نومنتخب امریکی صدر اور ہم

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

امریکی ریاست ڈیلووارئے سے چھ مرتبہ سینیٹر منتخب ہونے والے جوزف رابنٹ بائیڈن امریکہ کے سب سے عمر رسیدہ صدر منتخب ہو گئے ہیں۔ وہ 36 برس امریکی سینیٹ کے رکن رہے جبکہ آٹھ برس نائب صدر کے طور پر بھی کام کرچکے ہیں۔ لہٰذا امریکی سیاست کے تمام نشیب وفراز سے واقف ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ جوبائیڈن، سابق صدر باروک اوبامہ کا تسلسل ہے۔ لیکن اس بار امریکی عوام ٹیکس، صحت اور ماحولیات کے علاوہ بین الاقوامی تعلقات کے حوالے سے بہت سی تبدیلیوں کے منتظر ہیں۔

ماہرین کے مطابق جوبائیڈن کے لیے صدارتی انتخابات جیتنے کے بعد چیلنج شروع ہوگا۔ دیکھنا ہے کہ مصلحت پسندی اور افہام و تفہیم کے طبیعت کے مالک جوبائیڈن امریکہ کے عوام بلکہ روشن خیال ڈیموکریٹس کی امیدوں پر کیسے پورے اترتے ہیں۔ امریکی سیاسی پارٹی ڈیموکریٹ کی بڑی تعداد روشن خیال بھی ہے اور وہ تبدیلی چاہتے ہیں۔ دوسری جانب امریکہ کی نائب صدر کے لئے سیاہ فام کملا ہیرس پہلی خاتون منتخب ہوئی ہیں۔ جنوری میں دونوں راہنما باقاعدہ اپنے عہدے پر براجمان ہوجائیں گے۔

56 سالہ کملا کی ماں امریکہ میں تعینات سابق بھارتی سفارت کار کی نواسی ہیں جبکہ اس کے والد کا تعلق افریقی ریاست جمیکا سے ہے اور ان کا تعلق بپٹسٹ Baptist چرچ سے ہے جبکہ صدر جوبائیڈن امریکہ کے پہلے رومن کاتھولک صدر ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ کملا ہیرس نے سیاہ فام جارج فلوائیڈ کی امریکی پولیس اہلکار کے ہاتھوں موت کے بعد امریکہ میں نسل پرستی پر کڑی تنقید کی اور پولیس کے رویے پر کھل کر سامنے آ گئی۔ کملا ہیرس کے نائب صدر منتخب ہونے کے بعد بھارتی میڈیا میں شادیانے بجائے جا رہے ہیں اور کہا جا رہا ہے کہ یہ بھارت کے لئے بڑے اعزاز کی بات ہے لہٰذا بھارت کو چاہیے کہ وہ جلد از جلد اسے سرکاری طور پر دورے کی دعوت دے۔

یہ چہ میگویاں بھی ہو رہی ہیں کہ چونکہ جوبائیڈن کافی عمر رسیدہ ہیں اور شاید دوسری مرتبہ صدارت کے لیے انتخابات میں حصہ نہ لیں سکیں لہذا ڈیمو کریٹ پارٹی کی جانب سے اگلے صدارتی انتخابات کے لئے موزوں امیدوار ہوں گی ۔ دونوں صورت میں کملا ہیرس کا سیاسی مستقبل روشن دکھائی دیتا ہے۔ موجودہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ چار سال پہلے منتخب ہونے کے بعد ہی امریکہ سمیت دیگر ممالک میں اس کے خلاف مہم کا آغاز ہو گیا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ سابق صدر جارج ہربرٹ واکر بش ( 1993 ء) کے بعد پہلی مرتبہ ریپبلکن امیدوار کو دوسرا موقع نہیں ملا، حالانکہ جارج بش جونیئر بھی دو مرتبہ صدر رہ چکے ہیں۔

چونکہ ٹرمپ کو امریکہ کی مسیحی مذہبی حلقے کی حمایت حاصل تھی لہٰذا یہ خیال بھی کیا جاتا ہے کہ انہوں نے سخت رویہ اپنایا اور امریکہ فرسٹ کا نعرہ بلند کیا۔ امریکہ چونکہ یہ دعویٰ کرتا ہے کہ وہاں رنگ ونسل کی تفریق کے بغیر مواقع میسر ہیں اور انہوں نے دنیا کا بہترین دماغ جمع کر رکھا ہے۔ جبکہ یہی مذہبی حلقہ سابق صدر باروک اوبامہ کے دور اقتدار کے دوران اس کی پالیسیوں سے نالاں تھا اور اس کا نتیجہ صدر ٹرمپ کے انتخاب کی صورت میں سامنے آیا۔ دوسری جانب آزاد خیال یورپی ممالک کے علاوہ میکسیکو اور کینیڈا کے ساتھ بھی ٹرمپ کے تعلقات کو مثالی قرار نہیں دیا جاسکتا۔

پاکستان میں بھی ایک حلقہ اس بات کو لے کر بہت خوش دکھائی دیتا ہے کہ شاید ہمارے تعلقات میں گرم جوشی پیدا ہو جائے گی۔ ہمیں یہ بات نہیں بھولنی چاہیے کہ امریکہ اور چین کے درمیان تناؤ کی کیفیت واضح دکھائی دیتی ہے۔ جبکہ پاکستان اور چین ایک دوسرے کے بہت قریب ہیں۔ یہاں یہ بات بھی غور طلب ہے کہ امریکہ میں شکلیں بدلنے سے پالیسی میں ایک حد تک تبدیلی آتی ہے۔ مگر ساری صورتحال وائٹ ہاؤس میں تبدیلی کے بعد واضح ہوگی۔

امریکہ سمیت دیگر یورپی ممالک بنیادی انسانی حقوق کا راگ الاپ رہا ہے جس کی بنیاد پر مذہبی طبقہ قدرے ’بیک فٹ‘ پر جا چکا ہے حالانکہ بعض یورپی ممالک ابھی تک مذہب کے ساتھ جڑے ہوئے ہیں۔ فرسٹریشن کا شکار امریکی عوام نے گزشتہ انتخابات میں ڈونلڈ ٹرمپ کو ووٹ دیا اور چار سال کے بعد اکثریتی مذہبی طبقہ ٹرمپ کی پالیسیوں سے تنگ آ گیا اور یہی وجہ ہے کہ جو بائیڈن کو اکثریتی ووٹ ملا۔ کچھ ایسی ہی صورتحال پاکستان میں دکھائی دیتی ہے۔

گزشتہ انتخابات کے دوران پاکستان کے اکثریتی لبرل طبقے نے روایتی سیاستدانوں سے تنگ، نفرت اور اندھی عقیدت کی وجہ سے عمران خان اور اس کی جماعت کو کامیاب کروایا مگر نتائج جلد سامنے آ گئے۔ اب حکومتی کمزوریوں کو چھپایا جا رہا ہے۔ وزیراعظم اور حکومتی مشینری بنیادی مسائل کو حل کرنے کی بجائے دنیا میں اسلاموفوبیا کے خاتمے اور ملک میں غداروں کی تلاش کے لئے سرگرداں ہیں۔ کرپشن کے خاتمے کا نعرہ لگانے والے کرپشن کے نئے ریکارڈ بنانے میں مصروف ہیں۔

اور پھر ہماری عوام معیشت کی بدحالی سے بے خبر فرانسیسی صدر کے پتلے جلانے اور مصنوعات کا بائیکاٹ کرنے کے نعرے لگا رہی ہے۔ حکمران سیاسی مقاصد کے لئے مذہب کو استعمال کر رہے ہیں۔ یہی تجربہ ٹرمپ نے کیا اگرچہ وہ کامیاب بزنس مین تھا تو بھی مذہبی کارڈ استعمال کرنے اور تعصب کے نعرے کی بھینٹ چڑھ گیا۔ لیکن یہاں ایسا نہیں ہوگا، ہم پاکستان تو امریکہ سے ہزاروں میل دور اور دنیا یا جنوبی ایشیا پر ہونے والے اثرات سے لاپروا ہیں اور بالکل الگ مسائل سے نبردآزما ہیں۔ یہاں اس بات سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ 85 فیصد عوام معاشی مشکلات کا شکار ہے۔ بلکہ اس بات بھی سیاست ہوگی نہ درپیش مسائل کے حل کے لئے کوشش۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •