شیلف لائف

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بس جس طرح ہر چیز کی شیلف لائف ہوتی اسی طرح جانداروں کی بھی ہوتی ہے مگر ان میں انسان چونکہ اشرف المخلوقات ہے اس لئے دو دفعہ اس کا شکار ہوتا ہے۔ ایک خاص عمر میں پہنچ کر کیرئیر کا اختتام اور عارضی زندگی سے ابدی زندگی کی طرف لوٹنا ایک طرح سے اس میں شمار ہوتا ہے۔

مسٹر ٹرمپ کی شیلف لائف ختم ہونے میں (دنیاوی ) ان کا ایک بنیادی کردار رہا ہے۔ الیکشن 2020 نے کئی ریکارڈ قائم کیے، نتائج میں تاخیر اور امریکن ہسٹری میں سب سے زیادہ ووٹ کاسٹ ہوئے مگر امریکیوں کی آنکھیں اس وقت حلقوں سے باہر آئیں جب صدر صاحب نے نتائج ماننے سے انکار کیا اور کہا کہ ”دھاندلی“ ہوئی ہے۔ بطور پاکستانی اگر اس بیانیہ کو دیکھیں تو بہت ہی مانوس معلوم ہوتا ہے، ان کا کہنا ہے کہ الیکشن آزاد نہیں تھے اور کہیں کوئی خلائی مخلوق تھی جس نے یہ بد ذاتی بہر حال دکھائی ہے اور ہم تو مسٹر ٹرمپ کے بیانات سے اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ یہ بیانیہ ایک مائنڈ سیٹ کا نام ہے اس سے پاکستانی یا امریکن ہونے سے کوئی فرق نہیں پڑتا ہے ورنہ دو انسان جو بالکل الگ الگ ماں باپ کے یہاں مختلف براعظموں میں پیدا ہوئے کبھی کوئی نوٹس ایکس چینج نا ہوئے وہ ایک ہی زبان کیسے بول سکتے ہیں بہر حال ہم بات کرتے ہیں حالیہ الیکشن کی اور صدر ٹرمپ کے فرمودات کو دیکھتے ہیں۔

الیکشن رزلٹ تو تین نومبر کی رات آنا شروع ہو گئے تھے اور ظاہر ہے عوام الناس کا جوش و خروش بھی قابل دید تھا اور رزلٹ یوں آرہے تھے گویا بلڈ پریشر کا جاں بلب مریض ہو کب گھٹ جائے کب بڑھ جائے اور یہ چیز لوگوں کا دل دھڑکا رہی تھی، اصل میں شروع میں جو ووٹ ڈالے گئے وہ لوگوں نے خود پہنچ کر کاسٹ کیے اور یہ زیادہ تر رورل سٹیٹس کے ووٹ تھے جہاں ابھی بھی لوگ قدامت پرست اور سفید فام برتری کے خیالات کے حامل ہیں اور ٹرمپ جیسے لوگ ان کا آئیڈیل ہیں۔

تین نومبر کے نتائج کے اعلان میں جب کاسمو پولیٹن ایریاز اور ڈاک کے ذریعے ڈالے جانے والے ووٹ کے نتائج آنے لگے تو بائیڈن کا پلڑا جھکنے لگا اور ٹرمپ کے اضطراب کی ابتدا ہوئی، بڑے شہروں جیسے نیو یارک، لاس اینجلس، فینکس، پٹس برگ، اٹلانٹا، ڈیٹرائیٹ وغیرہ ڈیمو کریٹس کی جیب میں چلے گئے تو ٹرمپ کی لیگل ٹیمز لا سوٹس کی تیاری کرنے لگیں مگر ہمارے خیال میں رزلٹ کو بدلنا قریب قریب نا ممکن ہے۔

آئیے ایک نظر کچھ رزلٹس پر ڈالیں جو مسٹر ٹرمپ کی نظر میں فراڈ ہیں۔
سٹیٹ بائیڈن ٹرمپ
پنسلوانیا۔ 49.7 49.0
جارجیا۔ 49.5 49.3
ایریزونا۔ 49.5 48.9
نیواڈا۔ 50.2 47.6

مسٹر ٹرمپ نے چار سال وائیٹ ہاؤس میں ایسے لاڈلے بچے کی طرح گزارے جیسے بگڑا ہوا نواسہ نانا نانی کے گھر گرمیوں کی چھٹیاں گزارتا ہے اور چاہتا ہے کہ اس کے منہ سے نکلے بات بعد میں مگر واہ واہ پہلے شروع ہو جائے لیکن بھول کیے کہ وہ ارب پتی کاروباری تو ضرور تھے مگر امریکی جمہوریت کو چلانے کا ان کوئی تجربہ نہیں تھا اور وہ اس طبقہ سے تعلق رکھتے تھے جو عام لوگوں کے مسائل سے نابلد تھا مگر وائیٹ سپر میسی کے قائل تھے جو روایتی لوگوں کو تو بہت پسند تھا مگر عملی زندگی میں اس کا کوئی خاص فائدہ نا پہنچ سکا۔

جب وہ 2016 میں صدارتی امیدوار سلیکٹ ہونے کے ابتدائی مباحثوں میں شرکت کرتے تھے اور جو پھول ان کے منہ سے جھڑتے تھے تو سنجیدہ اور میچور مزاج کے لوگ انھیں ”انوکھا لاڈلا“ ہی سمجھتے تھے جو ”کھیلن کو مانگے چاند“ تھا اور اس لئے کوئی بھی ان کو سنجیدہ نہیں لے رہا تھا مگر مذاق ہی مذاق میں جب وہ وائیٹ ہاؤس میں آن براجے تو لوگوں کو آنکھیں مسلنا ہی پڑی۔

مسٹر ٹرمپ نے آتے ہی فری سٹائل خطابات کا ایسا سلسلہ شروع کیا کہ ان کا سٹاف سکتے میں آ گیا کیونکہ وہ ان کے منہ پر ہاتھ رکھنے سے قاصر تھے۔ اسرائیل نوازی، مسلم دشمنی، اقلیتوں کا ستیا ناس کرنے کی قسمیں، رنگدار خواتین کی تضحیک اور ان کے حقوق کے لئے آواز اٹھانے والی تنظیمیں ان کے عتاب سے محفوظ نا رہ سکیں، امیگریشن کو لوگوں کے لئے مشکل ترین بنایا، معصوم بچوں کو پنجروں میں بند کیا اور اس معاملے میں کسی کی نا سنی، ان کے ارد گرد لوگوں کو کسی قسم جاب سیکورٹی نا رہی وہ نہیں جانتے تھے کہ رات کس پہر ان کو فائر کر دیا جائے گا کووڈ 19 کے معاملے کو بہت بھدے انداز میں ڈیل کیا اور اول تو انہوں نے ایسی کسی وبا سے انکار کیا اور اسے ”چینی وبا“ کہہ کر چین کی تضحیک میں پیش پیش رہے، سوائے اسرائیل کے مفادات کی حفاظت اور خوشامد کے ان کی خارجہ پالیسی میں ایسا کچھ نا تھا کہ اسے سراہا جا سکے ہاں ایک چیز ہے کہ انھوں نے ارادوں کے باوجود کوئی نئی جنگ شروع نا کی اور وہ اس لئے نہیں کہ وہ کشت و خون نہیں چاہتے ہے بلکہ موقعہ نا مل سکا اور وہ اندرونی خلفشاروں سے جان نہیں چھڑانا چاہتے تھے۔

ٹرمپ کا اعلان کہ وہ وائیٹ ہاؤس نہیں چھوڑیں گے ان کی عمومی سوچ کی عکاسی کرتا ہے، وائیٹ ہاؤس کے ایک رپورٹر جو جو وہاں کے پریس پول کے ممبر ہیں انھوں نے سات نومبر کو جس دن ٹرمپ ہارے اس کو بیان کیا ہے اور اس بیان میں وہ ایک خزاں رسیدہ درخت معلوم ہو رہے ہیں۔

وہ صاحب کہتے ہیں

میں نے چار سالوں میں اچھے برے دنوں میں صدر کو دیکھا ہے مگر سات نومبر جس دن وہ الیکشن ہارے ویسا دن کبھی نا آیا، دن کا ابتدائی حصہ انھوں نے دھاندلی کے بارے میں ٹویٹ کرتے ہوئے گزارا، پھر وہ باہر نکلے وہ آگے کی طرف جھک کر چل رہے تھے گویا ہوا انھیں دھکیلتی ہوئی لے جا رہی تھی اور یہی چال چلتے وہ وائیٹ ہاؤس کی گاڑی میں بیٹھے اور ورجینیا میں اپنے ”ٹرمپ نیشنل“ گالف کلب کا رخ کیا، بظاہر مطمئن نظر آنے کی کوشش کر رہے تھے مگر ہم لوگ مضطرب تھے اور پھر ساڑھے گیارہ بجے جب وہ ابھی اپنے گالف کلب میں ہی تھے تو بی بی سی اور امریکی نیٹ سرکس نے بائیڈن کی فتح کا اعلان شروع کر دیا مگر صدر گالف کلب سے باہر نا آئے گویا وہ اپنا وقت لے رہے تھے، آخر وہ نکلے اور گاڑیوں کے چیختے چلاتے قافلے نے وائیٹ ہاؤس کا رخ کیا جہاں ہزاروں لوگ بائیڈن کی فتح کا جشن منانے کے لئے اکٹھے ہو چکے تھے ٹرمپ پر آوازے کس رہے تھے، صدر نے اندر جانے کے لئے ایک بغلی دروازہ کو استعمال کیا ان کے کندھے ڈھلکے ہوئے اور سر جھکا ہوا تھا، انھوں نے ایک نظر ہم پر بھی ڈالی اور حسب عادت انگوٹھا اٹھا کر ہماری ہمت افزائی کرنا چاہی مگر آج مٹھی آدھی بند اور انگوٹھا لرز رہا تھا۔

ویسے تو سول وار کوئی خطرہ نہیں مگر اب جب کہ وہ قانونی جنگ لڑنے کا فیصلہ کر چکے ہیں لیکن ان کی اہلیہ میلانیا اس کے خلاف ہیں اور ان کا عزیز ترین داماد اور ان کی انتظامیہ کے کرتا دھرتا بھی ان کو بیک فٹ پر جانے کا مشورہ دے رہے ہیں کیونکہ کوئی ملک بھی ایسی افراتفری کا متحمل نہیں ہو سکتا اور وہ اس کے حق میں نہیں ہیں، اس لئے کہ ملک اور سسٹم اہم ہے ادارے نہیں اور اسی طرح ادارے اہم ہیں فرد واحد نہیں اور یہ امریکی روایات ہیں۔

وہ لوگ سلیکٹڈ یا ریجیکٹڈ کی بکواس میں نہیں پڑیں گے کیونکہ امریکہ اور جمہوریت اہم ہیں نا کہ ریپبلکن پارٹی اور ٹرمپ۔

اگر ہم پیچھے مڑ کر دیکھیں تو 2000 میں بش جونئیر کے مد مقابل سابق نائب صدر ایلگور تھے تو الیکشن میں کچھ دھاندلی کا شور اٹھا مگر الگور نے فوری طور پر نتائج کو قبول کر لیا اور پھر سپریم کورٹ نے اپنا قدم رکھا کہ اس رزلٹ کو بھول کر آگے چلیں اور اگلے الیکشن میں ایسا نا ہو اس کے لئے قانون سازی ہونی چاہیے ملک اہم ہے اس لئے اس کا نظام چلنا چاہیے، حیرت کی بات تو یہ ہے کہ اب ایوانکا ٹرمپ اور جیرڈ کشنر ریلیاں نکالنے کا اعلان نہیں کر رہے اور نا ہی کشنر بستر بوریا باندھ کر اسرائیل فرار ہو رہے ہیں کہ امریکہ میرا وطن نہیں ہے، یہ باتیں بہت کچھ یاد کراتی ہیں مگر افسوس اور دعا کے سوا کچھ نہیں کر سکتے (اپنے ملک کے لئے )

اب جب کہ ٹرمپ کہہ رہے ہیں کہ الیکشن انھوں نے جیتا ہے اور باقی سب دھاندلی ہے تو اپنے ساڑھے سات کروڑ ووٹ گن رہے ہیں جو انھوں نے حاصل کیے ہیں مگر دلگیر بات یہ ہے کہ ان کے پاس دھاندلی کا کوئی ثبوت نہیں ہے اور یہ ٹویٹر کے ٹرمپ ہیں لیکن سات نومبر کی شام جب وہ بغلی دروازے سے وائیٹ ہاؤس کے اندر جا رہے تھے تو ان کی ساری شوخی ہوا ہو چکی تھی۔ دنیا کے طاقتور ترین ملک کے صدر ”ہونے“ اور ”نا ہونے“ میں بہت فرق ہے اور معلوم ہوتا ہے کہ gods of the doomsday نے کوئی رول ادا نہیں کیا اور Operation Midnight Jackal کی بھی مداخلت کا بھی کوئی امکان نہیں ہے۔

بہر حال ہر جاندار اور بے جان کی شیلف لائن ہے اور مسٹر ٹرمپ نے اپنے ہاتھوں سے اپنی شیلف لائن تمام کر لی رہے نام اللہ کا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •