میاں بیوی یا باس اور ماتحت؟


روایتی معاشرے میں شادی ایک عورت کے لئے روزگار کے حصول کے مترادف سمجھی جاتی ہے اس لئے کوئی بھی شخص اگر نوکری ڈھونڈنے نکلے گا تو اس کا مدعا یہ ہوگا کہ اس کو اچھی ملازمت ملے، کمپنی اچھی ہو، کام کا زیادہ بوجھ نہ ہو اور سب سے بڑی بات ملازم کا خیال رکھنے والی ہو۔

اسی وجہ سے لڑکیاں کوشش کرتی ہیں کہ وہ اپنا پروفائل اچھا بنا لیں تاکہ ان کو کسی اچھی کمپنی میں ملازمت مل سکے، اگر تو وہ خوبصورت ہوں ساتھ میں پڑھی لکھی بھی ہوں اور ان کے پاس کوئی پروفیشنل ڈگری کا پھندنا بھی ہو تو پھر تو پروفائل کو چار چاند لگ جاتے ہیں اور ملازمت (شادی) کے حصول میں آسانی رہتی ہے۔

مذہباً، شرعاً، اور سماجاً شادی کے ادارے میں مرد ایک باس ہوتا ہے اس پر تمام روایتی اور متجدد علماء متفق ہیں بلکہ متجددین تو اس بات پر زیادہ متشدد ہیں۔ ملازم کا اول و آخر مقصود باس کو خوش رکھنا ہوتا ہے، کیونکہ اگر آپ کا باس آپ سے خوش رہے گا تو آپ کی نوکری بچی رہے گی اور سہولیات بھی ملتی رہیں گی، ملازمت میں باس کی خوشنودی ہی اول ترجیح ہوتی ہے۔ اس لئے زیادہ تر ماتحت دکھاوے، خوشامد اور چاپلوسی سے کام لے کر اپنے باس کو خوش رکھنے کی کوشش کرتے ہیں۔

اس انتظام میں چونکہ عورت کی اپنی حیثیت کچھ نہیں ہوتی اس لئے اس کو پتا ہے کہ یہ سب آسائشیں، آرام، معاشرے میں عزت سب اس کمپنی (شوہر) کی وجہ سے ہے، اگر یہ ملازمت چھن گئی تو اس کی اور گھر میں کام کرنے والی ماسی میں کوئی فرق نہیں رہے گا بلکہ کام کرنے والی ماسی بھی چار پیسے کمانے کی صلاحیت کے باعث خود کو شاید زیادہ محفوظ تصور کرتی ہو گی۔ وہ جانتی ہے کہ سب آن، بان، شان و شوکت، تحفظ اسی کمپنی کے دم سے ہے۔ اس لئے وہ جی لگا کر کام کرتی ہے، اسے ہر وقت یہ دھڑکا بھی لگا رہتا ہے کہ کہیں اس کے باس کو اس سے بہتر ایمپلائی نہ مل جائے اس لئے وہ چوری چوری اس کی جاسوسی بھی کرتی ہے اور بیوٹی پارلروں میں جا کر پیسہ بھی برباد کرتی ہے۔

اس کی اپنی کوئی شناخت نہیں ہوتی بلکہ اس کا تو اپنا نام تک نہیں ہوتا، شادی کے بعد وہ ”مسز“ ہوتی ہے یا کسی ڈاکٹر کی بیوی یا کسی سی ای او کی زوجہ یا کسی انجینئر کی اہلیہ، یا کسی مزدور کی گھر والی، شادی کے بعد اس کی شناخت باپ کے نام سے شوہر کے نام پر منتقل ہو جاتی ہے اور اب وہ اپنے شوہر کے نام سے جانی اور پہچانی جاتی ہے اور معاشرے میں اس کا مقام بھی شوہر کے نام اور رتبے سے طے ہوتا ہے۔ اس کے شوہر کو لوگ چاہے ایک چغد ہی کیوں نہ سمجھتے ہوں لیکن وہ اسے اپنا رہنما ماننے پر مجبور ہوتی ہے۔

جو لوگ ملازمت کرتے ہیں ان کو پتا ہے کہ باس جتنا بھی اچھا ہو اس سے محبت نہیں ہو سکتی، باس کا اپنا ایک پریشر ہوتا ہے، اس کی موجودگی میں بندہ دباؤ میں رہتا ہے۔ ریلیکس نہیں ہو سکتا، مہربان سے مہربان افسر بھی جس دن غیر حاضر ہو ماتحتوں کی خوشی دیدنی ہوتی ہے۔ اسی طرح اگر میاں بیوی کا رشتہ مالک اور ماتحت کا رشتہ ہے جیسا کہ ہمارے علماء کا کہنا ہے تو پھر اس میں محبت کا کیا کام! اس لئے اکثر آپ نے دیکھا ہوگا کہ جب شوہر نامی سربراہ کی ضرورت نہیں رہتی، اور عورت کی معاشی و دیگر ضروریات اس کی اولاد سے پوری ہونے لگتی ہیں تو وہی مرد جس کے وہ آگے پیچھے پھرا کرتی تھی، جس کی پسند کے کھانے بناتی تھی، اس کے گھر آنے سے پہلے خود کو، گھر اور بچوں کو تیار کر کے بیٹھ جاتی تھی اب اس کی مطلق پرواہ نہیں کرتی کیونکہ وہ خیال رکھنا، وہ اظہار محبت وہ ادائیں، نازو انداز تو اس کو خوش رکھ کر اپنی ملازمت قائم رکھنے کی لا شعوری کوشش تھی نہ کہ بوجوہ عشق و محبت۔

روایتی معاشروں میں عورت اور مرد کو اس طرح پروان چڑھایا جاتا ہے، اور ان کے سامنے ایسی مثال قائم کی جاتی ہے جس سے ان کے اندر یہ خیال راسخ ہو جاتا ہے کہ عورت اور مرد میں برابری کا رشتہ قائم ہی نہیں ہو سکتا، اپنے گھر میں بھی وہ اپنے ماں باپ کو دیکھتے ہیں کہ ان کے درمیان حاکم اور محکوم کا رشتہ ہے، ان کی ماں کا کام شوہر کا ہر حکم بجا لانا ہے، فرمانبرداری کرنا اس کا شرعی فرض ہے، اور شوہر کے آرام اور سکون کا خیال رکھنا بھی اس کے دینی فرائض کا حصہ ہے۔

بچہ دیکھتا ہے کہ اس کی ماں صاحب رائے نہیں سمجھی جاتی اور اسے اہم معاملات میں شامل نہیں کیا جاتا۔ پھر وہ اپنے ارد گرد ایسی باتیں سنتا ہے کہ عورتیں ناقص العقل ہوتی ہیں، بزدل ہوتی ہیں، لالچی ہوتی ہیں، زبان سے پھر جاتی ہیں، جس سے اس کا یقین اور محکم ہو جاتا ہے کہ عورت کو مساوی حیثیت نہیں دی جا سکتی، اس کو بتایا جاتا ہے کہ مرد قوام ( نگہبان، سربراہ ) ہیں اور قنوت ( فرمانبرداری) عورت کا دینی فریضہ ہے۔ اسی طرح مرد کو بھی شعوری اور لاشعوری طور پر بتایا جاتا ہے اور سکھایا جاتا ہے کہ تم ایک اعلی اور ارفع مخلوق ہو، جبکہ عورت ایک کمتر مخلوق ہے جس کو تمہارے لئے پیدا کیا گیا ہے، تمہارے سکون، بوریت کو دور کرنے اور لذت کے لئے اس کی تخلیق کی گئی ہے۔

یہ سب باتیں بچپن میں ہی دونوں کے ذہن میں راسخ کر دی جاتی ہیں، نفسیات کی اصطلاح میں اس کو کنڈیشننگ کہتے ہیں، اس لئے آپ نے اکثر دیکھا ہوگا کہ عورتیں بھی آپ کو اس نظریے کا دفاع کرتے ہوئے نظر آئیں گی کہ مرد باس ہے اور عورت اس کی ماتحت۔ حتی کہ پیشہ ورانہ زندگی میں بہت سے مرد اور عورتیں بھی عورت کے ماتحت کام کرنا پسند نہیں کرتے۔ جیسے نام نہاد اعلی ذات کے لوگ کم ذات لوگوں کے ماتحت کام کرنے کو بد قسمتی سمجھتے ہیں۔

پدر سری سماج میں چونکہ بیوی کو ایک کمتر انسان ہونے کا احساس دلایا جاتا ہے اس لئے اس کی بشری انا اس کمتری کو برتری میں بدلنے کے لئے وقت کا انتظار کرتی ہے وقت آنے پر وہ اس جابر اور اپنے تئیں عقلمند شخص جو اس کا شوہر ہے کی ہر بات سے اختلاف کرنے لگتی ہے۔ اس کا مذاق اڑانے لگتی ہے۔ قدرت نے تو اس کو کمتر پیدا نہیں کیا تھا بلکہ اس کے لئے پدر سری معاشرے نے ایسا ماحول پیدا کیا کہ وہ اپنے آپ کو کمتر سمجھے بلکہ اپنی کمتری کو ایک خدائی اور الٰہی حکم سمجھے۔ مگر اس کی انسانی فطرت اپنی ذات کے اظہار کے لیے ہر دم اس سے مطالبہ کرتی ہے، اس کے اندر ہمہ وقت ایک جنگ کی سی کیفیت رہتی ہے اور وقت آنے پر اس کی انا بپھر کر مرد پر جوابی وار کرتی ہے۔

اس انتظام کا نقصان دونوں کو ہے مرد جس کو عشق و محبت، خیال رکھنا، اور مادرانہ جذبہ سمجھ رہا ہوتا ہے وہ دراصل باس کو خوش رکھنے کی کوشش، اور معاشرے میں اپنا مقام برقرار رکھنے کی ایک سعی ہوتی ہے۔ عورت اچھی طرح جانتی ہے کہ یہ ملازمت ہاتھ سے جانے کی صورت میں اسے اس سے بہتر ملازمت نہیں ملے گی بلکہ شاید سرے سے ملے گی ہی نہیں کیونکہ مارکیٹ میں اس سے کہیں بہتر پروفائل رکھنے والے امیدوار موجود ہیں، اس ملازمت سے حاصل ہونے والا تجربہ اس کی سی وی میں ایک منفی عنصر کے طور پر دیکھا جائے گا۔

وہ ایک باسی، پرانی اور استعمال شدہ چیز گردانی جائے گی۔ وہ اس ملازمت کے تقاضے تب تک نبھاتی ہے جب تک اس کی اولاد اپنے پیروں پر کھڑی نہیں ہو جاتی۔ اور جب اس کی ضروریات بچوں سے پوری ہونے لگتی ہیں تو وہ لاشعوری نفرت جو باس اور ماتحت کے رشتے کا لازمی جزو ہے ابھر کر سامنے آجاتی ہے، جس کی وجہ سے آخری عمر میں آپ نے مردوں کو اکثر ایک فالتو سامان کی طرح گھر کے ایک کونے میں پڑا ہوا دیکھا ہوگا۔

میاں بیوی کا رشتہ جو دراصل پیار، محبت، مؤدت اور انسیت کا رشتہ ہے، برابری اور مساوات کا رشتہ ہے، ایک دوسرے کا لباس بننے کا رشتہ ہے، اعتماد اور ایک دوسرے کو سپورٹ کرنے کا رشتہ ہے، بہتر سے بہترین بننے میں مدد دینے کا رشتہ ہے، ایک دوسرے کی عزت نفس کے تحفظ کا رشتہ ہے، ساتھ دینے اور نبھانے کا رشتہ ہے، کو بدقسمتی سے ہم نے اپنی کوتاہ بینی پر مبنی مذہبی تشریحات سے باس اور ماتحت کے رشتے میں بدل دیا ہے جس کی وجہ سے عورت اور مرد کے اس رشتے میں لطافت، محبت، اور رومانس کی جگہ نفرت، ضرورت، خود غرضی اور کرختگی نے لے لی ہے۔

Facebook Comments HS