سوال کرنا غداری نہیں

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

فوج، پولیس، فائر بریگیڈ، ہیلتھ، ایجوکیشن، عدلیہ وغیرہ سرکاری محکمے ہیں۔ ان کے اخراجات عام لوگوں کے ٹیکسوں سے پورے ہوتے ہیں۔ دنیا کے ہر ملک میں یہ محکمے ہوتے ہیں۔ مقامی قوانین میں دیے گئے طریقہ کار کے مطابق کام کرتے ہیں۔ اس سے روگردانی پر شہری خود یا ان کے نمائندے سیاست دان ان پر تنقید کرتے ہیں۔

ہمارے ہاں بھی شہری تنقید کرتے ہیں۔ بلکہ بعض بزعم خود زیادہ انقلابی شہری تنقید نہیں کرتے گالیاں بکتے ہیں۔ جو ناجائز ہے۔ یہ گالیاں پولیس مین، فائر فائٹر، ڈاکٹر، استاد اور جج کو بکی جاتی ہیں۔

لیکن تمام محکموں پر تنقید بالخصوص گالم گلوچ کرنے والے شہری نامعلوم وجوہات کی بنا پر فوج کے افسروں پر جائز تنقید سے باز رہتے ہیں۔ یہی نہیں بلکہ تنقید کا حق استعمال کرنے والے دیگر شہریوں کے پیچھے لٹھ لے کر پڑ جاتے ہیں۔ ایسی تنقید کو فوراً ملکی سلامتی سے جوڑ دیتے ہیں جو نامعلوم وجوہات کی بنا پر ہمیشہ نازک صورتحال میں ہی رہتی ہے۔

ان سے پوچھیں کہ کسی سرکاری ملازم پر تنقید سے ملک کی سلامتی کو کیا خطرہ لاحق ہو جاتا ہے؟ اور اگر خطرہ لاحق ہوتا ہے تو استاد سے لے کر ڈاکٹر اور پولیس مین سے جج تک ہر سرکاری ملازم پر کیوں چڑھ دوڑتے ہو؟

اگر اس لیے ایسا کرتے ہو کہ بعض پولیس افسران اور بعض جج حضرات سرکاری فرائض کی ادائیگی میں کوتاہی کرتے ہیں، مالی کرپشن کرتے ہیں یا اس اختیار کا ناجائز استعمال شہریوں کے خلاف کرتے ہیں جو انہیں شہریوں کی خدمت کے لیے دیا جاتا ہے۔ تو پھر کیا اپنے فرائض کی ادائیگی میں کوتاہی کرنے والے، مالی کرپشن کرنے والے اور اختیار یا طاقت کا ناجائز استعمال کرنے والے افواج میں نہیں پائے جاتے؟ آئین توڑنے والے فوجیوں کو دفاع کے لیے چونکہ بہت سے رضاکار وکیل مل جاتے ہیں اس لیے بات کرنے کی خاطر فی الحال ایوب، یحییٰ، ضیا اور مشرف کے آئین توڑنے اور حکومت پر قبضہ کرنے کی بات نہیں کرتے۔

ہم افواج میں انہی جرائم اور کوتاہیوں کی اعلی سطحی مثالیں لیتے ہیں جن کی بنا پر انقلابی شہری پولیس مین اور جج کو گالیاں دیتے ہیں۔ پیشہ ورانہ فرائض کی ادائیگی میں کوتاہی، مالی کرپشن کرنے اور سرکاری اختیار کے ناجائز استعمال کی ایک نہیں، دو چار نہیں، درجنوں، سینکڑوں مثالیں افواج سے بھی ملتی ہیں۔ اور اتنی اعلیٰ سطحی ملتی ہیں جس میں ان محکموں کے سربراہان تک ملوث نظر آتے ہیں۔

کیا یحییٰ فرض کی ادائیگی میں کوتاہی کا مرتکب نہیں ہوا تھا؟ کیا ٹائیگر نیازی دفاع وطن کا فریضہ انجام دے پایا۔ کیا اسے اس کوتاہی پر کوئی شرمندگی ہوئی؟ کیا کارگل کی مہم جوئی کسی سویلین کا کیا انتخاب تھا؟ ہم فوجی کو اگر اس لیے عزت دیتے ہیں کہ وہ ضرورت پڑنے پر دفاع وطن کی خاطر جان کا نذرانہ پیش کرتا ہے تو پھر میں کیپٹن کرنل شیر خان شہید کو سلیوٹ کروں گا اور جنرل نیازی میری ملامت کا حقدار ٹھہرے گا۔

کیا نیوی کا ایک سابق سربراہ مالی کرپشن میں ماخوذ نہیں ہوا؟ کیا بقول ایک مدح سرا کے ایک وقت کھانا چھوڑنے والے سابق فوجی سربراہ کے بھائیوں کی مبینہ سپورٹ پر کرپشن کی داستانیں زبان زد عام نہیں؟ کیا سدرن کمانڈ کے سابق سربراہ حال ہی میں بدترین کرپشن کے الزامات سے مروجہ طریقے سے کلیئر ہوئے؟ کیا مشرقی پاکستان سے ضیا دور کے سندھ اور مشرف دور سے آج تک بلوچستان اور فاٹا میں شہریوں کی طرف سے فوجی افسران پر طاقت کے ناجائز استعمال کی باتیں کوئی راز ہیں؟

اگر ان غلط فوجی افسروں پر تنقید سے فوج کا مورال ڈاؤن ہوتا ہے تو پھر کرپٹ پولیس اور کرپٹ جج پر تنقید سے پولیس اور عدلیہ کے مورال ڈاؤن ہونے کی فکر کیوں نہیں کرتے؟

اور اگر اس وجہ سے ان کے بارے میں بات نہیں کرنی کہ اس سے دشمن کو بات کرنے کا موقع ملتا ہے تو کیا دشمن کو بات کرنے کا موقع فوجی افسران کی کرپشن پر نہیں ملتا؟ تنقید تو شہری بعد میں کرتے ہیں کرپشن تو پہلے ہوتی ہے۔ جب ہلیری کلنٹن ڈیپ سٹیٹ کی بات نام لے کر کرتی ہے اور دنیا بھر کا میڈیا اسے چھاپتا ہے تو کیا دشمن کو ہمارا ٹھٹھا اڑانے کا موقع نہیں ملتا؟ کیا ہلیری اس لیے ایسا کہتی ہے کہ یہاں شہری تنقید کرتے ہیں؟

چلیں ایک اور پہلو سے بھی دیکھ لیتے ہیں

شاید یہ اتفاق ہے کہ غدار غدار کے اچانک شروع ہو جانے والے کھیل میں کریز سے نکل کر مذہبی رجحان رکھنے والے افراد اندھا دھند شاٹس لگا رہے ہیں۔ حالانکہ اسلامی تاریخ دیکھیں یا موجودہ حکومت کے ریاست مدینہ کے دعوے کو پیش نظر رکھیں تو پھر نامعلوم وجوہات کی بنا پر بجائے مورال کے مبینہ ڈاؤن ہونے کی آڑ لینے کے انہیں تو جائز تنقید کا خیر مقدم کرنا چاہیے۔ ریاست مدینہ کے سب سے کامیاب خلیفہ کی سنت ہے کہ انہوں سے سب سے کامیاب چیف آف سٹاف کو دوران جنگ معزول کیا، اسی کے جونیئر کی کمان میں لڑنے کا حکم دیا اور یہ سب ایک خط کے ذریعے کیا۔ مورال بجائے ڈاؤن ہونے کے بڑھ گیا کہ مورال تو اخلاقی کمزوری پر ڈاؤن ہوتے ہیں۔ کمپیٹینٹ اتھارٹی کے جائز احکام اور شہریوں کی تنقید کا خیر مقدم کرنا قانون کی نظر میں سب کی برابری کے اصول کی تعظیم اور ڈسپلن کی اعلی مثال ہے۔

صاحب سوال کا جواب دیں، سوال کے جواب میں سوال کریں گے یا فتوے ارزاں کریں گے تو مزید سوال ہوں گے۔ اس ملک سے ہر شہری کو یکساں محبت ہے خواہ وہ روزی ٹھیلے سے کماتا ہے، دیہاڑی لگا کر شام کو آٹا لے جاتا ہے، بچوں کو پڑھاتا ہے یا مریضوں کو دوا دیتا ہے۔ محکمہ عدل سے تنخواہ لیتا ہے یا اس کی تنخواہ دفاعی بجٹ سے جاتی ہے۔ ہم تقسیم ہو کر مضبوط نہیں ہو سکتے اور فتوے لگا کر متحد نہیں ہو سکتے۔

غدار سازی کی مہم چلانے والے کوتاہ فہم، ذہنی بونے اور سخت عاقبت نا اندیش ہیں۔ جب ہم اپنوں کے سوال سے نہیں ڈریں گے تو ہماری قوت بھی اپنے ہی ہوں گے۔ پھر ہمیں چند گھنٹے کی زندگی والے اخبار میں کسی پروپیگنڈا خبر سے بے چینی نہیں ہو گی۔ پاکستانی زندہ باد، پاکستان پائندہ باد!

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •