گولف کلب، صدارتی انتخاب اور وائٹ ہاؤس

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ شمالی ورجینیا میں اپنے پرائیویٹ کنٹری کلب میں گولف کھیل رہے تھے، ٹھیک اسی وقت امریکی میڈیا ادارے یہ خبر دے چکے تھے کہ 2020 کے صدارتی انتخابات جؤ بائڈن جیت چکے ہیں۔ پینسلوینیا کے نتائج کی خبر نے جب اداروں سے اڑان بھری تو ٹرمپ کے پسندیدہ چینل فوکس نیوز نے بھی کہا کہ ”صابق نائب صدر جؤ بائیڈن امریکا کے 46 ویں صدر ہوں گے ۔“ پینسلوینیا ہمیشہ سوئینگ اسٹیٹس میں شمار ہوتی رہی ہے، اس بار بھی آخری دن کے اختتام کے آخری چھ گھنٹوں کے اعداد و شمار میں ڈونلڈ ٹرمپ کو 40000 ہزار ووٹوں کی کمی ہوئی۔

امریکہ کے صدارتی انتخابات میں یہ کوئی پہلی مرتبہ نہیں ہو رہا کہ الیکشن کے نتائج یا الیکشن کو فراڈ کہا جائے۔ ڈونلڈ ٹرمپ سے پہلے بھی 1960 میں ڈیموکرٹک پارٹی کی جانب سے ایسا رد عمل سامنے آیا تھا، جب جان ایف کینیڈی اور ریپبلیکن پارٹی کے رچرڈ نکسن آمنے سامنے ہوئے تھے۔ الیکٹوریل کالیج کے غیر حتمی نتائج میں جؤ بائیڈن کامیاب امیدوار کے طور پر سامنے آ گئے ہیں، جؤ بائیڈن 279 الیکٹوریل ووٹ سے آگے ہیں جب کہ ڈولنڈ ٹرمپ 214 پر ہیں۔

امریکا کے الیکشن کا طرز عمل ہمارے روایتی طریقے سے بہت الگ ہے، اس سے بھی حیران کن بات یہ ہے کہ کرونا وبا کی صورتحال میں امریکا میں کافی حلقوں میں ووٹ ڈاک کے ذریعے لوگ اپنے گھروں سے دے رے تھے، سرکاری نتائج بھی اسی وجہ سے تاخیر کا شکار ہیں۔ تاہم ابھی تک غیر سرکاری نتائج جؤ بائیڈن کے حق میں ہیں۔ کیونکہ انہوں نے الیکٹوریل کالیج کے ہدف تک رسائی حاصل کرلی ہے۔

20 جنوری 2021 سے پہلے جؤ بائڈن کے پاس کوئی اختیارات نہیں تاہم انہوں نے یہ بات کی ہے کہ پاور میں آنے کے بعد ڈونلڈ ٹرمپ کی کچھ پالیسیوں کو ریورس کریں گے۔ جن میں کافی ان کی انتخابی مہم کا حصہ رہی ہیں، بیشتر ممالک سے معاملات میں بہتری امیگریشن، ورلڈ ہیلتھ اورگینایئزیشن سے بہتر تعلقات سر فہرست ہیں ڈیموکریٹک امیدوار جؤ بائڈن کے پولیسی کو سمجھنا اتنا مشکل نہیں کیوں کہ پارٹی ارکان کبھی اپنی پارٹی پولیسیز کے خلاف کوئی عمل نہیں کرتے۔ جؤ بائیڈن براک اوبامہ کے صدارتی دور میں نائب صدر کے عہدے پر 8 سال اپنی زمیواریاں نبہاتا رہا ہے، اور 36 سال ڈمیوکریٹک سینیٹ کے ممبر کی حیثیت سے کام کرتے رہے ہیں۔ بائیڈن امریکا کی تاریخ کے ضعیف ترین صدر ہوں گے جو اپنی جوانی کی جھلک وائیٹ ہاؤس میں صدارتی کرسی پر بیٹھ کے حاصل کریں گے۔

وائٹ ہاؤس کا تاج بائیڈن کے سر پر پہلی مرتبہ سجے گا اس کے لیے وہ خود بھی بہت پرعزم ہیں سماجی ویب سائیٹ ٹویٹر پر انہوں نے اپنے چاہنے والوں کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ ”آپ لوگوں نے مجھے چنا ہے ایک عزم ریاست کو چلانے کے لیے اس کے لیے میں بہت شکر گزار ہوں“ ۔

ٹویٹر پر بیشتر ممالک کے لیڈران نے ان کو مبارک باد پیش کی ہے اور نیک خواہشات کا اظہار بھی کیا ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •