رکھ پت رکھا پت

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

”اے ایمان والو! بہت بد گمانیوں سے بچو۔ یقین مانو کہ بعض بد گمانیاں گناہ ہیں اور بھید نہ ٹٹولا کرو اور نہ تم میں سے کوئی کسی کی غیبت کرے۔ کیا تم میں سے کوئی بھی اپنے مردہ بھائی کا گوشت کھانا پسند کرتا ہے؟ تم کو اس سے گھن آئے گی اور اللہ سے ڈرتے رہو، بیشک اللہ توبہ قبول کرنے والا مہربان ہے“ ۔ سورہ الحجرت۔ آیات 12

حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ، حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے ساتھ معمول کے گشت پر تھے۔ رات کے اندھیرے میں انہیں روشنی سی نظر آئی۔ انہوں نے روشنی کی طرف چلنا شروع کر دیا۔ یہ روشنی ایک گھر سے آ رہی تھی۔ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ اچانک اس گھر میں داخل ہو گئے۔ کیا دیکھتے ہیں کہ ایک بوڑھا شخص ہاتھ میں جام لیے بیٹھا ہے اور سامنے ایک رقاصہ عورت ہے۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ للکارے :

”میں نے آج رات اس بوڑھے شخص سے زیادہ قبیح اور شرمناک فعل کا ارتکاب کرتے ہوئے کسی کو نہیں دیکھا۔ وہ اپنے آخری وقت کے انتظار میں ہے مگر شراب و کباب میں مست گناہوں کا بوجھ اپنے سر پر لادے جا رہا ہے۔“

بوڑھے شخص نے جو اب دیا: ”امیرالمومنین، بلاشبہ جو کام میں کر رہا ہوں نہایت برا ہے۔ مگر ذرا غور کریں جو کام آپ نے کیا وہ اس سے کہیں زیادہ برا ہے۔ آپ نے تجسس کیا ہے حالانکہ اسلام نے تجسس سے منع کیا ہے اور آپ میرے گھر میں میری اجازت کے بغیر داخل ہوئے ہیں، حالانکہ یہ بھی منع ہے۔“

حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا : تم نے سچ کہا۔ اور وہاں سے روتے ہوئے نکلے اور زبان پہ الفاظ تھے :

”عمر کو اس کی ماں گم پائے اگر اس کو رب نے بخش نہ دیا۔ یہ شخص اپنے گھر والوں سے چھپ کر یہ معصیت کر رہا تھا۔ اب وہ کہے گا عمر نے تو دیکھ ہی لیا ہے چنانچہ وہ بار بار اس معصیت کا ارتکاب کرے گا۔“

اس کے بعد وہ شخص کئی دن حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی مجلس میں نہ آیا حالانکہ پہلے وہ ضرور شامل ہوتا تھا۔ پھر کئی دنوں بعد وہ شخص مجلس میں آیا اور پیچھے چھپ کے بیٹھ گیا مگر حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی نظر پڑ گئی تو آپ نے لوگوں سے کہا کہ اسے آگے بھیج دو۔ وہ شخص بڑا پشیمان ہوا کہ جس کا ڈر تھا وہی ہوا مگر لوگوں نے اسے آگے کر دیا اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اسے اپنے ساتھ بٹھا کے کہا کہ اپنا کان میرے قریب کرو۔ پھر کان میں فرمایا:

” اس ذات کی قسم ہے، جس نے محمد ﷺ کو حق کے ساتھ رسول بنا کر بھیجا، میں نے جو اس روز دیکھا کسی شخص کو نہیں بتا یا حتی کہ ابن مسعود کو بھی حالانکہ وہ اس رات میرے ساتھ تھے۔“

وہ شخص بھی کان میں بولا کہ: ”اس ذات کی قسم جس نے محمد ﷺ کو حق کے ساتھ رسول بنا کر بھیجا، اس دن سے آج کی مجلس میں حاضرہونے تک میں نے بھی دوبارہ ایسا کام نہیں کیا“

حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے یہ سن کر اونچی آواز میں ”اللہ اکبر“ کہا مگر مجلس میں کسی کو یہ پتہ نہیں چلا کہ انہوں نے ایسا کیوں کہا۔

یہ واقعہ حیاتہ الصحابہ اور کنزالعمال میں آیا ہے اور یہاں بیان کرنے کا مقصد میر ی آج کی تحریر ہے کہ آج ہم کس طرف جا رہے ہیں۔ سوشل میڈیا پہ دیکھیں تو ایسی ایسی باتیں ملیں گی کہ الامان یعنی جو چیز چھپانے والی ہوتی ہے ہم اس کی وڈیو بنا کر تمام دنیا کو اس پر گواہ بناتے ہیں۔ جب اللہ تبارک و تعالی نے ہمارے کئی عیبوں پر پردہ ڈالا ہوا ہے تو ہمیں کیا ضرورت پڑی ہے اسے دوسروں تک پہنچانے کی۔ دوسروں میں عیب تلاش کرنے کے لیے ہم ان کی جاسوسی کرتے ہیں اور جہاں پر ان کی کوئی نازیبہ بات ملی فوراً وڈیو بنا لی اور سوشل میڈیا پہ ڈال دی تاکہ زیادہ لوگ اس کو دیکھیں اور ہماری واہ واہ ہو۔ عزت اور ذلت تو اللہ تعالی نے اپنے ہاتھ میں رکھی ہے اور اگر کہیں یہ انسانوں کے ہاتھ ہوتی تو ہم نے تو اپنے علاوہ کسی کو باعزت زندگی گزارنے ہی نہیں تھی دینی۔

حضرت حسن بصری رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں : ”اے ابن آدم! تم اس وقت تک حقیقت ایمان کونہیں پاسکتے جب تک تم اس برائی کی وجہ سے دوسروں کو برا کہنے سے نہ رکوجو خود تمہار ے اندر پائی جاتی ہے اور جب تک تم اس عیب کو دور نہیں کر دیتے۔ لہٰذا پہلے اپنے آپ کو ٹھیک کرو اگر تم ایسا کرو گے تو تم اپنے آپ ہی میں مشغول ہو جاؤ گے اور جو شخص ایسا ہو، وہ اللہ تعالیٰ کو سب سے زیادہ پسند ہے۔“

(صفوۃ الصفوۃ)

آج ہمارا حال یہ ہے کہ کسی میں ہمیں کوئی عیب نظر آ جائے تو ہم پورے معاشرے کو بتانا کارثواب سمجھتے ہیں چاہے وہ عیب ہم بھی موجود ہو مگر پتہ تو نہیں نہ کسی کو اور نہ ہی کوئی ثبوت ہے کسی کے پاس۔ اس لیے بجائے اس سے سبق لے کر خود کو ٹھیک کرنے کے ہم الٹا دوسروں کو گندا کرتے ہیں۔ موٹر وے واقعہ کی ہی مثال لے لیجیے کہ اس بیچاری کے ساتھ جو ظلم ہو ا اسے انصاف فراہم کرنے کی بجائے ہم صرف یہ ڈھونڈھنے میں لگ جاتے ہیں کہ کہیں سے اس کی تصویر مل جائے تاکہ ہم اسے پورے معاشرے کو دکھا سکیں اور وہ اپنی بقایا زندگی زندہ درگور ہو کر رہ جائے۔ ہم یہ نہیں سوچتے کہ جو آج کسی کے ساتھ ہو رہا ہے اور ہم اس کے مزے لے رہے ہیں کل کو وہ ہمارے ساتھ بھی ہو سکتا ہے۔ وہ سیانے کہتے ہیں نہ کہ ”رکھ پت رکھا پت“ یعنی عزت کرو گے تو عزت ملے گی اور اگر کسی کی برائی کرو گے تو وہ بھی بدلے میں تمہاری برائی ہی کرے گا۔

انسان کو خطا کا پتلا کہا جاتا ہے اس لیے ہر انسان کی زندگی میں کچھ ایسی باتیں ضرور ہوتی ہیں جو وہ کسی کے سامنے نہیں لانا چاہتا اور اسلام بھی اس کی پردہ پوشی کا سبق دیتا ہے جیسا کہ ارشاد نبوی ﷺ ہے :

”جو بندہ دنیا میں کسی بندے کے عیب چھپائے گا قیامت کے دن اللہ اس کے عیب چھپائے گا“ ۔ (صحیح مسلم: 6490 )

امام غزالی رحمۃ اللہ علیہ غیبت کے اسباب بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں :

(ا) انسان کو جب کسی پر غصہ آتاہے اور اسے ضبط نہیں کر سکتاتو خواہ مخواہ اس شخص کے عیب بیان کرنے لگتاہے۔

(2) کسی مجلس میں پہلے سے کسی کی غیبت ہو رہی ہو تو نیا آدمی خواہ مخواہ اس میں شریک ہوجاتا ہے۔

(3) کسی شخص کو جب شبہ ہو کہ فلاں شخص میرے بارے میں بر ے خیالات رکھتاہے تو وہ شخص اپنے بچاؤ کے لیے خود اس ک عیب گنانے لگتا ہے۔

(4) انسان پر جب کوئی غلط الزام یا عیب لگایا جاتا ہے تو اپنی برا ت ثابت کرنے کے لیے اس کی برائی بیان کرتا ہے۔

(5) بعض اوقات انسان اپنا کمال ثابت کرنے کے لیے دوسروں میں نقص نکالتا ہے۔

(6) کوئی شخص اپنے ساتھی یا حریف کی عزت و شہرت کو نہیں دیکھ سکتا اور وہ حسد کی بنا پر اس کی عیب جوئی کرتا ہے۔

(7) بعض دفعہ انسان محض مذاق اور دل بہلانے کی خاطر دوسروں کے عیب اچھالتاہے۔
(8) بعض اوقات انسان کسی کا تمسخر اڑانے کے لیے اس کی عیب جوئی کرتا ہے۔
(احیا ء علوم الدین)

ہر مسلمان پر یہ فرض ہے کہ دوسروں کے عیبوں کی پردہ پوشی کرے اور ان کی ان عیبوں میں اصلاح کرے۔ تضحیک نہیں اصلاح کریں۔ مگر افسوس ہوتا ہے یہ دیکھ کر کہ ہم کسی کی پردہ پوشی کرنا تو دور کی بات ہے کسی کی معمولی سے معمولی غلطی کوبھی چھپاتے نہیں بلکہ مزے لے لے کر بیان کرتے ہیں۔ اسی سے معاشرہ میں بگاڑ پیدا ہوتا ہے اگر کوئی ایسی غلطی کرتا بھی ہے جو قابل سزا ہے تو سزا دینا حکومت وقت کا کام ہے عام آدمی کا نہیں۔

اگر عام آدمی سزا دینے لگ جائے گا تو معاشرے میں فساد برپا ہوگا۔ جیسے ابھی کچھ دن پہلے ایک بینک منیجر کو قادیانی کہ کر قتل کر دیا گیا بعد میں پتہ چلا وہ تو مسلمان تھا اور سچا عاشق رسول بھی۔ اور یہ بات اس کے سوشل میڈیا اکاؤنٹ سے پتہ چلی تو کیا اب اپنے آپ کو سچا مسلمان ثابت کرنے کے لیے سوشل میڈیا پر یہ سرٹیفیکیٹ دینا پڑے گا کہ میں مسلمان ہوں؟ ہمیں ذیل میں صحیح حدیث کے الفاظ پر غور کرنا چاہیے اور اپنی اصلاح کرنی چاہیے تاکہ معاشرہ میں فساد نہ ہو:

”اگر تم لوگوں کی پوشیدہ باتوں کے پیچھے پڑو گے، تو تم ان میں فساد پیدا کر دو گے یا قریب قریب فساد کے حالات پیدا کر دوگے۔“

(ابوداود: 4888 :صحیح)

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •