نیلوفر کی واپسی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

پارسی لڑکیوں کو دیکھنے ہم لوگ ماما پارسی اسکول کے سامنے کھڑے ہو جاتے تھے۔ میں اس وقت سندھ مدرسے میں پڑھتا تھا۔ دادو سے میرے والد نے مجھے کراچی پڑھنے بھیجا تھا۔ سولجر بازار میں بھگوان داس بلڈنگ میں ایک فلیٹ میرے دادا نے خریدا تھا۔ علاقے میں مسلمانوں کی بہت زیادہ آبادی نہیں تھی مگرزمیندار خاندانوں کے مسلمانوں کے گھر تھے۔ میں وہاں اپنے تایا زاد بھائی کے ساتھ رہتا تھا۔ ہم دونوں ہی سندھ مدرسہ میں تعلیم حاصل کر رہے تھے اور اب ہمارا آخری سال تھا۔

چھٹی کی گھنٹی بجتے ہی ہم لوگ چند دوسرے دوستوں کے ساتھ مل کر محمد علی ٹراموے کمپنی کی ٹرام پکڑ کر این جے وی اسکول کے سامنے اتر جاتے تھے۔ ٹرام وے کمپنی کے زیادہ تر کنڈیکٹر ہمیں جان گے تھے۔ کبھی وہ ٹکٹ کے پیسے مانگتے نہیں تھے اور جب مانگتے تھے تو ہم پیسے دے بھی دیا کرتے تھے۔ ایک طرح کی Understanding تھی ہمارے درمیان۔ وہ زمانہ غنڈہ گردی اور بدمعاشی کا زمانہ نہیں تھا۔ کراچی میں قانون کی بڑی پاسداری تھی۔ ہر شہری کی بڑی عزت تھی۔

غریب ہو یا امیر، مسلمان ہو یا پارسی، عیسائی، ہندو، سندھی ہو یا غیرسندھی۔ قانون ایسے تھے کہ اب میں سوچتا ہوں کہ ایسا کیسے ممکن تھا مثلاً محمد علی ٹراموے کمپنی کے یہاں ٹرام گرمیوں کے زمانے میں ساڑھے پانچ بجے چلتی تھی۔ شہر کی خوبصورت صاف ستھری سڑکوں کے درمیان چار اور پانچ منزلوں والی بلڈنگوں سے ہوتی ہوئی کیماڑی کی طرف جاتی تھی مگر شہر کے قانون کے مطابق شہریوں کا اتنا احترام ہوتا تھا، اب تو سڑکوں پر چلنے والے جاگتے ہوئے شہریوں پر دھواں، ہارن اورگالیوں کی بھرمار جس طرح سے ہوتی ہے وہ سب کو سہنا ہے۔ شہر اب شہر نہیں ہے، جنگل ہے جنگل۔

اس وقت کراچی میں فرنگی عورتوں کے علاوہ صرف پارسی لڑکیاں ہی اسکرٹ پہنتی تھیں۔ ماما پارسی اسکول کی عمارت اتنی ہی شاندار تھی جتنی اب ہے۔ یہ لڑکیاں مسکراتی، چھنکتی اور ہنستی ہوئی جب اسکول سے باہر آتی تھیں تو بندر روڈ پرایک میلے کا سا سماں ہو جایا کرتا تھا۔ کچھ لڑکیاں گھوڑا گاڑیوں پر بیٹھ کر اپنے گھروں کو جاتی تھیں اور کچھ لڑکیاں ٹراموں پہ سوار ہو جاتی تھیں۔ چند ایک لڑکیوں کے لیے گاڑیاں بھی کھڑی ہوتی تھیں۔

ہم لوگ این جے وی اسکول کے سامنے اتر کر آہستہ آہستہ ٹہلتے ہوئے وائی ڈبلیو سی اے کی عمارت کے سامنے پہنچ جایا کرتے تھے، جہاں کھڑے ہو کر ایک دوسرے سے گپ مارتے تھے اور کبھی کن انکھیوں سے، کبھی سر اٹھا کر بالمشافہ اسکول کی ان لڑکیوں کو دیکھا کرتے تھے۔ تھوڑی دیر کے بعد جب ٹریفک کا مجمع چھٹ جاتا تھا تو صدر سے آنے والی پریڈی اسٹریٹ کو پار کرتے ہوئے ہم لوگ پلازہ سینما کی جانب چلے جایا کرتے تھے، جہاں سے ٹرام پر بیٹھ کر اپنے اپنے گھروں کو چلے جانے کا ایک معمول سا ہو گیا تھا۔

یہ سارا کام ایک احساس جرم اور احساس شرمندگی کے ساتھ ہوتا تھا۔ کلاس کے چند اور لڑکوں کو ہمارے اس معمول کا پتا تھا اور وہ لوگ ہمیں بدمعاش سمجھا کرتے تھے۔ ہمارا بھی یہی خیال تھا کہ ہم لوگ کچھ اچھا نہیں کرتے ہیں، مگر کتنی دفعہ سوچنے کے باوجود کہ یہ سب کچھ چھوڑنا ہوگا، ہم یہ عادت نہیں چھوڑ سکے تھے کہ یکایک نیلوفر اس تصویر میں آ گئی تھی۔

وہ عام سی پارسی لڑکی تھی۔ گول سا چہرہ جس پر بہت نمایاں دو چمکدار آنکھیں اور پتلی سی ناک۔ وہ اسکول سے نکلتی تھی، چاروں طرف نگاہ ڈالتی تھی اور سڑک کے کنارے دو اور لڑکیوں کے ساتھ کھڑی ہوجاتی تھی۔ ٹن ٹن کرتی ہوئی ٹرام سولجر بازار کو جا رہی ہوتی تھی اس پر وہ تینوں بیٹھ جایا کرتی تھیں۔

میں نے اسے پہلے دن سے ہی تاڑ لیا تھا، اور لڑکے کیا کرتے تھے مجھے خیال نہیں ہے لیکن میں بڑی بے چینی کے ساتھ نیلوفر کے آنے کا انتظار کرتا تھا۔ اس وقت تو مجھے اس کا نام پتا نہیں تھا مگر میں نے دل ہی دل میں اس کا نام آنکھوں والی رکھ دیا تھا۔ یہ یک طرفہ عشق خاموشی سے چلتا رہا اور آہستہ آہستہ وہ میرے حواس پہ سوار ہوتی چلی گئی۔ نہ میرا دل پڑھائی میں لگتا تھا اور نہ کسی اور کام کاج میں۔ اسکول بھی میں اسی لیے جاتا تھا کہ پھر اسکول کی چھٹی ہوگی اور پھر ماما پارسی اسکول کے سامنے سے آنکھوں والی کو دیکھوں گا۔

اس دن لائٹ ہاؤس سینما اور سندھ جاگیردار ہوٹل کے سامنے ٹرام رک گئی تھی۔ ایک گھوڑا گاڑی میں گاڑی بان نے ایک زخمی گھوڑا جوتا ہوا تھا۔ نہ جانے کیا ہوا تھا کہ ٹرام کی پٹری کے ساتھ ہی وہ یکایک گر گیا۔ گھوڑے بان اور ٹرام کے ڈرائیور کی مدد سے وہ کھڑا ہوا ہی تھا کہ کے ایم سی کا ایک آدمی آ گیا تھا جس نے زخمی گھوڑا چلانے پر گاڑی بان کا چالان کر دیا۔ جس کے بعد گھوڑا گاڑی کے مسافر تکرار کرتے ہوئے ٹرام میں سوار ہونے لگے۔ گاڑی بان نے گاڑی گلی میں کھڑی کی اور کراچی میونسپل کارپوریشن کے آدمی کے ساتھ گھوڑا لے کر جانوروں کے ہسپتال کی طرف جانے لگا تھا۔ اس تمام کارروائی میں دس پندرہ منٹ لگ گئے ہوں گے، مگر مجھے ایسا لگا تھا کہ آج کی تمام محنت پانی میں مل گئی اور وہ آنکھوں والی تو شاید چلی بھی گئی ہو۔

میں جب وہاں پہنچا تھا تو وہ اپنی جگہ پر کھڑی تھی جیسے میرا انتظار کر رہی ہو۔ مجھے دیکھ کر اس کے چہرے پر اطمینان کی ایک لہر سی دوڑ گئی۔ مجھے دیکھ کر وہ مسکرائی۔ مجھے پہلی دفعہ ایسا لگا تھا کہ وہ بھی میرا انتظار کرتی ہے، وہ بھی میری راہ دیکھتی ہے، اسے بھی احساس ہے کہ اس کے لیے کوئی کھڑا ہوتا ہے۔ وہ دن ایک خوبصورت دن ثابت ہوا تھا۔ جن لوگوں نے اسکول کی عمر میں محبت کی ہے وہی لوگ اس خوشی، اس مسرت، اس اطمینان کا اندازہ کر سکتے ہیں۔ اس دن میں بے بات ہنسا تھا اور بے وجہ مسکرایا تھا۔ شام، رات ایسی خوبصورت تھی کہ جیسے پہلے کبھی ہوئی ہی نہ ہو۔

میں نے اس دن اپنے کزن مراد کو بھی یہ بات بتائی۔ وہ چلتا ہوا آدمی تھا۔ اس نے کہا کہ یار آنکھ مچولی اور دیکھنا داکھنا صحیح، لیکن یہ باضابطہ عشق نہیں چلے گا۔ تم مسلمان ہو اور وہ پارسی ہے۔ تمہارا باپ، میرا باپ کبھی نہیں مانیں گے۔ ہم دونوں مسکرا دیے اور دیر تک ہنستے رہے۔ میں نے کہا تھا یار ابھی تو اس نے صرف دیکھا ہے، تم کس دنیا کی بات کر رہے ہو، لیکن مجھے اندر سے پتا تھا کہ میں نے نیلوفر اور اپنے متعلق، بے اندازہ، بہت سارے خواب دیکھے ہیں۔

اسکول چلتا رہا، ٹرام چلتی رہی۔ اس طرح سے ہم دوست ماما پارسی اسکول کے سامنے کھڑے ہو کر پارسی لڑکیوں کو تکتے رہے اور دل کی بے چینی دھیرے دھیرے بڑھتی رہی۔ ہمارے کلاس ٹیچر تھے ماسٹر غنی صاحب۔ ایک دن انہوں نے مجھے اسٹاف روم میں بلا لیا۔ پرنسپل کے کمرے کے ساتھ ہی کشادہ سا اسٹاف روم تھا۔ انہوں نے کہا، پڑھنے پر توجہ نہیں دے رہا ہوں۔ کچھ خرابی ہو گئی ہے کہیں پر میرا کام صحیح نہیں ہے۔ وہ بہت شفیق استاد تھے، بہت مہربان۔ بہت دل چاہا کہ دل کھول کر رکھ دوں ان کے سامنے۔ بتا دوں کہاں خرابی ہوئی ہے، کدھر کام صحیح نہیں ہے۔ اگر وہ پارسی نہ ہوتی تو شاید بتا ہی دیتا۔ سر جھکا کر ان کی بات سنی تھی اور ان سے جھوٹا وعدہ کیا تھا کہ اب شکایت کا موقع نہیں دوں گا۔

مراد نے تسلی دی، مگر مشورہ بھی دیا تھا کہ اب یہ کھیل ختم کیا جائے، مگر کھیل ختم نہیں ہوا تھا۔ ایک رات پہلے ہی تو میں نے نیلوفر کے نام خط لکھا تھا اور اسی روز میں لپک کر ٹرام پر چڑھ گیا تھا، اسی ٹرام پر جس پر نیلوفر بیٹھتی تھی۔ کانڈا والا بلڈنگ کے سامنے، آگے جہاں وہ بیٹھی تھی، میں بالکل اس کے پیچھے پہنچ گیا۔ اس نے مجھے دیکھا، وہ اور اس کی سہیلی دونوں مسکرائے۔ بہت کوششوں اور خواہش کے باوجود عطر سے لگا ہوا وہ لفافہ میں اسے نہیں دے سکا تھا۔

چار پانچ دن ایسے ہی گزر گئے تھے۔ اس دن نہ جانے کیا بات ہوئی کہ ٹرام بالکل خالی تھی۔ میں اور مراد دو تین اور آدمی پیچھے کی طرف بیٹھے ہوئے تھے۔ میں نیلوفر کو دیکھ کر مسکرایا۔ وہ بھی مسکرائی اور وہ مڑا تڑا ہوا لفافہ میں نے اس کے پیروں پر ڈال دیا اور اس نے مسکرا کر کچھ گھبرا کر اسے اٹھالیا۔

پھر خطوں کے تبادلے شروع ہو گئے۔ وہی دنیا جہان کی باتیں، جو محبت کرنے والے لکھتے ہیں۔ وعدے، قسمیں، ساتھ نبھانے کی باتیں اور نہ جانے کیا کیا۔

نیلوفر کے والد امیر نہیں تھے۔ وہ ایک پارسی وکیل کے آفس میں سیکریٹری کا کام کرتے تھے اور پارسی کالونی کی ایک بلڈنگ میں رہتے تھے۔ نیلوفر کی زندگی سادہ زندگی تھی، مگر اس کا حسن سادہ نہیں تھا۔ اس کا انداز پیچیدہ تھا، اس کی ادائیں قاتل تھیں اور اس کا لہجہ ختم کردینے والا تھا۔ اس سے بات کرنے سے قبل، بہت قبل، صرف خطوں کے تبادلے سے اندازہ ہو گیا تھا کہ وہ میرے لیے ہی بنائی گئی تھی۔ ہم دونوں وقت کے ساتھ ساتھ محمد علی ٹراموے کمپنی کی ٹرام پر سفر کرتے کرتے زندگی کے سفر میں ایک دوسرے کے قریب آ گئے تھے۔

پھر سب کچھ یکایک ہو گیا تھا۔ کئی سال پرانا واقعہ مجھے تو ایسا ہی لگتا ہے جیسے کل کا واقعہ ہو۔ رات دیکھی ہوئی کوئی فلم، ابھی کسی کی سنائی ہوئی کہانی۔ ہوا یہ کہ نہ جانے کیوں میں نے یکایک فیصلہ کر لیا کہ نیلوفر سے کورٹ میرج کر لیتا ہوں۔ یہی سارے مسائل کا حل نظر آتا تھا۔ اسکول سے فارغ ہو کر میں نے سوچا تھا کہ قانون پڑھوں گا، مگر میرے والد کا خیال تھا کہ مجھے پہلے بمبئی جاکر کچھ پڑھنا چاہیے۔ اس کے بعد چاہے میں انگلینڈ چلا جاؤں۔

مجھے نہ بمبئی جانے کا شوق تھا اور نہ ہی انگلینڈ جانے کی تمنا۔ میں تو کراچی میں رہنا چاہتا تھا، نیلوفر کے آس پاس۔ جن دو دوستوں سے مشورہ کیا، پہلے تو ان کی سمجھ میں کچھ نہیں آیا مگر جب میں نے اپنی بات سمجھائی تو دونوں کا یہی مشورہ تھا کہ اگر نیلوفر راضی ہے تو کورٹ میرج کرلو۔ ایک دفعہ یہ ہو جائے گا تو دونوں خاندانوں کو راضی ہونا پڑے گا۔ مراد بھی راضی ہو گیا اور طے یہ ہوا کہ میں نیلوفر سے بات کر کے اسے اپنے فلیٹ میں لے آؤں گا، پھر کراچی کے سول کورٹ میں سب کچھ طے ہو جائے گا۔

چمن لال جومیرا بڑا یار تھا اس نے اپنے وکیل ماموں سے بات کی تھی۔ پہلے تو وہ سمجھانے لگ گئے تھے مگر جب انہوں نے مجھ سے بات کرلی اور انہیں اس کا اندازہ ہو گیا کہ میرے جذبے ہر طاقت سے زیادہ طاقتور ہیں تو انہوں نے ہر قسم کی مدد کا وعدہ کر لیا، مگراس شرط کے ساتھ کہ انہیں کسی بھی قسم کی کوئی فیس نہیں دی جائے گی بلکہ عدالت کے جملہ اخراجات بھی وہی اٹھائیں گے۔

پھر سب کچھ پلان کے مطابق ہی ہوا تھا۔ نیلوفر میرے ساتھ اس بلڈنگ کے فلیٹ میں چلی آئی اور دوسرے دن کی صبح کا وقت عدالت میں مقرر بھی ہو گیا، مگر اسی شام میرے والد بھی نہ جانے کیسے پہنچ گئے۔ یہ مجھے جلد ہی پتا چل گیا کہ مراد نے انہیں خبر کی تھی، پھر میں نے کبھی بھی مراد سے بات نہیں کی تھی۔

وہ شام اور رات میری زندگی کی آخری رات ثابت ہوئی تھی۔ میں کمرے میں نیلوفر اور مراد کے ساتھ بیٹھا ہوا تھا اور خوش تھا کہ معرکہ سر ہو چکا ہے اور کل صبح کے بعد سب کچھ بدل جائے گا کہ اتنے میں دروازہ کھلا اور میرے والد، میرے دو چچا اورایک ماموں کے ساتھ کمرے میں داخل ہوئے۔ انہوں نے نیلوفر سے کہا کہ دوسرے کمرے میں چلی جائے۔ اس کے بعد مجھے یاد ہے کہ انہوں نے سب کچھ کہا اور ایک وہ تھپڑ تو میں آج تک نہیں بھولا ہوں، سالوں ان پانچ انگلیوں کی جلن میرے گالوں پر ہوتی رہی ہے۔ میری ضد، میرا غصہ، میری چیخ و پکار، میرا رونا کسی کا بھی کچھ اثر نہیں ہوا تھا۔

مجھے میرے کمرے میں بند کر کے میرے دونوں چچا باہر بٹھا دیے گئے اور میرے والد میرے ماموں کے ساتھ چلے گئے۔ جب وہ دونوں نیلوفر کے گھر پہنچے تو وہاں کہرام مچا ہوا تھا۔ نیلوفر کی دوست جینو نے بتا دیا تھا کہ نیلوفر کا سلسلہ کسی مسلمان سے چل رہا تھا اور وہ میرے ساتھ چلی گئی تھی۔ اسے میرے گھر کا تو پتا نہیں تھا، اسے جتنا پتا تھا اتنا ہی اس نے انہیں بتا دیا تھا۔ نیلوفر کے گھر پر نیلوفر کے باپ کے دوست موجود تھے اور یقینی طور پر باتیں ہو رہی تھیں کہ کس طرح سے اس مسئلے کو حل کیا جائے۔ میرا باپ وہاں مجرم کی طرح گیا تھا۔ سر جھکا کر آنکھیں نیچی کر کے میرے کیے پر معافی مانگنے کے لیے۔

رات کے اندھیرے میں میرے ماؤں اور باپ کے ساتھ نیلوفر کا باپ اور کچھ رشتہ دار آئے تھے۔ مجھ سے کچھ کہے بغیر، مجھ سے کچھ سنے بغیر، انہوں نے نیلوفر کو اس کے باپ کے حوالے کر دیا اور وہ لوگ خاموشی سے بھگوان داس بلڈنگ چھوڑ کر چلے گئے۔ دوسرے دن ہی مجھے لے کر میرے گھر کا قافلہ دادو واپس آ گیا۔

نیلوفر میرے دل سے نکلتی نہیں تھی اور بس کچھ میری زندگی سے نکل گیا تھا، میرا مستقبل کا پڑھنا، زندگی کے سارے پلان۔ میرا غصہ آہستہ مجھے کھا گیا تھا۔ پھر ایک دن مجھے پتا لگا تھا کہ نیلوفر کی شادی کسی بہرام جی سے ہو گئی تھی۔ پھر پاکستان بن گیا تھا اور تھوڑی سی دیر میں اتنا کچھ ہو گیا تھا کہ وقت کا احساس تک نہیں ہوا۔ چھ سال کے بعد میں پھر کراچی گیا تھا۔

کراچی بہت بدل گیا تھا۔ ہندوستان سے آئے ہوئے بے شمار مہاجروں نے کراچی کو پھیلا دیا تھا۔ نئی نئی کالونیاں بن گئی تھیں۔ عجیب عجیب شکل کے گندے گندے لوگوں نے پان تھوک تھوک کر کراچی کی صاف ستھری سڑکوں کو گندگی کا ڈھیر بنا دیا تھا۔

جہاں جانور پانی پیتے تھے وہاں انسان نہا رہے تھے۔ چھ سال میں کراچی کہاں سے کہاں پہنچ گیا تھا اور کیسا ہو گیا تھا۔ مگر میرا غم ویسا ہی تھا، میری بے قرار نگاہیں نیلوفر کو تلاش کر رہی تھیں۔

ماما پارسی اسکول کے سامنے گھنٹوں کھڑا رہا اور بلڈنگ کو تکتا رہا۔ سڑکوں پہ آوارگی کرتا رہا اور نیلوفر کے بارے میں سوچتا رہا۔ ٹرام پر بیٹھ کر سولجر بازار کے نہ جانے کتنے چکر کاٹے مگر وہ نہ ملی اور نہ ہی نظر آئی۔ دن ڈھلتے رہے اور راتیں بہت درد کی راتوں کی طرح گزرتی رہیں۔ رات کا کیا ہے، رات تو گزر جاتی ہے۔ سسکتی ہوئی، بلکتی ہوئی، بے چین، بے قرار، مجبور اور مہجور کرتی ہوئی۔ میں واپسی کا پروگرام بنا رہا تھا اور کینٹ اسٹیشن سے ٹرین کا ٹکٹ کر واپس آ رہا تھا کہ صدر میں پارسیوں کی عبادت گاہ سے اسے نکلتے دیکھا تھا۔

وہی چہرہ، وہی قامت، وہی انداز مگراس کے ساتھ ایک بچہ بھی تھا۔ میں پاگلوں کی طرح دوڑتا ہوا اس تک پہنچا۔ سڑک پر لمحوں کی وہ ملاقات نہ جانے کتنی طویل صدی تھی۔ وہ مجھے دیکھ کر تھرا گئی تھی۔ مجھے ایسا لگا تھا جیسے سرتاپا کانپ گئی ہو۔ اس کی ڈبڈباتی آنکھوں نے سب کچھ کہہ دیا تھا۔ اس نے بڑے زور سے اپنی بچی کو اٹھا کر سینے سے لگا لیا۔ مجھے پتا لگ گیا تھا کہ اب سب کچھ ختم ہو گیا ہے، اب کچھ نہیں ہو سکتا۔

وہ رات میری زندگی کی طویل ترین رات تھی۔ اس رات میں نے نیلوفر کھو دی تھی، وہ رات میری کراچی کی آخری رات تھی۔ پھر میں کراچی نہیں آیا۔ چالیس پینتالیس سال گزر گئے مگر میں کراچی نہیں گیا۔ میرا تھا ہی کیا کراچی میں۔

میں نے مزید پڑھا نہیں۔ شادی نہیں کی اور باپ کی زمینوں کو دیکھتا رہا۔ میرے باپ نے کئی کئی بار مجھ سے معافی مانگی تھی۔ میں نے اس تھپڑ کو تو معاف کر دیا تھا مگر نیلوفر سے میری جدائی کا جرم ناقابل معافی تھا۔ میرا بوڑھا باپ اس احساس گناہ کے ساتھ مر گیا۔

لیکن میں نے اب اسے بھی معاف کر دیا ہے۔ مراد کو بھی معاف کر دیا ہے۔ اب تو مراد اور زیادہ قابل معافی ہو گیا ہے۔ اس حد تک کہ اسے تو مدد کی ضرورت ہے۔ وہ بے چارہ ہے، بے چارہ۔ پچھلے فسادات میں مراد کے بیٹے نواز بخش نے حیدرآباد سے ایک مہاجر لڑکی اغوا کر لی تھی۔ اسے محبت کا جھانسا دیا تھا پھر ایک رات اسے لے کر دادو چلا آیا تھا۔ جب مراد کو پتا چلا تو اس نے کچھ نہیں کیا۔ اس کی زمینوں پر بنے ہوئے مکان میں اس کی مرضی سے نواز اور اس کے دوست اس مہاجر لڑکی کو پامال کرتے رہے۔ پھر وہ لڑکی بھاگ گئی اور بھاگتے بھاگتے، چھپتے چھپتے، بچتے بچتے وہ ریل کی پٹری تک پہنچ گئی، جہاں سے اس کی کٹی ہوئی لاش ملی تھی۔

میں نے اس بچی کے ماں باپ کو دیکھا تھا۔ اخباروں میں ان کی تصویر چھپی تھی۔ ان کے چہرے کا کرب، ان کی زندگی کا درد، ان کے آنکھوں کی چمک، زندہ رہنے کی لگن، وہ سب کچھ ختم ہو گیا تھا۔ موہن جوڈرو پر بھی وہ سناٹا، وہ مردنی نہیں ہے جو اس بڈھے کے چہرے پر تھی۔

مجھے پھر نیلوفر یاد آئی تھی۔ کراچی میرے سامنے آ گیا۔ بھگوان داس بلڈنگ کا وہ فلیٹ۔ اس فلیٹ کے کمرے میں بیٹھی ہوئی نیلوفر۔ وہ ہندو دوست جس نے مجھے منع کیا تھا۔ وہی مراد اور اس کا باپ جو میرے باپ کے ساتھ آ کر مجھے دادو لے آئے تھے۔ یہ وہی کراچی تھا، وہی سندھ جہاں میرے پرکھوں نے ایک بچی کو بچایا تھا اور اب وہی کراچی ہے، وہی سندھ۔ جانے کیا ہو گیا ہے لوگوں کو۔ میں اپنے باپ کی قبر پر گیا تھا، ہاتھ جوڑ کر معافی مانگی تھی۔ مجھے ایسا لگا تھا جیسے مجھے نیلوفر مل گئی ہے۔

Latest posts by ڈاکٹر شیر شاہ سید (see all)
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •