دو نہیں، ایک پاکستان یعنی نیا پاکستان

پاکستان تحریک انصاف جو کہ یہ نعرہ لگا کر میدان میں اتری کہ یہاں ایک نہیں دو پاکستان ہیں ، ایک غریب کے لیے اور ایک امیر کے لیے ہے جو کہ نا انصافی ہے اور اب دو نہیں ایک پاکستان ہو گا اور وہ ہو گا ’نیا پاکستان‘ ، عمران خان کی اس سوچ نے عوام کو جہاں حد درجہ متاثر کیا وہیں ان کو بھی شہرت کی بلندیوں پر پہنچا دیا اور شاید یہی ان کا مطمح نظر

Read more

اکیسویں صدی کا امیر ترین انسان کون: جیف بیزوز یا کرنل قذافی؟

دنیا میں کون امیر ترین لوگ ہیں اس پر بہت کم تحقیق کی گئی ہے۔ یہ ایک تقریباً ناممکن کام ہے کہ پتہ لگایا جائے کہ امیر ترین آدمی ہر دور کا کون ہے۔ مہنگائی اور دولت کی بدلتی ہوئی اشکال اس میں سب سے بڑی رکاوٹ تھیں۔ آج ہم کوشش کریں گے کہ پچھلی دس صدیوں میں ہر صدی کے امیر ترین شخص کا انتخاب کریں اور ان کے بارے میں کچھ بیان کریں۔ 1۔ ولیم فاتح۔ (گیارہویں صدی

Read more

پی۔ ڈی۔ ایم جلسہ: کامیاب یا ناکام؟

13 دسمبر بروز اتوار پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ نے لاہور میں حکومت مخالف جلسہ کا اعلان کیا تو پنجاب حکومت نے کورونا کے پھیلنے کی وجہ سے اجازت دینے سے صاف انکار کر دیا۔ مگر اپوزیشن بضد رہی کہ جلسہ ہوگا اور منٹو پارک میں ہی ہوگا۔ پنجاب حکومت نے منٹو پارک میں پانی چھوڑنے کی کوشش کی تو اس کی وڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہو گئی جس سے حکومت نے پھر اس پانی کو خشک بھی کر دیا مگر

Read more

قرضوں کا بوجھ

اگر ہم پوری دنیا کی معاشی حالت کا جائزہ لیں تو یہ حیران کن ہو گا کہ اس وقت دنیا میں ملکوں کا قرض [ادھار]ان کی پیداوار سے کئی گنا زیادہ ہے۔ یہ بات سوچنے پر مجبور کرتی ہے کہ آخر کوئی بھی ملک ادھار کیوں لیتا ہے؟ اور اس کا آغاز کب اور کیوں ہوا؟

ہوا کچھ یوں کہ تیرہویں صدی عیسوی میں مارکو پولو جب چین پہنچا تو وہاں وہ چار چیزیں دیکھ کر بہت حیران ہوا، جلنے والا پتھر ( کوئلہ) ، نہ جلنے والے کپڑے کا دسترخوان (ایسبسٹوس) ، کاغذی کرنسی اور شاہی ڈاک کا نظام۔ اس وقت چنگیز خان کا پوتا قبلائی خان چین پر حکمران تھا۔ مارکو پولو نے بینک کا نظام سب سے پہلے وہاں سے سیکھا اور واپس اٹلی جا کر یورپ والوں کو سکھایا۔ اس وقت تک ادھار صرف انفرادی حیثیت میں دیا جاتا تھا یا پھر کچھ پگوڈے کے پیشوا یہ کام کرتے جو لوگوں کا مال جمع بھی کرتے اور انہیں ضرورت پڑنے پر ادھار بھی دیتے۔ مگر پھر مرکزی بینک کا نظام شروع ہوا جو مارکو پولو چین سے سیکھ کر آیا تھا اور کاغذی کرنسی کو بھی عروج حاصل ہوا۔

Read more

مہنگائی: اپوزیشن کا پروپیگنڈا

پرانے زمانے میں ایک بادشاہ اپنے وزراء اور درباریوں کی شاہانہ بودوباش سے بہت متاثر ہوا تو اسے خیال آیا کہ میرے وزیر وں اور مشیروں کی اتنی شان و شوکت ہے تو عوام بھی اسی طرح خوشحال ہوں گے ، یہ دیکھنے کے لیے وہ اپنے پورے لاو لشکر اور جاہ وجلال کے ساتھ عوامی بازارمیں گیا، جب بادشاہ بازار میں پہنچا تو لوگوں نے اپنی بد حالی کی وجہ سے آہ و بکا اورچیخ و پکار شروع کردی۔

Read more

رکھ پت رکھا پت

”اے ایمان والو! بہت بد گمانیوں سے بچو۔ یقین مانو کہ بعض بد گمانیاں گناہ ہیں اور بھید نہ ٹٹولا کرو اور نہ تم میں سے کوئی کسی کی غیبت کرے۔ کیا تم میں سے کوئی بھی اپنے مردہ بھائی کا گوشت کھانا پسند کرتا ہے؟ تم کو اس سے گھن آئے گی اور اللہ سے ڈرتے رہو، بیشک اللہ توبہ قبول کرنے والا مہربان ہے“ ۔ سورہ الحجرت۔ آیات 12 حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ، حضرت عبداللہ بن

Read more

کرپشن کہانی

سچائی، ایمانداری، شرافت، انسانیت، ادب اور اعلی کردار گناہ ہیں اس معاشرہ کے لیے۔ اگر کسی میں یہ سب بیماریاں ہوں تو وہ اس معاشرہ میں جینے کے قابل ہی نہیں رہتا بلکہ سوسائٹی میں بگاڑ پیدا کر دیتا ہے کیونکہ اس معاشرے کو اب ان چیزوں کی عادت ہی نہیں رہی بلکہ یہ معاشرہ تو کمینگی، کرپشن، جھوٹ، فریب، دھوکہ دہی اور اخلاقی گراوٹ جیسی چیزوں کا عادی ہو چکا ہے۔ پھر بھی اگر اس ساری بھیڑ میں اگر کسی میں ایمانداری، شرافت، انسانیت، ادب اور اعلی کردار جیسی خصوصیات پیدا بھی ہو جائیں تو وہ گھٹ گھٹ کے مر جاتا ہے۔

Read more

صراط مستقیم اور حضرت انسان

حکایت ہے کہ ایک انسان کی ایک ریچھ سے دوستی ہو گئی۔ دونوں ہر جگہ سا تھ ساتھ جاتے۔ ایک مرتبہ ایک جگہ بہت ٹھنڈ تھی، انسان نے اپنے ہاتھوں کو ملا کر پھونکیں ماریں تا کہ حرارت کا احساس ہو۔ ریچھ کے پوچھنے پر سبب بتا دیا۔ آگے چلے تو جنگل میں لکڑیاں جلا کر کھانا پکایا۔ گرما گرم سالن ٹھنڈا کرنے کے لیے پھر وہی عمل دہرایا تو ریچھ سے رہا نہ گیا۔ اب جو اس نے استفسار

Read more

طویلے کی بلا، بندر کے سر

دور جہالت میں لوگوں میں توہم پرستی عام تھی، تو لوگوں کا خیال تھا کہ جب بھی کوئی بلا آتی ہے، تو طویلے میں موجود بھیڑ، بکریاں، گائے، گھوڑے وغیرہ پر گرتی ہے، جس کی وجہ سے وہ مر جاتے ہیں۔ انہوں نے اس کا یہ حل نکالا کہ طویلے میں بندر کو باندھ دیتے تا کہ قیمتی جانور بچ جائیں اور بندر کی قربانی ہو جائے۔ کیوں کہ بلا کو کسی بھی جانور کی قربانی چاہیے ہوتی ہے، اس طرح وہ قیمتی جانور کو بچانے کے لیے بندر کی قربانی دے دیتے۔

پھر اس میں بھی تبدیلی آئی اور بندر کی بلا، طویلے کے سر ہو گئی۔ یعنی الٹ معنی دونوں کا ایک ہے کہ قصور کسی کا اور سزاوار کوئی اور ٹھہرا، یا کرے کوئی اور بھرے کوئی اور۔ امیر کو بچانے کے لیے کسی غریب کی قربانی وغیرہ۔ تبدیلی تو شروع ہی سے کسی چیز کے الٹ ہونے کا نام ہے، اور اس وقت ملک میں ہر چیز الٹ ہی ہو رہی ہے تو آج لوگ تبدیلی لانے والوں سے اتنے نالاں کیوں ہیں؟

Read more

اکتوبر کا مہینہ اور سیاسی ہلچل

اپوزیشن نے اکتوبر کے مہینے میں جلسوں اور اس کے بعد ریلی کا اعلان کیا تو اکتوبر کے مہینے میں رونما ہونے والے سیاسی واقعات یاد آنے لگے۔ اس لیے سوچا آپ سے بھی شیئر کر دوں۔ اکتوبر کا مہینہ پاکستان کی سیاسی اور تاریخی اعتبار سے ایک خاص اہمیت کا حامل ہے۔ 27 اکتوبر 1947 ء کو انڈیا کی افواج پہلی مرتبہ کشمیر میں داخل ہوئیں۔ نواب زادہ لیاقت علی خان جو کہ اکتوبر 1895 ء میں پیدا ہوئے اور پاکستان کے پہلے وزیر اعظم بنے، ان کو اکتوبر ہی کی 16 تاریخ کو 1951 میں شہید کیا گیا۔

انہیں قائد ملت اور شہید ملت کے خطابات سے یاد کیا جاتا ہے۔ اگلے دن یعنی 17 اکتوبر 1951 کو ان کی جگہ خواجہ نظام الدین وزیر اعظم اور ملک غلام محمد گورنر جنرل بن گئے۔ اور 24 اکتوبر کو گورنر جنرل غلام محمد نے پاکستان کی قومی اسمبلی برخاست کر دی۔ 6 اکتوبر 1955 ء کو غلام محمد کا استعفی قبول ہوا اور ان کی جگہ سکندر مرزا نے سنبھال لی۔

Read more

اجنبی افکار

سیاست کی بات ہو تو ہم بہت آسانی سے کہہ دیتے ہیں کہ سیاست تو نام ہی دھوکا دہی اور جھوٹ بولنے کا ہے، مگر یہ کون ہے جو کہتا ہے کہ سیاست عبادت ہے۔ یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ ہو سیاست اور عبادت بھی ہو! بڑی عجیب بات کرتے ہو! پاگل ہو تم تو! بھئی سیاست اور شئے ہے اور عبادت اور چیز۔ نماز قائم کرو، روزہ رکھو، حج کا فرض ادا کرو، زکوٰۃ دو۔ یہ ہے عبادت۔ ایک دوسرے کے کام آؤ، صدقہ کرو، قرآن پڑھو۔ یہ ہے عبادت اور تم سیاست کو عبادت کہتے ہو؟ توبہ توبہ کیا بات کرتے ہو!

معیشت کی بات ہو اور کہو کہ بھائی سود کا نظام تباہی ہے، تو مثالیں دینے لگ جاتے ہیں کہ ان ترقی یافتہ ممالک کو دیکھو، وہاں بھی تو یہی نظام ہے۔ وہ کیوں ترقی کر گئے؟ او بھائی کیا بات کرتے ہو سود وود کچھ نہیں ہوتا، بس ہم میں بے ایمانی نہ ہو۔ پوری دنیا کی معیشت سود پر ہے، اور تم اسے ختم کرنے کی بات کرتے ہو؟؟ سماجی بات ہو تو عورت کو یورپ جیسی آزادی چاہیے کہ وہاں تو عورتوں کے حقوق ہیں۔ ہر عورت اپنی مرضی پہ چل سکتی ہے۔ یہاں بھی وہی حقوق عورتوں کو دینے چاہئیں۔ مرد مرد یا عورت عورت سے اپنی مرضی سے شادی کرنا چاہتا ہے، تو کرے۔ کوئی روک ٹوک نہ ہو۔ والدین بوڑھے ہو گئے ہیں، تو ان کے اولڈ ہاؤس بنا دیں اور بچے بن باپ کے ہوں، تو ان کی دیکھ بھال حکومت کو کرنی چاہیے۔

Read more

داستان علم فروشوں کی

آپ حیران ہو رہے ہوں گے کہ یہ کیا ٹائٹل دیا کیوں کہ ہم نے ”داستان ایمان فروشوں کی“ تو سنا ہے جو کہ نسیم حجازی صاحب کا ایک لازوال علمی سرمایہ ہے مگر آج کل ایمان تو برائے نام رہ گیا ہے اس لیے اس کاروبار میں گھاٹا بہت ہے اور ہم نے سنا تھا کہ علم ایک لازوال دولت ہے اور اس دولت کو لوٹنا ہمارا حق، یہ بانٹنے سے بڑھتا ہے، ہم بھی بانٹ تو رہے ہیں

Read more

سو سنار کی ایک لوہار کی

پاکستان تحریک انصاف کو حکومت میں آئے دو سال سے زیادہ کا عرصہ گزر چکا اور کوئی مزاحمتی اپوزیشن نہ ہوتے ہوئے بھی حکومت کارکردگی نہیں دکھا سکی بلکہ الٹا ملک کو معاشی تباہی کے دہانے پر لا کھڑا کیا اور خارجی امور میں بھی ملک کو تنہا کر دیا۔ تمام اداروں کی سپورٹ کے باوجود ملک میں انتظامی معاملات بہتر نہ ہو سکے بلکہ لاقانونیت اپنے عروج پر پہنچ گئی اور مہنگائی کا ایک نہ ختم ہونیوالا طوفان ملک

Read more

غداران وطن

وہ جن کے ہونٹ کی جنبش سے وہ جن کی آنکھ کی لرزش سے قانون بدلتے رہتے ہیں اور مجرم پلتے رہتے ہیں ان چوروں کے سرداروں سے انصاف کے پہرے داروں سے میں باغی ہوں، میں باغی ہوں جو چاہے مجھ پر ظلم کرو ڈاکٹر خالد جاوید جان نے جب یہ نظم لکھی تو نتیجے میں اپنی کافی ساری ہڈیاں بھی تڑوا بیٹھے اور کئی دن تک ہسپتال علاج کراتے رہے پھر زندان میں ڈال دیا گیا۔ ڈاکٹر صاحب

Read more