قاسم علی شاہ کا امتحانی پرچہ آؤٹ

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

موٹیویشنل سپیکر قاسم علی شاہ کہتے ہیں ’اچھی بیوی کیسے بننا ہے، یہ کہیں نہیں پڑھایا جاتا۔ آپ کسی سکول میں چلے جائیں، میٹرک کی ڈگری تک، 10 برس میں یہ کہیں نہیں پڑھایا جاتا۔ حالانکہ ایک عورت کی زندگی میں ان دو کرداروں کی بڑی اہمیت ہے، یعنی اچھی بیوی اور اچھی ماں بننا۔‘ ہمیں خبر ہے کہ قاسم علی شاہ نے اشفاق احمد اور بانو قدسیہ کے خوان نعمت سے فیض اٹھا رکھا ہے، اس لئے نہ تو ہم حیران ہیں اور نہ ہی مضطرب!

قاسم علی شاہ کے بیان کردہ اچھی بیوی اور اچھی ماں کے فلسفہ کا ورود اسی مصنف جوڑے کے قلم سے ہوا۔ اس ذوقلمونی نے معاشرے کو وہ راہ سجھائی جہاں اپنا آسمان کھوجنا عورت کے لئے شجر ممنوعہ ٹھہرا. دیکھیے بانو قدسیہ نے کیا لکھا

“ میں بھی آہستہ آہستہ اس فیصلے پر پہنچی کہ شاید مجھے اپنی خود معاملگی اور خود ساختہ آزادی کو خدا حافظ کہہ کر ہی اشفاق صاحب کے گھر میں داخلے کی ٹکٹ مل سکتی ہے” ( راہ رواں، صفحہ نمبر 167)

ان کی زندگی کی جھلک ان کے دوست ممتاز مفتی نے یوں کی،

” قدسی میاں کی پسند ناپسند بدلنے کی کوشش نہیں کرتی، الٹا اپنی پسند ناپسند کومیاں کی پسند ناپسند کے مطابق ڈھال لیتی ہے۔ اس کی خواہش ہے کہ میاں کی ہر خواہش کو پورا کرے چاہے وہ خواہش قدسی کے مفاد کے خلاف کیوں نہ ہو ” (مفتیانے، صفحہ نمبر 256)

اب اس میں اتنا واویلا کرنے کی کیا ضرورت؟ قاسم علی شاہ نے تو محض حکمت کے ان پتلوں کے مرتب کردہ پرچہ ترکیب استعمال کو سکولوں اور کالجوں میں نافذ کرنے کی صلاح دی ہے تاکہ یہ سنہری اقوال ہر بچی کا اوڑھنا بچھونا بن جائیں اور معاشرے کے مرد سکھ کا سانس لے سکیں، چین کی بنسی بجا سکیں۔ وہ جو ایک خدشہ رہتا ہے نا کہ کہیں بچیاں ہم جیسی بری عورتوں کی تقلید نہ کرنا شروع کر دیں، اس کا خوف دل سے جاتا رہے۔

آخر یہ دیسی لوزر دانشور اچھی بیوی اور ماں کسے کہتے ہیں؟ بے جان، گونگی، ستی ساوتری، پتی ورتا سر جھکائے، نگاہیں نیچی رکھے، اپنی خواہشات سے بے نیاز، ممتا کے شیرے میں لتھڑی ہوئی، جی حضوری سے نچڑتی ہوئی، لب پہ قفل لگائے، احساس کمتری کا کفن پہنے، قربانی کے لئے ہمہ وقت تیار!

سورج مکھی کی طرح مرد کے گرد پھیرے لگاتی، اس کی پوجا میں ہمہ وقت منہمک، اختلاف رائے کی جرات ندارد، مرد کی آوارہ گردیوں سے آنکھیں چراتی، بے وفائی کو امرت جان کے پی جانے والی بستر میں اس کے لئے امراؤ جان، رسوئی میں گھر کی ماما کو شرمانے والی، ہر ظلم چپ رہ کے اور ہنس کے برداشت کرنے والی، گھر سے باہر نکل کے اپنی ذات کی شناخت نہ کروانے پہ راضی برضا، ماں کے رتبے پہ فائز ہو کے اپنے وجود کو قربان کرنے پہ ہمہ وقت تیار اور ان تمام بھاشنوں کو مذہب کا چولا پہنا کے پرچار کرنے والی بیوی!

دل پہ ہاتھ رکھ کے بتائیے ایسی حکم کی غلام بیوی کو کونسا مرد ناپسند کر سکتا ہے؟

قاسم علی شاہ کو بہت مبارک باد کہ جو نیو اشفاق احمد اور بانو قدسیہ نے رکھی تھی، اس پہ وہ بہت تندہی سے دیوار بلکہ چار دیواری اٹھانے میں مصروف ہیں۔ اس سے ثابت ہوا کہ بام حرم کے کبوتر ملک عدم کو سدھار جاتے ہیں، ان کا کہا اور کیا دھرا صدیوں تک نسلوں کے سفینے ڈبوتا ہے۔

قاسم علی شاہ ایجوکیشنسٹ بھی ہیں۔ ادھر ادھر سے سنا جاتا ہے کہ شاید بندگان عالی قدر کے گوش بااختیار تک کچھ رسائی بھی بہم پہنچائی ہے، سو کوئی دن جاتا ہے کہ ان کا ترتیب دیا ہوا نصاب درس گاہوں پر نافذ کر دیا جائے گا، جو کچھ یوں ہو گا۔

سبق نمبر ایک:

آپ شادی کرتے ہوئے بھول جائیے کہ آپ کون ہیں؟ کیا کرتی رہی ہیں؟ کیا کرنا چاہتی ہیں؟ کیا خواہشات ہیں؟ کیا تعلیم حاصل کی ہے؟ کس طرح کے ماحول میں رہی ہیں؟ والدین نے کس طرح پرورش کی؟ اب تک کی زندگی کیسے گزری؟

سبق نمبر دو:

اپنی پچھلی زندگی کو کسی غم غلط کی طرح مٹا دیجیے حتی کہ اپنا نام بھی۔ شوہر آپ کے والد کا نام تو شناختی کارڈ پہ تبدیل کروائے گا ہی، اگر آپ کی پہچان والا نام بھی اسے پسند نہیں اور صائمہ کی بجائے وہ آپ کو نصیبن پکارنا چاہتا ہے تو زیادہ حیص بیص کی ضرورت نہیں۔

سبق نمبر تین:

زبان پہ مکمل طور پہ قفل لگا لیجیے، سمجھیے اللہ نے آپ کو بولنے کی طاقت صرف شادی سے پہلے تک کی مدت کے لئے عطا کی تھی۔ ہو سکے تو کسی پلاسٹک سرجن سے کچھ زبان ترشوا کے مونچھ دکھائی میں میاں کو ارپن کر دیجئے ورنہ لمبی زبان کا طعنہ عمر بھر پیچھا نہیں چھوڑے گا۔

سبق نمبر چار:

حجلہ عروسی میں جب شوہر آپ کوبتائے کہ آپ کی ذمہ داریاں کیا کیا ہیں تو ان کو فورا نوٹ کر لیجیے، اور برائے مہربانی حقوق کا ذکر بالکل نہ کیجیے ورنہ منہ پھٹ ہونے کا ٹھپہ اسی وقت لگ جائے گا۔

سبق نمبر پانچ:

جب شوہر آپ کو یہ سمجھائے کہ اس کے دل کو جانے والا پرپیچ رستہ اس کے ماں باپ کی خدمت و رضا، بہن بھائیوں کی خوشنودی، اس کے اپنے کام و دہن کی کماحقہ آبیاری، حوائج نفسانی کی یک طرفہ تسکین نیز پسند و ناپسند کی بلامشروط اطاعت میں ہے تو اس ہدایت نامہ خداوند پر حلف اٹھاتے ہوئے اپنے دل کا زنہار ذکر نہیں کیجیے۔

بھلا اچھی بیوی کے پاس دل کا کیا کام؟ وہ اسے میکے میں چھوڑ کے آنا چاہیے۔

سبق نمبر چھ:

اگر آپ کو ہنی مون پہ جانے کی اجازت نہ ملے تو برا ماننے کی قطعی ضرورت نہیں۔ اچھی بیوی بننے کے لئے پتہ مارنا پڑتا ہے، جتنی جلد یہ بات سمجھ لیں، بہتر ہو گا۔ اگر ساس اور سسر ہنی مون پر ہمراہی کا ارادہ ظاہر کریں تو فوراً دلی مسرت کا اظہار کرنا۔ تجربے کا کوئی نعم البدل نہیں۔

سبق نمبر سات:

اگر شادی کے کچھ ہی دن بعد ساسو ماں ہاتھ پکڑ کے باورچی خانے چھوڑ آئیں تو اسے اپنی خوش نصیبی سمجھیے کہ اہل سسرال کے دل تک براستہ معدہ پہنچنے کا موقع مل رہا ہے۔

سبق نمبر سات:

اگر شام کو شوہر گھر آئے اور آپ کی طرف نظر اٹھا کر بھی نہ دیکھے،اپنی اماں کے پاؤں دباتا رہے تو آپ فخر محسوس کریں کہ کل کو آپ بیٹا بھی آپ سے ایسا ہی برتاؤ کرے گا۔ پتا پہ پوت۔۔

سبق نمبر آٹھ:

سارے دن کی گھریلو مشقت کے بعد اگر شوہر بستر پہ وظیفہ زوجیت ادا کرنے کے لئے بلائے تو قطعی انکار مت کیجیے۔ مجازی خدا کی ناراضی مول لینے کی ضرورت نہیں، ورنہ عرش بالا پہ فرشتے شب بھر آپ پہ لعنت بھیجتے رہیں گے۔

سبق نمبر نو:

اگر اہل سسرال اور شوہر مل کے طے کریں کہ آپ کی پچھلی زندگی میں حاصل کی ہوئی ڈگریاں آگ میں پھینکنے کے لائق ہیں تو چوں و چرا مت کیجیے، آخر شادی شدہ زندگی میں ایسی قربانیاں تو عورت کو دینی پڑتی ہیں۔ بدلے میں شوہر دو وقت کی روٹی، چھت اور اپنا نام دے رہا ہے تو اس کی شکر گزار بنیے۔

سبق نمبر دس:

اگر شوہر محسوس کرتا ہے کہ آپ کی نوکری اسے معاشی فوائد دے سکتی ہے تو فوراً کمر کس لیجیے۔ صبح دفتر، شام باورچی خانہ اور رات شوہر کی اٹھکیلیاں!

سبق نمبر گیارہ:

اگر شوہر آپ کی تنخواہ اپنے اکاؤنٹ میں ڈلوانا چاہتا ہے تو دل بڑا کیجیے اور دے دیجیے آخر آپ دونوں ایک ہی ہیں۔ اب یہ نہ پوچھنے بیٹھ جائیے گا کہ کیوں نہ اکاؤنٹ آپ کے نام ہو جس میں اس کی اور آپ کی تنخواہ آئے۔

ویسے دل پہ زیادہ نہ لیجیے، آپ کی تنخواہ میں سے آپ کو جیب خرچ ضرور دیا جائے گا۔ اور یہ لاپرواہی مت برتیے گا کہ آپ نے وہ کہاں خرچ کیا؟ اس کا حساب کتاب تو دینا پڑے گا نا!

سبق نمبر بارہ:

اگر شوہر کو غصہ آئے اور وہ اپنا مزاج ٹھنڈا کرنے کے لئے آپ اور آپ کے میکے والوں کو گالی گلوچ سے نوازنا چاہیں تو جواب مت دیجیے گا۔ دیکھیے نا جو آپ کے لئے کما کے لاتا ہے وہ کہنے کا حق بھی رکھتا ہے۔ ویسے جو بیٹیاں زبان ترشوا کے سسرال جائیں گی، انہیں صبر کے گھونٹ بھرنے میں آسانی رہے گی۔

سبق نمبر تیرہ:

اگر شوہر شام کو اکیلے دوستوں کی محفل میں وقت گزارتا ہے تو یہ اس کا حق ہے۔ دیکھیے نا وہ سارا دن اتنی مشقت کرتا ہے۔البتہ اچھی لڑکیاں شادی کے بعد سہیلیوں سے ملنے والی علت نہیں پالا کرتیں۔

سبق نمبر چودہ:

ساس کو اپنے بیٹے کے آنگن میں جلد ازجلد اور بغیر وقفے کے پھول کھلتے چلے جانے کا شوق ہے۔ اس میں گل  کھلائے گا ساس کا بیٹا اور جان کو روگ لگے گا آپ کی، آپ کی صحت خراب ہو گی۔ آپ کی جان مسلسل جاپے کے کارن خطرے میں رہے گی۔ تاہم قاسم علی شاہ کے منظور شدہ نصاب کے مطابق آپ کی صحت اہم نہیں، آپ کے شوہر کی نسل کا پھلنا پھولنا اہم ہے سو برائے مہربانی مانع حمل دوا کا مت سوچیے۔ ویسے بھی اچھی ماں ہونے کے لئے کثرت اولاد کا امتحان ضروری ہے۔

سبق نمبر پندرہ:

حمل کے دوران آرام کرنے کی قطعی ضرورت نہیں، چلتی پھرتی رہیں گی تو زچگی آسان ہو گی۔ ویسے بھی ساس کے زمانے میں تو اتنی سہولیات نہیں تھیں سو اب ان آسائشوں کے ساتھ یہ کسل مندی؟ کیا ہو گیا ہے آپ جیسی نام نہاد تعلیم یافتہ عورتوں کو۔

سبق نمبر سولہ:

حمل کے دوران کچھ بھی کھانے کو جی چاہے تو اپنی زبان پہ قابو رکھیے۔ کیا دنیا میں انوکھا بچہ پیدا کر رہی ہیں آپ؟ جو گھر میں سب کے لئے پکتا ہے آپ بھی وہی کھائیے۔ اگر خون کی کمی ہو جائے تو اللہ مالک! شوہر تو خون عطیہ نہیں کر سکتا کہ بلاوجہ کمزوری لاحق ہو گی۔ مرد بچہ ہے آخر!

سبق نمبر سترہ:

بچہ اگر رات کو تنگ کرے، بیمار ہو، پیٹ میں قولنج ہو اور رو رو کے بے حال ہو رہا ہو تو اس کو لے کر دوسرے کمرے میں چلی جائیے، تھکے ہارے شوہر کی نیند میں خلل مت ڈالیے۔ آپ کا کیا ہے، اگلے روز گھر کے دس افراد کا کام ہی تو نمٹانا ہے، البتہ اس کو دفتر میں کرسی پہ بیٹھے بیٹھے اونگھ آ گئی تو!

سبق نمبر اٹھارہ:

بچوں کا سکول، پڑھائی، تربیت، کھیل کود کی نگہداشت بھی آپ کو کرنی ہے۔ اب ایسے کام باپ تو نہیں کیا کرتے نا! کیا یہ کافی نہیں کہ وہ بچوں کی سکول فیس بھر دیتا ہے۔

سبق نمبر انیس:

اگر شوہر کو غصہ آ جائے اور آپ کو دو چار ہاتھ جڑ دے تو دہائی دینے کی ضرورت نہیں۔ آپ اس کی زندگی کی ساتھی ہیں سو اس کی بدتمیزیوں کو برداشت کرنا آپ کا فرض ہے۔ دیکھیے پیار بھی تو کرتا ہے اور ہر انگ میں نیل کے نشان بھرنے کے بعد کچھ شاپنگ کروائے گا، کچھ دن اسے غصہ نہیں آئے گا، تو سودا برا نہیں۔

سبق نمبر بیس:

اگر زندگی کے ان تمام جھمیلوں میں آپ کا رنگ و روپ کملا جائے، چہرے کی شادابی غائب ہو جائے، بچوں کی متواتر پیدائش سے جسم ڈھلک جائے اور آپ کے شوہر کسی اور عورت کی بانہوں میں پناہ لینا چاہتے ہوں تو آپ کو کیا غم؟ بچوں سے دل بہلائیے اور غم نہ کیجیے۔

سبق نمبر اکیس:

اگر شوہر واپس آنے کی بجائے ایک سہانی صبح آپ کے ہاتھ میں پروانہ آزادی دے کے دروازے سے باہر کر دے تو ایسی کیا بڑی بات ہے؟ بیٹے ہیں نا، ماں کو سنبھال لیں گے۔ مرد تو ساٹھا پاٹھا ہوا کرتا ہے سو اس کے دوسری شادی کرنے پہ کیا قدغن؟ برسوں کی رفاقت کا غم آپ کو رہے گا اس کو نہیں۔ وہ نئی منزلوں کا راہی بننے کو بے چین ہے۔

سبق نمبر بائیس:

زندگی کی شام میں جب آپ بجھتی آنکھوں، مہر بہ لب، پژمردہ دل اور ہلکے رنگوں کا چولا پہن کے تسبیح کے دانے پھیرنے میں مصروف ہوں اور شوہر کو آپ نظر آ جائیں کہ ان کی اماں چل بسی ہیں، بہن بھائی اپنی زندگی میں مصروف ہیں، تو ان کا ہاتھ جھٹکیے گا نہیں۔ انوکھے لاڈلے کو انوکھی ہی سوجھے گی نا۔ آپ کو اچھی بیوی کا تمغہ ملنے میں کچھ ہی دیر باقی ہے، سو کاٹ لیجیے یہ وقت بھی۔

آخری سبق:

آپ دنیا سے اچھی بیوی اور اچھی ماں کا سرٹیفیکٹ لے کر واپس آئیں ہیں۔ لیکن خالق حقیقی نے بنا کسی فرق کے جو ایک عورت اتاری تھی، اس پہ گزرے ہوئے لمحات کی کہانی سے کیوں یہ جی چاہتا ہے کہ وہ یہ سرٹیفکیٹ قادر مطلق کو پیش کرتے ہوئے کہے کہ مالک میں اپنے حصے کا جہنم کاٹ آئی ہوں، اب حساب کتاب کیسا؟

قاسم علی شاہ! اگر آپ کو ہماری تجاویز پسند آئیں تو بلاتکلف اپنے نصاب میں شامل کر لیں۔ ہم کاپی رائٹ کا سوال نہیں اٹھائیں گے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •