اور یہ خطر ناک صورتحال ملک میں عدم استحکام پیدا کرنے اور ملت کو اپنے مفادات کے تحفظ اور اقتدار حاصل کرنے کے لئے پارہ پارہ کرنے کی جانب گامزن ہے اہل دانش خوب سمجھتے ہیں کہ یہ صرف مفادات کے تحفظ اور اقتدار حاصل کرنے کے لئے ایک خطرناک سازش ہے۔

پی ڈی ایم جو کہ اپوزیشن کی گیارہ سیاسی جماعتوں پر مشتمل حکومت مخالف سیاسی اتحاد ہے اس سے قبل بھی حکومت مخالف اتحاد قائم ہوئے لیکن ان اتحادوں کا اثر ان کی اپنی اپنی مفاداتی طرز سیاست نے زائل کر دیا مولانا فضل الرحمن نے پورے ملک میں حکومت مخالف ریلیاں نکالیں لیکن مولانا فضل الرحمن کی اس جدوجہد کو ان کی آپسی منافقت لے ڈوبی۔ لیکن حالات وہی ہیں لیکن طریقہ مختلف حکومت اور مقتدر حلقوں پر پریشر بڑھا کر اندرون خانہ دوستی کے مواقع تلاش کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے اور پاکستان کا معاشرہ خوب سمجھتا ہے کہ گوجرانوالہ جلسہ اور کراچی میں جوکچھ ہوا اس کے کیا مقاصد ہیں۔

گوجرانوالہ جلسہ میں لندن سے نشر ہونے والی نواز شریف کی تقریر کو اس مفروضے کے ساتھ جوڑنے کی کوشش کی جا رہی تھی کہ نواز شریف نے اسٹیبلشمنٹ سے راہیں جدا کر کے صلح جوئی کی کھڑکی کو ہمیشہ کے لئے بند کر دیا لیکن اعتزاز احسن نے ایک نجی چینل پر آ کر اس مفروضہ کو قائم ہونے سے پہلے ہی زمین بوس کر دیاکہ کراچی جلسہ میں کسی نے نواز شریف کو تقریر کرنے سے نہیں روکا بلکہ راولپنڈی سے جانے والی کال ان کی ہونے والی تقریر میں رکاوٹ بنی اور اعتزاز احسن نے جیل میں ہونے والی چھوٹے میاں کی ملاقاتوں کا احوال بھی ذو معنی الفاظ میں بیان کر دیا۔

گوجرانوالہ جلسہ میں نواز شریف نے جو تقریر کی اس سے سلیکٹڈڈ پرائم منسٹر والا نعرہ تو بے وقعت ہو گیا لیکن اپوزیشن کی نظر میں سلیکٹر یعنی چیف آف آرمی سٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ پر کھلم کھلا سیاسی مداخلت کا الزام لگایا اس سے یہ اخذ تو کیا جاسکتا ہے کہ نواز شریف کی جماعت کے اندر اس بات کو تو تقویت حاصل ہو چکی ہے کہ نواز شریف نے لندن میں بیٹھ کر عملی طور پرریاستی اداروں کے خلاف طبل جنگ بجا دیاہے لیکن میاں نواز شریف کو ازبر ہونا چاہیے کہ آج سے چھ برس قبل ایم کیو ایم کے لیڈر الطاف حسین کی پاک فوج کے خلاف ہرزہ سرائی کی تھی تو اس کے کیا نتائج سامنے آئے تھے نواز شریف کی اس تقریر کو حکومت کے سخت ناقدین نے بھی پذیرائی نہیں بخشی بلکہ جہاں سنجیدہ عوامی حلقوں نواز شریف کے فوج مخالف بیانیے کو یکسر مسترد کیا وہیں نواز شریف کی اس تقریر کو الطاف حسین کا پارٹ ٹو قرار دیا جس سے اندازہ لگانا دشوار نہیں کہ عوام آج بھی جنگ 65 ء جیسے جذبے کے ساتھ پاک فوج کے ساتھ کندھے سے کندھا ملا کر کھڑی ہے۔

حکومت اور اپوزیشن کے درمیان سیاسی کشیدگی کا اونٹ کس کروٹ بیٹھے گا یہ تو آنے والے حالات اس کا فیصلہ کریں گے لیکن مسائل کا ہمالیہ بھی حکومت اور عوام کے درمیان اضطرابی کیفیت کو واضح کرتا جا رہا ہے جو حکمرانوں کے لئے کسی طور بھی نیک شگون ثابت نہیں ہو سکتامسائل‘ بحران در بحران اپوزیشن کو مزید تقویت دینے کا باعث بن رہے ہیں کرونا کے بعد کی صورتحال ابھی تک عوام کے لئے آفٹر شاکس کا سبب بنی ہوئی ہے لیکن اقتصادی صورتحال سنبھلنے کا نام نہیں لے رہی اوپر سے عالمی مالیاتی اداروں سے لئے جانے والے قرض در قرض نسل نو کے مستقبل کو مزید مخدوش بنا رہے ہیں۔

کوشش لازم ہے اور نتائج اللہ تعالی کے ہاتھ ہیں عمران خان جب سے اقتدار میں آئے تب سے اپوزیشن کو للکار رہے ہیں ملک میں آئین اور قانون کی موجودگی میں احتساب کے اداروں کو کام کرنے دیا جائے۔ وزیر اعظم جتنی توانیاں اپوزیشن کو لتاڑنے میں صڑف کر رہے ہیں اگر تندہی کے ساتھ عوام کے مسائل حل کرنے کی جانب توجہ دیتے تو کم از کم عام آدمی کے کندھوں پر مسائل کے انبار دیکھنے کو نہ ملتے۔ وقت کی نبض کو سمجھنے کی کوشش کرنی چاہیے کہ اپوزیشن کے دم خم میں جو گرما گرمی دیکھنے کو مل رہی ہے وہ عام آدمی کے وہ مسائل ہیں جو اپوزیشن اتحاد کو آکسیجن فراہم کر رہے ہیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •