دو دوست اور تین ادبی محبت نامے، فرحت پروین اور خالد سہیل

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

فرحت پروین کا پہلا خط

میں نے۔ درویشوں کے ڈیرے۔ کو اس طرح دن رات لگ کر پڑھا جیسے اگلے دن اس میں سے میرا امتحان ہو۔ انتہائی دلچسپ انداز ہے۔ خوش قسمت ہیں آپ کہ حسب دلخواہ زندگی جیئے۔ امیر حسین جعفری میرا بہت اچھا دوست ہے اس کی وساطت سے آپ کی شخصیت کے بارے میں جانا تو اس بار میں سوچ کے امریکہ آئی تھی کہ آپ سے ضرور ملوں گی کچھ سوال تھے میرے ذہن میں۔ اور آپ کے اور رابعہ کے خطوط پر مشتمل کتاب پڑھ کر یہ طلب دوچند ہو گئی۔ سچ اور صرف سچ پر مشتمل یہ کتاب اپنی نوعیت کی پہلی کتاب ہے۔ جو آپ بیتی ہوتے ہوئے بھی جگ بیتی ہے میں دوبار کینیڈا آئی مگر چونکہ آپ سے اپائنٹمنٹ نہیں لی تھی تو سوچا اگلی بار خاص طور پر آپ سے اپائنٹمنٹ لے کر آؤں گی اور پھر کرونا وبا کی وجہ سے بارڈر بند ہو گئے۔
اے بسا آرزو کہ خاک شدہ

خالد سہیل کا دوسرا خط

محترمہ و معظمہ و مکرمہ فرحت پروین صاحبہ!
آپ بہت دور رہتی ہیں لیکن پھر بھی بہت قریب محسوس ہوتی ہیں۔

جب ہماری فون پر بات ہوتی ہے تو آپ نہ صرف یہ جانتی ہیں کہ میں کیا کہہ رہا ہوں بلکہ یہ بھی سمجھتی ہیں کہ میں کیا کہنا چاہتا ہوں۔ اگر آپ ماہر نفسیات بنتیں تو بہت کامیاب ہوتیں اور آپ کی مسیحائی سے بہت سے مرد و زن استفادہ کرتے۔ ویسے آپ جیسا افسانہ نگار بھی سماجی مسیحا ہی تو ہوتا ہے۔

آپ کی شخصیت میں عجب مقناطیسیت ہے۔

آپ کے چہرے، لہجے اور افسانے کے ہر جملے میں ایک بچی کی معصومیت اور ایک بزرگ عورت کی دانائی آپس میں بغلگیر ہو گئے ہیں۔

پچھلے ہفتے آپ کے اعزاز میں فیمیلی آف دی ہارٹ نے جس زوم سیمینار کا اہتمام کیا تھا اس کا بہت لطف آیا۔ اس سیمینار کی وجہ سے آپ کا شمالی امریکہ کے ادیبوں سے اور ان کا آپ سے تعارف ہو گیا۔

میں آپ سے کئی متفرق موضوعات پر تبادلہ خیال کر چکا ہوں لیکن آج میں آپ سے خطوط نویسی اور ادبی محبت ناموں کے حوالے سے کچھ باتیں کرنا چاہتا ہوں کیونکہ آپ نے۔ درویشوں کے ڈیرے۔ کے خطوط کو بڑی اپنائیت سے پڑھا بھی ہے اور سراہا بھی ہے۔

کئی برسوں سے میری ایک خواہش تھی، ایک آرزو تھی، ایک ادبی خواب تھا کہ میں ایک ایسی کتاب لکھوں جو تمام تر خطوط پر مشتمل ہو لیکن اس کتاب کو دو ادیب مل کر لکھیں۔ ایک کردار عورت کا ہو اور ایک مرد کا۔ میں نے ان کے نام بھی چن لیے تھے۔ عورت کا نام رابعہ (چونکہ مجھے رابعہ بصری سے بہت عقیدت ہے ) اور مرد کا نام درویش (سچ کی تلاش میں نکلا ہوا مسافر) ہو اور وہ دونوں ایک دوسرے سے اپنی زندگی کے تجربات، مشاہدات اور نظریات کے بارے میں تبادلہ خیال کریں۔

میں نے چند ادبی دوستوں کو دعوت بھی دی اور ایک دو سے خطوط کا سلسلہ شروع بھی کیا لیکن کچھ بات نہ بنی اور ہم نے خطوط کا سلسلہ منقطع کر دیا۔ ادبی اسقاط تو ہو گیا لیکن میں ہمت نہ ہارا۔

آخر ایک دن مجھے ایک اجنبی لکھاری رابعہ الربا کا غیر متوقع خط آیا کہ وہ افسانوں کی ایک اینتھالوجی مرتب کر رہی ہیں اور چاہتی ہیں کہ میں انہیں اپنا ایک افسانہ اور تصویر بھیجوں۔ میں نے اپنے افسانے۔ چند گز کا فاصلہ۔ اور تصویر بھیجنے کے ساتھ یہ پوچھا کہ کیا آپ کچھ لکھتی بھی ہیں؟ کہنے لگیں میں افسانے لکھتی ہوں۔ میری فرمائش پر انہوں نے مجھے اپنے پانچ افسانے بھیجے۔ میں ان افسانوں سے اتنا متاثر ہوا کہ میں نے انہیں فون کیا، ان سے اپنا خطوط کی کتاب کا ادبی خواب شیر کیا اور انہیں اپنے تخلیقی ہمسفر بننے کی دعوت دی۔ انہوں نے وہ دعوت قبول کر لی۔ حسن اتفاق دیکھیے کہ نہ صرف ان کا اپنا نام بھی رابعہ الربا تھا بلکہ وہ خود بھی رابعہ بصری سے بہت متاثر تھیں۔

رابعہ کہنے لگیں آپ مجھے نہیں جانتے لیکن میں آپ کو جانتی ہوں اور یونیورسٹی کے دور سے آپ کے افسانے پڑھتی رہی ہوں۔

بس پھر کیا تھا خطوط کا سلسلہ شروع ہوا تو ہم نے تین مہینوں میں پوری کتاب لکھ ڈالی۔ سو دن میں چالیس خطوط۔ یہ ایک ادبی کرامت سے کم نہ تھا۔ اس طرح میرا ایک ادبی خواب شرمندہ تعبیر ہو گیا۔

آپ نے تو ہماری کتاب۔ درویشوں کا ڈیرا۔ پڑھی بھی ہے اور ہماری خوش قسمتی کہ آپ کو پسند بھی آئی ہے۔
درویشوں کے ڈیرے۔ کے خطوط۔ ہم سب۔ پر چھپے تو بہت مقبول ہوئے۔

ہم نے وہ کتاب کینیڈا سے بھی چھپوائی اور اسے ایک پبلشر نے ہندوستان میں بھی چھاپا۔ اب تو وہ ایمیزون پر بھی مل سکتی ہے۔ مجھے اس کی مقبولیت سے خوشگوار حیرت بھی ہوئی اور میرا حوصلہ بھی بڑھا۔

درویشوں کا ڈیرا چھپنے کے بعد میرا تعارف ایک انسان دوست دانشور اور مترجم نعیم اشرف سے ہوا جو اردو کے بیسیوں افسانے انگریزی میں ترجمہ کر چکے ہیں۔ میں نے جب انہیں مشورہ دیا کہ وہ درویشوں کے ڈیرے کا انگریزی میں ترجمہ کریں تو وہ مان گئے۔ انہوں نے چند ماہ میں ان چالیس خطوط کا ترجمہ کر دیا اور ہم نے وہ انگریزی کی کتاب
DARVESH’S INN
کے نام سے چھپوائی۔ اس طرح خطوط کی ایک کتاب اردو میں اور ایک کتاب انگریزی میں چھپ گئی۔

جب نعیم اشرف اپنی کتاب کی رونمائی کے لیے کینیڈا تشریف لائے اور میرے پاس چند دن رہے تو میں نے انہیں مشورہ دیا کہ ہم ایک دوسرے کو انگریزی میں خطوط لکھیں اور عالمی ادب کے مشہور ناولوں اور ناول نگاروں پر تبادلہ خیال کریں۔ نعیم اشرف کو میرا یہ مشورہ بھی پسند آیا اور ہم نے چند ماہ میں چالیس خطوط کا تبادلہ کر کے خطوط کی تیسری کتاب لکھی جس کا نام LITERARY LOVE LETTERS رکھا۔

تیسری کتاب تک پہنچتے پہنچتے بہت سے شاعروں ادیبوں اور دانشوروں نے مجھے خط لکھنے شروع کر دیے تھے۔ میں نے بھی ان خطوط کا جواب دیا۔ کسی کے ساتھ دو خطوط کسی کے ساتھ بارہ خطوط اور کسی کے ساتھ بیس خطوط کا تبادلہ ہوا۔ ان خطوط میں سے چند ایک۔ ہم سب۔ پر چھپے بھی۔ آخر میں نے بیس ادیبوں کے ساتھ اپنے خطوط کے تبادلے کو جمع کیا اور خطوط کی چوتھی کتاب تیار کی جس کا نام۔ ادبی محبت نامے۔ رکھا۔

اس مرحلے پر میرا تعارف ایک ماہر نفسیات و روحانیات ڈاکٹر کامران احمد سے ہوا اور ہم نے بڑی بے تکلفی سے روحانیات اور امن کی نفسیات پر تبادلہ خیال کیا۔ یہ خطوط انگریزی میں تھے اور ہم نے خطوط کے پانچویں مجموعے کا نام TWO CANDLES OF PEACE رکھا۔

آج کل ڈاکٹر کامران احمد کی شاعرہ بیگم افشیں کامران ان خطوط کا اردو میں ترجمہ کر رہی ہیں۔ جب ترجمہ مکمل ہوگا تو وہ خطوط کی چھٹی کتاب ہوگی۔ دو شمعیں امن کی۔

اس دوران میری ایک مریضہ جو بچپن میں SEXUAL ABUSE کا شکار رہی ہے اور کئی سال کی تھراپی سے صحتیاب ہو گئی ہے میرے ساتھ خطوط کا تبادلہ کر رہی ہے۔ اس کتاب کا نام۔ SHARING THE SECRET ہے۔ ہم نے تیس خطوط لکھ لیے ہیں بس آخری چند باقی ہیں۔ امید ہے کرسمس تک وہ ساتواں مجموعہ تیار ہو جائے گا۔

میرے کزن نوروز عارف، جو عارف عبدالمتین کے بیٹے ہیں، جب اپنی بیگم چندا اور ایک مرحوم دوست کی بیٹی نوال واجد کے ساتھ کرونا وبا سے چند ہفتے پہلے مجھ سے اور ڈاکٹر کامران احمد سے ملنے امریکہ سے مونٹریال تشریف لائے اور میں نے نوال کو خطوط کے ادبی تجربے کے بارے میں بتایا تو انہوں نے بھی خطوط کے تبادلے کی خواہش کا اظہار کیا۔ اب ہم نے چونتیس خطوط لکھ لیے ہیں صرف چند باقی ہیں۔ میں نے نوال سے پہلے کوئی اتنی دلیر اور نڈر پاکستانی عورت نہیں دیکھی۔ اس خطوط کے آٹھویں مجموعے کا نام UNCAGED ہے۔ وہ کتاب فرسودہ روایتوں سے آزادی کی کہانی ہے۔

خطوط کا نواں مجموعہ BECOMING A HUMANIST ہے جو میں اپنی ایک بنگلہ دیشی دوست تانیا ایکون کے ساتھ تیار کر رہا ہوں۔ تانیا کینیڈا کے آزاد خیال انسان دوستوں کے گروہ oasis کی فعال ممبر ہیں۔ وہ بھی میری طرح ایک مسلمان خاندان میں پیدا ہوئیں اور جوانی میں مذہب کو چھوڑ کر ایک دہریہ انسان دوست بن گئیں۔ ہم یہ کتاب ان نوجوانوں کے لیے لکھ رہے ہیں جو روایتی خاندانوں میں پلتے بڑھتے ہیں اور زندگی کے کسی موڑ پر خدا کو خدا حافظ کہہ دیتے ہیں۔ ہم انہیں بتانا چاہتے ہیں کہ اس سفر میں کن مشکلات اور کن آزمائشوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور ان مشکلات سے کیسے نبردآزما ہوا جا سکتا ہے۔

خطوط کا دسواں مجموعہ ناول۔ پاپی۔ ہے جو میں نے مرزا یاسین بیگ کے ساتھ مل کر لکھا ہے۔ درویشوں کے ڈیرے۔ کی طرح اس ناول میں بھی ایک کردار مرد کا ہے جس کا نام عرفام قمر ہے جس کے خطوط میں نے لکھے ہیں اور ایک کردار عورت کا ہے جس کا نام رضوانہ صدیقی ہے اور اس کردار کے خطوط مرزا یاسین بیگ نے لکھے ہیں۔ میری نگاہ میں اردو فکشن میں یہ ایک نیا تخلیقی تجربہ ہے۔ اس ناول میں بہت سے روایتی نفسیاتی، سماجی اور سیاسی تصورات اور نظریات کو چیلنج کیا گیا ہے۔ مجھے مرزا یاسین بیگ نے آج ہی یہ کوش خبری سنائی کہ وہ کتاب اگلے ہفتے کینیڈا میں چھپ جائے گی۔

اے میری افسانہ نگار دوست!

ان خطوط کے دس مجموعوں کو لکھنے اور چھپوانے سے میں یہ ثابت کرنا چاہتا ہوں کہ ادبی دنیا میں خطوط کو وہ مقام نہیں ملا جن کے وہ مستحق ہیں۔

میری نگاہ میں غزلوں، نظموں، افسانوں، مقالوں اور ناولوں سے کہیں زیادہ خطوط کا ادبی دامن وسیع ہے۔ وہ کسی سنت، سادھو، صوفی، سالک اور سائنسدان کی طرح فراخ دل ہیں اور ہر موضوع اور ہر تجربے اور ہر نظریے کو اپنے دامن میں سمو لیتے ہیں۔ میں اپنے دس خطوط کے مجموعے، جو میں نے مختلف مکاتب فکر کے دوستوں کے ساتھ مل کر تخلیق کیے ہیں، اپنے موقف کے حق میں پیش کر سکتا ہوں۔

آپ کا اس کے بارے میں کیا خیال ہے؟
آپ کی شخصیت اور تخلیقیت کا مداح
خالد سہیل۔
26 اکتوبر 2020
ٹورانٹو کینیڈا

فرحت پروین کا تیسرا خط

28 اکتوبر 2020

معذرت خواہ ہوں کہ جلد جواب نہ دے سکی۔ جب آپ جیسی شخصیت سے تعارف ہی اعزاز ہے تو پھر ان سے رابطے کی سہولت میسر ہونا تو ایک نعمت ہوئی نا۔ گئے وقتوں کے چند لوگوں کا ذکر پڑھا تھا وہ اتنے وسیع الذہن اور صاحب المطالعہ تھے کہ انسان ورطہ حیرت میں ڈوب جاتا۔ یہ اسی زمانے کی روح ہے جو دبک کر اپنے اندر بیٹھی زمانوں کو رخ بدلتے دیکھتی رہی دکھ تجربے سمیٹتی رہی اور جب اس نے لوگوں کو دانائی اور اعلیٰ انسانی صفات سے محروم ہوتے اور مادیت کی دوڑ میں اندھا دھند بھاگتے دیکھا تو بڑی آہستگی اور سکون سے اپنے کنج عافیت سے نکل کر جس پیکر میں ظہور کیا اسے خالد سہیل کے نام سے موسوم کیا جاتا ہے۔ اس نے دکھ سے زوال پذیر معاشرے میں دکھ سے مٹتی اقدار کو دیکھا۔ وہ جانتا تھا اسے کیا کرنا ہے اور کیا نہیں کرنا۔ اسے مبلغ نہیں بننا لیڈر نہیں بننا۔ بس گئے زمانوں کی جمع کی ہوئی روشنی کو لفظوں میں ڈھالنا ہے اور راہ گم کردہ لوگوں کے دماغ کی الجھی گرہوں کو کھولنا ہے۔ وہ بجا طور پر خود کو درویش کہتا ہے۔

اب تو اس جدید دور کے جدید تر درویش کو ایک زمانہ جانتا ہے۔ ہم نفس ہم نفس کو پہچانتا ہے۔ میری جیسی بیک بنچر کو اس نے تبادلہ خیال کی دعوت دی ہے جسے میں اپنے لیے اعزاز سمجھتی ہوں۔ لیکن ایک بات ابھی سے درویش کو بتا دوں مجھ سے سلسلہ مراسلات میں کئی باتیں پریشان کر سکتی ہیں۔ مثلاً سلسلہ مراسلات میں تاخیر۔ درویش کے پاس صبر کی بڑی لمبی جائیداد ہے سو امید ہے کام چل جائے گا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ڈاکٹر خالد سہیل

ڈاکٹر خالد سہیل ایک ماہر نفسیات ہیں۔ وہ کینیڈا میں مقیم ہیں۔ ان کے مضمون میں کسی مریض کا کیس بیان کرنے سے پہلے نام تبدیل کیا جاتا ہے، اور مریض سے تحریری اجازت لی جاتی ہے۔

dr-khalid-sohail has 380 posts and counting.See all posts by dr-khalid-sohail