ہر دس سال بعد یہاں جمہوریت بحالی کی تحریک چلتی ہے



کہنے کو پاکستان ایک جمہوری ملک ہے مگر بدقسمتی سے ملک میں ابھی تک جمہوریت مضبوط ہوئی اور نہ پارلیمنٹ کی بالادستی قائم ہوئی ہے۔ جمہوریت ایک قدم آگے بڑھتی ہے تو دس قدم پیچھے دھکیلی جاتی ہے۔ ملک کو ایک تجربہ گاہ بنایا گیا ہے اور بار بار نئے تجربے دہرائے جاتے ہیں کبھی جمہوریت کو چلنے دیتے ہیں اور جب ملک ترقی کی راہ پر گامزن ہو جاتا ہے، تو جمہوریت معطل کر کے مارشل لا نافذ کیاجاتا ہے اور جب لوگ مارشل لا سے تنگ آ جاتے ہیں تو پھر کنٹرولڈ جمہوریت لاتے ہیں۔

ملک میں 36 سال تو براہ راست آمریت رہی اور باقی برسوں میں کنٹرولڈ جمہوریت رہی۔ ہر دس سال بعد ملک میں جمہوریت کی بحالی کے لیے تحریک چلتی ہے حالانکہ مہذب دنیا میں اس طرح نہیں ہوتا۔ پاکستان کو بنے ہوئے 73 سال ہو گئے ہیں مگر ابھی تک یہ فیصلہ نہیں ہوا کہ ملک کو جمہوریہ بنانا ہے یا آمریت کے شکنجے میں جکڑے ہی رکھنا ہے۔ قومیں اپنے وجود کے پہلے دن فیصلہ کرتی ہیں کہ ملک کو کس طرح چلانا ہے، اور کس نظام کے تحت چلانا ہے۔ آج کل تقریباً پوری ترقی یافتہ دنیا میں جمہوریت ہی رائج ہے ماسوائے چین، افریقہ، اور مشرق وسطیٰ کے کچھ ممالک کے۔ اور یہ ترقی یافتہ دنیا کا تجربہ اور مشاہدہ ہے کہ جمہوریت ایک بہترین طرز حکومت ہے۔ اقوام کی ترقی اور خوشحالی صرف جمہوریت میں مضمر ہے۔

برطانیہ جس کو مادر جمہوریت کہا جاتا ہے اور ایک ترقی یافتہ ملک ہے اس کی آٹھ سو سالہ تاریخ میں کسی کو پارلیمنٹ معطل کرنے اور آئین کو روندنے کی جرات نہیں ہوئی ماسوائے ایک ڈکٹیٹر اولیور کرامویل کے جس کو 1660 میں بعد از مرگ قبر سے نکال کر چوراہے میں پھانسی پر لٹکایا گیا۔ پھر بعد میں کسی نے آئین کو روندنے کی کوشش نہیں کی۔

امریکہ 1776 میں آزاد ہوا اور سال 1789 میں آئین منظور ہوا آئین کے مطابق ملک کو جمہوری اصولوں کے مطابق صدارتی طرز حکومت کے مطابق چلانا ہے۔ جو آئین بنا وہ ابھی تک قائم ہے اور اب تک اس میں صرف 27 ترامیم ہوئی ہیں وہ بھی عوامی حقوق اور جمہوریت کی مضبوطی کے لیے ہوئی ہیں۔ وہاں کسی کو آئین سے چھیڑ چھاڑ کی جرات نہیں ہوئی۔ ہمارا پڑوسی ملک بھارت ہمارے ساتھ آزاد ہوا اور 1950 میں آئین منظور ہوا وہی آئین آج تک ان کا راہنما ہیں وہاں نہ کبھی آئین معطل ہوا اور نہ جمہوریت کو کمزور کرنے کی کوئی سازش ہوئی۔

پاکستان میں کمزور جمہوریت کے پیچھے کئی عوامل ہیں۔ سب سے پہلے طاقتور اور منظم اداروں کا موجود ہونا ہے۔ پاکستان جب آزاد ہوا تو جمہوری ادارے بہت کمزور تھے اس کے مقابلے میں فوج اور بیوروکریسی کے ادارے بہت مضبوط اور منظم تھے۔ کیونکہ ہندوستان پر برطانوی راج طاقتور ملٹری اور بیوروکریسی کی بدولت ہی قائم تھی۔ انگریزوں نے پارلیمنٹ اور جمہوری اداروں کو مضبوط نہیں کرنے دیا۔ تو جب پاکستان آزاد ہوا تو جمہوری ادارے منظم نہیں تھے اور جلد ہی ملٹری کے زیر اثر آ گئے۔

دوسری وجہ مسلم لیگ میں جاگیرداروں، وڈیروں اور نوابوں کا اثر و رسوخ زیادہ تھی انہوں نے پارٹی کو نچلی سطح پر منظم نہیں کیا تھا۔ ایک اور وجہ پنجابی مہاجر تضاد کا بھی تھا۔ بنگال اور مغربی پاکستان میں شدید انتظامی اختلافات کی وجہ سے بھی جمہوریت کمزور ہوئی۔ سیاستدانوں کی نالائقی اور آپس میں تقسیم نے بھی غیر جمہوری قوتوں کی مضبوطی میں اہم کردار ادا کیا۔ جمہوریت کی کمزوری کے پیچھے سیاستدانوں کا بھی بھرپور حصہ رہا ہے ایک تو یہ خود ایک دوسرے کے خلاف ہر سازش میں شامل رہے ہیں دوسرا انہوں نے کبھی بھی اپنی پارٹیوں کو جمہوری اصولوں پر نہیں چلایا۔ یہ اپنی پارٹیوں میں جمہوریت اور برابری تو نہیں چاہتے ہیں جبکہ ملک میں جمہوریت کی بالادستی چاہتے ہیں۔

پاکستان میں جمہوریت کی کمزوری کے پیچھے ایک بڑا مسئلہ صوبائی خودمختاری کا ہے۔ غیر جمہوری قوتیں صوبوں کو اختیارات نہیں دینا چاہتیں اسی لئے خود اقتدار پر بار بار قبضہ کرتی ہیں۔ پاکستان میں اب تک صوبوں کو پورے حقوق اور اختیارات نہیں ملے ہیں۔ حالانکہ ملک بننے سے پہلے 1940 کے قرار داد پاکستان میں قائد اعظم محمد علی جناح نے صوبائی خودمختاری کا مطالبہ کیا تھا۔ حقیقت تو یہ ہے کہ صوبائی خودمختاری کا مطالبہ مسلم لیگ کے بنیادی مطالبات میں سے ایک تھا۔

مگر بدقسمتی سے آزادی ملنے کے بعد اب تک صوبوں کو اختیارات منتقل نہیں کیے گئے۔ اختیارات دینا تو دور کی بات ہے الٹا صوبائی خودمختاری مانگنے کو غداری سے تعبیر کیا گیا۔ اگر اسی وقت باچاخان، عبد الصمد خان اچکزئی، ولی خان، مولانا بھاشانی، شیخ مجیب الرحمٰن اور غوث بخش بزنجو کی باتوں اور مطالبات کو سنجیدگی سے لیا جاتا تو ملک تقسیم نہ ہوتا۔ یہاں پر صوبوں کو اختیارات دینے کے سلسلے میں پہلی دفعہ سنجیدہ کوشش آصف علی زرداری کے دور حکومت میں ہوئی جب اٹھارہویں ترمیم منظور کر کے صوبوں کو اختیارات منتقل کیے گئے۔

اور اگر اس ترمیم پر عمل کیا جائے تو صوبوں اور قوم پرستوں کے کافی مطالبات پورے ہوسکتے ہیں اور ملک مضبوط ہوجائے گا۔ مگر ہمارے نادان ارباب اختیار اس ترمیم کے خاتمے کی بھرپور کوششیں کر رہے ہیں۔ جو کہ ملک کو کمزور اور تقسیم کرنے کی سازش ہے۔ دو برس قبل ملک کے طاقتور ترین شخص نے اس ترمیم کو شیخ مجیب الرحمٰن کے چھ نکات سے زیادہ خطرناک قرار دیا تھا۔ ان کو سمجھ نہیں کہ اس ترمیم سے پاکستان مضبوط ہوا تھا نہ کہ کمزور۔

اگر اپنے پڑوسی بھارت اور امریکہ کے صوبائی خودمختاری کا جائزہ لیا جائے تو پتہ چلتا ہے کہ پاکستان صوبوں کو حقوق دینے میں ان ممالک سے بہت پیچھے ہے۔

امریکہ اور بھارت میں بلکہ اکثر ترقی یافتہ ممالک میں مرکز کے پاس صرف کرنسی، خارجہ پالیسی، اور فوج کے اختیارات ہوتے ہیں باقی سارے اختیارات صوبوں کے پاس ہے۔ حتیٰ کہ بھارت اور امریکہ میں صوبے نئے ٹیکسسز اور ریوینیو اکٹھا کرنے کے اختیارات بھی رکھتے ہیں۔ امریکہ میں صوبے اپنی پولیس فورس بھی قائم کر سکتے ہیں۔ صوبوں کو اختیارات دینے سے ملک طاقتور اور مضبوط ہوتے ہیں نہ کہ کمزور۔ اور بھارت کی مثال ہمارے سامنے ہے وہاں پر سب سے زیادہ زبانیں بولی جاتی ہیں، اور بہت سارے مذاہب کے ماننے والے آباد ہیں پھر بھی یکجا اور مضبوط ہے ماسوائے کشمیر کے وہاں پر کوئی علیحدگی کی تحریک نہیں چلتی ہے اور نہ مرکز کے خلاف اتنی نفرت پائی جاتی ہے۔ مگر اب مودی کی تنگ نظری اور اسلام مخالف پالیسیوں سے بھارت بھی تقسیم اور کمزور ہو رہا ہے۔

اس کے علاوہ شروع سے یہاں قومی /علاقائی زبانوں کو تسلیم نہیں کیا گیا ہے۔ پاکستان بھی ایک کثیر القومی ملک ہے یہاں بلوچ، سندھی، پشتون، پنجابی اور سرائیکی اقوام ہزاروں سال سے اپنے وطن پر آباد ہیں۔ ان کی اپنی اپنی روایات اور ثقافتی ورثے ہیں۔ بنگلہ دیش بننے کی ایک بڑی وجہ ان کی زبان کو تسلیم نہ کرنا تھی۔ بنگالیوں نے بنگالی کو قومی زبان بنانے کا پرزور مطالبہ کیا مگر ان کو مسترد کیا گیا جس وجہ سے وہ ریاست سے بہت دور ہو گئے، بالآخر اپنی آزادی کی تحریک شروع کی اور اپنا ملک بنانے میں کامیاب ہو گئے۔

جرمن فلسفی ہیگل نے کہا تھا کہ کہ تاریخ کا سبق یہی ہے کہ انسان تاریخ سے نہیں سیکھتا یہاں بھی اسی طرح ہے ہم نے بھی تاریخ سے سبق نہ سیکھنے کی قسم اٹھائی ہے۔ اسی لیے ملک کمزور ہو رہا ہے۔ اگر آج سے بلوچی، پشتو، سندھی سرائیکی اور پنجابی کو قومی زبانیں تسلیم کیے جائیں تو کون سی قیامت آئے گی؟ کیا اس سے پاکستان کمزور ہوگا؟ نہی بالکل نہیں۔ اگر اس سے ملک کمزور ہوتا تو بھارت کمزور ہوتا وہاں پر 22 علاقائی زبانوں کو قومی زبانوں کا درجہ حاصل ہے۔

اب ایک دفعہ پھر ملک میں پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ کے نام سے جمہوریت بحالی کی تحریک شروع ہوئی ہے۔ یہ ہماری بدقسمتی ہے کہ دنیا کہاں تک پہنچ گئی اور ہم کیا کر رہے ہیں۔ اب یہ بحث ہونی ہی نہیں چاہیے تھی کہ کون سا نظام حکومت بہتر ہے اور کون سا نہیں۔ کیونکہ ترقی یافتہ دنیا کا یہی تجربہ ہے کہ جمہوریت بہترین طرز حکومت ہے۔ اگر آمریت یا فوجی بالادستی اقوام کی ترقی کے باعث ہوتی تو آج ترقی یافتہ دنیا میں جمہوریت کی بجائے آمریت ہوتی۔

اب ہمارے ارباب اختیار کو ملک کو فلاحی ریاست بنانے کی کوششیں کرنی چاہیے تھیں مگر بدقسمتی سے ہم ابھی تک ترقی اور خوشحالی کے سفر میں دنیا سے بہت پیچھے ہیں۔ طاقتور اداروں کو اب ملک پر رحم کرنا چاہیے۔ جمہوریت کو بحال ہونے دیں۔ بنیادی انسانی حقوق بحال کریں، میڈیا پر سے پابندیاں ہٹائی جائیں۔ سیاست میں مداخلت بند کرنی چاہیے۔ عوام کو طاقت کا سرچشمہ مان لیں۔ لوگوں کو مستقبل کے فیصلے کرنے دیں۔ اور ملک کو ایک فلاحی ریاست بننے دیں۔

Facebook Comments HS