جبری تبدیلی مذہب اور عدالتی نظام


غربت بذات خود ایک ایسی بیماری ہے، جس سے دیگر بیماریاں جنم لیتی ہیں۔ پاکستان کی اکثریتی آبادی غربت کی لکیر سے نیچے زندگی گزارنے پر مجبور ہے ایسے میں اگر کسی غریب کا تعلق کسی مذہبی اقلیت سے ہوتو مسائل اور بھی بڑھ جاتے ہیں۔ ایسا ہی ایک مسیحی خاندان کراچی کینٹ ریلوے کالونی کے کوراٹرز میں آباد ہے۔ گھرکا سربراہ راجہ لال مسیح، ڈرائیور کے طور پر ملازمت کرتا ہے جبکہ اس کی بیوی گھروں میں کام کاج کرتی ہے۔ ان دنوں بین الاقوامی خبر رساں اداروں اور سوشل میڈیا پر اس خاندان کی 13 سالہ کم سن بچی ”آرزو راجہ“ کے مبینہ اغوا، جبری تبدیلی مذہب اور بچی کی عمر سے تین گنا بڑے عمر کے شخص کے ساتھ شادی کے چرچے ہیں جبکہ مقامی میڈیا قدرے خاموش ہے۔

پاکستان میں بسنے والی مذہبی اقلیتیں تقسیم سے پہلے کی یہاں آباد ہیں اور انہوں نے ملک کی تعمیر وترقی اور حفاظت کے لئے اپنی جانیں قربان کی ہیں لہٰذا ان کی حب الوطنی پر شک کرنا اور ان کے جذبات کو ٹھیس پہنچانا ہے۔ پاکستان کی سالمیت، حفاظت اور حب الوطنی اتنی ہی مقدم ہے جتنی کسی دوسرے شہری کی۔

دوسرا یہاں پر رہنے والے افراد میں سے کوئی بھی آزادی یا علیحدگی پسند تحریک میں ملوث نہیں۔ باوجود اس کے اس بات سے انکار نہیں کیا جاسکتا کہ ہمارے ملک میں مذہب، علاقے، زبان اور صنف کی بنیاد پر تقریق موجود ہے۔ کراچی کے لڑکی کے والد کے بیان کے مطابق ان کی 13 سالہ لڑکی کو مقامی 44 سالہ مسلمان شخص نے ورغلا کر اغوا کیا اور بعد میں پولیس نے ان کو یہ کہہ کر بھگا دیا کہ لڑکی نے مذہب تبدیل کر کے نکا ح بھی کر لیا ہے اور تو اور عدالت نے بھی لڑکی کی کم عمری کے سرٹیفیکیٹ کو تسلیم نہیں کیا اور اغواء کار اظہر علی کو عدالتی تحفظ دیا۔

اب حالت یہ ہے کہ نہ تو لڑکی کے والدین کے پاس وکیلوں کے ادا کرنے کی بھاری رقوم موجود ہے اور نہ ہی عدالت سے انصاف کی امید۔ اس سے قبل ایسے درجنوں واقعات رونما ہو چکے ہیں جس میں اعلی عدالتوں نے ہندوؤں، سکھوں اور مسیحیوں کی بچیوں کو انصاف سے محروم کیا گیا ہے۔ اب پیپلز پارٹی جیسی لبرل خیالات کی دعویدار سیاسی جماعت نہ صرف صوبہ سندھ میں حکمران ہے بلکہ صوبے میں جبری تبدیلی مذہب کا قانون بھی منظور کر چکی ہے وہ بھی متاثرہ خاندان کو انصاف فراہم کرنے میں ناکام ہے۔

گزشتہ چند دہائیوں کے دوران پاکستان میں لالچ اور جبر کے علاوہ اسلام قبول کرنے کی کوئی مثال موجود نہیں جبکہ سنٹر فار سوشل جسٹس کے اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ سولہ برسوں کے دوران 55 مسیحی لڑکیوں کو مبینہ جبری مذہب تبدیل کروایا گیا ہے اس کے علاوہ کئی ہندؤ لڑکیوں کے جبری تبدیلی مذہب کے واقعات موجود ہیں۔ ان میں سے اکثریت کم عمر لڑکیوں کی ہے۔ حیرانی اس بات پر ہے کہ آخر اسلام کی تبلیغ کا اثر صرف کم عمر غیر مسلم لڑکیوں پر ہی کیوں ہوتا ہے، لڑکو ں اور پختہ عمر کی عورتوں پر کیوں کم ہوتا ہے۔ دوسری بات کہ مذہب کی تبدیلی کے بعد اس عورت کو بیٹی یا بہن بنا کر کیوں نہیں رکھا جاتا، فوراً نکاح ہی کیوں کیا جاتا ہے؟

جبری تبدیلی مذہب، مذہبی بنیاد پر تفریق اور امتیازی سلوک اور استحصال کئی عشروں سے جاری ہے۔ لولی لنگڑی وزارت انسانی حقوق سے کسی بھلائی کی امید رکھنا فضول ہے۔ پاکستان میں مذہبی اقلیتوں کو مختلف طریقوں سے تقسیم کیا گیا ہے۔ ایسے میں مذہبی اقلیتوں کو اپنے حقوق کے حصول مذہب کی بنیاد پر ہونے والی نا انصافیوں اور امتیازی سلوک اور کم عمر بچیوں کے اغو ا اور جبری تبدیلی مذہب اور مذہبی آزادی کے خلاف ایک لائحہ عمل تیار کرنے اور متحد ہونے کی ضرورت ہے کیونکہ المیہ یہ ہے کہ نابالغ بچیوں کو ایک دن میں مذہب تبدیل کروا کر نکاح کر دیا جاتا ہے اور بعد میں ان بچیوں کے والدین سے بھی نہیں ملنے دیا جاتا۔ عدالتیں یک طرفہ فیصلہ سنا دیتی ہیں اور ان بچیوں کے خاندانوں کو ہمیشہ ہمیشہ کے لئے بے بس، لاچار اور سسکیوں کے لئے چھوڑ دیا جاتا ہے۔

Facebook Comments HS