پی ڈی ایم مکس اچار اور ابو بچاؤ

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ابھی ابھی وجود میں آئے پی ڈی ایم کے دو تین جلسوں کے بعد اس پر جس طرح کے تیر برسائے جا رہے ہیں اور باتوں کے نشتر چبھوئے جا رہے ہیں وہ بہت دلچسپ اور مزیدار تو ہیں ہی غور طلب بھی ہیں۔ کچھ باتیں بلا سوچے سمجھے منہ سے نکلتی ہیں مگر ان کے اندر موجود معنی و مطالب بہت گہرے ہوتے ہیں۔ بات کرنے والا بھی جن سے بے خبر ہوتا ہے اورجس کی وجہ سے ان کا بیانیہ چور چور کی بجائے اور اور بھی ہو جاتا ہے۔ پرانی شراب نئی بوتلوں میں یا نئی شراب پرانی بوتلوں میں ہو گی یہ تو وقت بتائے گا مگر پرانی کہاوتیں نئے انداز میں سامنے آ رہی ہیں اور کچھ نئی اصطلاحات بھی ایجاد ہو رہی ہیں۔ شاعروں کے بیانات اور مشاعرے سے نئی نئی منطقیں کھل رہی ہیں۔

جیسے ہی پی ڈی ایم وجود میں آئی تو کئی ’اصحاب‘ نے مولانا فضل الرحمان کو دھر لیا۔ ایک شاعر نے کہا کہ مولانا صاحب اپنی لسی دوبارہ حاصل کرنے کے چکر میں اس حکومت کے حکومت میں آنے کے پہلے دن سے ہی حکومت مخالف ہو چکے ہیں کیونکہ انہیں اپنی لسی یعنی اپنا عہدہ نہیں ملا۔ یہ لسی بچانے والا بیانیہ میرا نہیں حکومتی ترجمانوں کے ایجاد کردہ محاورات ہیں۔ پہلے کھال بچانا ہوا کرتا تھا اب اردو میں اس کا مترادف لسی بچانا مستعمل ہو سکتا ہے! ویسے کوئی بتا سکتا ہے کہ مذکورہ کمیٹی نے اپنی تاسیس سے اج تک کیا کیا کارنامے سر انجام دیے ہیں؟ کتنی لسی بچائی ہے؟

مولانا صاحب نے اس لسی والے بیانیے کا کوئی جواب نہ دیا مگر بات کو کہیں کا کہیں لے گئے۔ کبھی اے پی سی بلاتے رہے اور کبھی دھرنا دیتے رہے، لسی نہ ملی تو انہوں نے دودھ کو خود ہی حکومت مخالف جاگ لگا دی اور تحریک بحالی جمہوریت اب دہی بننے کے مرحلے سے گزر رہی ہے جسے بعد میں بلو کر لسی بھی بنایا جا سکتا ہے اور سیاسی رائتے کے طور پر بھی استعمال کیا جا سکتا ہے۔ ہمارے کئی ایک جدید سیاسی شعراء کرام جن کا کلام زیادہ تر نصیبو لال کے گیتوں سے ماخوذ لگتا ہے جب کلام شاعر بزبان شاعر بیان کرتے ہیں تو سننے والے ٹی وی بند کر دیتے ہیں اور اپنے کام میں لگ جاتے ہیں جنہیں کوئی کام نہ ہو وہ سٹیج ڈرامے والا چینل دیکھنے لگ جاتے ہیں۔

ایسے ہی شاعروں نے بلاول اور مریم نواز کے اس تحریک بحالی جمہوریت میں بھرپور شرکت اور جلسوں کو کامیاب جلسے بنانے کی کوششوں کو ابو بچاو مہم کا نام دیا، یہ اصطلاح بھی کسی ادبی انقلاب اور ادبی معرکے سے کم نہیں، پہلے دامن بچایا جاتا تھا بروں سے اور پھر بڑوں سے، اب بچے پڑھیں گے کہ ابو بچانا بھی ایک محاورہ ہوتا ہے۔ جس کے لئے پی ڈی ایم بنانا پڑتی ہے۔

بات مولانا صاحب کی لسی کی ہو رہی تھی اگر تو مولانا فضل الرحمان صاحب والا کام ہی تمام چئرمینوں نے کیا ہے تو مولانا کی چیخ و پکار جائز ہے ان کی لسی بحال کی جائے، ہاں اگر کشمیر کمیٹی کا کوئی بڑا کارنامہ ہے اور کوئی دوسرا سر انجام دے رہا ہے تو مولانا صاحب کو واویلا نہیں کرنا چاہیے اسے نہ پوری ہونے والی دعا سمجھ لینا چاہیے جس کا اجر اللہ تعالیٰ آخرت میں دے گا۔

ہمارے ان شاعروں کی ساری شاعری ان دیکھے چور اور چوری کے ارد گرد گھومتی ہے۔ پہلے ان شعرا نے مافیا کا قافیہ بھی باندھا تھا لیکن اب پتہ نہیں مافیا سے صلح کر لی ہے یا کوئی ان دیکھی وجہ ہے اب صرف چور چور کہنے پر ہی مشاعرہ شروع اور ختم ہو جاتا ہے۔ ایک اور کراری بات ایک صاحب نے پی ڈی ایم کے حوالے سے کی ہے اور وہ ہے مکس اچار کی بات۔ موصوف نے تو شاید طنز کیا ہو یا مذاق لیکن ہے یہ حقیقت۔ یہ پی ڈی ایم مکس اچار ہے۔

اس میں سب ذائقے موجود ہیں تیکھے بھی اور میٹھے بھی، کڑوے بھی اور کٹھے بھی۔ اور مکس اچار جب تک کچا ہوتا ہے زیادہ مزیدار نہیں ہوتا شاید اسی لئے ہمارے ان صاحب کو ابھی تک ٹیسٹ (مزہ) نہیں آ رہا۔ تھوڑا پک جائے گا اور سارے ذائقے ایک ہوں گے تو پھر ا اس مکس اچار کے اثرات اور سواد بھی نظر آئیں گے۔ حکیم کہتے ہیں کہ جسے اپھارہ ہو جائے اسے لسی اور اچار کھلائیں تو اس کا اپھارہ ختم ہو جاتا ہے اور اسے ہر چیز ہضم ہو جاتی ہے۔ اب لسی اور اچار مل کر کیا کرتے ہیں آنے والا کھانا ہی بتائے گا بشرطیکہ سارے لوازمات ایک مرتبان میں بند رہیں۔ اچار مکس ہو جائے اور دودھ دہی بن جائے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •