امریکی صدارتی الیکشن میں دھاندلی کی اندرونی کہانی


امریکہ کی انٹیلی جنس ایجنسی سی آئی اے بہت محب وطن ادارہ ہے۔ اسے امریکہ کی عزت اور اس کی زمینی، سمندری، ہوائی اور نظریاتی سرحدوں کی بہت فکر رہتی ہے۔ اسے علم ہے کہ امریکی سیاست دان نالائق، چور، کرپٹ اور غدار ہیں اور انہیں اگر کھلی چھٹی دے دی گئی تو وہ امریکہ کو بیچ کے کھا جائیں گے اس لیے امریکی خفیہ ایجنسی سی آئی اے الیکشن کے حوالے سے کسی پر بھروسا نہیں کرتی اور اس معاملے کو اپنے کنٹرول میں رکھتی ہے۔

اسے دھاندلی تو نہیں کہنا چاہیے یہ تو اصل میں اپنے ملک کی بہتری اور حفاظت کے لیے الیکشن مینجمنٹ ہے تاکہ حکومت کی باگ ڈور غدار قسم کے سیاست دانوں کے ہاتھوں میں نہ چلی جائے۔ ڈر ہے کہ وہ کہیں انڈیا، اوہ معافی چاہتا ہوں، کیوبا کے ساتھ مل کر امریکہ میں کمیونزم کا نفاذ ہی نہ کر دیں۔ اور امریکہ چونکہ سرمایہ داری کا قلعہ ہے تو اس پر ساری سرمایہ دار امہ کی نظریں لگی ہوتی ہیں۔ امہ کی امیدوں پر پورا اترنا بہت اہم ہے، چاہے اپنی عوام غربت کے دلدل میں دھنستی چلی جائے۔

تو آپ سوچ رہے ہوں گے کہ امریکہ کو غداروں سے بچانے کے لیے سی آئی اے الیکشن میں کیا کرتی ہے؟ اس راز سے پردہ آج اٹھتا ہے۔

سب سے پہلے تو وہ ایک پارٹی کا انتخاب کرتی ہے جس کو اگلی حکومت سونپنی ہوتی ہے۔ پھر خاص خاص محب وطن سیاست دانوں کو سی آئی اے فون کرتی ہے کہ اگلا الیکشن انہوں نے کس پارٹی کے بینر تلے لڑنا ہے، ڈیموکریٹس یا ریپبلکنز۔ زیادہ تر سیاستدان تو اسی فون کا انتظار کر رہے ہوتے ہیں کیونکہ وہ سی آئی اے کے ساتھ مل کر ہی قوم کی خدمت کرتے ہیں۔ تو وہ فوراً اس پارٹی کو جوائن کر لیتے ہیں۔ جو چند ایک سیاست دان اس فون کا اچھا جواب نہیں دیتے، ان کو کچھ مزید انفارمیشن دی جاتی ہے۔ جو کہ زیادہ تر ان کی انکم ٹیکس فائل اور پچھلی وزارت میں ان کی کارکردگی کے بارے میں ہوتی ہے۔ ساتھ ہی ان کے علاقے کی حلقہ بندی ایسے درست کر دی جاتی ہے کہ انہیں سمجھ نہیں آتا کہ الیکشن لڑیں تو لڑیں کہاں سے۔

اس سارے بندوبست کے ساتھ ساتھ سی آئی اے نے میڈیا پر اپنے تجزیہ نگار بھی چھوڑے ہوئے ہوتے ہیں۔ وہ تجزیہ کار سی این این، اے آر وائی، اوہ پھر غلطی ہو گئی، معاف کیجیے گا، فاکس نیوز پر بیٹھ کر اس منتخب سیاسی پارٹی اور اس میں شامل ہونے والے تمام سیاستدانوں کی امیج بلڈنگ کرتے ہیں۔ لوگوں کو ان کی خوبیاں گنواتے ہیں۔ عوام کو پتا چلتا ہے کہ یہ سیاست دان ہی امریکہ کو مشکل حالات سے نکال سکتے ہیں۔

پورے امریکہ میں ایک فضا بن جاتی ہے اور عوام باخبر ہو جاتے ہیں کہ ووٹ کس کو ڈالنا ہے۔ پھر الیکشن قریب آتے ہیں تو الیکشن کی مہم شروع ہوتی ہے۔ جو پارٹیاں سی آئی اے کی منتخب پارٹی کے مقابلے میں الیکشن لڑنے کی کوشش کر رہی ہوتی ہیں انہیں الیکشن مہم کے دوران تھوڑا ڈرا دھمکا کے ہی رکھا جاتا ہے تاکہ وہ اپنی اوقات میں رہیں۔

کچھ سیاسی پارٹیاں الیکشن کے دنوں میں باغی ہونے کی کوشش کرتی ہیں اور ان کی الیکشن مہم سے خوف پیدا ہو جاتا ہے کہ کہیں سارا پلان فیل ہی نہ ہو جائے تو پھر سی آئی اے، طالبان، اوہ غلطی ہو گئی، بلیک واٹر جیسی تنظیموں سے ان پر حملے کرواتی ہے۔ اس سے ان کی الیکشن مہم تقریباً ختم ہو کر رہ جاتی ہے اور منتخب شدہ پارٹی اپنی الیکشن مہم خوب چلاتی ہے۔

الیکشن مہم جتنی بھی کامیاب رہے، الیکشن کا دن بہت اہم ہوتا ہے۔ اس دن بہت کام کرنا پڑتا ہے تاکہ آخری موقع پر کوئی سرپرائز نہ مل جائے۔ الیکشن کے دن کی مانیٹرنگ بہت ضروری ہوتی ہے۔ ایسا نہ ہو کہ منتخب شدہ پارٹی کو اتنی سیٹیں مل جائیں کہ وہ بعد میں سی آئی اے کو ہی آنکھیں دکھانا شروع کر دے۔ اس لیے منتخب شدہ پارٹی کو اتنی سیٹیں دلائی جاتی ہیں تاکہ وہ حکومت بنا لے اور اس کو قائم رکھنے میں مصروف رہے۔ اسی لیے آپ نے اکثر سنا ہو گا کہ عین الیکشن کے دن امریکہ میں بجلی پر بوجھ بڑھ جانے کی وجہ سے بجلی چلی جاتی ہے اور ووٹوں کی گنتی متاثر ہوتی ہے۔ بجلی بحال ہونے تک الیکشن مینجمنٹ کی آخری ذمہ داری بخوبی پوری کر دی جاتی ہے۔

کنٹرولڈ الیکشنز کے نتیجے میں امریکہ میں ایک لاغر سی سولین حکومت بن جاتی ہے اور سی آئی اے پیچھے بیٹھ کر مزے سے حکومت کرتی ہے۔ اچھے کاموں کی داد سی آئی اے سمیٹتی ہے اور پے در پے ناکامیوں کے لیے حکومت کو عوام کے سامنے کر دیا جاتا ہے۔

امریکی سی آئی اے عوام میں بہت پاپولر ہے۔ اس بات کا تو سی آئی اے کو کامل یقین ہے لیکن پھر بھی انہیں علم ہے کہ لوگ ووٹ صرف سیاست دانوں ہی کو ڈالتے ہیں۔ حالانکہ امریکی سی آئی اے نے کوئی ریفرنڈم وغیرہ نہیں کروائے لیکن پھر بھی انہیں یہ خوب اندازہ ہے۔ اس لیے سیاست دانوں کی ضرورت کئی حوالوں سے ہے۔

ٹیل پیس: اس آرٹیکل کا طنزو مزاح سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ یہ امریکی سیاست اور الیکشن پر ایک حقیقی تبصرہ ہے۔ کسی اور ملک سے اس کی مماثلت محض ایک اتفاق ہو گا۔ اور سی آئی اے اگر نمبر ون نہیں ہے تو بھی اسے ہلکا نہ لیا جائے۔ کیونکہ اسے دنیا کے بہت سارے ممالک کے الیکشن میں دھاندلی کرنے کا بے پناہ تجربہ ہے۔


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

سلیم ملک

سلیم ملک پاکستان میں شخصی آزادی کے راج کا خواب دیکھتا ہے۔ انوکھا لاڈلا کھیلن کو مانگے چاند۔

salim-malik has 326 posts and counting.See all posts by salim-malik