اور امی جی بھی چلی گئیں
غم دنیا غم ہستی غم الفت غم دل
کتنے عنوان ملے ہیں مرے افسانے کو
گھر میں بڑا بیٹا ہونے کی حیثیت سے ہاسٹل میں رہتے ہوئے بھی ذمہ داریاں سونپی گئی، خیر چند دن پہلے پھر کسی گھریلو کام کے باعث مارکیٹ پہنچا تھا کہ والد صاحب کی کال آئی اور حسب معمول سمجھ کر کال اٹھا تو لیا مگر آواز میں بدلاؤ جان کر وجہ پوچھنا ہی چاہتا تھا کہ وہ گویا ہوئے کہ خورشید کی اہلیہ کو بے ہوشی کے عالم میں سیدو شریف پہنچایا ہے سو آپ فوراً اپنی حاضری یقینی بناؤ۔
کہتے ہیں انسان کے لاشعور میں بعض واقعات ایسے بھی جگہیں بناتی ہیں جو عموماً داخلیت سامنے لانے سے گھبراہٹ محسوس کر کے ڈر کا مقابلہ کرنا نہیں جانتے یا سامنا ہی نہیں چاہتے۔ جب ذہنی ارتقا بچپن میں ہی بام عروج پہنچے تو مذکورہ شخص کی زندگی کو چار چاند لگ جاتے ہیں اور یہ عقل والوں کے لیے بڑی سعادت کی بات ہوتی ہے اس بنا پر کہ اکثر ارتقائی مراحل طے کیے بغیر ہی خود کشی کو حل سمجھتے ہیں لیکن خدا وندی قدوس نے ہمت دی اور چند ساعت اور جینے کا اک سنہرا موقع دے کر احسان عظیم کیا۔
ذاتی مشاہدہ سے اک یہ بات بھی اخذ کی کہ انسان ہر رشتے سے اکتا جاتا ہے چاہے وہ صدیوں بعد ملا پیار ہی کیوں نہ ہو لیکن اک رشتہ ایسا بھی وجود میں آتا ہے جسے اپنی حیثیت کے لیے کسی سٹیشن یا کچہری میں کھڑے ہو کر نہیں منوانی پڑتی۔ وہ رشتہ ماں باپ کے علاوہ اور کوئی ہو ہی نہیں سکتا۔ یعنی شعور پچپن کے بجائے بچپن میں آ جائے تو بہتر ہوگا۔
خیر ہسپتال پہنچ کر کیا دیکھتا ہوں کہ خون میں لت پت اک محترمہ پڑی ہے جسے بے ہوشی کے عالم میں ایمرجنسی وارڈ میں داخل کیا ہوا ہے۔ چونکہ بلڈ پریشر کا مرض وراثت میں ملا تھا تو شوگر ٹسٹ کیا لیکن حیران کن نتائج سامنے آئے کیونکہ شوگر بھی چند روز قبل انٹری دے چکا تھا ڈاکٹرز حضرات بھی مسلسل کوششوں میں لگے تھے مگر کوئی لیبارٹری مطمئن رزلٹ دینے سے قاصر تھی۔ دوائیاں ہم دیں رہے ہیں لیکن دعاؤں کی درخواست آپ لوگوں سے کی جاتی ہے۔ ڈاکٹر صاحب کے لہجے میں نرمی تھی۔
امی کی حالت حالت تشویشناک بنتی جا رہی تھی۔ ڈاکٹرز صاحبان تھے کہ ڈرپ پہ ڈرپ لگاتے انجکشن ملا کر مگر ظاہری طور پر کوئی افاقہ نظر نہیں آ رہا تھا۔ یہ حالت دیکھ کر ہر اک کی آنکھ نم تھی۔ ہر کوئی چپکے چپکے آنسو پونچھتا ہوا وارڈ سے نکل جاتا حالانکہ امی کی اپنی اولاد میں سے کوئی ہسپتال میں نہ تھا ماسوائے دو بھائیوں کے اور ان کے مکھڑوں پر تو نہریں جاری تھی۔
راقم بھی اسی سوچ میں دنیا و مافیہا سے بے خبر ہو کر رہ گیا کہ
انسان بھی کیا کیا نہیں سوچتا اور اصلیت امی کی صورت میں سامنے تھی۔ یہ کیا زندگی ہوئی کہ ایک انسان اپنے ہی جسم کو جنبش دینے میں ناکام رہے یہ بیماری یہ لاچاری بھی کیا چیز ہے؟ غالب بھی کیا خوب فرماتے ہیں کہ
جب کہ تجھ بن نہیں کوئی موجود
پھر یہ ہنگامہ اے خدا کیا ہے
شاید دنیا میں اس سے ڈراؤنی چیز کوئی نہ ہو۔ جب انسان اپنی حساسیت کے ساتھ ساتھ احساس بھی کھو بیٹھے تو دولت کی ریل پیل، ہر سہولت ہر آسائش اور ہر خوشی ہی کیوں میسر نہ ہو سب کچھ بے کار ثابت ہوتے چلے آ رہے ہیں۔
چاہے انسان کے پاس کتنی ہی دولت کیوں نہ ہو، چاہے انسان کو زندگی کے تمام آسائشوں سے مالا مال ہی کیوں نہ کر دیا جائے مگر رسی ہاتھ سے نکل جائے تو تمام کوششیں تمام دولت تمام رنگ رلیاں بے کار ہوں گے۔ یعنی یہ دولت کسی کام کی نہیں رہتی۔ اکثر سوچتا ہوں تاریخ میں سکندر اعظم یا ہٹلر جیسے دوسرے جابر جنہیں نے یہ عظم کیا تھا کہ دنیا فتح کر کے ہی لوٹیں گے اور آدھی دنیا فتح کرتے ہی وہاں پہنچ جاتے ہیں جہاں سے واپسی ممکن نہیں یہ عظیم جنگ جو حضرات کاش تھوڑا سوچتے کہ فتح کر کے کیا ملے گا یا فتح نہ کی تو کیا ہوگا؟ یہ دنیا تو رہ جانے والی ہے زندگی کا بھروسا ہی کیا جو اک ایسے موڑ پر چھوڑ دیتی ہے کہ انسان حق حیران رہ جاتا ہے، آپ ہٹلر اور سکندر اعظم کو دیکھ لیں انجام کیا ہوا؟ ( بہر کیف انسان خواہشات کا انبار لیے دنیا میں آ کر چلا جاتا ہے میر فرماتے ہیں کہ
کہیں کیا جو پوچھے کوئی ہم سے میر
جہاں میں تم آئے تھے کیا کر چلے
بیڈ پر پڑی امی جی کو دیکھ کر دل اس قدر نرم ہو گیا کہ بین کرنے سے قاصر ہوں یوں سمجھ لیجیے کہ بچوں جیسی حالت ہو گئی۔ منہ بولی ماں زندہ لاش کی مانند دیکھ کر سوچ میں مبتلا ہو گیا کہ دیکھو یہ انسان کی حالت ہے کل ہشاش بشاش تھیں تو آج اس قدر بے حال ہے کہ نہ کھانے کی فکر تو نہیں پینے کی بس اپنی آخری سانسیں لے رہی ہے۔ شاید وہ اس مصرعہ کی طرح سوچ رہی ہوگی کہ ”تمام رات قیامت کا انتظار کیا“ امی جیسی عورتیں آٹے میں نمک کے برابر ہوتی ہیں۔ امی اچانک اندر پائی سے گر گئی اور مسلسل اک ہفتے بے ہوش۔
امی جی سیدو شریف سے ڈسچارج کی مگر مطمئن جواب نہ دیا خیر زندگی کچھ دن اور تھی تو سانسیں چل رہی تھی چونکہ سر کے بل گر گئی تھیں تو باتوں میں ربط برقرار رکھنا محال ہو گیا تھا لیکن ہم اس بات پر بھی خوش تھے کہ شکر ہے بات تو کی لیکن ہماری یہ خوشی وقتی تھی ہماری مسکان چھین جانے والی تھی ہمارے دلوں پر آسمان ٹوٹنے والا تھا ہمیں ہوش کھونے میں کچھ ساعت رہ گیا تھا۔ بہر صورت انسان مرنے کے لیے پیدا ہوا ہے اور ہاں اکثر دادی جی بھی فرمایا کرتی ہیں کہ ”موت ہے تو کوئی خوشی نہیں“ موت کے مطابق غالب بھی کیا خوب فرماتے ہیں کہ
کہوں کس سے میں کہ کیا ہے شب غم بری بلا ہے
مجھے کیا برا تھا مرنا اگر ایک بار ہوتا
حننا (امی کی بیٹی) فرماتی ہیں کہ امی جی کو مردان شفٹ کیا تاکہ صحت میں اور بہتری آ جائے مگر خدا کو کچھ اور ہی منظور تھا۔ وہ رات زندگی کی خوفناک، ہولناک اور اتنی تلخ اور زہر آلود رات تھی کہ دل خون کے آنسو رو رہا تھا جب امی جی کی تکلیف میں اضافہ ہوا تو ڈاکٹروں نے یہی اشارہ دیا کہ محترمہ کا ذہن کام چھوڑ چکا ہے یہ وہ جملہ تھا جو میرے ہوش و حواس اس قدر اڑا لے گیا گو کہ یوں لگا زلزلہ ہے اور ہسپتال میرے اوپر گرنے ہی والا ہے آنکھوں کے سامنے اندھیرا چھا گیا ہوں۔ ہر طرف سناٹا چھایا ہوا ہے خود کو اک سنسان جنگل میں پایا اس غضب ناک دنیا میں کر کیا رہا ہوں۔ یہ وہ سوال تھا جس کے جواب اس جہان میں ممکن نہیں۔
سماعت بھی جواب دے چکی تھی بصارت صرف اتنی رہ گئی تھی کہ راستہ دکھائی دے رہا تھا اردگرد ہجوم کے بجائے کسی دشت میں خود کو پایا۔ ڈاکٹروں کی زبان سے مذکورہ جملہ سنتے ہی منہ سے اک بے ہنگم آواز نکلی جو اپنی سماعت سے نہیں ٹکرائی۔ رات کے ایک بجے سے ٹائم گزر چکا تھا لیکن مجھے ہوش نہیں رہا اور میں ہسپتال سے کم از کم اک کلو میٹر دور چلا گیا لیکن دھاڑیں مار مار کر ہلکان ہونے کی کوشش کی مگر نا آسودہ رہا شاید اردگرد موجود ہجوم بھی تھا لیکن دکھائی کچھ نہیں دیا۔
خیر پتا نہیں کتنے ٹائم بعد کوئی آ کر مجھے منتیں کر رہا تھا کہ چلو چلتے ہیں لیکن اس کے آنکھوں سے آنسوؤں کی ایک نہر جاری تھی۔ مجھے شاید گھسیٹتے ہوئے لایا گیا کیونکہ اپنے پاؤں میں تو حرکت ہی نہیں تھی۔ آج امی کو بچھڑے تقریباً اک مہینہ ہوا گیا لیکن ابھی تک ہوش ٹھکانے نہیں آیا بس خدا سے دعا کرو کہ اس حقیقت کو تسلیم کرنے کے لیے صبر بھی جلد دینا۔ شاید حننا غالب کے اک شعر کی تشریح میں یہ کہہ گئیں
میری قسمت میں غم گر اتنا تھا
دل بھی یارب کئی دیے ہوتے
اور دعائیہ کلمات سے رخصتی لی۔


