استعفیٰ تو آنا نہیں تو پھر ٹکر ہی دیکھیں

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ہمارا اک مسئلہ یہ ہے کہ ہم پرافٹ کو بازار سے اٹھا کر سرکار کے پاس لے آئے ہیں۔ اب کماتا وہ ہے جسے فیور ملتا ہے۔ یہ فیور سستی زمین لے کر ڈی ایچ اے یا بحریہ کے نام پر مہنگی بیچ کر کمائیں، یہ مختلف انڈسٹری کو سبسڈی ہو، مہنگی بجلی خرید کر سستی بیچنا ہو۔ پھر لائن لاسز میں زیادہ ادائیگی کرنی ہو۔ یہ سب کام فیور سے ہوتے ہیں اور حکومت وقت ہی کرتی کراتی ہے۔

جب یہ فائدے سرکار نے ہی دینے ہیں تو جس نے کمانا ہے وہ شارٹ کٹ مارے گا سرکار کا حصہ بنے گا۔ اس لیے بھی بنے گا کہ پرافٹ ٹیکس چوری میں ہی رہ گیا ہے۔ چوری کرے گا تو گردن بچنے کو سرکار کی چھتری کے نیچے بیٹھنا ہو گا۔

جب سارے ہی چور ہیں تو اپنا چور صادق امین، پاپا جونز، سلائی مشین والی آنٹی، دوجے کا چور ڈاکو اور مافیا تھوڑی چلے گا، چلے گا بھی تو کب تک۔

نوکری جاتی لگے تو حکومت گرا دو وزیراعظم کو پکڑ لو، اس ڈکیتی کی بات بھی کوئی بات بھی نہ کرے۔ یہ پوچھ پوچھ کر ہلکان کر دیا جائے کہ جلاوطنی میں پیسے کیسے کمائے۔ پارٹی کیسے چلائی اپوزیشن کے دن کیسے گزارے۔

سیاستدان بزتی پروف ہوتا ہے۔ یہ ہمارا خیال ہے، سیاست کرتا وہ ظالم یہ سیکھ جاتا ہے کہ ردعمل کب دینا ہے، گالی کھا کر جواب فوری دینا ہے، یا انتظار کرنا ہے جب تک اگلے کا زخمی بازو ہاتھ آئے تو اس زخم پر نمک مرچ والی تیزابی انگل گھسا دوں

سرکاری اداروں، فوج، عدلیہ، کے علاوہ بھی کسی ملک میں ادارے ہوتے ہیں، یہ سیاسی جماعتیں ہوتی ہیں، یہ یونیورسٹیاں ہوتی ہیں، کچھ اہم مذہبی مراکز ہوتے ہیں میڈیا ہوتا ہے، تاجروں سرمایہ داروں صارفین کی تنظیمیں اور گروپ ہوتے ہیں۔ ایک سماجی فیبرک ہوتا ہے، ایک بائنڈنگ فورس بھی ہوتی ہے۔

اپنی سیاسی جماعتوں کو اپنا ادارہ ہم نے کبھی سمجھا ہی نہیں۔ خیر سے سیاسی جماعتیں سو سو سال پرانی بھی ہمارے ہاں موجود ہیں، جو انگریز کا دور نکال کر زندہ رہیں، مارشل لا کی مار سہ کر دم لیتی سامنے ہیں، وہ اب بھی نہیں مریں گی۔

سیاست کا تقریباً سارا اولڈ سکول سارا جمع ہوا، پہلے میثاق جمہوریت کر لیا پھر اٹھارہویں ترمیم۔ سب غدار قرار پائے ان کا مکو ٹھپنے کو کپتان میں ٹوپ لگا کر گیس بھری گئی۔ چابی والا سوہنا تیار کیا گیا۔

ملک کے بے چین علاقوں فاٹا بلوچستان کراچی کو اوپر سے لیڈر شپ فراہم کرنے کی کوشش کی گئی، کراچی میں گزارا سا ہو گیا۔ ویسے اگر کراچی میں بھی گزارا ہوا ہوتا تو اکانومی ایسے لیٹی ہوئی اکھڑتی سانسیں نہ لے رہی ہوتی۔ پھر بھی کراچی میں جو گزارا ہوا وہ بلوچستان فاٹا میں نہ ہو سکا۔

ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ اٹھارہویں ترمیم پر دستخط کرنے والی بلوچستان کی جماعتیں ہاتھ میں اختیار کا ڈنڈا اور حصے کا پیسہ لے کر عسکری گروپوں سے مذاکرات کرتی کہ بتا تیری رضا کیا ہے۔ سیاست بندوق رکھوا ہی لیتی۔ کہیں سیاست محبت دکھاتی۔ کہیں فیور دیتی، نہ ماننے والوں پر ڈنڈا چلتا، یاد رہے یہ ڈنڈا سیاسی ہوتا بندوق اور گولی نہیں۔ کچھ جلی کٹی باتیں سننے کا حوصلہ دکھاتی امن سکون لوٹنے لگتا۔

ایسا نہیں ہوا۔

پی پی، جے یو آئی، اے این پی، مسلم لیگ نون اب ان کی اور پی ٹی ایم کی یا بلوچ قوم پرستوں کی باتوں میں فرق کرنا مشکل ہو گیا۔ اس مقام تک ہم ایسے ہی نہیں پہنچے، محنتیں ہیں۔ دن نہیں ہفتے نہیں مہینے اور سال لگا کر ہم نے ان ساری سیاسی جماعتوں کو پکا لیا ہے۔

پی ٹی آئی کے دھرنے یاد کریں تو پرائم ٹائم پر الیکٹرانک میڈیا کوریج بھی سوچیں۔ فی سیکنڈ ہزاروں روپے کا اشتہارات کا وقت تبدیلی، کرپٹوں کا منہ کالا کرنے پر صرف ہوا۔ خالی کرسیوں سے بھی کپتان کا خطاب گھنٹوں نشر ہوتا رہا۔ رات کو ہونے والے سیاسی آئٹم سانگ بہرحال رش لیا کرتے تھے۔

آج میڈیا پر خبر نہیں چلتی، تقریر دکھائی نہیں جاتی۔ رپورٹنگ مثبت ہوتی ہے کہ اگلوں کا سوہنی سرکار سے پیار سچا ہے۔

اس سب کے باوجود حکومت ہے کے بوکھلائی پھر رہی ہے۔ جذبات اور غصہ عروج پر ہے۔ حکومتی مشیروں کی باتوں سے کرنٹ نکل گیا ہے۔ وہ لکھاری جو کبھی کپتان کی تبدیلی کو سچ جان کر اس کا ساتھ دینے چل پڑے تھے۔ آج تنقید بھی کرتے ہیں۔ اپنے ارمان ڈوبنے ٹوٹنے کا اقرار بھی کریں تو لوگ ان کو باتیں ہی سناتے ہیں کہ پہلے پرانی حمایت کی معافی مانگو۔

یہ جو بات چل نکلی ہے اس میں ہم تصادم کی طرف جا رہے ہیں۔ اب سیاسی قیادت کو قید کریں، یا مقدمے بنائیں۔ حکومت کے ہاتھ سے باگ نکل چکی ہے۔ ہوا اکھڑ چکی۔ سچی سیدھی بات ہے کہ خود آنے کا کوئی آپشن اگر کبھی تھا تو اب نہیں ہے۔ ساری دنیا سے آٹو پر پابندیاں لگیں گی۔ سرکاری ملازمین کو تنخواہ دینے تک کے لالے پڑ جائیں گے۔ منفی گروتھ والی معیشت اور گہری ڈبکی لگا جائے گی۔

اب ایسے نہیں چلے گا۔ اس وقت بہت ضروری ہے کہ راستہ نکالنے کے لیے بزرگ سیاستدانوں سے بات کر لی جائے۔ وہ اب بھی سب کے لیے ایسی راہ نکال لیں گے کہ بچت رہ جائے گی۔

اگر اک بندے سے ہی بات کرنے کا آپشن ہو تو آصف زرداری سے بات کر لی جائے۔ یہ کیا مشورہ دیں گے یہ جاننے کے لیے کوئی راکٹ سائنس والی سمجھ نہیں درکار۔ زرداری صاحب یہی کہیں گے کہ سائیں سیاست ہم پر چھوڑ دیں۔ ہم جانیں کپتان جانے۔ آپ بس مزے سے میچ دیکھیں۔ اک آدھ ٹرانسفر کریں۔ ریلیکس رہیں۔ وقت حالات سب بدلتا دیکھیں۔ الیکشن تک ہم پہنچا دیں کام تو آپ ایک طرف بیٹھ کر نتائج دیکھیں۔

مذاکرات تو اس وقت ہو ہی رہے ہوں گے کسی نہ کسی سطح پر۔ لیکن مفاہمت کی طرف بات جاتی دکھائی نہیں دیتی۔ اس کی وجہ بھی ہے کہ بات اب اک آدھ استعفے سے بھی بنتی نہیں دکھائی دیتی۔ اور استعفی بھی کدھر آ رہا ہے۔

 

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

وسی بابا

وسی بابا نام رکھ لیا ایک کردار گھڑ لیا وہ سب کہنے کے لیے جس کے اظہار کی ویسے جرات نہیں تھی۔

wisi has 393 posts and counting.See all posts by wisi