سرنڈر آرڈر اور آخری سپاہی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

پون صدی قبل جنگ عظیم دوم اپنے فیصلہ کن مراحل میں داخل ہو رہی تھی۔ ایشیا کے عسکری و سیاسی افق کا ستارہ جاپان سانحہ پرل ہاربر کے بعد امریکیوں کو نہ دن میں جاگنے دیتا نا رات میں سونے دیتا۔ اسی کشمکش میں امریکی افواج آدھے ایشیا میں پھیلی جاپانی افواج کے خلاف برسرپیکار تھی۔ طویل جدوجہد اور معاشی عسرت نے یقیناً جاپان کو مضمحل کر دیا تھا۔

کئی علاقوں بالخصوص جنوب مشرقی ایشیا میں امریکی مداخلت کا خطرہ بڑھ رہا تھا۔ دسمبر 1944 کے اسی پس منظر میں لیفٹننٹ اونوڈو کو فلپائن کے جزیرے لبونگ میں اتارا گیا۔

اونوڈو درحقیقت انٹیلی جنس کا افسر تھا۔ اسے امریکی حملے کے پیش نظر لبونگ پہ موجود جاپانی افواج کی مدد کے لئے بھیجا گیا۔ فرض شناس اور محب الوطن اونوڈو نے جزیرے پے موجود فوجی قیادت میں اپنی جگہ بنانے کی کوشش کی لیکن خاطر خواہ کامیابی نہ ملی۔ اس کے دفاعی تجزیے اور خدشات کو مسلسل نظر انداز کیا جاتا رہا۔

بالآخر وہی ہوا جس کا ڈر تھا۔ فروری 1945 میں امریکی فورسز لبونگ کے ساحلوں پے اتریں اور بلا تردد جزیرے پے امریکی جھنڈا لہرانے لگا۔ جاپانی فوجیوں نے اپنا اسلحہ وردی لبونگ کے کسی پلٹن میدان میں ڈھیر کردی۔ دو دن کے بعد پتا چلا کے چار جاپانی فوجیوں نے سرنڈر نہیں کیا بلکہ مزاحمت کا راستہ اختیار کرتے ہوئے آبادی سے دور جنگلات میں اپنا ٹھکانہ قائم کر لیا ہے۔ اونوڈو اس نئی یونٹ کے سربراہ ٹھہرے۔

چاروں حضرات نے گوریلا جنگی حکمت عملی اپنائی۔

چند ماہ بعد اگست میں امریکہ نے ہیروشیما اور ناگاساکی پے نیوکلیئر بم گرائے اور جنگ عظیم دوم اپنے اختتام کو پہنچی۔

اونوڈو اور اس کے تین ساتھیوں نے جنگی نتائج کو تسلیم کرنے سے انکار کر دیا۔ وہ ان تمام تر واقعات کو محض دشمن کی سازش سمجھتے رہے اور لبونگ جزیرے پے کبھی مقامی آبادی کی فصلوں کو آگ لگا دیتے کبھی مویشی چوری کرتے اور بسا اوقات کھلم کھلا لوٹ مار کر کے جنگلوں کی اور نکل جاتے۔

امریکی افواج نے ہیلی کاپٹر کے ذریعے سارے جزیرے پے پمفلٹ گرائے کہ جنگ ختم ہو چکی ہے، جاپان ہار چکا ہے لہذا اونوڈو اینڈ کمپنی ہتھیار ڈال دے انہیں کچھ نہیں کہا جائے گا۔

اونوڈو اور اس کے ساتھیوں نے ’دشمن کی سازشوں‘ پے کان نہ دھرنے کا اصولی فیصلہ کر رکھا تھا۔
اس کے بعد فلپائنی حکومت نے بھی بغیر کسی کامیابی کے یہی مشق دہرائی۔
وقت گزرتا گیا۔ اونوڈو کی مسلح جدوجہد نے جزیرے پے شورش کا تاثر برقرار رکھا۔

جاپانی حکومت نے بھی اعلانات کروائے، جہاز کے ذریعے اونوڈو اور اس کے ساتھیوں کے عزیز و اقارب کے پیغامات پمفلٹ کی شکل میں گرائے، لیکن اونوڈو کمپنی اسے ایک اعلی درجے کی سازش ہی سمجھتی رہی۔

مقامی پولیس اور اونوڈو کی ٹیم کے درمیان چھپن چھپائی چلتی رہی۔ اس دوران کئی مقامی لوگ اونوڈو اور اس کے گوریلا ساتھیوں کی بھینٹ چڑھے۔ چار سال گزر گئے۔

معاملے کے منطقی انجام کو بھانپتے ہوئے 1949 میں اونوڈو کمپنی کے ایک جانباز نے رات کی تاریکی میں اپنے مستقبل کا فیصلہ اپنے ہاتھ میں لیا اور پہاڑوں سے نیچے ٹمٹماتی نظر آتی روشنیوں کی جانب نکل گیا۔ اس واقعے نے باقی لوگوں کو مزید محتاط کر دیا۔

سرنڈر کرنے والا یوشی اکاٹسو جب اپنے دیس جاپان پہنچا تو ”اونوڈو کو گھر لاؤ تحریک“ نے ایک بار پھر انگڑائی لی۔

جاپانی حکومت نے 1952 میں ایک بار پھر جزیرے پے پمفلٹ گرائے۔ اونوڈو کی کیبنٹ نے معاملے کا جائزہ لیا اور ان سازشی ہتھکنڈوں کو پس پشت ڈالنے والی قرارداد کو ایک بھاری اکثریت سے منظور کر لیا۔

ہفتے مہینے اور پھر سال گزرے گئے۔

انیس سو چون کی ایک رات جب اونوڈو اور اس کے ساتھی جنگل میں منگل کر رہے تھے تو مقامی آبادی کے افراد نے ان پے حملہ کیا۔ ایک یونٹ ممبر کے پاؤں میں گولی لگی۔ لمحوں میں باقی دو نے شمیدا کو بانس کی کھٹولی پے لٹکایا اور فراری کی رفتار سے فرار ہو گئے۔

پچھلے دس سالوں میں اونوڈو مقامی جڑی بوٹیوں کے طبعی مضمرات سے آگاہ ہو چکا تھا۔ اس لیے شمیدا کے علاج میں آسانی رہی۔ چھ مہینے میں شمیدا پھر سے اچھلنے کودنے لگا۔ اونوڈو کی یونٹ نے لوٹ مار کے پیسوں سے جزیرے پے موجود پہاڑوں کی چوٹیوں میں کہیں اسلحہ خانے بنائے ہوئے تھے تو کہیں خوراک کا ذخیرہ تھا۔

گھنے جنگلات کے باعث فلپائنی حکومت کے لئے اونوڈو کو پکڑنا مشکل تو تھا ہی، حکومت کے پاس اس کے علاوہ بھی بے شمار ضروری کام تھے۔ مقامی پولیس کی کبھی کبھار مڈبھیڑ ہو جاتی، دو چار ہوائی فائروں کے بعد دونوں اطراف اپنی اپنی منزلوں کی سمتوں کا تعین کر لیتی۔ ایسے ہی ایک انکاؤنٹر میں شمیدا دوبارہ پولیس کے ہاتھ چڑھا اور مارا گیا۔

اس واقع کے بعد اونوڈو اور کوزوکو زیر زمین چلے گئے۔ اور کئی سال ان کی سرگرمیاں نا ہونے کے برابر تھیں۔ لیکن جب کبھی موقع ملا تو انہوں نے ہاتھ ضرور صاف کیے۔

سترہ برس مزید گزر گئے۔ اونوڈو مدت کی گرد میں اٹ گیا۔ جاپان ترقی کی شاہراہ پے سر پٹ دوڑ رہا تھا۔ جنگ عظیم دوم کے دوران پیدا ہونے والی نسل جوان ہو چکی تھی جسے جاپان کی جنگجو ماضی میں اتنی دلچسپی نہ تھی۔

لیکن سن 1972 میں بھی اونوڈو اور کوزوکو مسلسل جنگ عظیم دوم کے دوران ملنے والے کومبیٹ آرڈر کے مطابق لبونگ کے جنگلوں میں سامنے آنے والے ہر اجنبی کو امریکی سہولت کار سمجھتے اور اسے ہر ممکن نقصان پہنچاتے۔

اکتوبر انیس سو بہتر کی ایک شام جب اونوڈو اور کوزوکو مقامی آبادی کی چاول کی فصل کے ڈھیر کو آگ لگا رہے تھے تو دو پولیس شاٹس کی زد میں آنے والا کوزوکو موقع پے ہی چل بسا۔ اونوڈو اپنی جان بچانے میں کامیاب رہا۔

کپتان محاذ پے تنہا رہ گیا۔

مقتول کوزوکو کی موت کی اطلاع ملتے ہی ایک بار پھر جاپانیوں کو معلوم ہوا کہ کئی ہزار میل دور ان کا ہم وطن ایک ایسی جنگ لڑی رہا ہے جو وہ ستائیس برس قبل ہار چکے ہیں۔ ایک کثیر تعداد میں خواہش کی چنگاری کو ہوا لگی لیکن ساتھ ہی مایوسی کی بوندیں گریں تو آس کے بجھتے ہوئے دبیز شعلے کی آواز بھی آئی۔

اونوڈو کو واپس لانا جوئے شیر تھا۔

یہ بات جب نوریو سوزوکی نامی ہپی لونڈے کو پتا چلی تو اس نے یہ کام اپنی بکٹ لسٹ میں اولیں مقام پے درج کر لیا۔ ہپی ساٹھ کی دہائی میں مغرب میں شروع ہونے والی ایک تحریک تھی جس کے ممبران غیر روایتی طرز زندگی اپنانے کے حوالے سے مشہور تھے۔

نوریو سوزوکی لبونگ جا پہنچا، چوتھے دن اس نے اونوڈو کو ڈھونڈ لیا۔ تعارف ہوا چند دن گزرے دوستی ہو گئی۔ سوزوکی نے اسے یقین دلا یا کہ جاپان دوسری جنگ عظیم تو ہار گیا تھا لیکن ترقی کی جنگ جیت گیا ہے اور یہ سب دیکھنے اونوڈو کو واپس جانا چاہیے۔

اونوڈو نے پیشہ وارانہ ذمہ داریوں کے پیش نظر معذرت کر لی اور کہا جب تک اسے اس کے کمانڈر سے ڈیموبلائزیشن یا سرنڈر آرڈر نہیں آتا وہ اگلے مورچوں سے واپس نہیں لوٹ سکتا۔ سوزوکی یہ ماجرا لئے جاپان پہنچا، اپنی اور اونوڈو کی تصویریں پریس کو دیں۔ پھر حکومت جاپان نے ایک سنجیدہ کاوش کی ٹھانی۔

اونوڈو کے جنگ عظیم دوم کے کمانڈر کو ڈھونڈا گیا جو کہ اس وقت پرانی کتابوں کی دکان چلاتا تھا۔
کمانڈر صاحب نے سرنڈر آرڈر تحریر کیا اور لبونگ جا کے اونوڈو کو یہ آرڈر باآواز بلند پڑھ کے سنایا۔
بالآخر اونوڈو نے سرنڈر کیا۔ اپنے وطن پہنچا۔ بے پناہ شہرت اور عزت ملی، انعام اور مقام پایا۔
لیکن چند ماہ میں اونوڈو اکتا گیا۔ وہ اپنی قسمت کو کوسنے لگا۔

درحقیقت جاپان بدل چکا تھا۔ روایتی جاپانی معاشرہ یکسر ختم ہو چکا تھا۔ مغربی طرز عمل، پہناؤ اوڑھاؤ، کھانا پینا اور تعلق داری کا نیا انداز اسے نا بھایا۔

صورتحال سے دل برداشتہ اونوڈو نے جاپان سے ہجرت کی اور برازیل میں سکونت اختیار کی، باقی ماندہ زندگی وہاں پے ہی گزاری، آخری ایام میں علاج کی خاطر اونوڈو کو جاپان لایا گیا۔

یہ سچا واقع ہے، اپنے وطن اور پیشے سے محبت کی سچی داستان ہے۔ کومبیٹ آرڈر کی ایسی تعظیم نظم و وفا کی معراج ہے۔ لیکن اس میں یہ سبق بھی ہے کہ زندگی میں بہت ساری جدوجہد جو ہم صدق دل سے کر رہے ہوتے ہیں ان میں اونوڈو کی گوریلا تحریک کا سا ولولہ تو ہوتا ہے لیکن وہ بے معنی ہوتی ہے۔ اور کئی دفعہ یہ سخت موقف نہ صرف بے سود ہوتے ہیں بلکہ انتہائی تکلیف بھی دیتے ہیں۔

اونوڈو کے جذبہ حب الوطنی کا اپنا مقام لیکن جن بے گناہ لوگوں کی اس نے انجانے میں جان لی ان کی مظلومیت بھی بہر حال ایک سنجیدہ موضوع ہے۔

یہ تحریر ہمارے اردگرد پائے جانے والے تمام سخت لونڈوں کے جذبہ اصلاح، حب الوطنی اور امید سے لبریز فکر فردا کو سرخ سلام پیش کرتی ہے اور انہیں تنبیہ کرتی ہے کہ کپتان کا سرنڈر آرڈر محض ایک رسم ہے۔ جب حقائق تلخ ہو جائیں تو رسمیں اٹھ جاتی ہے۔ پھر کپتان کی طرف نہیں دیکھا جاتا۔ کیونکہ ہو سکتا ہے وہ بھی کہیں پرانی کتابوں کی نئی دکان سجا نے بیٹھا ہو۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •