پاکستان اور روس : ایک نئے اتحاد کی ابتدا

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

سوویت اسٹائل میں تعمیر شدہ عمارتوں پر مشتمل کرغزستان کا شہر بشکیک اس وقت عالمی میڈیا کی توجہ کا مرکز بنا جب جون 2019 میں ہونے والے شنگھائی تعاون تنظیم کے سربراہی اجلاس میں عالمی رہنماؤں نے شرکت کی۔ تنظیم کے ارکان ممالک کے سربراہوں کے گروپ فوٹو سیشن کے آغاز میں پاکستان کے وزیراعظم عمران خان نے روس کے صدر ولادی میر پیوٹن سے کچھ کہا جس کا روسی صدر نے مسکرا کر جواب دیا اور دونوں سربراہان مملکت کی باڈی لینگویج نہایت دلچسپ تھی۔

ایسے مناظر پہلے کم ہی دیکھنے کو ملے۔ مگر امید ہے کہ اس سال روس میں ہونے والے شنگھائی تعاون تنظیم کے سربراہی اجلاس میں ایسے ہی مناظر دوبارہ دیکھنے کو ملیں گے۔ خطے کی فلاح و بہبود کے لیے اب ان دو ممالک کا ایک ہونا نا گزیر ہے۔ کیونکہ ماضی میں پاکستان 4 ہزار کلومیٹر دور واقع روس سے ہاتھ ملانے کی بجائے 12 ہزار کلومیٹر دور واقع امریکہ سے بغل گیر ہوا تھا اور امریکہ وہ ملک ہے جو اپنی 243 سالہ تاریخ میں 225 سال تک دنیا بھر کے ممالک پر چڑھائی میں ملوث رہا اور براہ راست اپنی افواج کو دوسرے ممالک کی تباہی کے لیے بھیجتا رہا۔

193 ممالک میں سے 84 ممالک ایسے ہیں جن پر امریکہ حملہ آور ہو چکا ہے۔ پاکستان پر ڈرون میزائل برسائے، عالمی سطح پر کئی بار پاکستان کو رسوا کیا۔ پاکستان کو دہشت گردی کی آگ میں جھونک کر امریکہ ”ڈومور“ کا مطالبہ کرتا رہا۔ اقوام متحدہ میں پاکستان کو تنہا کیا۔ یہی وجہ ہے کہ امریکہ ایسا ملک ہے جس کو پاکستان میں ناپسند کیا جاتا ہے۔ ہر جگہ یہ نعرہ لگایا جاتا ہے کہ ”امریکہ کا جو یار ہے، غدار ہے، غدار ہے“ ۔

جب کہ دوسری طرف روس ہے جس نے کبھی پاکستان پر حملہ نہیں کیا اور اس کی خودمختاری کو تسلیم کیا۔ ہمیں ماضی میں غلط آگاہ کیا گیا کہ روس گرم پانیوں تک رسائی چاہتا ہے جس کی غرض سے اس نے افغانستان پر حملہ کیا اور اس کا اگلا ہدف پاکستان ہے۔ لیکن وقت نے اس مفروضے کو غلط ثابت کیا کیونکہ یہ وہی ملک روس ہے جس نے پاکستان کو اسٹیل ملز کا تحفہ اس وقت دیا جب امریکہ نے پاکستان کو معاشی طور پر ناکام سمجھتے ہوئے تجارتی معاہدوں سے انکار کیا۔

دنیا بھر میں ممالک کی سلامتی کا ثبوت اس کی معاشی اور تجارتی صورتحال ہے۔ اور پاکستان اپنی تجارتی وہ اقتصادی حیثیت کو بحال کرنے کی کوشش میں مصروف ہے۔ اس کا بہترین حل یہ ہے کہ اب مغرب کی بجائے علاقائی طاقتوں کے ساتھ بیٹھ کر بات کرنا نہ صرف ملک کے لیے بلکہ پورے خطے کی بہتری کے لیے نہایت اہم ہے۔ روس جیسے مضبوط ملک کی بدولت پاکستان کئی اہم امور پر باہمی تعلقات کو آگے بڑھا سکتا ہے اور اس کا زیادہ فائدہ پاکستان کو ہے کیونکہ پاکستان کو لاحق کسی بھی مشکل سے امریکہ کو کوئی مسئلہ نہیں ہے مگر پڑوسی ممالک اس مشکل سے نجات میں مددگار ثابت ہو سکتے ہیں۔

تجارتی اعتبار سے روس پاکستان کے لیے بہترین ملک ثابت ہو گا اگر صرف ون بیلٹ ون روڈ منصوبے کو دیکھا جائے تو دونوں ممالک کے لیے اس منصوبے میں خزانہ چھپا ہوا ہے۔ اس منصوبے میں نیوزی لینڈ، فن لینڈ، برطانیہ بھی شامل ہیں جو دنیا کی جی پی کا ایک تہائی حصہ رکھتے ہیں۔ مقامی کرنسی میں تجارت کا آپشن بھی بہترین ثابت ہو گا اور ڈالر سے نجات بھی مل جائے گی۔ اسٹوڈنٹ ایکسچیnج پروگرام اور ریسرچ کی بنیاد پر تحقیقاتی مقالوں پر اگر دونوں ممالک مل کر کام کریں تو یہ انسانیت کی خدمت کا اعلیٰ درجہ ہو گا۔

حال ہی میں کرونا وائرس کی ویکسین کی ایجاد میں روس کی محنت قابل تحسین ہے۔ دونوں ممالک کے لوگ مل کر خطے کو درپیش مسائل پر بات کر سکتے ہیں اور دونوں حکومتیں ان مسائل کے سدباب کے لیے مل کر کام سکتی ہیں۔ تعلیم وہ سائنسی تحقیق کسی بھی ملک کی ترقی کا ضامن ہوتی ہیں، پاکستان کے ہونہار طلباء روس میں موجود ٹیکنالوجی سے متعارف ہو سکیں گے۔ پاکستان اور روس کے درمیان اس دہائی میں شروع ہونے والے مفاہمتی سفر کا آغاز سب سے پہلے پاکستان پر ہتھیاروں کی فروخت پر لگائی گئی پابندی کو ختم کر کے ہوا۔

From L: Kyrgyz President Sooronbai Jeenbekov, Russian President Vladimir Putin and Pakistani Prime Minister Imran Khan pose for a photo prior to a meeting of the Shanghai Cooperation Organisation (SCO) Council of Heads of State in Bishkek on June 14, 2019. (Photo by Vyacheslav OSELEDKO / AFP)

2014 ء میں دونوں ممالک کے مابین دفاعی معاہدہ ہوا اور روسی وزیر دفاع نے 45 سال بعد پاکستان کا دورہ کر کے دنیا کے سامنے پاکستان کے لیے دوستی کا ہاتھ بڑھایا۔ 2015 ءمیں دونوں حکومتوں کے درمیان تقریباً 2 بلین ڈالر کا شمال جنوب گیس پائپ لائن پروجیکٹ (North/South Gas Pipeline Project) کے معاہدہ پر دستخط ہوئے جس کے تحت کراچی سے لاہور تک گیس پائپ لائن بچھائی جائے گی اس سے ملکی صنعت کا پہیہ رواں دواں رکھنے میں مدد مل سکے گی۔ ستمبر 2016 ءمیں روس کی سپیشل فورسز کے جوان پاکستان میں پاک فورسز کے ساتھ فوجی مشقوں ”Friendship 2016“ میں حصہ لینے کے لئے پاکستان آئے۔ 2017 ءمیں روس اور چین کے تعاون سے پاکستان کو شنگھائی تعاون تنظیم (SCO) کی مستقل رکنیت ملی۔ یہ پاکستان کی خارجہ پالیسی کی بڑی کامیابی تھی۔

اگر ادب کے میدان میں دونوں ممالک کا باہمی تعلق دیکھا جائے تو 30 اپریل 1962 ء کو حکومت روس نے پاکستان کے ممتاز شاعر فیض احمد فیض کو لینن انعام برائے امن سے نوازا تھا۔ یہ ایک اشارہ تھا کہ پاکستان کی ادبی شخصیات سے روس نا صرف آگاہ ہے بلکہ ان کے اعتراف کا برملاء اظہار اپنے ملک کا سب سے اعلیٰ انعام دے کر کیا۔ ضرورت ہے کہ روسی ادب جس میں پشکن چیخوف، ریلے یف، خوم یا کوف، کولٹ سوف، نکرا سوف، مائی کوف، یولون سکی جیسے بے مثال لکھاریوں کو پڑھا جائے اور سیکھا جائے۔

بلاشبہ وہ ادب کی دنیا کا ایک دریا ہے جس سے ہم سیراب نا ہو سکے۔ اسی طرح روس کی بے مثال خوبصورتی اور وہاں موجود مساجد دیکھنے قابل ہیں۔ روس میں تمام شہریوں کو مذہبی آزادی حاصل ہے اور تمام شہری ایک دوسرے کی مذہبی وابستگی کا احترام کرتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ یورپ اور امریکہ کے برعکس روس میں مذہبی تفرقہ بازی اور انتشار کے واقعات نا ہونے کے برابر ہیں اور ہر کوئی اپنی مذہبی رسومات کو باآسانی ادا کر سکتا ہے۔

زرخیز ذہن کے مالک شہریوں پر مشتمل پاکستان کے لیے یہ بہترین فیصلہ ہوگا کہ وہ روس کے ساتھ دوستی کو قائم رکھے اور کسی بھی ملک کے پروپیگینڈا سے آگاہ رہتے ہوئے تجارتی و دفاعی معاملات پر روس کے ساتھ بات کرے۔ پاکستان کی حیثیت اس خطے میں ریڑھ کی ہڈی کے مانند ہے۔ ایک کامیاب اور خودمختار پاکستان ریجنل ڈیویلپمنٹ کے لیے نہایت اہمیت کا حامل ہے۔ روس اس سلسلے میں پاکستان کے ساتھ چلے تو یہ آنے والے وقت میں ترقی یافتہ ممالک کی فہرست میں شامل ہو گا اور خطے کو درپیش خطرات کا سامنا کر سکے گا۔

رواں سال روس میں ہونے والے شنگھائی تعاون تنظیم کے سربراہی اجلاس پر دنیا بھر کی نظریں ہیں کیونکہ کرونا جیسی عالمی وبا کے بعد پہلی مرتبہ یہ تمام ممالک اکٹھے ہوں گے اور وبا سے ہونے والے نقصانات کے ازالے کے لیے سر جوڑ کر بیٹھیں گے۔ تجارتی امور پر بات ہوگی اور مستقبل میں کسی وبا سے پیدا ہونے والی صورتحال سے نبٹنے کے لیے باہمی تعاون سے اقدامات کرنے پر غور کیا جائے گا۔ امید کی جا سکتی ہے کہ پاکستان اور روس اس موقع پر آنے والے وقت کے لیے بہترین فیصلے کریں گے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

محمد ارسلہ خان

محمد ارسلہ خان پاکستان میں روس کے اعزازی قونصل ہیں

muhammad-arsallah-khan has 3 posts and counting.See all posts by muhammad-arsallah-khan